14.10.2026, 01:31pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔
01.12.2015, 09:04am , منگل (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

چوہدری محمد علی کی وفات

یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔

 پاکستان کے سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی کی تاریخ پیدائش  15جولائی 1905ءہے۔
چوہدری محمد علی ننگل انبیا، تحصیل نکودر ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1928ء میں انڈین آئوٹ اینڈ اکائونٹس سروس میں شامل ہوئے اور تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ قیام پاکستان سے پہلے جب عارضی حکومت میں لیاقت علی خان وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے بطور مشیر اعلیٰ ان کاوہ بجٹ تیار کرنے میں بڑی مدد کی جسے غریبوں کا بجٹ کہا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل اور 1951ء میں وفاقی وزیر خزانہ بنے۔ 1955ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 11 / اگست 1955ء سے 12 / ستمبر 1956ء تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ ان کے عہد حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کے پہلے آئین کی منظوری تھا۔
ایوب خان کے مارشل لاء کے نفاذ کے بعد وہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے۔ تاہم محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخابات میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔انہوں نے تحریک پاکستان کے موضوع پر Emergence of Pakistan 
کے نام سے ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس کا ترجمہ ’’ظہور پاکستان‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
سرفراز نواز کی پیدائش

یکم دسمبر 1948ء پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر سرفراز نواز کی تاریخ پیدائش ہے۔

سرفراز نواز لاہور میں پیدا ہوئے اور ان کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز6 / مارچ 1969ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں انگلستان کے خلاف ہوا۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں مجموعی طور پر 55 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا اور 177 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے45 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی حصہ لیا اور مجموعی طور پر63 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ سرفراز نواز کا سب سے یادگار ٹیسٹ میچ مارچ 1979ء میں میلبورن کے مقام پر کھیلا گیا ٹیسٹ میچ تھا۔ اس ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں جب پاکستان شکست کے قریب تھا توسرفراز نواز نے صرف ایک رنز کے عوض آسٹریلیا کے 7 کھلاڑیوں کو آئوٹ کرکے میچ کا پانسہ پلٹ دیا اس اننگز میں انہوں نے مجموعی طور پر 86 رنز کے عوض آسٹریلیا کے 9کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔سرفراز نواز کی ایک وجہ شہرت ان کی اداکارہ رانی کے ساتھ شادی بھی ہے۔ وہ لاہور میں مقیم ہیں۔
----------------------------------------
یوسف ظفر کی پیدائش

 اردو کے ایک ممتاز شاعر جناب یوسف ظفر یکم دسمبر 1914ء کو مری میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑے نامساعد حالات میں زندگی بسر کی۔ 1936ء میں انہوںنے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1939ء میں انہوں نے میرا جی کے ساتھ حلقہ ارباب ذوق کی بنیاد ڈالی اور قیام پاکستان کے بعد مشہور ادبی جریدے ہمایوں کے مدیر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے اور اسٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے تک ترقی پائی۔ جناب یوسف ظفرکی سوانح عمری ’’یوسف ظفر کی بات‘‘ کے نام سے اشاعت پذیرہوچکی ہے جب کہ ان کے شعری مجموعوں میں نوائے ساز‘ عشق پیماں‘ حریم وطن‘ صدا بہ صحرا‘ زہرخند اور زنداں کے نام شامل ہیں۔ ان کی شاعری کی کلیات بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔ ان کی نثری تصنیف یہودیت بھی اپنے موضوع پر لکھی گئی ایک بڑی وقیع تصنیف ہے۔
جناب یوسف ظفرنے راولپنڈی میں 7 / مارچ 1972ء کو  وفات پائی۔ راولپنڈی میں فوجی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام

 جب ذوالفقار علی بھٹو سیاسی اختلافات کی بنا پر 1966ء میں  صدر ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہوئے تبھی سے وہ ایک سیاسی جماعت کے قیام کے لیے کوشاں تھے۔
اسی زمانے میں لاہور میں کچھ دانشور‘ جن میں اخبار نویس‘ اساتذہ‘ وکلا‘ ادیب اور سرکاری ملازم شامل تھے‘ ایک ہفتہ وار ادبی اجلاس میں ملک کے مسائل پر بحث کرکے ان مسائل کے ممکنہ حل کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ یہ اجلاس ڈاکٹر مبشر حسن کی اقامت۔4 کے گلبرگ میں منعقد ہوا کرتے تھے۔ ان افراد نے مسٹر بھٹو سے رابطہ قائم کیا اور مسٹر بھٹو اور جے اے رحیم کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
30 نومبر اور یکم دسمبر 1967ء کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی اقامت پر اس نئی پارٹی کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا جس میں پارٹی کا نام پاکستان پیپلز پارٹی تجویز کیا گیا اور پارٹی کے چار رہنما اصول منظور کیے گئے:
(الف)اسلام ہمارا دین ہے۔ (ب)جمہوریت ہماری سیاست ہے۔(ج)سوشلزم ہماری معیشت ہے۔(د)طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے تایسی اجلاس میں جو افراد شریک ہوئے ان میں رسول بخش تالپور‘ حنیف رامے‘ شیخ محمد رشید‘ حیات محمد خان شیرپائو‘ عبدالوحید کٹپر‘ معراج محمد خان‘ حق نواز گنڈا پور‘ ڈاکٹر مبشر حسن‘ جے اے رحیم‘ بیگم شاہین رامے‘ ملک حامد سرفراز‘ اسلم گورداسپوری‘ رفیق احمد باجوہ اور امان اللہ خان وغیرہ شامل تھے۔اس اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا چیئرمین اور جے اے رحیم کو جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو بہت جلد ملک کے غریب طبقے کی حمایت حاصل ہونا شروع ہوئی۔ پارٹی کی اصل قوت مغربی پاکستان کا نوجوان طبقہ تھا جو ملک میں سوشلزم اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام کا خواہش مند تھا۔ یوں یہ پارٹی مغربی پاکستان کی مقبول ترین پارٹی بن گئی اور 1970ء کے انتخابات میں اس نے اپنی یہ مقبولیت ثابت بھی کردی۔

:دیگر مضامین
(30.11.2015) حضرت مجدد الف ثانی کی تاریخ وفات  30 /  نومبر 1624ء ہے
(29.11.2015)  عظیم مجاہد آزادی سید احمد شہید کی تاریخ پیدائش  29 / نومبر1786ء ہے
(28.11.2015) تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے  28 / نومبر 1938ء کو وفات پائی۔
(28.11.2015)  ہفتہ 28  نومبر کو سکائپ کے ذریعے پہلی عالمی مجلس عزا
(27.11.2015) قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی
(26.11.2015) وزیراعظم  نواز شریف نے  26 / نومبر 1997ء کو پاکستان موٹر وے کا افتتاح کیا
(25.11.2015)  فلمی گلوکار سلیم رضا 25 / نومبر 1983ء کو کینیڈا میں انتقال کر گئے
(24.11.2015) اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔
(23.11.2015)  انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش 23 نومبر 1933ء ہے۔
(22.11.2015) بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری بائیس نومبر کو پیدا ہوئی تھیں
(21.11.2015) اکیس نومبر ۔پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔
(20.11.2015) بیس  نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے
(19.11.2015) انیس / نومبر1957ء پاکستان کے ممتاز سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کی تاریخ وفات ہے۔
(18.11.2015) اٹھارہ نومبر 1914ء کو نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔
(17.11.2015)  امید فاضلی 17 /نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے
(16.11.2015) اردو کے معروف شاعر اکبر الٰہ آبادی کی تاریخ پیدائش 16 / نومبر1846ء ہے
(15.11.2015) پندرہ/ نومبر 1962ء کو جسٹس محمد رستم کیانی چاٹگام میں انتقال کرگئے
(14.11.2015) چودہ/ نومبر 1957ء اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے وفات پائی
(13.11.2015) حسن ناصر 13 / نومبر 1960ء کو جان کی بازی ہار گئے۔
(12.11.2015) بارہ / نومبر 1966شکیب جلالی نے سرگودھا میں ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں