|
دستورِ دیرینہ ہے کہ ڈاکو ، ڈاکو ؤ ن پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔۔۔؟از۔۔۔ شمس جیلانی
12.12.2015, 03:04am , ہفتہ (GMT+1)
از۔۔۔ شمس جیلانی
میں ہمالیہ کی ترائی کا رہنے والاہوں جہاں بڑے ، بڑے جنگلات تھے شہروں میں بر طانیہ کی حکومت تھی لیکن جنگلوں میں ڈاکو عام تھے اور انہیں کا راج تھا۔ اس زمانے میں لکھے ہوئے آئین نہیں ہوتے تھے لیکن ان کا بھی ایک غیر تحریر شدہ آئین تھا وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے ۔ ان کے علاقے بٹے ہو ئے تھے۔ لیکن وہ کبھی ایک دوسرے کی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے تھے۔ اور ایک دوسرے کے کبھی آڑے نہیں آتے تھے۔ شکاری اور ڈاکو ساتھ ساتھ گھومتے تھے ۔ صرف انہیں یہ کہنا کافی تھا کہ ہم شکاری ہیں یا راہ گیر ہیں اور وہ محفوظ ہوجاتا تھا ۔ ہاں کوئی مخبر ہوا تو سزائیں عبر تناک تھیں۔ جبکہ آج کی دنیا میں لکھا ہوا آئین ہے مگر پوری طرح نافذ کہیں بھی نہیں ہے ہر ایک ا س کی خلاوورزی پنا حق سمجھتا ہے۔ پچھلے دنوں ہر ایک خوش تھا کہ بس اب وطن عزیز کے اچھے دن آگئے ہیں لوگوں کے چالان بن رہے ہیں پرانی اور نئی فائیلیں کھل رہیں ، اس لیے کہ اتفاق سے قوم کو کچھ اچھے آدمی مل گئے ہیں اوروہ ملک کو اچھا بنا نا چاہتے ہیں۔ ہم نے بہت دفعہ لکھا جس کے کہ یہ کالم گواہ ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا؟ لوگوں نے کہا آپ کبھی اچھی بات بھی لکھا کریں ہمیشہ کم ہمتی کی بات کرتے ہیں ،نا امیدی کی بات کرتے ہیں، کبھی قوم کی ہمت بندھائیے؟ ہر لکھنے والا مجبور ہوتا ہے کہ وہ ایسا کالم لکھے جو مقبولیت حاصل کرے تاکہ اس کا بھاؤ بڑھے؟ مگر ہم پیسے کے لیے کوئی کام نہیں کرتے لہذا مقبولیت اور نا مقبولیت کا غم بھی نہیں پالتے؟ آج کی دنیا میں یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئے گی مگر یہ حقیقت ہے کہ ابھی دنیا اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی ہے۔ جنہیں عرف ِ عام میں لوگ سر پھرے کہتے ہیں۔ یہ بہت نہ سہی سے لیکن کچھ ہیں ضرور جبکہ وہ غیر ترقی یافتہ ملکو ں میں کم اور ترقی یافتہ ملکوں میں بہت زیادہ ہیں جہاں زیادہ تر کام رضاکارانہ طور پر چلتے ہیں اور انہیں ہر سطح پرسراہا جاتا جبکہ غیر ترقی یا فتہ ملکوں صورت ِ حال مختلف ہے وہاں سرراہا نہیں بلکہ انہیں ستایا جاتا ہے؟ یہ اپنے، اپنے علاقے رسم رواج ہیں ؟ ویسے ہم کوئی روشن ضمیر نہیں ہیں جو ہمارا ہر بار کا کہا ہوا، پورا ہوتا ہے اور ہم ہمیشہ بے دھڑک کہہ دیتے ہیں کچھ نہیں ہوگا “ اگر ہمیں روشن ضمیری کا دعویٰ ہوتا توہم بھی کہیں دکان کھول لیتے اور کما کھاتے؟ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ “ کچھ نہیں ہوگ“ اس لیے کہ ہم خود اچھے نہیں ہیں ؟ اگر اکثریت اچھی ہوجائے تو سب کچھ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اگر اٹھارہ کروڑ میں تین آدمی اچھے ہوں بھی تو وہ کیا کرسکتے ہیں؟ اس لیے کہ کسی کوگرفتار کرنے کے لیئے بھی ، ایک نیک آدمی چاہیئے ، اگر وہ نیک نہیں ہے اور اس کی ڈیوٹی کسی کو گرفتار کرنے پر لگائی گئی ہے، تو وہ دیکھے گا یہ بندہ ہے کون اپنا پیٹی بھائی تو نہیں ہے؟ اپنے گاؤں کا تو نہیں ہے ،ذات برادری کا تو نہیں ہے۔ یہ اگر ان میں سے کچھ نہیں ہے تو پھر بندہ کس کا ہے ؟ جیسے کہ اگر اس پر کسی سائیں کی مہر لگی ہوئی ہے تو وہ بجائے اسے گرفتار کر کے سائیں سے برائی مول لینے کہ، سائیں! کو ایک فون سرکاری خرچے پر دفتر سے مار دے گا کہ سائیں! آپکے فلاں بندے کے وارنٹ لے کر میں آرہا ہوں، سائیں! میں آپ کا نمک خوار ہوں! نیاز مند ہوں! آپ کے بندے کو کیسے گرفتار کر سکتا ہوں،میں نے سو چا کہ آپ کو اطلاع کردوں؟وہ وہاں سے فرار ہو جائے گا۔ اگر گھر پر نہیں ہوا کہیں اسے راستے میں بھی مل گیا تو بھی یہ اس کو دیکھ کر بھی منہ پھیرے بغیر چلا جائے گا؟ اب وہ ا وپر جو ایک نیک آدمی بیٹھا ہوا ہے وہ کیا کرے گا۔وہ زیادہ میں زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ خود گاڑی میں بیٹھے کانسٹبل ساتھ بٹھائے اور ڈرائیو بھی خود کرے اور کسی کو بتائے بھی نہیں کہ کہاں جارہے ہیں؟۔ پھر بھی وہ جبھی کامیاب ہو سکتا ہے کہ وہ اسے پہچانتا ہو اور اس کا گھر بھی جانتا ہو؟ سوال یہ ہے کہ ایک افسر کیا تمام مجرموں کے گھر جان سکتا ہے۔ چلیے وہ جانتا بھی ہے پہونچ بھی گیا، گرفتار بھی کر لیا اوراس نے پکڑ کر حوالات میں بند کر دیا۔ دوسرے دن کسی عدالت میں وہ گرفتاری چیلینج ہو جائے گی کہ اس نے اسے گرفتار کیسے کیا جب اس کےپاس اسے گرفتار کرنے کے اختیارات ہی نہیں تھے۔ لہذاحبس بیجا میں ایک معزز شہری کو رکھنے کے جرم میں وہ خود جیل چلا جا ئے گا، اگر بہت بڑا افسر ہوا تو شاید بچ جا ئے۔ مگر اس کے بعد اس کے کان ہو جائیں گے اور وہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں کریگا۔ اگر اس کے ستارے بہت ہی چھے ہوئے تو چلیے۔ اس نے اس معزز شہری کو حوالات کی ہوا بھی کھلادی اور اس کا کچھ بگڑا بھی نہیں ۔ اس نے چھتر کے زور پر سب کچھ قبول بھی کرا لیا ؟ تو اب ایف آئی آرکون درج کرےگا؟ جو کرے گا اگر وہ ایماندار نہیں ہے تو بھی بڑے افسر کے دباؤ میں آکر صیح بھی لکھے گا۔ چلیئے یہ مرحملہ بھی طے ہوگیا تو ،بتا ئیے کہ گواہ کہاں سے ملیں گے۔ پراسیکیوٹر کہاں سے آئیں گے ؟اگر ان کے پاس سائیں کا فون آگیا تو کریں گے۔ نہیں مانتے ہیں تو ظاہر ہے کہ کسی کی لڑکیاں ہو نگی بہنیں ہو نگی، کو ئی آدمی بھی نیک ہونے کے باوجود کسی بدمعاش کے خلاف گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ رہے ریڈی میڈ گواہ! وہی ملیں گے جو تھانے میں بیٹھے رہتے ہیں اور کہیں میلوں دور ہونے واقعہ کے چشم دید گواہ بن جاتے ہیں ! اگر وہ استعمال ہو ئے تو وہ کسی کو سزا دلانے کے کام نہیں آسکتے، اس لیے کہ پولس کے براہ راست کنٹرول میں ہوتے ہیں وہ صرف مال بنانے کام میں آسکتے ہیں یاپارٹی تبدیل کرانے کے کام آسکتے ہیں ؟ سزا دلانے کے کام میں ہر گز نہیں آسکتے؟ پھراس کے آگے بھی بہت سے مراحل ہیں ۔ اس کے بعد بھی قدم قدم پر سیاسی مجبوریا ں ہیں ۔ جتنے آدمی جہاں جہاں لگے ہو ئے ہیں وہ کسی نہ کسی کے آدمی ہیں ۔ ان کے بال بچے ہیں ، ججوں کو بھی اپنی جان کا خطرہ ہے۔ وکیلوں کو اپنی جان کا خطرہ ہے جو ایمانداری دکھا ئے گامارا جاتا ہے۔ پھر سیاسی مجبوریاں ہیں ۔ اس پر مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آگیا اس دور میں ایک شخص پانچ سو روپیہ کانادہندہ کواپریٹو سو سائیٹی کا تھا اس کو انسپکٹر نے پکڑا ہوا تھا کہ کچھ مال بنا لے؟ وہ کہہ رہا تھا کہ میرے پاس پیسہ نہیں میں کہاں سے تمہیں دوں! وہ کہتا کہ اچھا تو میں جیل بھیج دیتا ہوں اس کے پاس ایک کمبل تھا وہ اٹھاتا اور کہتاچلو ؟ انسپکڑ ڈھیلا پڑ جاتا؟ یہ اس کی وقت بات ہے جب لوگ جیل جانا برا سمجھتے تھے؟ لہذا وہ اسے یہ سمجھ کر دھمکی دے رہا تھا کہ یہ شاید جیل سے ڈر جائے۔ اب تو لوگ کواپریٹو سو سائٹی کیا پورے پورے بنک کھاگئے ۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں ۔ بلکہ جیل شارٹ کٹ ہے حکومت میں جانے کا، کہ یہ بھی قر بانی میں شامل ہے کہ میں اتنے سال جیل میں رہا اور لوگ منتظر رہتے ہیں کہ انہیں جیل بھیجدیا تاکہ وہ اپنی پرانی کرتوتوں کی بنا پر کھوئی مقبولیت سیاسی مظلوم بن کر دوبارہ حاصل کر لیں ؟ اگر کو ئی کچھ ایسے میں کرنا بھی چاہے تو اس کو پریشانی لاحق ہوتی ہے کہ ًاگر اِس کی حکومت بر طرف کردی تو یہ کھوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کرلے گا اور میری کرسی لے لیگا ۔ کیونکہ مجھ میں بھی بہت سے چھید ہیں؟ دوسرے اچھے آدمی کا میں آج حوصلہ بڑھا دوں تو کل میرا نمبر نہ آجائے ؟ رہیں سیاسی پارٹیاں ان میں کسی کا لیڈر اگر آزمایا ہوا نہیں ہوا تو اس کی طرف لوگ دیکھتے ہیں ؟ کیونکہ وہ نعرہ لگا رہا ہوتاہے کہ میں نیا پاکستان بنا ؤں گا؟ اس راستہ پر وہ چلنا بھی چاہتا ہے؟ لیکن نئے لوگوں کو الیکشن جیتنے کا تجربہ نہیں ہوتاہے، دوسرے ان کے پاس دست غیب سے کمایا ہوا پیسہ نہیں ہوتا لہذا مال خرچ میں بخیل ہوتے ہیں۔ ان کی ناتجربہ کاری کی بنا پر وہ انتخاب ہار جاتا ہے ۔ تو مجبوراًقابل ِ انتخاب لوگو ں کواپنی پارٹی میں بھر تی کر لیتا ہے۔ وہ وہی کرتے ہیں جو کرتے آرہے ہیں۔ عوام کی آس ٹوٹ جاتی ہے نوبت یہاں تک پہونچتی ہے کہ وہ پارٹی میونسپلٹی کے نتخاب تک ہار جاتی ہے، اس لیے کہ لوگوں کااعتماد کھو چکی ہوتی ہے ۔ یہ کھیل گزشتہ دو کم ستر سال سے جا رہی ہے ۔ اور جب تک ہم من حیثیت القوم نہ بدلیں کچھ نہیں بدلے گا۔ اور اس کے لیے کسی مقنا تیسی لیڈر اور عوامی انقلاب کی ضرورت ہے جو محلوں میں رہنے والے نہیں لاسکتے ، اس لیے کہ چور چوروں کو نہیں پکڑ سکتے ؟ اسی لیے ہادی اسلام (ص) نے پہلے لوگوںکا تجزیہ نفس کیا، پھر کہیں جاکر مدینہ میں حکومت قائم کی؟ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم نہ بدلیں دنیا بدل جائے جو ناممکن ہے۔؟
|