|
کی محمد (ص) سے وفا تونے تو۔۔۔؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
14.12.2015, 06:20am , سوموار (GMT+1)
از۔۔۔ شمس جیلانی
ہمارے ایک دوست کا اصرار ہے کہ حضور (ص) کی سیرت کی روشنی میں مسلمانوں کی موجودہ بے راہروی کے بارے میں ایسا کچھ لکھوں جو اس سے پہلے ہمارے اخبار میں نہ لکھا گیا ہو؟ حالانکہ اس مرض کی وجہ اور اس کے علاج بارے میں جو کچھ میں مدتوں سے لکھتاچلا آ رہا ہوں وہ مرض ہے حضور (ص)کے اسوہ حسنہ پر پوری طرح عمل نہ کرنا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ قر آن میں فرمارہاہے کہ “ جو لوگ مجھ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ان سے کہو کہ وہ آپ کی اطاعت کریں؟ جبکہ آج کا مسلمان ہر ایک کی اطاعت کرنے کو تیار ہے اگر نہیں ہے تو حضور (ص) کی، کیونکہ ان (ص) کی اطاعت اس کو سب سے مشکل نظر آتی ہے ؟ جبکہ حضور (ص) ایک حدیث میں فرما چکے ہیں کہ سیدھا راستہ صرف میرا راستہ ہے۔ اس پر چلوگے تو فلاح پا جا ؤگے ۔ اس راستے کے دونوں طرف بہت سے دروازے ہی ںجن پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہر ایک کے پیچھے ایک راستہ ہے، ان کو اٹھا کر بھی مت دیکھنا ورنہ گمراہ ہوجا ؤگے ۔ ہم نے ان ہی شارٹ کٹوں کو ہمیشہ ترجیح دی اور نتیجہ یہ ہوا کہ بار بار بھٹکے اب یہ عالم ہے کہ ہمیں جو بھی آواز دے بغیر سوچے سمجھے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ یہ حضور (ص) کے راستے سے قطعی مختلف ہے۔ جبکہ دوسرے راستے حضور (ص) کے مندرجہ بالا ارشاد کے مطابق گمراہی کے راستے ہیں ۔ تو بات بنے تو بنے کیسے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ دوسری جگہ فرمارہا ہے کہ “ میں نے تم پر تمام نعمتیں ختم کردیں اور تمہارے لیے دینِ اسلام پسند فرمایا ً دین کیا ہے وہ پورا کا پورا اسوہ حسنہ (ص) کی شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ حضور (ص)کا ہی اسوہ حسنہ کیوں؟ اسکا جواب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے صرف ا پنے نبی (ص) کے اتباع کا حکم دیا ہے کسی اور کا نہیں؟ ۔کیونکہ وہ ہم جیسے بشر ہونے کے با وجود اللہ کے رسول (ص) ہونے کی بنا پروحی منزّل یا غیر منزّل کے ذریعہ اللہ سے ہر دم براہ راست رابطہ میں تھے یہ ا س کی مرضی پر منحصر تھا کہ وہ کسی معاملہ میں ان کو براہ راست مطلع فرمادے یا انہیں کسی ذریعہ سے مطلع فرما ئے،یا پھرحضرت جبرئیل (ع) کے ذریعہ سے مطلع فرمائے، جو فرشتے کے ذریعہ ان پر قرآن کی شکل نازل ہوا وہ مومنین کے حافظوں میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے حضور (ص) کو اسے حفظ کراکر اوران (ص) ہی کے ذریعہ کچھ صحابہ کرام (رض) کو جنہیں ہم کاتب وحی کے نام سے جانتے ہیں تحریر کرواتا گیا اور ان کے سینوں میں بھی محفوظ کراتا گیا ؟ یہ سہولت ان کے علاوہ کسی اور نبی (ع) یاکتاب کو حاصل نہیں تھی۔ جبکہ دوسرے نبیوں (ع) کو جو سہولتیں مختلف ادوار میں حاصل رہیں وہ بھی ہمہ اقسام حضور (ص) کو حاصل تھیں۔ جیسے رویائے صادقہ حضرت ابراہیم (ع) کو ہم کلامی حضرت موسیٰ (ع)کواور، القا وغیرہ باقی نبیوں (ع) کو کیونکہ یہ ان (ص)کی اکمیلیت تقاضہ تھا۔ لہذاان سے کسی غلطی کا امکان اس لیے نہیں تھا کہ انہوں نے جو بھی کام انجام دیے یا جو احکام بھی صادر فرمائے، وہ وہی تھے جوان پر وحی کی کسی بھی شکل میں نازل ہوئے اوریا انہوں نے براہ راست اللہ کی رہنمائی میں انجام دیے۔ جیسے کہ حضرت نوح (ع) نے قرآن کے مطابق کشتی تیار کی۔ میرے اس دعوے کے ثبوت میں وہ آیت ہے کہ یہ “ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے اور وہی کچھ فرماتے ہیں جو ان پر وحی کیا جاتا ہے “۔اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ مثلا ً اسلام کے لازمی رکن نماز کو لے لیں ۔؟نماز قائم کرنے کا حکم قر آن میں آیا۔ مگر کیسے ادا کی جا ئے وہ حضور (ص) نے بتایا۔ اسی طرح روزہ رکھنے حکم قر آن میں آیا، مگر کیسے رکھا جائے وہ حضور (ص) نے بتایا، اسی طرح حج کرنے حکم قرآن میں ہے، مگر کیسے کیا جائے وہ حضور (ص) نے سکھایا کہ آؤ! آج مجھ سے سیکھ لو؟ اسی طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ،ایک دوسری آیت میں بات کو یہ فر ماکر ختم کردیا کہ تمہارے لیے تمہارے نبی کا اسوہ حسنہ کافی ہے۔ کیونکہ اسوہ حسنہ (ص) مکمل مجموعہ احکامات عملی شکل ہے۔ اسے مزید سمجھنے کے لیے حضرت ابوبکر (رض) جب خلیفہ بنے اور جو انہوں نے پہلا خطبہ دیا وہ پڑھ لیا جائے تو بات اور بھی واضح ہو جائیگی اس میں انہوں نے ارشاد فرمایا کہ “ میری اطاعت جبھی تک تم پر واجب ہے جب تک کہ میں قر آن اور سنت پر چلوں، اس سے ہٹوں تو روک دینا ؟ اور مجھ سے وہ تو قع مت کرنا جو کہ حضور (ص) رکھتے تھے ، کیونکہ انہیں وحی کی سہولت حاصل تھی جو مجھے نہیں ہے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ کرام اسوہ حسنہ (ص) پر عمل کرنے کے سلسلہ میں اس حد تک اہتمام فرماتے تھے کہ کوئی نئی چیز یا پھل تک نہیں کھاتے تھے کہ نہ جانے ہمارے آقا (ص) نے اسے کیسے تناول فرمایا ہو، لہذا پہلے دوسرے صحابہ کرام سے معلوم کر لیں تب استعمال کریں۔ ہم نے اسوہ حسنہ کیا چھوڑا کہ ہم صراط مستقیم سے بھٹک گئے۔ اب ہمارے پاس حضور (ص) سے محبت اور اطاعت کے دعوے صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک ہیں اوربس؟ اگر ہم اسوہ حسنہ (ص) کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے۔ تو ان کی سیرت میں جاتے ہی ہر بات کا جواب ہاتھ کے ہاتھ مل جاتا کہیں اور تلاش کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ مثلا ً حضور کا طرز زندگی کیا تھا، ان کی مکی زندگی کیسی تھی ،وہ ہمسایوں کے ساتھ کیسابر تا ؤ فرماتے تھے، اپنوں سے کیسے بر تاؤ کرتے تھے۔ غیروں سے کیسے سلوک کرتے تھے۔ ان کی مسجد کیسی تھی۔ ان کی داد دہش کیسی تھی۔ پھر ہم خود کا ان سے موازنہ کر تے تو ہمارے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں اور ہم خود کہہ اٹھتے کہ ہمارے عمل اور ان کے (ص)عمل میں زمین او رآسمان کا فرق ہے، ہر معاملہ میں ہم صریحاً نافر مانی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کسی قوم کو بھی اپنے نبی (ع) کی نافر مانی کرنے پرکبھی نہیں نوازا بلکہ سخت سے سخت سزائیں دیں؟ سب سے پہلے آئیے حضور (ص) کی مکی زندگی کو دیکھتے ہیں بعثت سے پہلے یہ درِ یتیم تمام عرب سے خود کو امین صادق تسلیم کراچکے تھے۔ بعثت کے بعد خدا کے حکم کے اتنے پابند تھے کہ کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا ان کے سامنے ان کے ساتھی اذیت دیکر شہید کیئے گئے مگر وہ مشتعل نہیں ہوئے؟ پھر مدینہ منورہ میں جہاں وہ اسلامی ریاست کے سربراہ تھے ،ان کی مسجد کو دیکھتے ہیں کہ وہ کیسی تھی؟ وہ کچی اینٹوں اور گارے سے بنی ہوئی چار دیواری پر مشتمل تھی۔ اس میں شہتیر کے طور پر کھجور کے درخت استعمال ہوئے تھے۔ چھت کجھور کے ہی پتوں کی تھی ۔ فرش پہلی مسجد کا جو نبی (ص) کا سجدہ گاہ بنا وہ کچاتھا جب نمازی سجدہ کرتے تو ماتھے میں کنکریاں چبھ جاتیں تھیں، جب بارش ہوتی تھی تو اندر باہر ایک جیسی ہوتی تھی ،حضور (ص) کو اپنے ہاتھوں سے بارش کا پانی باہر پھینکتے ہوئے لوگوں نے دیکھا ہے۔پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رہائش کیسی تھی۔ جنہوں نے روضہ مبارک دیکھا ہے انہیں اندازہ ہوگا کہ وہ کتنی بڑی جگہ تھی جس میں امہات مومنین کے حجرے تھے۔ جنہوں نے نہیں دیکھا ان کے لیے ام المونین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے ایک روایت ملتی ہے کہ جب حضور (ص) سجدہ فرماتے تھے اور میں لیٹی ہوتی تھی تو پیر سمیٹ لیتی تھی تاکہ وہ سجدہ کرلیں۔ اس سے ان حجروں کی لمبائی اور چوڑائی قیاس فرمالیجئے جس میں شہنشاہِ کونین کی رہائش تھی ۔ کھاتے کیا تھے؟ وہ جو مل جائے نہ ملے تو فاقہ پر فاقہ اس کے باوجود کل کے لیے کبھی کچھ نہیں چھوڑتے خود بھوکے رہے دوسروں کو اپنے اوپر مقدم رکھا؟ ۔ طریقہ حکمرانی کیسا تھا؟ کیا تمام غیر مسلموں، اور بدعتیوں پر زمین تنگ کردی تھی۔ کیا دوسرے لوگوں کے معابد ڈھادئے تھے۔ قبرستان کھود کر پھینک دیے تھے پھر ان کی واپسی فاتح کی حیثیت سے ملاحظہ فرمائیں۔ کیا انہوں نے وہاں پھانسیاں قائم کردیں تھیں جلاد مقرر کردیے تھے۔ یا غریب حجاج کے لیے بنی ہو ئی ساری وقف سرائے توڑ کر وہاں اپنے خاندان کے شہزادوں کے ہوٹل بنوادیے تھے؟ نہیں بلکہ اس دن اعلان کردیا تھا کے آج کسی سے کوئی نتقام نہیں لیا جائے گا بلکہ اپنے (ص) اور صحابہ کرام کے وہ مکان ان سے واپس نہیں لیے جن پر ظالم زبر دستی قابض ہوئے تھے۔ اسوہ حسنہ (ص) تویہ ہے ۔ ہو تو پھر آجکل جو یہ سب کچھ کر رہے ہیں ان سب سے پوچھیئے کہ وہ ان چیزوں کا جواز کہاںسے لائے ہیں ؟ ہاں ان کے افعال گمراہ قوموں سے ملتے ہیں۔ مثلا ً سورہ الشعراءکی آیات نمبر 139 سے142 تک دیکھ جا ئیے۔ جوکہ قوم عاد کے بارے میں ہیں۔ وہ بھی اپنی شان و شوکت کو ظاہر کرنے کے لیے ہماری طرح اونچی اونچی بلڈنگیں بناتے تھے مال جمع کرتے تھے ظالم تھے۔ جس کی ان آیتوں میں حضرت ہود (ع) کی زبانی اللہ تعالیٰ نے ان کی شدید مذمت کی ہے۔ ان آیات کی تفسیر میں حضرت ابن ِ کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں حضرت ابو دردا کا ایک خطاب وارد کیا ہے کہ “ اے دمشق والوسنوں! تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے ،کہ تم وہ جمع کرنے لگے ہو جو تم نہیں کھاسکتے، تم نے وہ مکان بنا نا شروع کردیئے ہیں جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے،تم نے دور دراز کی آرزوئیں کر نا شروع کردی ہیں ۔کیا بھول گئے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتا اکھٹا کر کے رکھی تھی، رہنے کے لیے بڑے اونچے اونچے پختہ محل بنا ئے تھے۔ بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکہ کھا گئے اور ان کے مکانات بر باد ہو گئے۔ اور دو درہم میں بھی ان کے محلات کوئی خریدینے کو تیار نہیں ہے۔۔۔الخ
|