16.10.2026, 11:35am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

بے نظیر بھٹو نے 2 /  دسمبر 1988ء کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا
02.12.2015, 09:04am , بدھ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

نومبر 1988ء کے عام انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے میںکامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ انتخابات کے فوراً بعد جوڑ توڑ کے سلسلے کا آغاز ہوا اور دونوں بڑی جماعتیں یہ دعوے کرنے لگیں کہ منتخب نمائندوں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے لہٰذا اقتدار انہیں منتقل کیا جائے۔

اس دوران قائم مقام صدر جناب غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات کے سلسلہ کا آغاز کیا۔ پیپلزپارٹی کا مطالبہ یہ تھا کہ فوری طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی وزیراعظم کے عہدے کے لئے نامزدگی کا اعلان کیا جائے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوری اتحاد کا کہنا تھا کہ پہلے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لئے پولنگ کروالی جائے اس انتخاب میں جس سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہو اسی کو وزارت عظمیٰ سونپ دی جائے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا مطالبہ بظاہر جمہوری نظر آتا تھا مگر اس کے ساتھ ہارس ٹریڈنگ کا جو طوفان آتا۔ اس سے نمٹنا کسی کے بس میں نہ تھا۔

چنانچہ صدر غلام اسحاق خان نے یکم دسمبر 1988ء کو اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے، پاکستان پیپلزپارٹی کی شریک چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کو ملک کا وزیراعظم نامزد کردیا اور انہیں حکومت سازی کی دعوت دی۔

 محترمہ بے نظیر بھٹو نے 2 /  دسمبر 1988ء کو جمعہ کی نماز کے بعد ایوان صدر میں ملک کی گیارہویں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ وہ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔ صدر نے ان سے اردو میں حلف لیا۔ اس تقریب میں بیگم نصرت بھٹو، آصف زرداری، صنم بھٹو، ناصر حسین، ٹکا خان، یحییٰ بختیار، ولی خان، نوابزادہ نصراللہ خان، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس محمد حلیم، مسلح افواج کے سربراہوں، مختلف ممالک کے سفارت کاروں اور دیگر سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔
اسی شام محترمہ بے نظیر بھٹو نے قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے مارشل لاء دور کے غیر منصفانہ اقدامات اور زیادتیوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو جو ایک طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد برسراقتدار آئی تھیں اس موقع پر بھرپور فائدہ اٹھاتیں مگر ان کا دور حکومت شروع ہوتے ہی ملک میں رشوت ستانی اور لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گیا۔ وہ نہ صرف حزب اختلاف بلکہ ایم کیو ایم کے ساتھ بھی ٹھیک طرح سے نہ چل سکیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ فقط 20 ماہ ہی حکومت کرسکیں اور 6 / اگست 1990ء کو غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت کا بوریا بستر لپیٹ دیا۔
----------------------------------------------------------------------------------
دنیا کی سب سے کم عمر خاتون وزیراعظم

 دنیا بھر کے ریکارڈز کے حوالے سے معتبر ترین کتاب گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں 1991ء میں پاکستان کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا ذکر بھی موجود تھا اور وہ اس حوالے سے کہ جب وہ 2 / دسمبر 1988ء کو پاکستان کی وزیراعظم بنیں تو اس وقت ان کی عمر 35 سال 5 ماہ 10 دن تھی اور یوں انہیں دنیا کی سب سے کم عمر خاتون وزیراعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ گینز بک نے اس ریکارڈ کی اشاعت کے ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حسب بالا تصویر کو بھی اپنی کتاب کی زینت بنایا تھا

 --------------------------------------------------------------------------------------------------------
منور بدایونی کی پیدائش

اردو کے ممتاز شاعر حضرت منور بدایونی کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ وہ  2 / دسمبر1908ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے تھے

ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منور غزلیں، منور نغمات اور منور قطعات کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے نعتیہ کلام کی کلیات بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔
منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

 منور بدایونی6 / اپریل 1984ء کو  کراچی میں وفات پاگئے اور عزیز آباد کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

:دیگر مضامین
(01.12.2015) یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔
(30.11.2015) حضرت مجدد الف ثانی کی تاریخ وفات  30 /  نومبر 1624ء ہے
(29.11.2015)  عظیم مجاہد آزادی سید احمد شہید کی تاریخ پیدائش  29 / نومبر1786ء ہے
(28.11.2015) تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے  28 / نومبر 1938ء کو وفات پائی۔
(28.11.2015)  ہفتہ 28  نومبر کو سکائپ کے ذریعے پہلی عالمی مجلس عزا
(27.11.2015) قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی
(26.11.2015) وزیراعظم  نواز شریف نے  26 / نومبر 1997ء کو پاکستان موٹر وے کا افتتاح کیا
(25.11.2015)  فلمی گلوکار سلیم رضا 25 / نومبر 1983ء کو کینیڈا میں انتقال کر گئے
(24.11.2015) اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔
(23.11.2015)  انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش 23 نومبر 1933ء ہے۔
(22.11.2015) بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری بائیس نومبر کو پیدا ہوئی تھیں
(21.11.2015) اکیس نومبر ۔پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔
(20.11.2015) بیس  نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے
(19.11.2015) انیس / نومبر1957ء پاکستان کے ممتاز سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کی تاریخ وفات ہے۔
(18.11.2015) اٹھارہ نومبر 1914ء کو نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔
(17.11.2015)  امید فاضلی 17 /نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے
(16.11.2015) اردو کے معروف شاعر اکبر الٰہ آبادی کی تاریخ پیدائش 16 / نومبر1846ء ہے
(15.11.2015) پندرہ/ نومبر 1962ء کو جسٹس محمد رستم کیانی چاٹگام میں انتقال کرگئے
(14.11.2015) چودہ/ نومبر 1957ء اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے وفات پائی
(13.11.2015) حسن ناصر 13 / نومبر 1960ء کو جان کی بازی ہار گئے۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں