اُنیس طالبات بیک وقت ایک سمارٹ کار میں سوار
پاکستانی طالبات کا عالمی ریکارڈ
کریک کلب کراچی میں 15 / دسمبر 2010ء کو 5 فٹ سے زیادہ قامت رکھنے والی 19 پاکستانی طالبات نے ایک اسمارٹ کار میں بیک وقت سوار ہوکر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ آسٹریلیا کے پاس تھا جہاں 25 جنوری 2010ء کو سڈنی میں کلائمب فٹ بال ٹیم کے 18 ارکان نے یہ کارنامہ انجام دے کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام درج کروایا تھا۔ یہ ریکارڈ قائم کرنے کا خیال ایک پاکستانی طالبہ ایمن سلیم کے دل میں آیا تھا۔ انہوں نے جلد ہی اپنی ہم خیال طالبات کو جمع کیااور چند ماہ کی پریکٹس کے بعد یہ ریکارڈ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس ریکارڈ کو قائم کرنے میں جن طالبات نے حصہ لیا ان کا تعلق کراچی گرامر اسکول اور سائوتھ شور اسکول سے تھا۔ ان طالبات نے جس تقریب میں یہ ریکارڈ قائم کیا اس کے مہمان خصوصی سندھ اسمبلی کے اسپیکر نثار کھوڑو تھے جبکہ وزیراعظم کے مشیر مرزا اختیار بیگ، وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی، سابق ٹیسٹ کرکٹر وسیم اکرم، سابق ہاکی اولمپین اصلاح الدین اور مراکش کے اعزاز قونصل جنرل مرزا اشتیاق بیگ نے منصفین کے فرائض انجام دیئے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مدثر نذر کی سست ترین ٹیسٹ سنچری
پاکستان کے مدثر نذر نے 15 / دسمبر 1977ء کو انگلستان کے خلاف لاہور ٹیسٹ کے دوسرے دن اپنی سنچری 557 منٹ میں مکمل کرکے ٹیسٹ کرکٹ کی سوسالہ تاریخ کی سست ترین سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ مدثر نذر اس اننگز میں حسب روایت بطور اوپنر کھیلنے کے لئے آئے تھے، پہلے دن کے اختتام پر انہوں نے 330 منٹ بیٹنگ کی اور 52 رنز اسکور کئے دوسرے دن انہوں نے ’’قدرے تیز‘‘ کھیلتے ہوئے چائے کے وقفے کے دس منٹ بعد اپنی سنچری 557 منٹ میں مکمل کرکے ٹیسٹ کرکٹ کی سست ترین سنچری بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ مدثر نذر نے جب اپنے سو رنز مکمل کئے تو اس وقت پاکستان کا اسکور 3 وکٹ پر 306 رنز تھا۔ مدثر نذر نے اس پوری اننگز میں 591 منٹ بیٹنگ کی اور 114 رنز اسکور کئے۔
مدثر نذر سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ میں سست ترین سنچری کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے جیک میکی گلیو کا تھا جنہوں نے اپنی ٹیسٹ سنچری 545 منٹ میں مکمل کی تھی۔ مدثر نذر نے اس ریکارڈ کو 12 منٹ کے فرق سے توڑا تاہم مدثر نذر کا یہ ریکارڈاب تک ناقابل تسخیر ہے۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
علامہ امین احسن اصلاحی کی وفات
نامور عالم دین اور مفسر قرآن علامہ امین احسن اصلاحی 15 / دسمبر 1997ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔
علامہ امین احسن اصلاحی 1904ء میں اعظم گڑھ (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ مدرستہ اصلاح سرائے میر اعظم گڑھ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد 1924ء میں وہ روزنامہ مدینہ کے مدیر مقرر ہوئے۔ 1941ء میں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور اپنے علمی تبحر کی وجہ سے حفظ مراتب میں مولانا مودودی کے بعد دوسرے نمبر پر آگئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ تقریباً دس سال تک جماعت اسلامی سے وابستہ رہے۔ فروری1957ء میں ماچھی گوٹھ کے مقام پر منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے ارکان کے اجتماع کے بعد ان میں اور مولانا مودودی میں فاصلہ بڑھنے لگا حتیٰ کہ 19/ اگست 1957ء کو انہوں نے جماعت اسلامی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا اور 17 جنوری 1958ء کو جماعت سے حتمی طور ر علیحدہ ہوگئے۔
اس کے بعد انہوں نے قرآن پاک کی تفسیر تحریر کرنے کا کام شروع کیا جو 1960ء میں ان کے رسالے میثاق میں شائع ہونا شروع ہوا۔ اسی زمانے میں انہوں نے کالج کے طلبہ پر مشتمل ایک حلقہ، حلقہ تدبرقرآن کے نام سے قائم کیا جس میں عربی، قرآن اور صحیح مسلم کا درس دیا جاتا تھا۔ مئی 1965ء میں ان کے صاحبزادے ابو صالح اصلاحی کی ناگہانی وفات کے بعد یہ رسالہ بند ہوگیا اور علامہ شدید بیمار پڑ گئے۔ 1970ء میں معجزاتی طور پر صحت یاب ہونے کے بعد 1972ء میں وہ شیخوپورہ کے ایک نواحی گائوں میں منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے پوری توجہ سے تدبر قرآن کا کام دوبارہ شروع کیا جو 12 / اگست 1980ء کو مکمل ہوا۔ آپ کی یہ تفسیر9 جلدوں پر مشتمل ہے اور اسے آپ نے اپنے استاد مولانا حمیدالدین فراہی کے قائم کردہ اصول تفسیر کی روشنی میں قلم بند کیا ہے۔
علامہ امین حسن اصلاحی نے مولانا حمید الدین فراہی کی کئی تصانیف کو اردو میں بھی منتقل کیا جن میں افادات فراہی، اقسام القرآن اور مجموعہ تفسیر فراہی کے نام شامل ہیں جبکہ ان کی اپنی تصانیف میں تزکیہ نفس کا نام سرفہرست ہے۔ علامہ امین حسن اصلاحی لاہور میں ڈیفنس کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ذی شان ساحل کی پیدائش
اردو کے ایک ممتاز شاعر ذی شان ساحل کی تاریخ پیدائش 15 / دسمبر 1961ء ہے۔
ذی شان ساحل حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں پولیو سے پیر خراب ہوجانے اور کائی فوسکو لیوسیس نامی بیماری کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کرپائے۔ اس بیماری کی وجہ سے زندگی کا بڑا حصہ انہوں نے وہیل چیئر پر گزارا۔
1977ء میں انہوں نے شاعری کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔ شروع شروع میں انہوں نے کچھ غزلیں بھی لکھیں مگر پھر نثری نظم ان کی پہچان بن گئی۔ ان کی شاعری کے مجموعے ایرینا، چڑیوں کا شور، کہرآلود آسمان کے ستارے، جنگ کے دنوں میں، کراچی اور دوسری نظمیں، ای میل اور دوسری نظمیں، شب نامہ اور دوسری نظمیں اور نیم تاریک محبت کے نام سے شائع ہوئیں۔ ان کی نظموں کا تہمینہ احمد نے انگریزی میں ترجمہ بھی کیا
جو On The Outside کے نام سے اشاعت پذیر ہوئیں۔ آخری دنوں میں وہ ایک ناول لکھنے کی تیاری کررہے تھے کہ سانس کی دقت کی وجہ سے 12 اپریل 2008ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔وہ کراچی میں وادیٔ حسین کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔