میری ایک رات گم ھو گئی ھے
کیا کسی نے دیکھی ھے کہیں
یہاں وہاں بہت ڈھونڈتی ھوں میں
پر
کہیں نہیں ملتی ھے وہ ایک رات
کیوں۔۔؟ یہ نہیں جانتی ھوں میں
میں نے اسے نیلے آسمانوں پر ڈھونڈا
جہاں صادق ارواح بستی ھیں
کیا کسی نے دیکھی ھے کہیں ۔۔۔ ؟ سب سے پوچھتی ھوں
نہیں ۔۔یہ کہہ کر پاک روحیں جانے کہاں چلی جاتی ھیں
میں گھبرا کر زمیں پر اسے ڈھونڈتی ھوں
سبزہ زار ،پھول ،شبنم ۔راہگیر سب سے پوچھتی ھوں
کیسی تھی وہ ۔۔؟ تمہاری رات ۔۔میں چونکتی ھوں
صد شکر کسی نے تو پوچھا ۔۔پوچھنے پر سوچتی ھوں
اب کیا بتاؤں تمہیں کہ کیسی انمول تھی وہ رات
جیسے ۔۔
طلسمی خوابوں سے بھری ستاروں جیسی تھی
کسی بے وطن کی آنکھ میں ندیم جیسی تھی
ایسے ۔۔جیسے
تنہائی میں سخنوروں کے کلام جیسی تھی
مفکروں پر اترنے والے الہام جیسی تھی
اور ۔۔جیسے
ولیوں پر ولایت کی مہر لگنے جیسی تھی
پیغمبروں پر صحفیوں کے اترنے جیسی تھی
اب کیا بتاؤں کہ
اسی رات کو میرا بھی جنم ھونا تھا
ایک نئے سورج کو طلوع ھونا تھا
اس رات ادراک نے آگہی سے ملنا تھا
مجھ سے بنفشی روشنیوں نے نکلنا تھا
بس
میری وہی ایک رات گم ھو گئی ھے
جس کے آیئنے میں مجھے سنورنا تھا
کیا کروں ۔۔ اب کہاں ڈھونڈوں اسے
سنو۔۔
جس کسی کو بھی ملے اب
میری کھوئی ھوئی وہ رات
دعا دوں گی اسے عمر بھر
پہنچا دے جو مجھے وہ رات