ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوں میں
جی رہا ہوں نہ مر رہا ہوں میں
اُف یہ کم کم نفس کی آمد و شُد
گویا قسطوں میں مر رہا ہوں میں
گولیاں، کیپسول۔ انجکشن
کُشتہٴ چارہ گر رہا ہوں میں
ایک انبوہِ پُرسشانِ حال
مرکزِ صد نظر رہا ہوں میں
اپنی ذات و وجود سے خود ہی
مدتوں بے خبر رہا ہوں میں
آج اپنے ہی ریزے چُنتا ہوں
کبھی آئینہ گر رہا ہوں میں