جس دن قوم ان بچوں کا غم منارہی جو پیشاور میں ایک برس پہلے دہشت گردوں نے شہید کر دیے تھے؟ اسی دن شام میں خبر تھی کہ سندھ اسمبلی نے ایک قراداد پاس کر کے رینجرز کے ہاتھ پاؤں باندھننے کی کوشش کی اور اس میں یہ محاورہ بھی ترک کردیا کہ جلدی کا کام شیطان کاہوتا ہے۔ حالانکہ ہم بچپن سے یہ ہی سنتے آرہے تھے کہ جلدی کاکام شیطان کا ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ باقی کام تو شیطان کے ہم سب کرتے رہے مگر جلدی نہیں کرتے تھے کہ اس پر سب متفق تھے کہ جلدی کام شیطان کا ہوتا ہے۔ اور اسی وجہ سے پورا ملک ستر سال سے ہر معاملے میں معلق چلا آرہا ہے۔ یہ ہی صورت اس وقت کراچی میں ہے کہ وہاں بہت تیزی سے رینجیرز نے صفائی کام کیا جس کے نتیجہ میں ان کے پیر بہت سے سانپوں کی دموں پر پر پڑگئے اور اتنے بد ہواس ہوئے کہ یہ نصیحت ، دیرینہ چھوڑ کر ،سب مل کررینجیرز پر ٹوٹ پڑے !ظاہر ہے کہ وہ جاگے کیا کہ اسٹیٹس کو سے باہر نکل آئے اور انہوں نے ایک دو دن نہیں بلکہ تقریبا ً دوہفتہ ان کو لٹکائے رکھا اور پھر جب پوری قوم سوگ منا رہی تھی تو انہوں نے اس سے فائدہ اٹھا تے ہو ئے ، ان کے اپنے خیال میں رینجر زہاتھ پاؤں باندھ کر چھوڑ دیا ہے کہ اور آؤ، ہمارے منہ کو ؟
جن کے ہاتھ میں قلم ہے وہ چیخ رہے ہیں، جو مرکز میں برسرِ اقتدار ہیں جن پر رینجرز کاتکیہ تھا انہوں نے اپنے وزراء کو فل الحال مراقبے میں جانے کو کہدیا، رینجراہلِ ڈنڈا میں سے ہوتے ہوئے بھی ان کا منہ تک رہے ہیں ۔ جبکہ ان کے بھائی نے پنجاب کے اہم مقامات سے ان رینجرز کو ان مقامات سے ہٹادیا ہے جہاں پر وہ سالوں سے پہرا دے رہے تھے شاید اس لیے کہ خربوزہ خربوزے دیکھ کر رنگ نہ پکڑجائے۔ جبکہ ان کی جگہ پولیس اور غیر تربیت یافتہ سکوریٹی گارڈز کو دے رہے ہیں تاکہ گلو بٹوں کو روز گار ملے اور وہ ان کے کام آئیں؟ جبکہ غیر تربیت یافتہ کی سند ان کو ہم نے نہیں بلکہ مرکزی وزیر داخلہ جناب چودھری نثار علی خان کچھ دن پہلے قومی اسمبلی میں دی تھی۔ دوسری طرف پوری قوم ہے کہ رینجرز کی حمایت میں ریلیاں نکال رہی ہے۔
اس لیے کہ ایسی صورت میں کو ئی دوسرا اس سے نہ فائدہ ٹھا جائے اور سب کو پچھتانا پڑے؟اور اب تک پشاور سے کراچی تک جو صفائی ہوئی وہ اس سیلاب میں ڈوب جا ئے؟ جبکہ وہاں عجیب ماجرا ہے کہ جب مراعات لینے کا وقت آتا ہے تو حکمراں دنیا کے جمہوری ملکوں کی مثال سامنے لاتے ہیں۔ جبکہ اپنے گھناونے کردار کو کبھی زیر بحث نہیں لاتے کہ ہمارے لیل نہار کیا ہیں۔ یہ بھی اگر یہبھی ان کے نقشِ قدم پر چلیں ، توان جیسی مراعات کے مستحق بن سکتے ہیں ۔ فرق کیا ہے اس کے لیے ہم آپ کو وہاں لیے چلتے ہیں۔ یہاں کنیڈا رشوت، بد عنوانی اور سفارش نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ہے اور اگر پائی جائے تو چیف منسٹر جس کو یہاں پریمیر کہا جاتا ہے اس کے خلاف پولس کاروائی کرسکتی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ پولس کو شکایت ملی کہ اس وقت کے پریمیر کے گھر میں کسی ٹھکیدار نے فرنیچر رشوت میں دیا ہے ؟تو پولس براہ راست مجسٹریٹ کے پاس چلی گئی، اسے ثبوت دکھائے اورمجسٹریٹ نے انہیں اسکے گھر کی تلاشی کے وارنٹ جاری کر دیے؟ چھاپہ مارا گیا، خبر میڈیا میں آگئی، اس نے استعفیٰ دیدیا ۔مگر عوام نے پھر بھی معاف نہیں کیا کچھ عرصے کے بعد الیکشن ہوئے اور اس میں پوری پارٹی شکست کھاگئی جو پہلے اکثریتی جماعت تھی اس کو پورے ایوان میں صرف دو سیٹیں ملیں ؟ پاکستان کے حکمراں یہ اختیارات اور یہ حوصلہ پولس اور مجسٹریٹ کو دیدیں اور ہر قسم کی ہیر پھیر سے توبہ کرلیں تو وہ بھی انہیں مراعات کے مستحق ہوسکتے ہیں جو انہیں حاصل ہیں کیونکہ آنر ایبل کہلانے کے لیے میں تقویٰ برقرار رکھناا پڑتا ہے تب کہیں جاکر “آنر “ کی حفاظت کا حق ادا ہوتا ہے۔ قصہ مختصریہاں آنر ایبل کہلانے کے لیے ایماندار اور بہت ہی محتاط رہنا ضروری ہے۔ یہ تو رہا انتظامی معاملہ؟ ورنہ وہاں سندھ کی وہ کہاوت صادق آئیگی کہ ایک پل کے نیچے جس میں صرف پانی برسات میں ہی آتا ہے وہاں کچھ ساہوکاروں لوٹ کر اور پل نیچے بٹھاکر اور یہ کہہ کر جانے لگے کہ یہاں بیٹھ جاؤ؟ جب وہ چل نے لگے تو یہ پریشان ہو ئے کہ اگر بارشوں کا زمانہ آگیا تو کیا ہوگا ؟ہم تو پانی میں بہہ جائیں گے ۔ چوروں نے چونکہ نام بتائے نہیں تھے اس لیے کہ چور ایسا نہیں کیا کرتے؟ تو ان میں ایک نے بہت ہی ادب سے آواز دی کہ سائیں! چور خانصاحب ہم بارش کے زمانے بھی یہیں بیٹھے رہے ہیں یاچلے جائیں؟ چوروں نے ڈپپٹ کرکہا یہیں بیٹھے رہو؟
اب آئیے الیکشن کے سلسلہ کینیڈا کی سیر کرا دیتے ہیں کہ یہاں کا طریقہ کار کیا ہے؟ یہاں یہ پتہ ہی نہیں چلتا کے حلقہ بندیاں کب ہوگئیں؟ نہ ہی پاکستان کی طرح سٹنگ ممبران سے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں اپنے موجودہ حلقے میں سے انہیں کونسا علاقہ، یا کون سے ووٹر نکلوانے یا پنے حلقے میں شامل کرانے ہیں اور الیکشن کے عملے میں سے کون کون سے آدمی ناپسند ہیں تاکہ ہم ان کے نام شامل نہ کریں؟ جبکہ یہاں بلد یا تی انتخا بات کو بہت چھو ٹی با ت سمجھتے ہیں، گورنر جنرل سے لیکرصو با ئی اسمبلی کا کو ئی ممبر بھی الیکشن کے کا روبا پر اثر اندا ز نہیں ہو تا۔ اگر یہ ثا بت ہو جا ئے تو اس کے عہدے کی خیر نہیں ہے۔ مرکزی اور صو با ئی الیکشن کا یہ عا لم ہے کہ الیکشن سے دو ما ہ پہلے سب منسٹر اور ممبر اپنے ، اپنے گھر چلے جا تے ہیں اور کا روبا ر ِ حکو مت سول انتظا میہ چلا تی ہے اپنے اپنے محکمے ڈپٹی منسٹر چلا تے ہیں ۔آپ اس سے یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم اپنی با ت کی خو د ہی تر دید کر رہے ہیں۔بھا ئی یہا ں ڈپٹی منسٹر، اصل میں سکریٹری کو کہتے ہیں جو ہمیشہ وزیر کے نا ئب ہی ر ہتے ہیں ۔ ہما رے یہاں چو نکہ وزیروں کی اہلیت ہما ری جیسی ہی ہو تی ہے وہاں کی با ت اور ہے ۔اور اسی طر ح مر کز کے انتخا با ت سے پہلے مر کزی حکو مت چلی جا تی ہے کو ئی کیر ٹیکر نہیں ہو تا کو ئی الیکشن میں دھو نس دھا ندلی نہیں کر تا البتہ وزیر اعظم قبل از وقت گر الیکشن کرانے کے لیے پا رلیمنٹ تو ڑدے، تو اس کی نیک نیتی ظا ہر ہے؟ اس لیے گورنر جنرل کہہ دیتا ہے کہ تم کام کر تے رہو۔ مگر بغیر کا بینہ کے۔ ۔لو گ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تمہا رے یہاں تو صدر ہو تا ہی نہیں ہے گورنر جنرل ہو تا ہے ؟ تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ وہاں جب یہ شہ پائی جاتی تھی تب بھی تو اس کا ریکا رڈ اچھا نہیں رہا ۔
کینیڈا کو چھو ڑیں،چلیں آقا ئے نعمت کے یہاں تو صدارتی نظا م ہے ان سے پو چھ لیں کہ وہ کتنی دھا ندلی کر تے ہیں یا بلدیا تی الیکشن کے وقت پر نچلی سطح پر وہ کتنے اثر اندا ز ہو تے ہیں۔ ہا ں! صدا رتی الیکشن میں صرف امیدواروں کو اجا زت ہو تی ہے کہ اپنی مہم چلا ئیں مگر دھا ندلی کی نہیں ۔ دیواریں صاف شفاف رہتی ہیں۔ البتہ مین سڑکوں پر مالکان کی اجازت سے امیدوار اپنے بورڈ لگادیتے ہیں؟ جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہاں الیکشن ہورہے ہیں۔ باقی ٹی وی پر امیدواروں کے درمیان مباحثوں سے پتہ چلتا ہے نعروں سے نہیں بلکہ اپنے پروگراموں اور دلائل سے جو امید وارقائل کرلے لوگ اسی کو ووٹ دیتے ہیں۔ ہم نے بھی شا ید غلطی سے معجو ن فلک سیر کھالی کہ مجسم فلک سیر بن گئے ۔ارے بھا ئی یہ تو ترقی یا فتہ ملکو ں کی با تیں ہیں ۔ ہم بھلا ان کے منہ کو کیسے آسکتے ہیں۔ پااکستان کےالیکشن کے با رے میں دنیا بھر کی میڈیاکی آنکھ نے جو دیکھا وہ پڑھ لیجئے الیکش کا کھیل سمجھ میں آجا ئے گا۔
البتہ اس مر تبہ ایک تبدیلی نظر آئی کہ ووٹ بھگتا نے کا کام فرشتوں نے نہیں کیا۔ بلا امتیاز میدان خود سٹنگ مبران کے ہاتھ میں رہا چاہیں وہ حزب اختلاف کے تھے یا حزب ِ اقتدار کے دونوں نے موقعہ سے پورا فائیدہ اٹھایا جو حسب توفیق جہاں تک جا سکتا تھا وہ گیا؟ ان کے نما ئندو ں نے ہی جعلی وو ٹ بھگتا ئے سر کا ری ملازموں اور حکمراں پا رٹی کے ورکروں کو دیکھا؟ پہلے تو سنی سنا ئی با ت تھی، اب تو با ت عین الیقین تک پہنچ گئی ۔ مگر الیکشن کمشنر صا حب کہہ رہے ہیں کہ کو ئی دھا ند لی ثا بت نہیں؟ یہ ہی صرف بارہ آدمی خیر پور میں مرگئے اور ایک فیصل آباد میں مر گیا چند زخمی ہو ئے اس کے علا وہ جوہو ا وہ الیکشن سے پہلے ہوا جس کے ہم ذمہ دا ر نہیں ہیں ۔ خبریں گواہ ہیں کہ حزب ِ اختلاف اور حزب اقتدار کھلم کھلا الیکشن رولز کی خلاف ورزی کرتے رہیں اورا نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا؟ کیونکہ غیر جانبداری ، انصاف اور مساوات کا تقاضہ یہ ہی تھا؟