|
میری آنکھوں میں تیرا عکس نہیں تو ہو گا ۔۔۔۔از ۔۔۔۔نور الصباح رحمان
05.12.2015, 04:14am , ہفتہ (GMT+1)
نور الصباح رحمان
غزل
میری آنکھوں میں تیرا عکس نہیں تو ہو گا جیسے ویرانے میں مہتاب لبِ جو ہو گا
کھِل رہے ہونگے تیری یاد کہ گُلشن دل میں تو ہی گُلشن کہ ہر اِک پھول کی خُوشبو ہو گا
سُرمئی شام سِمٹ آئے گی جب آنکھوں میں آنکھ میں پھیلا ہوا رات کا جادو ہو گا
تو نہ ہو گا جو کبھی پاس میرے خِلوت میں تیرا جلوا تو میرے پاس ہر اِک سو ہو گا
ڈھونڈ ہی لے گی میری آس اندھروں میں تجھے میرا راہبرتِری آواز کا جگنو ہو گا
بھیگی آنکھوں میں کوئی عکس کہاں ٹہرے گا بھیگی آنکھوں میں تو ٹہرا ہوا آنسو ہو گا
بِن تِرے کیسے قرار آئے گا دل کو سیمیںؔ دِل یہ جنگل میں بھٹکتا ہوا آہو ہو گا
///
|