14.10.2026, 07:51pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔
24.11.2015, 01:03am , منگل (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔

ثاقب لکھنوی کا اصل نام مرزا ذاکر حسین قزلباش تھا اور وہ 2/ جنوری 1869ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔
بچپن ہی سے انہیں شعر و شاعری کا شوق تھا جو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا یہاں تک کہ ہر وقت فکر سخن میں غلطاں رہنے لگے۔ اپنے اس شوق کی وجہ سے زندگی کے راستے میں اکثر ٹھوکریں کھائیں اور تکالیف اٹھائیں۔ حصولِ معاش کے لیے پہلے کچھ تجارت کا سلسلہ شروع کیا مگر اس میں گھر کی ساری جمع پونجی گنوادی۔ پھر 1906ء میں سفارت خانہ ایران میں ملازم ہوگئے۔ 1908ء میں مہاراجہ محمود آباد سے تعلق ہوگیا اور میر منشی کا عہدہ ملا تقسیم ہند کے بعد جب ریاست ختم ہوئی تو ثاقب صاحب بھی گوشہ نشین ہوگئے اور یاد الٰہی میں دن گزار کر 24/ نومبر 1949ء کو انتقال کیا۔ شاعری کا ایک دیوان ’’ دیوان ثاقب‘‘ یادگار چھوڑا۔
ثاقب لکھنوی کے بعض اشعار اردو شاعری میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً
 
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا 
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
……٭٭٭……

نشیمن نہ جلتا، نشانی تو رہتی
ہمارا تھا کیا ٹھیک، رہتے نہ رہتے
……٭٭٭……

باغ باں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے
……٭٭٭……

مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے
……٭٭٭……

کہنے کو مشت پر کی اسیری تو تھی، مگر
خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا
……٭٭٭……

دل کے قصے کہاں نہیں ہوتے
ہاں، وہ سب سے بیاں نہیں ہوتے
----------------------------------------------------------------
پروین شاکر کی پیدائش

پروین شاکر 24 / نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔
26 / دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پروین شاکر صبح اپنے گھر سے اپنے دفتر جارہی تھیں کہ ان کی کار ایک ٹریفک سگنل پر موڑ کاٹتے ہوئے سامنے سے آتی ہوئی ایک تیزرفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔
پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔
پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔
پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار کندہ ہیں:

یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخم ہنر کو حوصلۂ لب کشائی دے

شہر سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستا سجھائی دے

:دیگر مضامین
(23.11.2015)  انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش 23 نومبر 1933ء ہے۔
(22.11.2015) بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری بائیس نومبر کو پیدا ہوئی تھیں
(21.11.2015) اکیس نومبر ۔پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔
(20.11.2015) بیس  نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے
(19.11.2015) انیس / نومبر1957ء پاکستان کے ممتاز سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کی تاریخ وفات ہے۔
(18.11.2015) اٹھارہ نومبر 1914ء کو نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔
(17.11.2015)  امید فاضلی 17 /نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے
(16.11.2015) اردو کے معروف شاعر اکبر الٰہ آبادی کی تاریخ پیدائش 16 / نومبر1846ء ہے
(15.11.2015) پندرہ/ نومبر 1962ء کو جسٹس محمد رستم کیانی چاٹگام میں انتقال کرگئے
(14.11.2015) چودہ/ نومبر 1957ء اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے وفات پائی
(13.11.2015) حسن ناصر 13 / نومبر 1960ء کو جان کی بازی ہار گئے۔
(12.11.2015) بارہ / نومبر 1966شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی
(11.11.2015) گیارہ نومبر 1917ء اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد فارغ بخاری کی تاریخ پیدائش ہے۔
(11.11.2015) آج کا انتخاب ایک بلا عنوان کارٹون ہے۔ ملاحظہ کیجئے
(10.11.2015) دس / نومبر 1958ء کو اردو کے معروف شاعر حیدر دہلوی کراچی میں انتقال کرگئے
(09.11.2015)  علامہ اقبال 9 نومبر1877کو کےبرطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں پیداہوئے
(09.11.2015) نو نومبر تابش دہلوی۔  ڈاکٹر شفیق الرحمٰ۔ن، گلوکارہ مالا  اور ثروت حسین کی پیدائش
(08.11.2015) ‎وہ مصائب جو ہمارے منبروں سے پڑھے نہیں جاتے: عبداللہ بن حسن(ع) کی شہادت
(06.11.2015) آج انتخاب کے شعبے میں کویت کی شاہین اشرف علی کی ایک غزل کا انتخاب
(04.11.2015) لالچ اور طمع میں گھرے ھوئے انسانوں نے مقدس منصب پیشہ بنا دیا۔رافیعہ گیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں