16.10.2026, 11:49pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » عالم آرا
 

ہم بڑی منفرد اور آنکھ بند رکھنے والی قوم ہیں ۔از؛ عالم آرا ۔ کینیڈا 
22.12.2015, 04:05am , منگل (GMT+1)

ہم بڑی منفرد اور آنکھ بند رکھنے والی قوم ہیں ۔ہم نے اپنے ملک میں بڑی بڑی منفرد باتیں دیکھی ہیں جو شاید ہی کسی ملک میں ہوتی ہوں ۔مثلا`ہماری ایک بڑی پارٹی جو ملک کی جمہوریت کی بھی بڑی دعویدار ہے اور قربانیوں کے لحاظ سے بھی ملک کی ایک ہی پارٹی ہے۔جو گاہے بہ گاہے اپنی قربانیوں کا زکر کرتی رہتی ہے اور چاہتی ہے کہ ان قربانیوں کی وجہ سے انہیں ہر طرف نرم گوشہ اور سہولت ملنی چاہئے جو شاید کہیں بھی نہیں ہوتا جنہوں نے قربانیاں دیں وہ لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں ۔لیکن ہمیں یہ نا انصافی لگتی ہے کہ ان کا نام لے کر پارٹی کا ہر کارکن اچھے برے ہر عمل سے بہرہ مند ہو یہ کہاں کا طریقہ ہے ؟؟ اب اس پارٹی کا سارا تام جھام دبئی میں ہے اور وہیں سے پارٹی کا ہر فیصلہ ہو رہا ہے ۔لیکن کوئی نہ اعتراض کرتا ہے نہ اسے غلط سمجھتا ہے ہم نے ساری دنیا کی سیاست دیکھ ڈالی ہمیں کہیں کسی ملک کے لوگ باہر بیٹھ کر اپنے ملک کے لئے فیصلے کرتے اور اجلاس کرتے نظر نہیں اآئے ۔یا شاید ہمیں ہی کم نظر آتا ہے لیکن ہم  استدعا ضرور کرینگے کہ خدا را ایسی باتوں کو پنپنے نہ دیں جو مستقبل میں ہمارے لئے بہت ہی بری ہو جائینگی کہ آپ اپنے ملک میں بیٹھ کر اپنے ملک کی باتیں نہیں کر سکتے اور وہ بھی ایک سیاسی جماعت ہوتے ہوئے ۔ایک پارٹی نے دبئی سنبھال لیا، ایک نے عرب ،اور ایک نے برطانیہ ؟؟ کم از کم ہمیں اپنے  ملک کے فیصلے اپنے ملک ہی میں کرنے چاہئیں ۔جب میثاقَ جمہوریت پر دستخط ہوئے تھے جب بھی سب باہر بیٹھے تھے اور اب بھی وہ ہی سب کچھ کیا جارہا ہے ۔ہماری تو بس اتنی التجا ہے کہ آنکھیں کھولو ۔یہ وہ باتیں ہیں جو ہمارے مستقبل کو کہیں نہ کہیں زِک پہنچائینگی ۔خدانخواستہ 

ایک مقدمہ بند ہو گیا جس کے لئے ہمارے موجودہ وزیرِ اعظم نے چیخ چیخ کر کہا تھا کہ“ یہ پیسہ ہضم نہیں کرنے دینگے ملک میں واپس لائینگے “۔لیکن ثبوت غائب کر دئے گئے صرف فوٹو کاپیاں رہ گئیں جن پر کسی کو سزا نہیں ملتی ۔ کیا ہماری حکومت ان کے خلاف ملٹری کورٹ میں جائیگی کہ شاید یہ کورٹس بنائی تو گئی ہیں لیکن آج تک ایک بھی مقدمہ حکومت نے اُدہر ارسال نہیں کیا ۔تو چلیں ابتداء یہیں سے کر لیں کہ ہماری یاد داشت ابھی کمزور نہیں ہوئی کہ انکے اپنے دور میں ہم سب نے ٹی وی پر دیکھا تھا کہ کس طرح ڈبے  گاڑی میں بھر بھر کر لے جائے گئے تھے لیکن نہ اُس وقت کوئی کچھ ثابت کر سکا تھا اور نہ آج کیا کوئی آنکھ کھلی ہے شاید نہیں کہ بس ہمارا طرئہ امتیاز ہی یہ ہے کہ آنکھیں بند رکھو کہ اسی میں ان سیاسی بٹیروں کی بھلائی ہے ۔کاش ہم عوام ان باتوں پر آواز اُٹھانے کا حوصلہ کر سکیں اور پوچھ سکیں کہ کس طرح ثبوت ختم کر دئے جاتے ہیں ۔ہمیں تو لگتا ہے کہ مقدمے جب اتنا لمبا عرصہ چلتے ہیں تو پیچھے ان کے ثبوت ہی غائب کیئےجاتے ہیں تاکہ کسی کے ہاتھ میں کچھ نہ آئے ؟؟ 

آج کل دو بڑے مقدمے ہیں ایک ایان علی کا دوسرا ڈاکٹر عاصم کا  کاش یہ لوگ ملک اور قوم کی خاطر سچ بولنے کا فیصلہ کر لیں اور ملک کے ان پردہ نشینوں کا نام بتا دیں جنہوں نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے ۔جن کے کاروبار باہر ہیں جن کی ساری دولت باہر ہے اور مزید بھی جمع کر رہے ہیں ۔ہماری سمجھ میں تو یہ بات اآتی ہے کہ اگر استعمال ہونے والے اپنی عاقبت سنوارنے کی طرف توجہ دیں اور سچ کا دامن تھام لیں تو ہماری قوم پر بڑا احسان ہوگا ۔ڈاکٹر صآحب کہتے ہیں کہ مجھ سے زبردستی بیان لئے گئے یہ بات ہم نے میڈیا میں سُنی اب اس سے زیادہ کیا کسرِ نفسی ہوگی کہ ہم جو بڑے دھڑلے سے زندگی گزارتے ہیں بغیر کسی کے خوف کے کہ پیچھے ہوتے ہیں ہمارے بچانے والے اور اگر پکڑے جائیں تو ایسی معصومیت سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں کہ بس ۔ایسے معصوم لوگ جو ملک کی جڑوں تک کو کرپشن اور بے جا رعایتوں سے تباہی کے دھانے تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے وہ کس قدر معصوم ہیں کہ بس حیرانی کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ایان علی کتنا پیسہ ملک سے باہر لے گئی کوئی نہ معلوم کر سکا ۔اور جن کے پیچھے بڑے بڑے ہاتھ ہوں اور سب ایک دوسرے کو بچانے کے لئے مستعد ہوں تو پھر ایسی ایان علی اور ڈاکٹر عاصم تو شاید ملک میں اور بھی بہت سے ہیں ۔بس ہمیں اآنکھیں کھلی رکھی چاہئیں کہ کھا لئے دھوکے جتنے کھانے تھے اب عوام کو بھی چاہئے کہ کھڑی ہو جائے احتساب پر ہم کب تک اسی طرح ڈسے جاتے رہینگے ۔اآخر کب تک ؟؟؟

ٹیکس لگ رہے ہیں بہت اچھی بات ہے حکومت کے لئے کہ انہیں واقعئی پیسوں کی ضرورت ہے عوام کا کیا وہ تو ہمیشہ ہی انکی عیاشیوں کے لئے پسِتی اآئی ہے مزید پسِ جائیگی ۔کیونکہ ہماری خاموشی ہی نے ہمیں اس حال کو پہنچایا ہے کہ ہم نے اچھے برے کی تمیز بھی ختم کر لی ہے ۔اتنے بے حِس ہو گئے ہیں سود کھا کھا کر اور قرضے اتار اتار کر کہ 
کہ اب یہ جونکیں مزید بھی خون نچوڑ لیں تو کوئی بات نہیں ۔کہ جب اپنی حالت پر نظر ہی نہ کی جائے تو پھر ایسے ہی گرفتار ہوتے ہیں بد اعمالیوں میں ۔اور ہماری تو تعلیم یہ بھی ہے جس کا مفہوم ہے کہ مظلوم کی مدد کرو اُسے ظلم سے نجات دلا کر اور ظالم کی مدد کرو اُسے ظلم سے باز رکھ کر ۔لیکن ہم نے شاید اپنی آنکھیں کھلی نہیں رکھیں اسی لئے اپنی تعلیمات سے بھی بے بہرہ ہو رہے ہیں ۔اور نقصان اُٹھا رہے ہیں ۔

جس طرف دیکھیں عجیب صورتحال ہے قومی ائیر لائن کا جو حال میڈیا سنا رہا ہے اُس پر کوئی کان نہیں دھر رہا حالانکہ عدلیہ کو چاہئے کہ نو ٹس لے ۔اور اس تباہی کے زمے داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے جنہوں نے اُس ائیر لائن کا جس نے بڑی بڑی ائیر لائنوں کو  بننے میں مدد کی یہ حشر کر دیا کہ وہ قرضے میں ڈوب گئی اور اب اسکی نجکاری کی باتیں ہورہی ہیں ۔سمجھ نہیں اآتی کہ جب سب کچھ تباہ ہو جائیگا خدانخواستہ تو یہ حاکم کیا کرینگے یقینا`` سب کچھ بیچ باچ دساور کو کوچ کر جائینگے ۔اس لئے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور ہر اس نا انصافی کے خلاف کھڑے ہوں جو ہمیں پریشان کر رہی ہے ۔

مجرموں کو سزا ضرور ملنی چاہئے کہ جب تک آپ سخت سزائیں نہیں دینگے یہ ڈاکٹر ،یہ ماڈل، یہ حاکم، یہ بیوروکریٹ یونہی کھاتے رہینگے آپ کو جونکوں کی طرح اگر آپ نے آنکھیں نہ کھولیں ۔
اللہ میرے ملک کو ہر آفت سے بچائے آمین 

:دیگر مضامین
(19.11.2015) جو گرجتے ہیں برستے نہیں ۔۔از؛ عالم آراء ۔ وینکوور
(26.10.2015) عوام کے دوست ہی عوام کے سب سے بڑے دشمن !! از؛ عالم آرا ۔ وینکوور
(29.09.2015) کچھ کردار ہونا چاہئے ،کچھ اخلاق ہونا چاہئے ۔از؛ عالم آرا ۔ وینکوور 
(02.09.2015)  کا روائی قانونی بھی اور غیر قانونی بھی ۔ از؛ عالم آراء ۔ وینکوور
(07.07.2015) اول تو کوئی پکڑا نہیں جاتا !!!از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(30.06.2015) کمال ہو گیا ،واقعہ کا نوٹس لے لیا ۔۔از:‌عالم آرا۔ وینکوور
(08.06.2015) پھول میرا وطن چاند میری زمیں ۔۔ عالم آرا ، وینکوور
(14.05.2015) ھوئے تم دوست جس کے!!!۔۔ از:‌عالم آرا۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(23.04.2015) اجنبی دنیا اجنبی لوگ!! ۔۔۔ از: عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(05.04.2015) گولی بندوق کی ہو یا حکومت کی ۔از؛ عالم آرا ۔وینکوور 
(02.02.2015) شرم ہم کو کیوں نہیں آتی ؟؟ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
(26.01.2015) بِل منظور ،تحفظات نا منظور ۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور 
(22.12.2014) کیا واقعئی ہم زندہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(01.12.2014) ڈاکو بھی  احتجاج کرنے لگے ؟؟ از:‌ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا
(14.11.2014) وہ اُجالے لینے گئے ہیں ۔۔۔ از:‌ عالم آرا ، وینکور، کینیڈا
(05.11.2014) سمجھ نہیں آتا ۔کس طرح خود کش سیکیورٹی پار کر جاتا ہے۔ از۔ عالم آرا
(14.10.2014) تجھ کو کسی کی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ۔۔ از؛ عالم آرا ۔ وینکوور ۔ کینیڈا 
(30.09.2014)  انتظار انتظار اور انتظار۔۔۔۔ از :‌عالم آرا ۔۔ وینکوور۔ کینیڈا
(08.09.2014) پارلیمنٹ اور اس کا احترام ۔۔۔۔۔ از:‌عالم آرا ۔ وینکوور۔ کینیڈا
(26.08.2014) ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم نے ہر بات کو مزاق بنا لیا ہے۔از ۔عالم آرا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں