ہم سن چار ہجری کے آخری غزوہ کا ذکر کر رہے ہیں ۔ جس میں کو ئی جنگ تو نہیں ہو ئی مگر مسلما نو ں کی اللہ تعا لیٰ نے تجا رت کے ذریعہ زبر دست ما لی اعا نت فر ما ئی ،وا قعہ اس طر ح ہے کہ آپ کو یا د ہو گا کہ ابو سفیا ن حضور (ص) کو دعوت ِ مبا زرت احد کے مو قعہ پر دے کر گیا تھا ۔کہ میں آئندہ سا ل بد رکے میدا ن میں دو با رہ لڑ نے آ ؤنگا اور اس دن فیصلہ ہو جا ئےگا کہ کو ن حق پر ہے اور حضو ر (ص) نے اللہ کے بھروسے پر اس دعوت کو قبول فرما لیا تھا ۔لہذا غزوہ الرقاع سے واپس تشریف لا کرحضو ر (ص) نے شوا ل تک قیا م فر ما یا او ر پھر غزوہ بدر الآخر کے ارا دے سے سید ھے میدان ِبدر میں تشریف لے گئے ۔ اس مو قعہ پر حضرت عبد اللہ (رض) بن ابی سلو ل کو مدینہ پر نا ئب مقر رکیا۔یہا ں یہ امر دلچسپی سے خا لی نہیں اور جو کہ اسلا م کی حقا نیت کی دلیل بھی ہے کہ اگر ایک طرف ابی سلو ل اسلا م میں ہمیشہ مذبذ ب رہا تو دو سری طرف اس کے صا حب زاد ے حضرت عبداللہ (رض) ایک کٹر مسلما ن اور جلیل القدر صحا بہ میں شا مل رہے یہ اس کی دین ہے جسے پر ور دگا ر دے ۔ادھر ابو سفیا ن مکہ سے روا نہ تو ہو گیا مگر بعض روا یا ت کے مطا بق مجنہ تک اور بعض کے مطا بق عسقا ن تک آیا اور و ہا ں کچھ دن ڈیرے ڈا لے رہا، لیکن آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہو ئی ۔لہذا آٹھ دن عیش کر نے اور ستو پھا نکنے کے بعد اس نے میدا ن سے بھا گنے کی ٹھا نی ایک دن قریش کو جمع کرکے اور مخا طب کر کے یہ عذر ِلنگ پیش کیا کہ اے اہلِ قریش تم جا نتے ہو کہ ہم اس مہینے میں اپنے با غا ت کی آبیا ری کر تے ہیں اور درختو ں کی دیکھ بھا ل کر تے ہیں اور ہاں اس مہینہ میں سیر ہو کر دو دھ بھی پیتے ہیں ۔اس کے علا وہ اس نے یہ بھی کہا کہ یہ مہینہ ہما رے لیے جنگ کے اعتبار سے سعد نہیں ہے اس لیے واپس لو ٹ چلو ۔مگر دوسرے مور خین نے اس کے الفا ظ دو سرے استما ل کیئے ہیں کہ اس نے کہا کہ اس سا ل ہم ویسے ہی قحط میں مبتلا ہیں ہما رے جا نور بھو کو ں مر رہے ہیں لہذا بہتر یہ ہے کہ اس سال ہم وا پس چلے جائیں اور آئندہ سا ل آکر جنگ کر یں جب کہ خو شحا لی ہو۔ اس خطا ب کو اگر اس کے ساتھ ملا کر دیکھا جا ئے کہ اس غزوے کا نا م ہی غزوہ سویق پڑا تو اس کا دوسر ا وا لا بیان زیا دہ صحت سے زیادہ قریب دکھتا ہے جس سے ظا ہر ہو تا ہے کہ ان کو اس سال قحط نے بطو ر عذا ب ِ الٰہی گھیر رکھا تھااوردل دہلے ہو ئے تھے۔ ایسے میں اکثر ایسا ہو تا ہے کہ جب لو گ مشکل میں ہو تے ہیں تو خدا یا د آتا ہے یہا ں وہ یہ بھی جا نتے تھا کہ مقا بلہ حق سے ہے گوکہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے ما نتے نہیں تھے لہذا وہ جنگ سے کنی کترا رہا تھا۔ ورنہ اگر وہ مہینے کی حرمت کا احترا م کرتے ہو تے کہ شوا ل میں جنگ منع ہے تو غزوہ بدر اول کے مو قعہ پر انہو ں نے رمضا ن کا خیا ل کیو ں نہیں کیا جبکہ غزوہ بدر اول ما ہ ِرمضان میں ہی وقوع پذیر ہوا۔اور آپ جا نتے ہیں کہ صحرا ؤں کے لو گ ستو جب ہی پھا نکتے ہیں جب انکے پا س کھا نے کو کو ئی اچھی غذا نہ ہو ۔چو نکہ ان کے پاس زاد ِ راہ کے طو ر پر صرف سویق ( ستو ) ہی تھے اس لیے اس غزوے کا نا م بجا ئے غزوہ بدر الآ خر کے غزوہ سویق زیا دہ مشہو ر ہے۔واللہ عا لم ۔لہذا جس طر ح اس نے صو رتِ حا ل پیش کی اس سے کفا ر کی ہمت بھی ٹو ٹ گئی اور انہو ں نے بھی وا پسی میں ہی بہتری سمجھی ۔اور وہ اپنے ہمرا ہیو ں کے سا تھ وا پس مکہ چلا گیا۔اس مو قعہ پر حضور (ص) کے ہمرکا ب بعض مور خین کے مطا بق پندرہ سو صحا بہ کرا م تھے ۔ادھر جب بنی ضمر ہ نے دیکھا کہ حضو ر پڑا ؤ ڈا لے ہوئے ہیں تو تشویش ہو ئی کہ وہ معلو م کر یں کہ حضور (ص) کے ارا دے کیا ہیں ۔قا رئین آپ کو یا دہو گا کہ غز وہ وددا ن کے مو قعہ پر اس قبیلے سے صلح ہو گئی تھی اور یہ حلیف بن گئے تھے۔ اس کے سوال پر حضور (ص) نے جوا ب دیا کہ ہم قریش سے لڑنے کے ارا دے سے نکلے ہیں۔ البتہ تم اس معا ہدے کو تو ڑ نے آئے ہو جو گذشتہ برسو ں میں ہمارے اور تمہا رے در میان ہوا تھا تو بتا ؤ ؟ اس کے جوا ب میں مخشی بن عمرو ضمری نے جوا ب دیا کہ ہما رے ذہن میں معا ہدہ تو ڑنے کا کو ئی خیا ل نہیں ہے، اور نہ ہم نے ایسا کبھی سو چا ہے نہ سوچیں گے۔ میں تو صرف آپ کی آمد کامقصد معلو م کر نے آیا تھا ۔لہذا حضور (ص) اس قبیلے کی بھی مخاصمت سے جب مطمعن ہو گئے ۔تو یہ ہی منا سب سمجھا گیا کہ مدینہ وا پس چلا جا ئے ۔ لیکن اس دورا ن وہا ں سے گذرنے والے قا فلو ں سے جو تجا رت ہو ئی اس سے اللہ تعالیٰ نے سب کو مالدار کر دیا جو اس آیت سے ظاہر ہے جواس موقعہ پر نازل ہو ئی۔ ”فنقلبو بنعمتہ من اللہ وفضل لم یمسھم سو ءوا تبعو ا رضوان اللہ واللہ ذو فضل عظیم “۔
4ہجری میں پیش آنے والے چند مزیدواقعات: اس سال سب سے پہلا صدمہ جو حضو ر (ص)کی ذات گرامی کو پہو نچا وہ تھا ان کے نواسے حضرت عبد اللہ بن عثما ن (رض)کی ایام ِ طفو لیت میں رحلت ۔ یہ آپ کی صا حبزادی حضرت رقیہ (رض) کے بطن سے تھے۔انکی وفات چھ سال کی عمر میں ہو ئی اور ان کی نما ز جنازہ حضور (ص)نے خود پڑ ھا ئی۔ حضر ت عثما ن کی والدہ محترمہ نے انہیں قبر میں اتارا۔ پھر اللہ تعا لیٰ نے شوال کے مہینے میں ایک اور نواسہ عطا فر ما یا جن کا نا م ِ نا می حضرت حسین (ع) رکھا گیا جو کہ حضرت فا طمہ (س) کے بطن ِ مبا رک سے پیدا ہو ئے جن کے کا ر نا مے اور نا م سے تما م دنیا واقف ہے۔جو کہ حضور (ص) کو بہت ہی محبوب تھے۔اور جن کے فضا ئل کے با رے میں متعدد احا دیث صحا ح ستہ میں مو جو د ہیں۔ جنہیں نو جوا نا ن ِ جنت کا سردار بھی حضو ر (ص) نے فر ما یا۔غا لباً یہ اسی صبر کا اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سےصلہ تھا جو کہ اپنے نواسے حضرت عبد اللہ ابن ِ عثما ن (رض)کی رحلت پر حضور (ص) نے فر ما یا۔ جیسا کہ آپ آگے پڑھیںگے کہ حضو ر (ص) کی ایک حدیث ہے اور جس کے راوی حضرت ابو سلمہ (رض) ہیں کہ حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ ”اگر کو ئی مو من مصیبت پر صبر کر تا ہے تو اللہ اس کو اس بہتر متبا دل عطا فر ما تا ہے“۔ دوسرا صدمہ جو حضو ر (ص) کو اس سال پہنچا وہ آپ کے دو دھ شریک اور پھو پی زاد بھا ئی حضرت ابو سلمہ (رض) کی شہا دت تھی وہ غزوہ احد میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور ابھی زیر علاج ہی تھے کہ ایک غزوے پر جا نے کا حکم مل گیااور انہو ں نے اس پر اس طر ح عمل کیا کہ اپنی تکلیف حضور (ص) کو ظا ہر نہیں ہو نے دی اور و ہا ں دس رو زہ قیا م میں انکے زخم دو با رہ کھل گئے اور وہ رحلت فر ما گئے ۔ انہو ں نے اور حضو ر (ص) نے ابو لہب کی لو نڈ ی ثو بیہ کا دودھ پیا تھا اور وہ حضرت عثما ن بن عفا ن ،ابو عبیدہ اورابن ِ ارقم (رض) کے سا تھ اسلا م لا ئے تھے۔ان کی وفا ت کے بعد حضو ر (ص) نے ان کی بیوہ حضرت اُم ِسلمہ (رح) سے عقد فر ما لیا تھا ۔وہ کہا کر تیں تھیں کہ ابو سلمہ نے مجھے مند رجہ با لا حدیث سنا ئی تھی جو کہ میری یا دداشت میں مو جو د تھی میں سو چتی تھی کہ اب ابو سلمہ کی مو ت کے بعد اللہ سبحانہ تعالیٰ مجھے بد لے میں ایسی کیا چیز عطا فر ما ئے گا جو کہ ابو سلمہ سے بھی بہتر ہو۔ جب حضو ر (ص) نے مجھے پیغا م بھیجا تو مجھے احساس ہوا کہ اس نے تما م عا لم میں سب سے بہتر شو ہر عطا فر ما کر، میرے صبر کا صلہ عطا فر ما یا ۔اسی سال حضو ر (ص)ام المو نین حضرت زینب بنت ِ حزیمہ سے عقد فر ما یا جن کی داد ودہش کی بناپر انہیں ام المساکین کہا جا تا ہے اور رمضان المبارک میں ان کی داد دہش بہت بڑھ جا تی تھی مگر ان کی رفا قت حضور (ص) کو صرف چند ما ہ حا صل رہی اور وہ اسی سال داغِ مفا رقت دے گئیں ۔یہ اس سال کے کچھ واقعات تھے۔ ہم انشا اللہ اگلی نشست میں ہم 5 ہجری میں داخل ہو نگے ۔ جس میں غزوہ خندق پیش آیا ۔گو کہ یہو دی اس مو قعہ پرپو رے عرب کو مدینے پر چڑ ھا لا ئے تھے مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں بھی مسلما نو ں کو بغیر لڑے کا میا ب کیا۔ صرف چند لو گ شہید ہو ئے۔ باقی آئندہ