15.10.2026, 04:14pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

غلام اسحاق خان 12 / دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے
12.12.2015, 03:25am , ہفتہ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

غلام اسحاق خان صدرِ پاکستان منتخب ہوئے

غلام اسحاق خان20 / جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی کرنے کے بعد 1940ء میں انہوں نے صوبہ سرحد کی سول سروس سے اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ صوبہ سرحد کے ہوم سیکریٹری، سیکریٹری محکمہ خوراک، صوبائی ترقیات کے سیکریٹری اور کمشنر ترقیات رہے۔ ایسے ہی کئی اور عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد یکم فروری 1961ء کو انہیں واپڈا کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔

 وہ اس عہدے پر 11 / اپریل 1966ء تک فائز رہے۔ انہوں نے وفاقی سیکریٹری مالیات، گورنر اسٹیٹ بنک اور سیکریٹری دفاع کے عہدوں پر بھی خدمات انجام دیں۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے انہیں سیکریٹری جنرل انچیف مقرر کیا۔

 یہ عہدہ وفاقی وزیر کے عہدے کے برابر تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور ہی میں وہ وزیر خزانہ بھی رہے۔ مارچ 1985ء میں وہ سینٹ آف پاکستان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 17 / اگست 1988ء کو فضائی حادثہ میں جنرل ضیاء الحق کی ناگہانی موت کے بعد انہوںنے پاکستان کے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا۔ غلام اسحاق خان 12 / دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے، وہ اپنے اس عہدے پر 19 / جولائی 1993ء تک فائز رہے۔ 

انہوں نے اگست 1990ء اور اپریل 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی حکومتوں کو رخصت کیا اور یوں اپنے کیریئر کے آخری زمانے میں وہ ایک متنازع شخصیت کی شکل میں سامنے آئے۔ صدارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عمر کا بقیہ حصہ پشاور میں بسر کیا۔27 / اکتوبر 2006ء کو پشاور ان کا انتقال ہوگیا اور وہ پشاور ہی میں یونیورسٹی ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان اور ستارۂ پاکستان کے اعزازات سے نوازا تھا۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

ظہیر کاشمیری کی وفات


اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب ظہیر کاشمیری  12 دسمبر 1994ء کو  لاہور میں وفات پاگئے اور میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ظہیر کاشمیری کا اصل نام غلام دستگیر تھا اور وہ 21 / اگست 1919ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ادب کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے۔ ان کے شعری مجموعوں میں آدمی نامہ، جہان آگہی، چراغ آخر شب اور حرف سپاس کے نام شامل ہیں۔حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں، اُجالا ہے
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------


الیاس کاشمیری کی وفات


 پاکستانی فلمی صنعت کے مشہور اداکار الیاس کاشمیری 12 / دسمبر 2007ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔
الیاس کاشمیری 25 / دسمبر 1925 کو لاہور میںپیدا ہوئے تھے۔ان کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا چنانچہ جب انہیں فلموں میں کام کرنے کا شوق ہوا تھا انہوں نے بمبئی کا رخ کیا۔ بمبئی میں ان کی ملاقات سہراب مودی کے بھائی رستم مودی سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنی فلم گل بکائولی میں ایک چھوٹا سا کردار دے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے دو فلموں ملکہ اور عابدہ میں مرکزی کردار ادا کئے۔فلم ملکہ میں ان کی ہیرو شوبھنا سمرٹ تھیں جو مشہور اداکارہ کاجول کی نانی تھیں جبکہ فلم عابدہ میں ان کی ہیروئن سورن لتا تھیں۔ قیام پاکستان کے بعد الیاس کاشمیری نے پنجابی فلم مندری سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ یہ فلم 28 / نومبر 1950ء کو ریلیز ہوئی تھی اور اس کے ہدایت کار دائود چاند تھے۔
اس کے بعد ریلیز ہونے والی فلم قسمت میں انہوں نے سنتوش کمار کے بڑے بھائی کے کردار میں بڑی عمدہ اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ اس فلم میں ان کا کردار تایا کا تھا جس کے بعد وہ پوری فلمی صنعت میں تایا جی کے نام سے پکارے جانے لگے۔
1954ء میں ہدایت کار ایم جے رانا کی فلم ماہی منڈا میں انہوں نے ولن کا کردار ادا کیا اور یوں ان کی فنی زندگی کے ایک نئے دورکا آغاز ہوا۔اس فلم کے فلم ساز باری ملک تھے جن کے ساتھ الیاس کاشمیری کی دوستی بعد میں رشتے داری میں بدل گئی اور الیاس کاشمیری کے بیٹے کے ساتھ باری ملک کی بیٹی کی شادی بھی ہوئی۔
الیاس کاشمیری نے بطور فلم ساز ایک فلم عشق پر زور نہیں بھی پروڈیوس کی تھی جس میں ان کی اداکاری کو بھی بہت سراہا گیاتھا۔
الیاس کاشمیری نے مجموعی طور پر 547 فلموں میں کام کیا جن میں سے بیشتر فلمیں پنجابی زبان میں بنائی گئی تھیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

احمد دائود کی وفات


اردو کے ممتاز ادیب احمد دائود 12 / دسمبر 1994ء کو راولپنڈی میں وفات پاگئے اور قبرستان موہن پورہ، کشمیر بازار، راولپنڈی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
احمد دائود یکم جون 1948ء کو راولپنڈی میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ ان کا شمار اردو کے جدید افسانہ و ناول نگاروں میں ہوتا تھا۔ ان کی تصانیف میں افسانوی مجموعے، مفتوح ہوائیں، دشمن دار آدمی، خواب فروش اور ناول رہائی شامل ہیں۔

:دیگر مضامین
(11.12.2015) مولانا شاہ احمد نورانی 11 / دسمبر 2003ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے۔
(10.12.2015)  سوار محمد حسین نے 10 / دسمبر 1971ء کو شکرگڑھ کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔
(09.12.2015) ملک فیروز خان نون نے  9 / دسمبر 1970ء میں لاہور میں وفات پائی۔
(08.12.2015) اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی 8 / دسمبر 1925ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے
(07.12.2015) پروفیسر سید علی عباس جلال پوری 7 / دسمبر 1997ء کو  وفات پاگئے
(06.12.2015) چھ دسمبر کو میجر شبیر شریف جو مسلسل دشمن پر فائرنگ کررہے تھے شہید ہوگئے
(05.12.2015) میجر محمد اکرم نے  5 / دسمبر 1971ء کو  جام شہادت نوش کیا
(04.12.2015) مشہور شہید ناموس رسالت غازی علم دین کی تاریخ پیدائش 4 / دسمبر 1908ء   ہے
(03.12.2015) ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے
(02.12.2015) بے نظیر بھٹو نے 2 /  دسمبر 1988ء کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا
(01.12.2015) یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔
(30.11.2015) حضرت مجدد الف ثانی کی تاریخ وفات  30 /  نومبر 1624ء ہے
(29.11.2015)  عظیم مجاہد آزادی سید احمد شہید کی تاریخ پیدائش  29 / نومبر1786ء ہے
(28.11.2015) تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے  28 / نومبر 1938ء کو وفات پائی۔
(28.11.2015)  ہفتہ 28  نومبر کو سکائپ کے ذریعے پہلی عالمی مجلس عزا
(27.11.2015) قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی
(26.11.2015) وزیراعظم  نواز شریف نے  26 / نومبر 1997ء کو پاکستان موٹر وے کا افتتاح کیا
(25.11.2015)  فلمی گلوکار سلیم رضا 25 / نومبر 1983ء کو کینیڈا میں انتقال کر گئے
(24.11.2015) اردو کے معروف شاعر ثاقب لکھنوی کی تاریخ وفات 24/ نومبر 1949ء ہے۔
(23.11.2015)  انقلابی مفکر ڈاکٹرعلی شریعتی کی تاریخ پیدائش 23 نومبر 1933ء ہے۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں