15.10.2026, 01:12pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

چھ دسمبر کو میجر شبیر شریف جو مسلسل دشمن پر فائرنگ کررہے تھے شہید ہوگئے
06.12.2015, 10:05am , اتوار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

میجر شبیر شریف (نشان حیدر) کی شہادت

 پاکستانی فوج کے نامور سپوت میجر شبیر شریف کی تاریخ پیدائش 28 / اپریل 1943ءہے۔

میجر شبیر شریف کنجاہ ضلع گجرات میں پیدا ہوئے تھے۔ 19 / اپریل 1964ء کو انہوں نے فوج میں کمیشن حاصل کیا اور فرنٹیر فورس رجمنٹ میں تعینات کیے گئے۔ 1965ء کو پاک بھارت جنگ میں انہیں ستارہ جرات عطا کیا گیا۔
 وہ سلیمانکی سیکٹر میں 3 / دسمبر 1971ء کو  فرنٹیر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی کی قیادت کررہے تھے۔ ان کو ایک اونچے بند پر قبضہ کرنے کی مہم سونپی گئی جہاں سے دو گائوں گورمکھ کھیڑہ اور بیری والا زد میں آسکتے تھے۔ فوجی لحاظ سے اس جگہ کی بڑی اہمیت تھی اور اسی وجہ سے بھارت نے یہاں آسام رجمنٹ کی ایک کمپنی مامور کی تھی جسے ٹینکوں کے ایک اسکواڈرن کی مدد بھی حاصل تھی مطلوبہ پوزیشن تک پہنچنے کے لیے انہیں 30 فٹ چوڑی اور 10 فٹ گہری دفاعی نہر کو تیر کر عبور کرنا اور دشمن کے بارودی سرنگوں کے علاقے سے گزرنا تھا۔

مگر میجر شبیر شریف نے اپنی کمپنی کے ساتھ یہ تمام مرحلے طے کرلیے اور 3 دسمبر کی شام تک دشمن کو اس کی دفاعی قلعہ بندیوں اور خندقوں سے باہر نکال دیا۔ اس معرکے میں دشمن کے 43 سپاہی مارے گئے اور 4 ٹینک تباہ ہوئے۔

 میجر شبیر شریف نے 5 اور6 دسمبر کی درمیانی شب آسام رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر کو ہلاک کرکے اہم دستاویزات پر قبضہ کرلیا۔ 6 / دسمبر کو دشمن نے ایک خوفناک جوابی حملہ کیا۔ اس حملے میں میجر شبیر شریف جو مسلسل دشمن پر فائرنگ کررہے تھے‘ شہید ہوگئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی اعلیٰ عسکری خدمات پر نشان حیدر کا اعزاز عطا کیا۔ میجر شبیر شریف لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
میجر شبیر شریف شہید کا نشان حیدر کا اعزاز 3 / فروری  1977ء کو ایوان صدر اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ان کی بیوہ  نے حاصل کیا۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مظفر علی سید کی پیدائش

 اردو کے معروف نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید کی تاریخ پیدائش 6 / دسمبر 1929ء  ہے۔
مظفر علی سید امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں تنقید کی آزادی اور تراجم میں فکشن، فن اور فلسفہ اور پاک فضائیہ کی تاریخ کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے خامہ بگوش کے قلم سے، سخن در سخن اور سخن ہائے گفتنی کے نام سے مرتب کئے۔
مظفر علی سید نے 28 / جنوری 2000ء کو لاہور میں وفات پائی۔وہ لاہور میں کیولری گرائونڈ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
سید ناصر جہاں کی وفات
 
پاکستان کے معروف نعت خواں اور نوحہ خواں سید ناصر جہاں 6 / دسمبر 1990ء کو   کراچی میں وفات پاگئے۔
سید ناصر جہاں 1927ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی لکھنؤ میں حاصل کی اور 1950ء میں پاکستان آگئے۔ زیڈ اے بخاری کی مردم شناس نظروں نے ان کی صلاحیتوں کو جلابخشی۔ 1954ء میں ریڈیو پاکستان سے انہوں نے مجلس شام غریباں کے بعد سید آل رضا کی نظم شام غریباں اپنے خوب صورت لحن میں پیش کی۔ یہ نظم بعد میں سلام آخر کے نام سے معروف ہوئی۔ اگست 1956ء میں انہوں نے مجلس شام غریباں اور سلام آخر کے درمیان چھنو لال دلگیر کا لکھا ہوا مشہور نوحہ گھبرائے گی زینب پہلی مرتبہ پڑھا جس کے بعد ناصر جہاں کا پڑھا ہوا یہ نوحہ اور یہ سلام ریڈیو پاکستان کی مجلس شام غریباں کا لازمی جزو بن گیا۔ بعدازاں پاکستان ٹیلی وژن نے بھی اس روایت کو برقرار رکھا۔
سید ناصر جہاں ایک اچھے نعت خواں بھی تھے ان کی پڑھی ہوئی کئی نعتیں بے حد مقبول ہوئیں جن میں امیر مینائی کی نعت جب مدینے کا مسافر کوئی پاجاتا ہوں سرفہرست ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔سید ناصر جہاں کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
 ------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عزیز میاں قوال کی وفات

 پاکستان کے نامور قوال عزیز میاں 6 / دسمبر 2000ء کو ایران کے شہر تہران میں وفات پاگئے۔

عزیز میاں 27 / جولائی 1942ء کو یوپی کے شہر بلند شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ قوالی گانے میں اپنا ایک منفرد انداز رکھتے تھے۔ ان کی مشہور قوالیوں میں ، میں شرابی، تیری صورت نگاہوں میں اور اللہ ہی جانے کون بشر ہے سرفہرست ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
وہ ملتان میں احاطہ مزار بابا ناظر حسین (شہتوتاں والی سرکار) سیتل ماڑی میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
نجمہ محبوب کی وفات

 پاکستان ٹیلی وژن کی مشہور اداکارہ نجمہ محبوب  6 / دسمبر 1983ء کو پنجابی فلم رکشہ ڈرائیور کی شوٹنگ کے دوران ایک بچے کو بچاتی ہوئی چلتن ایکسپریس سے ٹکرا کر جاں بحق ہوگئیں۔
نجمہ محبوب 1949ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئی تھیں۔ ابتدا میں اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ پھر 1969ء میں یونائیٹڈ پلیرز کے ایک ڈرامے کے ذریعہ ٹیلی وژن پر آئیں۔ لاہور ٹیلی وژن پر ان کا پہلا ڈرامہ ہاتھی دانت تھا اس کے بعد انہوں نے ٹیلی وژن کے متعدد انفرادی ڈراموں اور سیریلیز میں کام کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 79 فلموں میں بھی کام کیا جن میں پہلی فلم خلش اور آخری فلم نازک رشتے تھی جو 1987ء میں ریلیز ہوئی۔
-------------------------
بابری مسجد کی شہادت

 اترپردیش (بھارت) کے شہر اجودھیا میں لاکھوں انتہا پسند ہندوئوں نے مغل دور کی یادگار بابری مسجد پر 6 / دسمبر 1992ء کو یلغار کردی۔ چند گھنٹوں کے اندر انہوں نے مسجد کو ملبے کا ڈھیر بنادیا اور اس ملبے پر راتوں رات ایک مندر تعمیر کرلیا۔
بابری مسجد 1527ء میں پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے تعمیرکروائی تھی۔ کئی صدیوں تک یہ مسجد ، مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی اور اس مسجد کے بارے میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا۔ مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد 1885ء میں ہندو انتہا پسندوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد جس مقام پر تعمیر کی گئی ہے وہاں رام چندر جی نے جنم لیا تھا لہٰذا اس مسجد کو شہید کرکے یہاں مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ دعویٰ اتنا بے بنیاد تھا کہ جج نے ، جو خود بھی ہندو تھا، محض پانچ دن کی سماعت کے بعد اس مقدمے کو خارج کردیا۔
ہندوستان کی آزادی کے بعد یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر جڑ پکڑ گیا اورہندوئوں نے اس مسجد کے مقام پر ایک مرتبہ پھر متنازع بنانے کی کوشش کی۔ 22 دسمبر 1949ء کو کسی نے اس مسجد میں رام اور سیتا کے مجسمے رکھ دیئے، اس واقعے کے بعد ہندوئوں اور مسلمانوں میں کشیدگی پیدا ہوئی اور حکومت نے اس مسجد کو مقفل کردیا۔اس کے بعد یہ معاملہ کئی دہائیوں تک جوں کا توں رہا تاہم جب 1990ء میں بھارت میں بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو 6 دسمبر 1992ء کو یو پی کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کی ایماپرہندو انتہا پسندوں نے اس مسجد پر حملہ کرکے اسے شہید کردیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان بھر میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جس میں اندازاً 2 ہزار مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
اس سانحے پر پوری پاکستانی قوم بھی سراپا احتجاج بن گئی۔ حکومت پاکستان نے 8 دسمبر1992ء کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیا، تمام دفاتر اور کاروباری مراکز بن رہے اور ملک بھر میں احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ 10 دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف نے اس مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس طلب کرلیا۔ اس اجلاس میں اپوزیشن کی نمائندہ سیاسی جماعتوں نے تو شرکت نہیں کی تاہم کچھ چھوٹی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتام پر اعلان اسلام آباد جاری کیا گیا جس میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بابری مسجد کو فوری طور پر ازسرنو تعمیر کیا جائے، بھارت میں تمام مساجد کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مسلمانوں کے جان و مال اور املاک کو جو نقصان پہنچا ہے بھارتی حکومت اس کا معاوضہ ادا کرے۔
ادھر ہندوستان میں یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر عدالت تک جا پہنچا۔ 30/ ستمبر 2010ء کو ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اس مسجد کے تین حصے کرکے اسے مسلمانوں اور ہندوئوں میں تقسیم کردیا جائے تاہم مسلمانوں نے یہ فیصلہ قبول کرنے سے انکار کردیا

:دیگر مضامین
(05.12.2015) میجر محمد اکرم نے  5 / دسمبر 1971ء کو  جام شہادت نوش کیا
(04.12.2015) مشہور شہید ناموس رسالت غازی علم دین کی تاریخ پیدائش 4 / دسمبر 1908ء   ہے
(03.12.2015) ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے
(02.12.2015) بے نظیر بھٹو نے 2 /  دسمبر 1988ء کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا
(01.12.2015) یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔
(30.11.2015) حضرت مجدد الف ثانی کی تاریخ وفات  30 /  نومبر 1624ء ہے
(29.11.2015)  عظیم مجاہد آزادی سید احمد شہید کی تاریخ پیدائش  29 / نومبر1786ء ہے
(28.11.2015) تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے  28 / نومبر 1938ء کو وفات پائی۔
(28.11.2015)  ہفتہ 28  نومبر کو سکائپ کے ذریعے پہلی عالمی مجلس عزا
(27.11.2015) قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی
(26.11.2015) وزیراعظم  نواز شریف نے  26 / نومبر 1997ء کو پاکستان موٹر وے کا افتتاح کیا
(25.11.2015)  فلمی گلوکار سلیم رضا 25 / نومبر 1983ء کو کینیڈا میں انتقال کر گئے
(24.11.2015) اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔
(23.11.2015)  انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش 23 نومبر 1933ء ہے۔
(22.11.2015) بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری بائیس نومبر کو پیدا ہوئی تھیں
(21.11.2015) اکیس نومبر ۔پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔
(20.11.2015) بیس  نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے
(19.11.2015) انیس / نومبر1957ء پاکستان کے ممتاز سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کی تاریخ وفات ہے۔
(18.11.2015) اٹھارہ نومبر 1914ء کو نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔
(17.11.2015)  امید فاضلی 17 /نومبر 1923ء کو ڈبائی ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں