مرکزِ ہر نظر تها کل کوئی
اس کا ممکن نہیں بدل کوئی
میرے دکهہ کی طرح سے رہتا ہے
ساتهہ میرے ہر ایک پل کوئی
اپنی تعمیر کے حوالے سے
فرض کر لیجیئے عمل کوئی
سنتے ہیں ذائقے میں شیریں ہے
شَجَرِ صبر کا ہے پهل کوئی
مجهہ پہ اتری تهی جب زبورِ عشق
لکهہ رہی تهی مجهے غزل کوئی
ہم تو کردار ہیں کہا نی کے
آج کوئی ہے اور کل کوئی
کب تلک الجهنوں کے پیچ و خم
سوچ دشواریوں کے حل کوئی