14.10.2026, 12:20pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

سولہ دسمبر1971 سقوط ڈھاکا کا خونچکاں اور دل گرفتہ دن ہے
16.12.2015, 09:08am , بدھ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی


سولہ دسمبر1971 سقوط ڈھاکا کا خونچکاں اور دل گرفتہ دن ہے

بھارتی فوج کی ایسٹرن کمانڈ کا یہودی چیف آف اسٹاف میجر جنرل جیکب  16 / دسمبر 1971ء کو دوپہر کے وقت ڈھاکا پہنچا۔ اس کا استقبال اس کے پاکستانی مدمقابل بریگیڈیئر باقر صدیقی نے کیا۔ یہودی جنرل اپنے ساتھ ایک دستاویز لایا تھا جسے سقوط کی دستاویز (Instrument of Surrender) کہا جاتا ہے۔ جنرل نیازی اسے جنگ بندی کا مسودہ کہنا پسند کرتے تھے۔

جیکب نے یہ کاغذات پاکستانی حکام کے حوالے کیے۔ جنرل فرمان نے کہا۔ ’’یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ کمان کیا چیز ہے، ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔‘‘ جنرل جیکب نے کہا۔ ’’مجھے اس میں ردوبدل کا اختیار نہیں۔‘‘ انڈین ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل کھیرا نے‘ جو پاس ہی کھڑے تھے‘ لقمہ دیا ’’یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے‘ جہاں تک آپ کا تعلق ہے آپ صرف ہندوستانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔‘‘ جنرل فرمان نے کاغذات جنرل نیازی کے آگے سرکا دیے۔ جنرل نیازی جو ساری گفتگو سن رہے تھے خاموش رہے‘ اس خاموشی کو ان کی مکمل رضا سمجھا گیا۔

تھوڑی دیر بعد نیازی‘ بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر‘ لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کو لینے ڈھاکا ائیرپورٹ گئے‘ بھارتی کمانڈر اپنی فتح کی خوشی میں اپنی بیوی کو بھی ساتھ لایا تھا۔ جونہی یہ میاں بیوی ہیلی کاپٹر سے اترے‘ بنگالی مردوں اور عورتوں نے اپنے اس نجات دہندہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کو پھولوں کے ہار پہنائے‘ گلے لگایا ‘ بوسے دیے اور تشکر بھرے جذبات سے انہیں خوش آمدید کہا۔ جنرل نیازی نے بڑھ کر فوجی انداز میں سلیوٹ کیا، پھر ہاتھ ملایا۔ یہ نہایت دلدوز منظر تھا۔ فاتح اور مفتوح ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔

جنرل نیازی اور جنرل اروڑا‘ وہاں سے سیدھے رمنا ریس کورس گرائونڈ پہنچے‘ جہاں سرعام جنرل نیازی سے ہتھیار ڈلوانے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ تقریب کا نظارہ کرنے کے لیے ہزاروں بنگالی موجود تھے۔ جنہیں بھارتی سپاہیوں نے روک رکھا تھا۔ تقریب کے لیے تھوڑی سی جگہ باقی تھی جہاں ایک چھوٹی سی میز پر بیٹھ کر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا اور جنرل نیازی نے سقوط مشرقی پاکستان کی دستاویز پر دستخط کردئیے۔ اس کے بعد نیازی نے اپنا ریوالور نکال کر اروڑہ کو پیش کردیا اور یوں ’’سقوط ڈھاکا‘‘ پر آخری مہر ثبت کردی۔ اس موقع پر جنرل اروڑہ نے پاکستانی سپاہیوں کی ایک گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا جو اس بات کی علامت تھا کہ اب وہی گارڈ ہیں اور وہی آنر کے مستحق…!‘‘
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم

ملک فیروز خان نون 7 /  مئی 1893ءکو نون سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایچی سن کالج لاہور اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ 1920ءمیں وہ پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور 1936ءتک مستقل رکن منتخب ہوتے رہے۔ 1936ءمیں وہ لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر مقرر ہوئے۔ 1941ءسے 1942ءتک وہ وائسرائے ہند کی کابینہ کے رکن رہے۔ 1942ءسے 1945ءتک وہ ہندوستان کے وزیر دفاع کے منصب پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ 1947ءسے 1953ءتک پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن اور 1953ءسے 1955ءتک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ 1956ءسے 1957ءتک وہ پاکستان کے وزیر خارجہ اور 1957ءسے 1958ءتک وہ پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہے۔وزارت عظمیٰ کے خاتمے کے بعد ملک فیروز خان نون نے عمر کا بقیہ حصہ گوشہ گیری اور گمنامی میں گزارا اور 9 دسمبر 1970ءکو ایک طویل علالت کے بعد لاہور میں وفات پائی۔ملک فیروز خان نون کی خود نوشت سوانح عمری انگریزی میں فرام میموری اور اردو میں چشم دید کے نام سے شائع ہوچکی ہے-
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

عزیز احمد کی وفات


اردو کے نامور افسانہ نگار، مترجم اور اسلامی تاریخ و ثقافت کے عالمی پروفیسر عزیز احمد کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں 16 / دسمبر 1978ء کو  وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
پروفیسر عزیز احمد 11 / نومبر 1913ء کو عثمان آباد ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے جامعہ عثمانیہ (حیدرآباد دکن) اور لندن یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے اور وزارت اطلاعات سے منسلک رہے، 1958ء میں وہ لندن چلے گئے اور اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ 1960ء میں وہ ٹورنٹو یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی علوم سے منسلک ہوئے اور آخر تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔
پروفیسر عزیز احمد کا شمار اردو کے صف اول کے افسانہ نگار اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں رقص ناتمام، بیکار دن بیکار راتیں، ناولٹ خدنگ جستہ اور جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں اور ناول گریز، آگ، ایسی بلندی ایسی پستی، ہوس اور شبنم کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ اسلامی علوم اور ثقافت پر بھی کئی انگریزی کتابوں کے مصنف تھے اور انہوں نے انگریزی کی کئی شاہکار کتابوں کو اردو میں بھی منتقل کیا تھا۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

قومی مفاہمتی آرڈیننس کی منسوخی


سپریم کورٹ آف پاکستان کی ایک 17 رکنی بنچ نے 16 / دسمبر 2009ء کو  متفقہ طورپر 5 / اکتوبر 2007ء کو جاری ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو آئین متصادم قرار دیتے ہوئے اسے ابتدا سے ہی کالعدم قانون قرار دے دیا اور قرار دیا کہ اس آرڈیننس کا اجرأ قومی مفاد کے منافی ہے اور آئین کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ عدالت نے اس آرڈیننس کے تحت ختم کئے گئے مقدمات کو بھی 5 / اکتوبر 2007ء سے پہلی والی پوزیشن پر بحال کردیا اور ہدایت کی کہ ان تمام مقدمات کو اسی جگہ سے دوبارہ شروع کیا جائے جہاں پر ان کی کارروائی روکی گئی تھی۔ عدالت نے صدر آصف علی زرداری کے بیرون ملک مقدمات کی بحالی کا حکم بھی دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ سوئس مقدمات کی بحالی کے لئے درخواست دے۔ واضح رہے کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کے خلاف یہ مقدمہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اساسی رکن ڈاکٹر مبشر حسن نے دائر کیا تھا اور اس مقدمے میں ان کی پیروی پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک اور اساسی رہنما عبدالحفیظ پیرزادہ نے کی تھی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سے 8041 افراد کے خلاف مقدمات کی فائلیں ازسرنو کھل گئیں۔ ان افراد میں 34 سیاستدان اور 1248 بیوروکریٹس بھی شامل تھے۔
سپریم کورٹ کی جس 17 رکنی بنچ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے خلاف یہ تاریخی فیصلہ سنایا اس میں چیف جسٹس آف پاکستان ،جسٹس افتخار محمد چوہدری کے علاوہ جسٹس طارق پرویز، جسٹس چوہدری اعجاز احمد، جسٹس سائر علی، جسٹس محمود اختر شاہد صدیقی، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس تصدق حسین، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس غلام ربانی، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس رحمت حسین جعفری، جسٹس شاکر اللہ جان، جسٹس سردار رضا خان، جسٹس راجہ فیاض اور جسٹس ناصر الملک شامل تھے۔


:دیگر مضامین
(15.12.2015)  مفسر قرآن علامہ امین احسن اصلاحی 15 / دسمبر 1997ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔
(14.12.2015) سسٹر برنیس وارگس 14 / دسمبر 2005ء کو  کراچی میں وفات پاگئیں۔
(13.12.2015)   پاکستان کی فلمی دنیا کی ایک منفرد فلم 13/ دسمبر 1974ء کو ریلیز ہوئی
(12.12.2015) غلام اسحاق خان 12 / دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے
(11.12.2015) مولانا شاہ احمد نورانی 11 / دسمبر 2003ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے۔
(10.12.2015)  سوار محمد حسین نے 10 / دسمبر 1971ء کو شکرگڑھ کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔
(09.12.2015) ملک فیروز خان نون نے  9 / دسمبر 1970ء میں لاہور میں وفات پائی۔
(08.12.2015) اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی 8 / دسمبر 1925ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے
(07.12.2015) پروفیسر سید علی عباس جلال پوری 7 / دسمبر 1997ء کو  وفات پاگئے
(06.12.2015) چھ دسمبر کو میجر شبیر شریف جو مسلسل دشمن پر فائرنگ کررہے تھے شہید ہوگئے
(05.12.2015) میجر محمد اکرم نے  5 / دسمبر 1971ء کو  جام شہادت نوش کیا
(04.12.2015) مشہور شہید ناموس رسالت غازی علم دین کی تاریخ پیدائش 4 / دسمبر 1908ء   ہے
(03.12.2015) ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے
(02.12.2015) بے نظیر بھٹو نے 2 /  دسمبر 1988ء کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا
(01.12.2015) یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔
(30.11.2015) حضرت مجدد الف ثانی کی تاریخ وفات  30 /  نومبر 1624ء ہے
(29.11.2015)  عظیم مجاہد آزادی سید احمد شہید کی تاریخ پیدائش  29 / نومبر1786ء ہے
(28.11.2015) تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شوکت علی نے  28 / نومبر 1938ء کو وفات پائی۔
(28.11.2015)  ہفتہ 28  نومبر کو سکائپ کے ذریعے پہلی عالمی مجلس عزا
(27.11.2015) قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو  وفات پائی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں