15.10.2026, 04:13pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

پروفیسر سید علی عباس جلال پوری 7 / دسمبر 1997ء کو  وفات پاگئے
07.12.2015, 08:02am , سوموار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی


سلیم یوسف کی پیدائش


پاکستان کے معروف کرکٹر سلیم یوسف کی تاریخ پیدائش 7 / دسمبر 1959ء  ہے۔

سلیم یوسف کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز5 / مارچ 1982ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے ٹیسٹ میچ سے کیا۔ سلیم یوسف پاکستانی کرکٹ ٹیم میں وکٹ کیپر کی پوزیشن پر کھیلتے تھے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 32ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا جس میں انہوں نے 91 کھلاڑیوں کو کیچ آئوٹ اور 13 کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ کیا۔ انہوں نے 86 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور 81 کھلاڑیوں کو کیچ آئوٹ اور 22 کھلاڑیوں کو اسٹمپڈ کیا۔ وہ کراچی میں مقیم ہیں۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
علی عباس جلال پوری کی وفات


فلسفہ کے ممتاز استاد، مؤرخ، نقاد، دانشور اور مترجم پروفیسر سید علی عباس جلال پوری 7 / دسمبر 1997ء کو  وفات پاگئے۔

علی عباس جلال پوری 1914ء میں جلال پور شریف ضلع جہلم میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی اردو، فلسفہ اور فارسی میں ایم اے کی ڈگریاں طلائی تمغوں کے ساتھ حاصل کیں اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔
علی عباس جلال پوری کا شمار پاکستان کے ان اکابر اہل فلسفہ اور فارسی میں ہوتا تھا جو قدیم و جدید، فلسفے پر عبور رکھتے تھے۔ ان کی معروف تصانیف میں روح عصر، روایات فلسفہ، مقامات وارث شاہ، عام فکری مغالطے، وحدت الوجودتے پنجابی شاعری، تاریخ کا نیا موڑ، کائنات اور انسان، روایات تمدن قدیم، خردنامہ جلال پوری، مقالات جلال پوری، جنسیاتی مطالعے، رسوم اقوام اور اقبال کا علم کلام کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ جلال پور شریف ضلع جہلم میں آسودۂ خاک ہیں۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد

بالغ رائے دہی کی بنیاد پرپاکستان کے پہلے عام انتخابات 7 / دسمبر 1970ء کو منعقد ہوئے ان انتخابات میں ملک کی 24 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ انتخابات کے اس محاذ پر 1499 امیدوار تھے۔ 300 نشستیں تھیں جن کا فیصلہ پاکستان کے ساڑھے پانچ کروڑ رائے دہندگان کو کرنا تھا۔

یہ انتخابات اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتے تھے کہ ان کے لیے تاریخ کی طویل ترین انتخابی مہم چلائی گئی تھی اور بلوچستان کے عوام نے پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انتخابات کے نتائج نے پاکستان میں ایک بالکل نئی صورتحال کو جنم دیا۔ مشرقی پاکستان کی 162 نشستوں میں سے عوامی لیگ نے 2 کے سوا باقی تمام نشستیں جیت لیں۔ (ان دو نشستوں پر نور الامین اور راجہ تری دیورائے کامیاب ہوئے)۔ مغربی پاکستان میں 138 نشستوں میں 81 نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی جب کہ مسلم لیگ (قیوم گروپ) کے 9‘ کونسل مسلم لیگ کے 7‘ جمعیت علمائے اسلام کے 7‘ جمعیت علمائے پاکستان کے 7‘ نیپ (ولی خان گروپ) کے 6‘ جماعت اسلامی کے 4‘ کنونشن مسلم لیگ کے 2 اور پاکستان جمہوری پارٹی کا فقط ایک امیدوار کامیاب ہوا۔

17 دسمبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے تو ملک کے دونوں حصوں میں دوبارہ اسی قسم کے نتائج سامنے آئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو اور مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی۔ ان انتخابات کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں صوبوں کی سیاست میں جو بعد المشرقین موجود تھا وہ مستحکم ہوگیا اور ملک کی قسمت تین افراد صدر محمد یحییٰ خان‘ شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں میں آگئی۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
سارک تنظیم کا قیام عمل میں آیا


جنوب ایشیا کے آٹھ ممالک کی تنظیم سارک یا سائوتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کوآپریشن کے قیام کا مقصد علاقائی تعاون کو مؤثر اور ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا ہے اور اس خطے کو ایک غیر سیاسی ادارے کے دائرۂ کار میں لانا ہے۔ سارک تنظیم میں ابتدائی طور پر سات ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ شامل تھے اب اس تنظیم میں افغانستان بھی شامل ہوچکا ہے۔

سارک کے قیام کی تجویز سب سے پہلے بنگلہ دیش کے صدر جنرل ضیاء الرحمن نے 1980ء میں پیش کی تھی۔ انہوں نے جن شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی تھی ان میں اقتصادی،فنی، سائنسی، تعلیمی، سماجی اور ثقافتی شعبے شامل تھے۔ اس کے بعد اپریل 1981ء سے اگست 1984ء تک کولمبو، کٹھمنڈو، اسلام آباد، ڈھاکہ اور نئی دہلی میں خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر سال بہ سال مذاکرات منعقد ہوتے رہے جس میں اس تنظیم کے خدوخال متعین ہوئے۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں 7 / دسمبر 1985ء کو  جنوب ایشیا کے سات ممالک کے سربراہان کی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا افتتاح بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد نے کیا۔ اس کانفرنس میں جن سربراہان ممالک نے شرکت کی ان میں بنگلہ دیش کے صدر حسین محمد ارشاد کے علاوہ پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق، بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی، سری لنکا کے صدر جے وردھنے، نیپال کے شاہ مہندرا، بھوٹان کے شاہ جگمی وانگچوک اور مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم شامل تھے۔اگلے روز یعنی 8 / دسمبر 1985ء کو جنوب ایشیا کے ممالک کی اس تنظیم کے منشور کا اعلان کردیا گیا اور یوں اس تنظیم کا قیام عمل میں آگیا۔16 / جنوری 1987ء کو نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں اس تنظیم کا مستقل سیکریٹریٹ قائم کردیا گیا۔


:دیگر مضامین
(06.12.2015) چھ دسمبر کو میجر شبیر شریف جو مسلسل دشمن پر فائرنگ کررہے تھے شہید ہوگئے
(05.12.2015) میجر محمد اکرم نے  5 / دسمبر 1971ء کو  جام شہادت نوش کیا
(04.12.2015) مشہور شہید ناموس رسالت غازی علم دین کی تاریخ پیدائش 4 / دسمبر 1908ء   ہے
(03.12.2015) ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے
(02.12.2015) بے نظیر بھٹو نے 2 /  دسمبر 1988ء کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا
(01.12.2015) یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔
(30.11.2015) حضرت مجدد الف ثانی کی تاریخ وفات  30 /  نومبر 1624ء ہے
(29.11.2015)  عظیم مجاہد آزادی سید احمد شہید کی تاریخ پیدائش  29 / نومبر1786ء ہے
(28.11.2015) تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے  28 / نومبر 1938ء کو وفات پائی۔
(28.11.2015)  ہفتہ 28  نومبر کو سکائپ کے ذریعے پہلی عالمی مجلس عزا
(27.11.2015) قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی
(26.11.2015) وزیراعظم  نواز شریف نے  26 / نومبر 1997ء کو پاکستان موٹر وے کا افتتاح کیا
(25.11.2015)  فلمی گلوکار سلیم رضا 25 / نومبر 1983ء کو کینیڈا میں انتقال کر گئے
(24.11.2015) اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔
(23.11.2015)  انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش 23 نومبر 1933ء ہے۔
(22.11.2015) بیگم حمیدہ اختر حسین رائے پوری بائیس نومبر کو پیدا ہوئی تھیں
(21.11.2015) اکیس نومبر ۔پاکستان کے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام لندن میں انتقال کرگئے۔
(20.11.2015) بیس  نومبر 2009ء کوغلام مصطفی خان جتوئی لندن کے سینٹ میری اسپتال میں وفات پاگئے
(19.11.2015) انیس / نومبر1957ء پاکستان کے ممتاز سیاستدان سر شاہنواز بھٹو کی تاریخ وفات ہے۔
(18.11.2015) اٹھارہ نومبر 1914ء کو نامور ادیب علامہ شبلی نعمانی کا انتقال ہوگیا۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں