..............................
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ شام میں تعینات بیشتر روسی فوجی دستوں کے انخلا کے باوجود اگر بھی ضرورت پڑی تو روس کے فوجی دستے "چند گھنٹوں کے اندر" دوبارہ شام پہنچا دیے جائیں گے۔
جمعرات کو کریملن میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ روس کے کچھ فوجی بدستور شام میں موجود رہیں گے جو صدر بشار الاسد کی حامی افواج کو ان کی پیش قدمی میں مدد دینے کےلیے کافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ شام میں جاری تصادم میں اضافہ نہیں چاہتے اور پرامید ہیں کہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے گروہ عقل استعمال کریں گے اور کسی امن معاہدے پر متفق ہوجائیں گے۔
کریملن میں ہونے والی تقریب شام سے لوٹنے والے روسی فوجیوں کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی جس میں 700 سے زائد روسی فوجی اہلکار اور افسران شریک تھے۔ تقریب کے دوران صدر پیوٹن نے شام میں "عمدہ کارکردگی" کا مظاہرہ کرنے والے روسی فوجیوں کو اعزازات سے بھی نوازا۔
صدر پیوٹن نے رواں ہفتے اچانک شام میں اہداف کے حصول میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے وہاں تعینات بیشتر روسی فوجی دستوں کو وطن واپسی کا حکم دیا تھا۔
امریکی حکام کے اندازوں کے مطابق شام میں تین سے چھ ہزار تک روسی فوجی اہلکار موجود ہیں۔ روسی حکومت نے شام میں موجود اپنے اہلکاروں کی درست تعداد کبھی نہیں بتائی لیکن ماسکو نے اعلان کیا ہے کہ بیشتر فوجی دستوں کے انخلا کے بعد بھی شام میں ایک ہزار تک روسی فوجی اہلکار تعینات رہیں گے۔
جمعرات کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ ان کا ملک شام میں اپنے فضائی اور بحری اڈے برقرار رکھے گا جب کہ روسی جنگی طیارے داعش، القاعدہ سے منسلک باغی تنظیم النصرہ فرنٹ اور ان دیگر گروہوں کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی جاری رکھیں گے جنہیں اقوامِ متحدہ نے شدت پسند قرار دے رکھا ہے۔
شام میں گزشتہ تین ہفتوں سے جاری جنگ بندی کے باعث پرتشدد واقعات میں نمایاں کمی آچکی ہے جب کہ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے نمائندوں کے درمیان جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام امن بات چیت بھی جاری ہے۔
................................
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے شام میں تعینات بیشتر روسی فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
روس کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی صدر نے یہ حکم پیر کو ماسکو میں وزیرِ دفاع سرگئی شوئیگو اور وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران دیا۔
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزارتِ دفاع کو شام میں جو اہداف دیے تھے وہ حاصل کرلیے گئے ہیں۔
صدر پیوٹن نے دونوں وزرا کو ہدایت کی کہ اہداف کے حصول کے پیشِ نظر شام میں موجود بیشتر روسی فوجی دستوں کا منگل سے انخلا شروع کردیا جائے۔
روسی حکومت 'کریملن' کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن نے پیر کو ٹیلی فون اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد سے بھی گفتگو کی اور انہیں روسی فوج کے انخلا کے فیصلے پر اعتماد میں لیا۔
بیان کے مطابق روسی صدر نے شامی ہم منصب کو بتایا کہ وہ شام میں سرگرم روسی فضائیہ کے دستے کا بڑا حصہ وطن واپس بلارہے ہیں۔
تاہم بیان کے مطابق صدر پیوٹن نے صدر اسد کو بتایا کہ روس شام میں اپنی کچھ موجودگی برقرار رکھے گا تاکہ وہ ان پروازوں کو جاری رکھ سکے جو "شام میں کشیدگی روکنے سے متعلق معاہدے پر فریقین کی جانب سے عمل درآمد کی نگرانی کے لیے اڑائی جارہی ہیں۔"
امریکہ نے روس کے اس اعلان پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ اسے تاحال شام سے روسی فوج کے انخلا سے متعلق کوئی حتمی رپورٹ نہیں ملی ہے۔
.............................
داعش سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں کے حوالے سے، امریکی صدر براک اوباما نے جمعرات کو سکیورٹی پر مامور اپنے اعلیٰ اہل کاروں سے ملاقات کی۔ وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ ایسے میں جب یہ انتہا پسند گروپ اپنے پَر اور اثر و رسوخ عراق اور شام کے باہر پھیلا رہا ہے، انسدادی کوششوں میں اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جوش ارنیسٹ نے محکمہٴ خارجہ میں ہونے والی اِس ملاقات سے قبل بتایا کہ ’’کوئی شک نہیں کہ یہ کوششیں صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں‘‘۔
اِس موقعے پر اوباما نے وائٹ ہاؤس، محکمہٴ خارجہ، انٹیلی جنس برادری، محکمہٴ دفاع اور محکمہٴ خزانہ کے سینئر حکام سے ملاقات کی۔ یہ اجلاس داعش سے نبردآزما ہونے کے لیے کثیر جہتی امریکی مہم کا ایک حصہ تھا، جس دوران تازہ ترین صورت حال پر نظر ڈالی گئی۔
ارنیسٹ نے بتایا کہ یہ بات چیت ’’وسیع تر