15.10.2026, 04:14pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے
03.12.2015, 08:55am , جعمرات (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

قومی اسمبلی کے سپیکر۔ ملک معراج خالد

پاکستان کی قومی اسمبلی کے دسویں اور تیرہویں اسپیکرملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے۔ 2 / مئی1972ء سے 10/ نومبر 1973ء تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ مارچ 1977ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن اور 27 / مارچ 1977ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 5 / جولائی 1977ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1988ء میں جب پیپلز پارٹی دوبارہ برسر اقتدار آئی تو ملک معراج خالد ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کے رکن اور اسپیکر منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ وہ اس عہدے پر 3 / دسمبر 1988ء سے 4 / نومبر 1990ء تک فائز رہے۔ 5 نومبر1996ء کو صدر فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا ملک معراج خالد نگراں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔اس عہدے پر وہ 16/ فروری 1997ء تک فائز رہے۔ ملک معراج خالد کا انتقال 13/ جون 2003ء کو ہوا۔
-------------------------
غلام رسول کی وفات

 پاکستان کے نامور مصور غلام رسول اسلام  3 / دسمبر 2009ء کو آباد میں وفات پاگئے۔
غلام رسول 20 / نومبر 1942ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ 1964ء میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فنون لطیفہ سے ایم اے کیا اور پھر اسی شعبے میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ 1972ء میں انہوں نے انی نوائس یونیورسٹی امریکا سے فائن آرٹس میں دوسرا ایم اے کیا۔ 1974ء میں انہوں نے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس سے وابستگی اختیار کی اور اس  کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔
غلام رسول، لینڈ اسکیپ مصوری میں اختصاص رکھتے تھے۔ پنجاب کی دیہی زندگی ان کا خاص موضوع تھا۔ وہ دیہات کے ماحول اور حسن کو جس مہارت سے کینوس پر منتقل کرتے تھے وہ دیکھنے والوں کو بے حد متاثر کرتا تھا۔ حکومت پاکستان نے 1985ء میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے سرفراز کیا تھا۔
------------------------------
استاد دامن کی وفات



 پنجابی زبان کے معروف عوامی شاعر استاد دامن 3 / دسمبر 1984ء کو  لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں مادھولال حسین کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔
استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا وہ یکم جنوری 1910ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ استاد دامن کے والد خیاطی کی پیشے سے وابستہ تھے چنانچہ انہوں نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا اور ایک جرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے خیاطی کا باقاعدہ ڈپلوما حاصل کیا۔
استاد دامن ساتھ ہی ساتھ تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی مگر والد کے انتقال کے باعث سلسلۂ تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور خیاطی کے پیشے سے باقاعدہ طور پر منسلک ہوگئے۔
استاد دامن نے ابتدا ہی طبع موزوں پائی تھی۔ وہ استاد محمد رمضان ہمدم کے شاگرد ہوئے۔ اس شاگردی نے ان کی شاعری کو مزید جلا بخشی۔
ایک موقع پر لاہور کے مشہور سیاستدان میاں افتخار الدین نے استاد دامن کی شاعری سنی اور انہیں لاہور کے ایک سیاسی جلسے میں جس کی صدارت جواہر لال نہرو کررہے تھے نظم سنانے کی دعوت دے ڈالی۔ استاد دامن نے اس جلسہ میں نظم کیا سنائی ہر طرف ان کی شاعری کر چرچا ہونے لگا۔ جواہر لال نہرو نے جلسہ میں ہی انہیں سو روپے بطور انعام عطا کئے جس سے استاد دامن کی بڑی حوصلہ افزائی ہوئی۔
استاد دامن کی بیوی اور ان کا بچہ 1947ء کے فسادات میں   ان سے بچھڑ گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ ملے، مگر زیادہ دن زندہ نہ رہ سکے اور استاد دامن کو ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑ گئے۔ اس واقعہ نے استاد دامن کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور پھر وہ ساری عمر تنہا زندگی گزارتے رہے۔
انہوں نے ٹکسالی دروازے کی اس مسجد کے ایک حجرے کو اپنا مسکن بنالیا جہاں اکبر اعظم کے عہد میں معروف صوفی شاعر شاہ حسین رہا کرتے تھے۔ اس حجرے میں استاد کی شاعری کا سلسلہ جاری رہا اور جلد ہی ان کا شمار پاکستان کے معروف شعرا میں ہونے لگا۔
استاد دامن کا مجموعہ کلام ان کی وفات کے بعد دامن دے موتی کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------
مولانا سید صفدر حسین نجفی کی وفات

 نامور عالم دین، مفسر قرآن اور ماہر تعلیم مولانا سید صفدر حسین نجفی 3 / دسمبر 1989ء کو لاہور میں وفات پاگئے

مولانا سید صفدر حسین نجفی 1933ء میں علی پور ضلع مظفر گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے پہلے حضرت مولانا سید محمدیار شاہ نجفی سے اور پھرنجف اشرف سے تعلیم حاصل کی۔مولانا سید صفدر حسین نجفی 1956ء میں جامع المنتظر سے منسلک ہوئے اور صدر مدرس کے عہدے تک پہنچے۔ آپ کی تصانیف اور تالیفات کی تعداد خاصی زیادہ ہے جن میں 27 جلدوں پر مشتمل تفسیر نمونہ سرفہرست ہے۔ ان کے علاوہ آپ کی تصانیف میں قرآن کا دائمی منشور، حقوق اور اسلام، مبادیات حکومت اسلامی، چہل آدمی اور دین حق عقل کی روشنی میں اور تراجم میں تذکرہ الخصواص، توضیح المسائل، سعادت الابدیہ، معدن الجواہر اور ارشاد القلوب کے نام شامل ہیں۔ آپ لاہور میں جامعہ المنتظر ماڈل ٹائون لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(02.12.2015) بے نظیر بھٹو نے 2 /  دسمبر 1988ء کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا
(01.12.2015) یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔
(30.11.2015) حضرت مجدد الف ثانی کی تاریخ وفات  30 /  نومبر 1624ء ہے
(29.11.2015)  عظیم مجاہد آزادی سید احمد شہید کی تاریخ پیدائش  29 / نومبر1786ء ہے
(28.11.2015) تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے  28 / نومبر 1938ء کو وفات پائی۔
(28.11.2015)  ہفتہ 28  نومبر کو سکائپ کے ذریعے پہلی عالمی مجلس عزا
(27.11.2015) قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی
(26.11.2015) وزیراعظم  نواز شریف نے  26 / نومبر 1997ء کو پاکستان موٹر وے کا افتتاح کیا
(25.11.2015)  فلمی گلوکار سلیم رضا 25 / نومبر 1983ء کو کینیڈا میں انتقال کر گئے
(24.11.2015) اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔
(23.11.2015)  انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش 23 نومبر 1933ء ہے۔
(22.11.2015) بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری بائیس نومبر کو پیدا ہوئی تھیں
(21.11.2015) اکیس نومبر ۔پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔
(20.11.2015) بیس  نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے
(19.11.2015) انیس / نومبر1957ء پاکستان کے ممتاز سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کی تاریخ وفات ہے۔
(18.11.2015) اٹھارہ نومبر 1914ء کو نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔
(17.11.2015)  امید فاضلی 17 /نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے
(16.11.2015) اردو کے معروف شاعر اکبر الٰہ آبادی کی تاریخ پیدائش 16 / نومبر1846ء ہے
(15.11.2015) پندرہ/ نومبر 1962ء کو جسٹس محمد رستم کیانی چاٹگام میں انتقال کرگئے
(14.11.2015) چودہ/ نومبر 1957ء اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے پہلے گورنر جناب زاہد حسین نے وفات پائی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں