16.10.2026, 11:00am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..پندرھویں اور آخری قسط
05.05.2009, 01:25pm , منگل (GMT+1)

صفدر ھمدانی ۔لندن
گزشتہ چودہویں قسط میں بات یہاں تک پہنچی تھی کہ‘‘ان صاحب کا نام شوکت عزیز تھا ’وہ کس طرح وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوئے یہ ایک الگ بحث ہے ’فی الحال ہم بات قومی ایئر لائن پی آئی اے کی کر رہے ہیں‘‘۔

شوکت عزیر نے ایک ایسے شخص کو پی آئی اے کا چیئرمین بنا دیا جو پاکستان اسٹیٹ آئل کا ڈائریکٹر تھا۔ وہ صاحب کرمانی تھے اور وہ قومی ایئر لائن کو چلانے یا سمجھنے با لکل کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔انہوں بطور چیئر مین جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے عیاں ہیں ۔قومی ایئر لائن کو ان صاحب نے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا اور خوب لوٹ مار کی۔حتیٰ کہ جنرل مشرف صاحب بھی چیخ اٹھے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کرمانی کو اپنے دفتر بلا کر سرزنش کی۔اور بعد میں اس کی چھٹی کرا دی گئی۔

یہ مختصر سی کہانی بتانے کا مقصد صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ پاک وطن کے قومی اداروں میں لوٹ مار کرکے کس طرح تباہ برباد کیا گیا ہے۔اور پاکستان کے حکمران کس قدر محب وطن ہیں۔ دنیا کی صف اول کی ایئر لائن کا ان لوگوں نے بیڑہ غرق کر دیا ہے۔اب بلین ڈالر کے خسارے کو پورا کرنے کیلئے سکنڈے نیویا اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے 6ملین تارکین وطن پر ظلم کیا جارہا ہے اور یہ خسارہ پورا کرنے کیلئے پی آئی اے کے کرایوں میں آئے دن اضافہ کیا جا رہا ہے ۔

اس وقت دیگر تمام ممالک کی نسبت سکنڈے نیویا میں بسنے والے تارکین وطن سے پی آئی اے سب سے زیادہ کرایہ وصول کر رہی ہے۔اس زیادتی پر سالہا سال سے مختلف طریقوں سے احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور کرائے ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔

پی آئی اے کا یہ شاخسانہ صرف سکینڈے نیویا کے ممالک کے لیئےہی نہیں بلکہ لگ بھگ دنیا بھر میں ہے اور یہ قومی ایر لائن ہونے کے باوجود اسی لیئے نقصان میں ہے۔یہ تو دعا دی جائے محب وطن پاکستانیوں کو جو تمام تر مصائب اور زیادتیوں کے باوجود اپنی ملک کی اس ایر لائن سے سفر کرتے ہیں۔

میں نے اس مسلے کو خاص طور پر اس لیئے بھی لکھا ہے کہ میرا یہ وطیرہ ہے کہ میں جس ملک میں بھی جاتا ہے وہاں کا روایتی سفر نامہ لکھنے کی بجائے معلومات اور وہاں مقیم پاکستانیوں کے بارے میں اور انکے اہم مسائل کے بارے میں لکھنے پر توجہ دیتا ہوں ورنہ روایتی سفر نامے لکھنے والے تو ایسے ایسے بڑے نام موجود ہیں جو کسی ملک جانے سے پہلے ہی وہاں کا سفر نامہ لکھ لیتے ہیں اور متعلقہ ملک میں جا کر اس سفر نامے کی تقریب رونمائی بھی کرواتے ہیں۔

پاکستان کے لیئے سفر سکینڈے نیویا کے ممالک میں مقیم پاکستانیوں کا ایک بڑا مسلہ ہے اس لئے ہم سکنڈے نیویا ممالک میں پاکستانی تارکین وطن  کی طرف سے حکومتی اعلیٰ حکام سے درخواست کرتے ہیں کہ قومی خزانہ میں کروڑوں ڈالر زرمبادلہ ارسال کرنے والے تارکین وطن کے مطالبات پر صرف غور ہی نہ کیا جائے بلکہ عمل بھی ہو۔

مجھے ایک صاحب نے فون کر کے کہا کہ ‘‘صفدر صاحب آپ کسی جگہ تین دن رہ کر آتے ہیں اور تین مہینے تک اسکے بارے میں لکھتے رہتے ہیں یہ ڈرامہ نگاری یا افسانہ نویسی نہیں ہے‘‘؟

میں نے ان صاحب کو جواب دیا کہ آپ تین مہینے کی بات کر رہے ہیں اگر میں مکمل ایمانداری سے لکھوں تو تین دن کے قیام کو تین سو صفحات کی کتاب میں بھی سمونا ناممکن ہے۔ یہ تو مسافر پر منحصر ہے کہ اس نے سفر کیسا گزارا۔ میں چونکہ اپنے سفر کے ایک ایک لمحے کو دعوتیں کھانے کی بجائے ‘‘طلب العلم‘‘ میں استعمال کرتا ہوں اس لیئے مجھ جیسے طالب علم کے پاس اللہ کے کرم سے اتنا مواد ہوتا ہے کہ میں مہینوں لکھ سکتا ہوں۔میرے سفرناموں میں آپ کو نوے فیصد سفر ناموں کی طرح بے مقصد باتیں اور اپنے میزبانوں کی بے جا تعریف و توصیف کے پہلو بے حد کم ملیں گے لیکن اس کا مقصد یہ بھی نہیں کہ آپ جن احباب کے ساتھ سینکڑوں گھنٹے گزاریں اور وہ آپ کو اپنے ہی بھائیوں کی طرح عزت دیں آپ انکی اس مہمان نوازی کا بھی ذکر نہ کریں۔

میں نے ابھی خوب جی بھر کے جعفر مغل بھائی،سائیں رحمت علی،میاں جاوید ،نوید بٹ اور ایسے ہی کتنے احباب کا ذکر ہی نہیں کیا کہ مجھے اس سفری داستان کا نہ چاہنے کے باوجود بھی اس لیئے اختتام کرنا پڑ رہا ہے کہ ابھی برلن کے سفر کی کہانی پڑی ہے،پھر ایران میں ایک ہفتے سے زیادہ نہایت مصروف وقت گزرا ہے اور ہیگ میں حسب دستور برادرم اعجاز سیفی اور برسلز میں بھائی عمران چوہدری کی منعقد کردہ محافل کا بھی کوئی ذکر نہیں ہو سکا ہوا ہے۔ورنہ سچ پوچھیں تو میں سویڈن کی اس داستان کو ابھی کم از کم تین ماہ اور لکھ سکتا تھا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مجھے اپنے ان دوستوں اور احباب سے معذرت کرنی ہے جنہوں نے سویڈن کے اس تین روزہ قیام میں میری اوقات سے زیادہ محبت مجھے دی لیکن میں انکا تذکرہ نہیں کر پایا اور اسی لیئے مجھے ایک بہت بڑا شکریہ مجموعی طور پر ایسے تمام دوستوں اور ساتھیوں کاکرنا ہے۔

شکریہ تو جعفر مغل کی بیگم صاحبہ کا بھی کہ انکے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانوں نے ایک دن بھی یہ محسوس نہیں ہونے دیاکہ ہم اپنے گھر سے باہر ہیں اور جس دن ہم نے انکا کہا نہیں مانا اور انکے کھانے کی فرمائش کو قبول نہں کیا اسی دن ہمیں اسکی سزا بھگتنا پڑی  اور میں جعفر بھائی ،رحمت اور انکے بیٹے کے ہمراہ رات کے وقت کہاں کہاں نہیں بھٹکتا رہا اور آخر کار ہماری قسمت میں وہی پیزا تھا جسے میں عام طور پر لندن میں کھانے سے بھی احتراز کرتا ہوں۔ بیگم جعفر مغل کا اس لیئے بھی شکریہ وہ مشاعرے کے روز بھائی سائیں رحمت کی بیگم اور بیٹوں کے ہمراہ تشریف لائیں اور مشاعرے کے منتظمین میری گفتگو میں یہ کڑی تنقید سننے سے صرف ان خواتین اور بچیوں کی وجہ سے بچ گئے کہ نہ جانے ہم کس احساس کمتری کا شکار ہیں کہ ہم ادب اور تہذیب کی محافل میں بھی اپنے گھروں کی خواتین کو لانے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ اپنے ہی گھروں کی بہنوں،ماؤں اور بھابھیوں کے آنے سے ایسی محافل کا مزاج اور مہذب بھی ہو جاتا ہے اور ہماری خواتین کسی بھی معاشرے کی خواتین سے اس لحاظ سے کسی طرح کم نہیں کہ وہ علمی اور ادبی محفلوں میں بھی اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور ایسی محفلوں سے مستفید ہوں۔ اسی لیئے خاص طور پر بہت شکریہ بیگم جعفر مغل،بیگم سائیں رحمت اور دختران رحمت علی کا۔

سویڈن کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ یہاں رہنے والے پاکستانیوں نے اپنے درمیان کتنے ہی نظریاتی،فکری اور سیاسی اختلافات کے باوجود اپنے درمیان محبتوں کے پُل قائم رکھے ہوئے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ سویڈن کے مقامی لوگ بھی عمومی طور پر پاکستانیوں کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

مجھے ایسے ہی ایک نوجوان قلم کار اور صحافی کا بھی ذکر کرنا ہے جو سویڈن میں روزنامہ جنگ کے نمائیندے بھی ہیں لیکن اپنی فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف متنوع موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

عارف محمود کسانہ کا تعلق پاکستان میں شہر اقبال سیالکوٹ سے ہے جو انیس سو پچانوے سے اپنے اہل خاندان کے ساتھ سویڈن میں مقیم ہیں۔پاکستان سے ویٹرنری کی تعلیم حاصل کر کے آئے تھے اور پھر یہاں سویڈن میں تحصیل علم میں مصروف رہے یہاں کی اہم یونیورسٹی سے دس سال تک ''ہیومن ایمبریالوجی''کے شعبے میں اعلی صلا حیت حاصل کرنے کے ساتھ طبی شعبوں میں تحقیق کرتے رہے۔

بقول خود عارف کسانہ کے طبی تحقیق انکا پیشہ ہے اور صحافت سے انکا قلبی لگاؤ ہے اور اسی وجہ سے وہ زیادہ تر روزنامہ جنگ کے لیئے کالم لکھتے اور رپورٹنگ کرتے ہیں۔ اسی لیئے اب میں نے ذاتی طور پر ان سے درخواست کی ہے کہ وہ عالمی اخبار کے لیئے بھی لکھیں تا کہ انکی تازہ فکر سے ہمارے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ انہیں مفکر اسلام علامہ اقبال اور انکی شاعری سے ایک الگ سا عشق ہے اور وہ اس فلسفے کو اپنی روح میں اتارنا چاہتے ہیں اور اسی غرض سے انہوں نے اپنے ہم خیال دوستوں کا ایک مطالعاتی مرکز بھی بنا رکھا ہے جہاں اللہ کے کلام لاریب کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں فکری نشستیں ہوتی ہیں۔

عارف محمود کسانہ
سویڈن میں قیام کے دوران عارف کسانہ سے ایک مختصر سی نشست ہوئی اور سڑک پر کچھ دور تک چلتے ہوئے کچھ باتیں۔ اور ان باتوں میں مجھے انکے دل میں مسلمانوں اور اسلام کے لیئے ایک الگ سا درد محسوس ہوا۔انہیں میری طرح بجا طور پر اس بات کا گلہ ہے کہ مسلمانوں میں قرآن فہمی نا پید ہو گئی ہے اور زمانے بھر میں مسلمانوں کی اس حالت زار کی ایک بڑی وجہ یہی ہے۔

میری بدقسمتی کہ بہت کم وقت اور بہت زیادہ مصروفیت کی وجہ سے میں عارف محمود کسانہ کے ساتھ زیادہ وقت نہ گزار سکا ورنہ مجھے یقین ہے کہ میرے علم میں بھی مزید اضافہ ہوتا۔ بہت شکریہ عارف کسانہ۔

سویڈن میں قیام کے تین روز جیسے تین گھنٹوں کی طرح گزر گئے اور اب اگلے روز نجھے لندن واپس آنا تھا۔ حسب عادت میں آن لائن چیک ان کے لیئے پریشان تھا۔ محترم میاں جاوید مسلسل مُصر تھے کہ میں ان کے ساتھ ایک وقت کا کھانا کھاؤں لیکن کھانے کے حوالے تو میں کھانے والوں کے نام پر دھبہ ہوں اور یوں بھی تیس سال سے زیادہ عرصہ ہوا کہ میں ایک وقت کا کھانا کھاتا ہوں اسی لیئے آخر کار طے یہ پایا کہ اگلی صبح ناشتہ میاں جاوید صاحب کے در دولت پر ہو گا اور وہیں سے جعفر اور رحمت مجھے ہوائی اڈے چھوڑ دیں گے۔ میں نے میاں صاحب کو بہت کہا کہ جناب میرا ناشتہ تو ناشتے کے لفظ کی شرمندگی ہے کیونکہ میں ایک کپ کالی کافی کا اور ایک ٹوسٹ کھاتا ہوں۔لیکن میاں صاحب کا اصرار اسقدر تھا کہ میں مزید انکار نہیں کر سکتا تھا

اسی پروگرام کے مطابق اگلی صبح ہم سب احباب میاں جاوید صاحب کے گھر پر پہنچے تو میں نے ایک لمبی میز پر کوئی دس قسم کا ناشتہ لگا ہوا دیکھ کر اپنے مالک کا شکر ادا کیاکہ میں نے ان سے کھانے کا وعدہ نہیں کر لیا تھا۔ ناشتے کی میز پر میرے،جعفر،نوید اور رحمت کے علاوہ جاوید صاحب کے بھائی اور بیٹا بھی تھے۔ سب لوگ مختلف موضوعات پر گفتگو میں مصروف تھے اور میں اس سوچ میں غرق تھا کہ جو فرد اس  قسم کا ناشتہ کر لے کیا پھر وہ سارا دن کوئی کام کرنے کے قابل رہے گا؟

لیکن کیا کریں کہ ہماری مشرقی اور خاص طور پر پاکستانی روایتی مہمان داری کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ مہمان کو کھانے کی سزا دی جائے۔ اللہ کا شکر کہ میرے ساتھ بھائی جعفر اور رحمت تھے جنہوں نے میری اس سزا کا کچھ حصہ بھگتا۔

میاں جاوید اور انکے اہل خاندان کا اس محبت کے لیئے خاص شکریہ۔

روایات اگر چہ ہمارا ورثہ ہیں لیکن کبھی کبھی نہیں بلکہ اکثر یہ روایات مجھ جیسے انسان کے لیئے مشکل بن جاتی ہیں۔ میاں جاوید اور انکے اہل خانہ کو خدا حافظ کہہ کر اب جو ہم سٹاکہولم کے ہوائی اڈے کی طرف رواں تھے تو اچانک جعفر مغل نے گاڑی ایک بہت بڑے شاپنگ سینٹر کی طرف موڑ دی اور کرسٹل کی ایک بڑی دوکان کے سامنے گاڑی روک دی۔

ابھی تک میں اس حملے کی غرض وغایت سے لاعلم تھا لیکن دوکان کے اندر رحمت و جعفر کی راز دارانہ گفتگو اب راز نہ رہ سکی اور مجھے یہ علم ہو گیا کہ یہ دوست میرے اور میرے گھر والوں کے لیئے کرسٹل کا کوئی تحفہ لینا چاہتے ہیں۔ ہائے رے روایات۔ اتنی محبتوں کے بعد بھی کیا ابھی کسی مزید تحفے کی ضرورت باقی تھی۔

خیر اب جو مجھے ساری واردات کا علم ہو گیا تو میں نے یہ دہائی ڈال دی کہ کوئی بے حد مہنگی چیز ہر گز نہیں خرید جائے گی کیونکہ تحفے کا قیمت سے نہیں محبت کے جزبے سے تعلق ہوتا ہے۔ خیر خاصی ردو کد کے بعد ان دونوں دوستوں نے جو نہایت خوبصورت چیز ہم سب گھر والوں کے لیئے تحفے کے طور پر دی اور آج بھی میرے گھر کی میز پر سجی ہوئی ہے۔

اس روایت سے فارغ ہو کر ہم ہوائی اڈے پہنچے۔رحمت اور جعفر نے قلبی محبت کے ساتھ رخصت کیا۔ یہ دونوں تو یہ سمجھ کر مطمئن ہو چکے ہوں گے کہ میں واپس لندن پہنچ چکا ہوں لیکن ہوائی اڈے پر تین بار ہماری پرواز ملتوی ہوئی اور شکر ہے کہ منسوخ نہیں ہوئی۔ وجہ یہ بتائی جارہی تھی کہ لندن میں شدید برفباری ہے اور جہاز ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر اتر نہیں سکتا۔

اللہ اللہ کر کے ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد جب سویڈن سے لندن کے لیئے برٹش ایرویز کی پرواز روانہ ہوئی تو میرے سفر کو پہلے ہی کوئی ساڑھے پانچ گھنٹے ہو چکے تھے کیونکہ میں عادت کے مطابق دو ڈھائی گھنٹے پہلے ہوائی اڈے پہنچنے کا عادی ہوں۔

لندن پہنچے تو اگلے دو روز بھی ایسی شدید برفباری ہوتی رہی کہ لندن کے محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ اٹھارہ سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ لندن میں بسیں اور انڈر گراونڈ پورا دن بند رہی، سکول بند کر دیئے گئے اور پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ عشروں پرانے محاورے کیسے سچ ہیں کہ ‘‘آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا‘‘۔ میں سویڈن کی برف سے ڈر کر واپس بھاگا تھا اور یہاں لندن میں اٹھارہ سال کی ریکارڈ توڑ برف استقبال کو موجود تھی۔

سویڈن کےتین روزہ قیام کی یہ نامکمل داستان اگر چہ تحریر کے حوالے سے یہاں تمام ہوئی لیکن اس کامیاب سفر کا ایک ایک لمحہ کسی حسین خواب کی طرح میرے ہمراہ  رہے گا سویڈن کے اگلے سفر تک۔


:دیگر مضامین
(05.05.2009) یہ بھی تو کارٹون ہی ہوا نا۔
(04.05.2009) جج بحال کر دینے سے عدلیہ بحال نہیں ہو جاتی
(03.05.2009) فتحِ الکوثر۔’’ شہادتِ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ‘‘
(03.05.2009) دنیا کا ایک منفرد انٹرویو
(01.05.2009) حیدر طباطبائی کی تخلیقات کی رونمائی
(01.05.2009) آئی ٹی میں پاکستان کی ترقی قابل فخر ہے
(29.04.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..چودہویں قسط
(20.04.2009) ڈاکٹر نگہت نسیم کے اعزاز میں عشائیہ
(19.04.2009) ترقی کا کوئی ایک راستہ نہیں
(16.04.2009) پھر ایک بار اتحاد کا شور ہے
(13.04.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..تیرہویں قسط
(10.04.2009) اب باری ہے بلوچستان کی
(06.04.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..بارہویں قسط
(05.04.2009) اپنوں کو ماربے سے فرصت ملے تو
(31.03.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں..گیارہویں قسط
(31.03.2009) آج کا مسلمان ایسا کیوں ہےاز شمس جیلانی
(29.03.2009) اشتہار بازی کا نیا انداز
(26.03.2009) سامراجی قوتوں کے اپاہج اور مفلوج غلام
(25.03.2009) گاڑی اور ریل گاڑی میں کوئی فرق نہیں
(24.03.2009) سویڈن میں تین روز اور کئی برس کی یادیں(دسویں قسط)



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں