دوہے کبت کہہ کہہ کر عالی من کی آگ بجھائے
من کی آگ بجھتی نہ کسی سے اسے یہ کون بتائے
عالی کا کیا ذکر کرو ہو، کوی تو وہ کہلائے
جو ناخن سے پربت کاٹے اور پربت کٹ جائے
سور کبیر، بہاری، میرا، رحیمن، تلسی داس
سب کی سیوا کی پر عالیؔ گئی نہ من کی پیاس
عالیؔ تو جو چاہے کہے ظاہر ہے ترا انجام
سو راون ترے بیری اور تو نہ لچھمن، نہ رام
عالی اب کے کٹھن پڑا دیوالی کا تیوہار
ہم تو گئے تھے چھیلا بن کر بھیا کہہ گئی نار
اردو والے ہندی والے دونوں ہنسی اڑائیں
ہم دلی والے اپنی بھاشا کس کس کو سکھلائیں
عالیؔ تیرا بھید ہے کیا ہر دوہے پر بل کھائے
میں جانوں ترے پاپی من کو گھر والی یاد آئے
نامرے سر کوئی طرہ کلغی نا کِسے میں چھدام
ساتھ میں ہے اک ناری سانوری اور اﷲ کا نام
تم کہو دوہا تم کہو بیت اور تم کہو سرسی چھند
نہیں مری من ندی کا طوفاں ناموں کا پابند
مجھ میں کچھ سُر کھوئے ہوئے ہیں وہی نگاہیں آگ
نہ یہ پہاڑی نا بھٹیالی یہ ہے دوہا راگ