علّامہ اقبال مرحوم رحمۃ اللہ علیہ نے بلکل بجا فرمایا تھا ،
،زرا نم ہو تو یہ مٹّی بڑی زرخیز ہے ساقی
جی ہاں!
اسی مٹّی سے مریم مختیار جیسی باہمّت اور پُر عزم شہید پائلٹ بیٹی نے کراچی شہر میں جنم لیا مریم بلاشبہ قوم کا اثاثہ اور باعث فخر بیٹی تھی ، پاکستان کی پہلی خاتون شہید پائلٹ کے لئے
پاکستانی فضائیہ نے خبر نشر کرتے ہوئے بتایا کہ میانوالی کے علاقے کنڈیاں میں جنگی طیارے کے حادثے میں ایک خاتون پائلٹ شهید اور ان کے ساتھی پائلٹ زخمی ہوگئےہیں ۔
پاکستانی فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی اور فلائٹ آفیسر مریم مختیار معمول کی ایک آپریشنل تربیتی پرواز پر تھے جب مشن کے حتمی مرحلے میں انھیں ایک سنگین اِن فلائٹ ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا۔
ترجمان کے مطابق دونوں پائلٹوں نے طیارے کو آخری منٹ تک بچانے کی کوشش کی اور زمین پر موجود سویلین آبادی کو بچاتے ہوئے جہاز سے نکل گئے اور جہاز کنڈیاں میانوالی کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تاہم زمین پر اترتے ہوئے مریم مختار شہید ہوگئیں جبکہ ثاقب معمولی زخمی ہوگئے۔
مریم مختیار نے گذشتہ سال بی بی سی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مردوں کے لیے مخصوص پیشے میں اس لیے کام کرنا چاہتی تھیں کیونکہ وہ ’کچھ مختلف‘ کرنا چاہتی تھیں۔
اپنے باہمّت فوجی والد کرنل (ر) مختیار احمد شیخ کو دیکھ کر مریم کے دل میں بھی پاک افواج میں جانے کا شوق پیدا ہوا،ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور سول انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی۔
بعد ازاں پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی،لڑاکا طیاروں کو اڑانے کی تربیت کا آغاز کیا اور پی اے ایف رسالپور اکیڈمی سے 2014 میں گریجویٹ کیا،فلائنگ آفیسر مریم مختیار پاکستان کے پہلے جنگی جہاز اڑانے والی خواتین کے گروپ میں سے ایک تھیں، شاہین صفت مریم کو آسمان کی بلندیوں پر پرواز کا شوق تھا، یہ شوق انہیں آگےبڑھنےمیں مدد دیتارہا۔
مریم مختیار نے اپنی شہادت سے پہلے انٹرویو میں کہا مجھے شروع سے ہی ائیر فورس میں جانے کا شوق تھا، مجھے ائیر فورس کا یونیفارم اور شان وشوکت شروع سے پسند تھے، وطن کے لئے کچھ ہٹ کر کرنے کا جذبہ مجھے ائیر فورس میں لئے آیا، مجھے میرا کام بہت پسند ہے۔دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں خواتین کو کام کرنے کی کتنی آزادی ہے، مجھے پاک فضائیہ نے مزید پر اعتماد بنا دیا ہے۔
24 نومبر کو مریم مختیار اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی کے ساتھ روٹین کی فلائٹ پر تھیں کہ میانوالی کے قریب طیارے میں فنی خرابی ہوگئ، فلائٹ آفیسر مریم مختیار اور ان کے ساتھ اسکواڈرن لیڈر نے کمال مہارت کے ساتھ طیارے کو شہری آبادی پر گرنے سے بچایا،اس ہی جدوجہد میں 24 سالہ مریم مختیار نے جام شہادت نوش کیا اور اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی زخمی ہوگئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
میڈیا پر یہ خبر آتے ہی کہ فلائٹ آفیسر مریم مختیار نے طیارہ کریش میں جام شہادت نوش کیا ہے ہر طرف سوگ کی کیفیت طاری ہوگی، ہر طرف پاکستان کی اس بہادر بیٹی کے چرچے ہونے لگے۔ آفرین ہے شہید مریم مختیار کے خاندان پر انہوں نے بہت حوصلے سے جواں سال بیٹی کی اچانک موت پر بہت صبر کا مظاہرہ کیا، شہید کے والد اور والدہ دونوں نے کہا ہمیں اپنی بیٹی کی شہادت پر فخر ہے۔
مریم مختیار کی والدہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہا میں اپنی بیٹی کو کہتی تھی سورج بنو، اپنی روشنی اور قابلیت سے دنیا کے کام آؤ، وہ کہتی ہیں زندگی ایسی گزار کر جانا چاہیے کہ دنیا فخر کرے، میری بیٹی کو ائیر فورس نے تراش کر ہیرا بنا دیا، آج مریم مختیار شہید کی زندگی اور شہادت پر سب کو فخر ہے، مریم شہید کے والد کہتے ہیں مجھے امید ہے مریم کی شہادت کے بعد مزید بچیاں اس شعبے میں آکر مریم کا مشن آگے لے کر چلیں گی، وہ بہت بہادر تھی اس نے مجھے کہا بابا جب پائلٹ کا جہاز کا کریش ہوتا ہےتو اس کی صرف راکھ ملتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی قوم کی اس شیر دل بیٹی کو سب خراج تحسین پیش کرتے رہے۔ حنا طاہر نواز نے ٹوئٹ کیا ریسٹ ان پیس مریم مختیار۔ مہوش راجپوت نے ٹوئٹ کیا پاکستان کی شہزادی مریم مختیار ہمیں تم پر فخر ہے۔طاہر اکبر نے ٹوئٹ کیا پوری قوم کو شہید مریم کی شہادت پر فخر ہے۔ماریہ چوہدری نے ٹوئٹ کیا مریم شہید پاکستان کی پہلی خاتون شہید پائلٹ ہیں۔ضمیر احمد ملک نے ٹوئٹ کیا مریم مختیار صرف24سال کی عمر میں شہادت کا درجہ پاگئی
بے شک مریم مختیار نے پاکستان کی بیٹیوں کو بہادری جواں ہمّتی ، اولو لعزمی کا روشن چراغ جلا کر دیا ہے
۔پاکستانی قوم کاپنی اس عظیم بیٹی کو سلام کہتی ہے