|
استعارے... از....صدف مرزا
14.12.2015, 06:40am , سوموار (GMT+1)
صدف مرزا
وہ رکا نہیں، مگر اس نے میری آنکھوں پہ انگلیاں رکھ دیں میرے ہاتھوں پہ آج ظالم نے انتظار اور دعا کی بن مانگے کیسی خوش رنگ یہ تتلےاں رکھ دیں اپنی چاہت عیاں نہ کی لیکن صبح دم پھر میرے دریچے میں بند گلابوں کی کلیاں رکھ دےں نام لاتا نہیںہے ہونٹوں پر لیکن کمرے میں جا بجا اس نے بھر کے نازک سے آبگینوں میں رنگ برنگی یہ سیپیاں رکھ دیں
|