جمیل الدین عالی کا الم انگیز ہے جانا
تھا جن کا نام دنیائے ادب میں جانا پہچانا
بہت مشکل تعین ہے ادب میں ان کی جہتوں کا
یہ اک زندہ حقیقت ہے اسے سمجھیں نہ افسانہ
ہے دنیائے ادب میں سوگ برپا ان کی رحلت سے
ہوا ہے جو خلا پیدا وہ اب مشکل ہے بھر پانا
نہ تھا دوہا نگاری میں کہیں ان کا کوئی ثانی
فدا تھے ان کے سب مداح ان پر مثل پروانہ
جگرؔ کا مصرعہ ثانی ہے ان پر ہو بہو صادق
مسلسل ’’ مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ‘‘
نہ ہوں گے محو دنیا سے نقوش جاوداں ان کے
سبھی کو یوں تو ہے دارالفنا سے ایک دن جانا
صفِ ماتم بچھی ہے یوں تو ان کے غم میں ہر جانب
ہیں مثل نقشِ فریادی تھا جن سے ان کا یارانہ
نہیں ممکن احاطہ ان کے اوصافِ حمیدہ کا
بقدرِ ظرف برقیؔ ہے مرا ان کو یہ نذرانہ