15.10.2026, 11:25pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی
27.11.2015, 06:27am , جمہ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کی وفات

 
 قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ 1187 ء میں ترکستان کے قصبے اوش میں پیدا ہوئے تھے۔ حسینی سادات میں سے تھے۔ لڑکپن ہی میں بغداد آگئے اور خواجہ معین الدین چشتی سے بیعت کی۔ انہوں نے آپ کو اہل دہلی کی رشد و ہدایت کے لیے مامور کیا۔ چنانچہ آپ ہندوستان آگئے اور دہلی میں قیام فرما ہوئے۔آپ سے دو کتابیں بھی منسوب ہیں جن میں ایک آپ کا دیوان اور دوسری فوائد السالکین جو تصوف کے موضوع پر ہے۔ آپ کے مریدوں میں خواجہ فرید الدین شکر گنج اور سلطان شمس الدین التمش خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجع خلائق ہے۔
دہلی کے مشہور قطب مینار کا نام بھی آپ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
--------------------------------------------------------------------
مولانا ظفر علی خان کی وفات

 مولانا ظفر علی خان نے 27 / نومبر 1956ء کو  وفات پائی۔
مولانا ظفر علی خان 1873ء میں ضلع سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گائوں کوٹ میرتھ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علی گڑھ اہل علم سے بھرا ہوا تھا۔ سرسید، شبلی، حالی سبھی اس سے وابستہ تھے اس فضا نے ظفر علی خان کے فکری ارتقا میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔1909ء میں مولانا ظفر علی خان وطن واپس لوٹ آئے۔ اسی زمانے میں ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے اپنے وطن کرم آباد سے ایک ہفت روزہ اخبار زمیندار کے نام سے جاری کیا۔والد کی وفات کے بعد مولانا نے زمیندار کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔1911ء میں وہ زمیندار کو لے کر لاہور آگئے۔ یہاں انہیں ایک بہت بڑا ادبی حلقہ میسر آیا اور یہیں سے ظفر علی خان کی ادبی اور صحافیانہ زندگی اپنے نقطہ ٔ عروج کو پہنچی۔
مولانا ظفر علی خان آزادی تحریر و تقریر کے بہت بڑے مجاہد تھے۔ ان کے اخبار زمیندار کی ضمانت کئی مرتبہ ضبط ہوئی۔کئی مرتبہ اخبار بھی بند ہوا۔ متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں مگر مولانا کے ثبات قدم میں لغزش نہیں آئی۔ قیام پاکستان کے بعد مولانا کی سیاست میں ایک ٹہرائو پیدا ہوگیا۔
 مولانا ظفر علی خان 27 نومبر 1956ء کو انتقال کر گئے۔
--------------------------------------------------------------
بیگم جہاں آراء شاہنواز کی وفات

 جدوجہد آزادی کی خاتون رہنما اور آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن، بیگم جہاں آراء شاہنواز کی تاریخ پیدائش 7 / اپریل 1896ء ہے۔بیگم جہاں آراء شاہنواز لاہور میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد سر میاں محمد شفیع نہ صرف آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں شامل تھے بلکہ اس تنظیم کا نام بھی انہی نے تجویز کیا تھا۔
بیگم جہاں آراء شاہنواز کو آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے تینوں گول میز کانفرنسوں میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1935ء میں انہوں نے لیگ آف نیشنز کے اجلاس اور مزدوروں کی بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ 1937ء اور 1946ء میں وہ پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، 1946ء میں قائداعظم نے انہیں مسلم لیگ کا مؤقف بیان کرنے کے لئے مرزا ابوالحسن اصفہانی کی معیت میں امریکا روانہ کیا۔ 1947ء میں وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، 1955ء سے 1961ء تک وہ مغربی پاکستان اسمبلی کی رکن بھی رہیں۔
بیگم جہاں آراء شاہ نواز نے اپنے والد کے حوالے سے ایک کتاب Father And Daughter تحریر کی اس کے علاوہ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ حسن آراء کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔
بیگم جہاں آراء شاہنواز 27 / نومبر 1979ء کو لاہور میں وفات پاگئیں اور لاہور ہی میں باغبان پورہ میں اپنے خاندانی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔
----------------------------------------------------------

سلیم احمد کی پیدائش

اردو زبان میں ایسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔
سلیم احمد27 / نومبر1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔
جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔
سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔
سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اورپاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔
٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔

ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:

اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے

:دیگر مضامین
(26.11.2015) وزیراعظم  نواز شریف نے  26 / نومبر 1997ء کو پاکستان موٹر وے کا افتتاح کیا
(25.11.2015)  فلمی گلوکار سلیم رضا 25 / نومبر 1983ء کو کینیڈا میں انتقال کر گئے
(24.11.2015) اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔
(23.11.2015)  انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش 23 نومبر 1933ء ہے۔
(22.11.2015) بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری بائیس نومبر کو پیدا ہوئی تھیں
(21.11.2015) اکیس نومبر ۔پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔
(20.11.2015) بیس  نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے
(19.11.2015) انیس / نومبر1957ء پاکستان کے ممتاز سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کی تاریخ وفات ہے۔
(18.11.2015) اٹھارہ نومبر 1914ء کو نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔
(17.11.2015)  امید فاضلی 17 /نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے
(16.11.2015) اردو کے معروف شاعر اکبر الٰہ آبادی کی تاریخ پیدائش 16 / نومبر1846ء ہے
(15.11.2015) پندرہ/ نومبر 1962ء کو جسٹس محمد رستم کیانی چاٹگام میں انتقال کرگئے
(14.11.2015) چودہ/ نومبر 1957ء اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے وفات پائی
(13.11.2015) حسن ناصر 13 / نومبر 1960ء کو جان کی بازی ہار گئے۔
(12.11.2015) بارہ / نومبر 1966شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی
(11.11.2015) گیارہ نومبر 1917ء اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد فارغ بخاری کی تاریخ پیدائش ہے۔
(11.11.2015) آج کا انتخاب ایک بلا عنوان کارٹون ہے۔ ملاحظہ کیجئے
(10.11.2015) دس / نومبر 1958ء کو اردو کے معروف شاعر حیدر دہلوی کراچی میں انتقال کرگئے
(09.11.2015)  علامہ اقبال 9 نومبر1877کو کےبرطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں پیداہوئے
(09.11.2015) نو نومبر تابش دہلوی۔  ڈاکٹر شفیق الرحمٰ۔ن، گلوکارہ مالا  اور ثروت حسین کی پیدائش



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں