15.10.2026, 05:31pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭ 21 / دسمبر 1982ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری وفات پاگئے۔
21.12.2015, 09:07am , سوموار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی



حفیظ جالندھری کی وفات

٭ 21 / دسمبر 1982ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری وفات پاگئے۔

حفیظ جالندھری 14/ جنوری 1900ء کو پنجاب کے مشہور شہر جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔
حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔
حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں اورسوزو ساز، افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر، گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا، پھول مالی اور بچوں کی نظمیں اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب چیونٹی نامہ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
حفیظ جالندھری نے 21 / دسمبر1982ء کو لاہور میں وفات پائی۔ وہ مینار پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------


جسٹس اے آر کارنیلیئس کی وفات


٭ 21 / دسمبر 1991ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس اور سابق وفاقی وزیر جسٹس اے آر کارنیلیئس لاہور میں انتقال کر گئے۔انہیں مسیحی قبرستان‘ جیل روڈ‘ لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔
جسٹس (ر) اے آر کارنیلیئس کا پورا نام ایلون رابرٹ کارنیلیئس تھا۔ وہ یکم مارچ 1903ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1926ء میں وہ انڈین سول سروس سے وابستہ ہوئے۔ 1950-51ء میں وہ حکومت پاکستان کی وزارت قانون سے وابستہ ہوئے۔ نومبر 1951ء میں انہیں فیڈرل کورٹ کا جسٹس مقرر کردیا گیا۔ 1960ء سے 1968ء تک وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہے۔ 1964ء میں انہیں پنجاب یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف لاز کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ 1967ء میں حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان کا اعزاز عطا کیا۔ 1969ء سے 1971ء تک وہ وفاقی وزیر کے منصب پرفائز رہے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

حنیف محمد کی پیدائش


٭21 / دسمبر 1934ء پاکستان کے نامور ٹیسٹ کرکٹر حنیف محمد کی تاریخ پیدائش ہے۔
حنیف محمد جونا گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ پاکستان کی اس پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن تھے جس نے اکتوبر 1952ء میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی۔ حنیف محمد 1969ء تک ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں فعال رہے اس دوران انہوں نے 55 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 12 سنچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 3915 رنز اسکور کیے۔ ان کی ان 12 سنچریوں میں ایک ٹرپل سنچری (337 رنز) بھی شامل تھی جو آج بھی کسی پاکستانی کرکٹر کا  ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑا اسکور ہے۔ حنیف محمد کے تین بھائیوں وزیر محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد نے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کے ایک اور بھائی رئیس محمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں حصہ لیا اور ایک ٹیسٹ میچ میں بارہویں کھلاڑی کے طور پر شرکت کی۔ حنیف محمد کے صاحبزادے شعیب محمد نے بھی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ 1968ء میں حنیف محمد کو وزڈن نے کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز دیا۔ وہ ان تین پاکستانی کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کی تصاویر آئی سی سی کے Hall of fame میں دنیا کے 55 بڑے کھلاڑیوں کی تصاویر کے ساتھ آویزاں کی گئی ہیں (پاکستان کے بقیہ دو کھلاڑی عمران خان اور جاوید میاں داد ہیں)۔ حنیف محمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی 499 رنز کی ایک اننگز کھیلی تھی جو ایک طویل عرصے تھے دنیا کی سب سے بڑی اننگز کے اعزاز کی حامل رہی تھی۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ہے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

کرنل (ر) غلام سرور کی وفات


٭ پاکستان کے ممتاز دانشور، کالم نگار، دفاعی تجزیہ نگار اور ادیب کرنل (ر) غلام سرور 31 / دسمبر1928ء کو جہلم میں پیدا ہوئے۔ وہ انگریزی، اردو اور علوم اسلامی میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے پاک فوج کی ایجوکیشن کور سے وابستگی اختیار کی۔ کرنل (ر) غلام سرور کی تصانیف میں تقدیر امم، مسافر حرم، پطرس ایک مطالعہ، مطالعہ اسلامیات اور ان کی خود نوشت سوانح ’’آئینہ ایام‘‘ کے نام شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 1982ء میں ستارئہ امتیاز (ملٹری) کے تمغے سے سرفراز کیا۔
کرنل (ر) غلام سرور 21 /  دسمبر 2009ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 نجم آفندی کی وفات


٭21 / دسمبر 1975ء کو اردو کے نامور مرثیہ گو شاعر نجم آفندی کراچی میں وفات پاگئے۔ حضرت نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا اور وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کے والد بزم آفندی‘ دادا مرزا عباس علی ملیح‘ پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح‘ سب شاعری کے شغل سے وابستہ رہے تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا تھا۔ تب سے یہ خطاب نسلاً بعد نسلاً ان کے افراد خاندان کے ناموں کا جزو بن گیا۔
نجم آفندی نے‘ دس بارہ برس کی عمر سے ہی شاعری کا آغاز کردیا تھا ابتدا غزل سے کی مگر پھر مذہبی شاعری کی طرف راغب ہوئے اور اس میں اتنا کمال بہم پہنچایا کہ ناصر الملک نے انہیں شاعر اہل بیت کا خطاب عطا کیا۔
حضرت نجم آفندی نے مرثیے‘ نوحے‘ قصائد اور رباعیات کے لاتعداد مجموعے یادگار چھوڑے‘ ان کی کلیات کائنات نجم کے نام سے دو جلدوں میں اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔
اپریل 1971ء میں حضرت نجم آفندی‘ بھارت سے ترک سکونت کرکے پاکستان آگئے‘ جہاں وہ کراچی میں مقیم ہوئے۔ پاکستان میں اہل علم نے ان کی بھرپور پذیرائی کی مگر فقط ساڑھے چار برس بعد 21 / دسمبر 1975ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(20.12.2015)  سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں
(19.12.2015) عالم اسلام کے عظیم فلسفی امام غزالی کی تاریخ وفات 19 / دسمبر 1111ء   ہے۔
(18.12.2015) علامہ رشید ترابی 18 / دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے 
(17.12.2015) سترہ / دسمبر 2002ء کو ڈاکٹر محمد حمید اللہ فلوریڈا امریکا میں وفات پاگئے
(16.12.2015) سولہ دسمبر1971 سقوط ڈھاکا کا خونچکاں اور دل گرفتہ دن ہے
(15.12.2015)  مفسر قرآن علامہ امین احسن اصلاحی 15 / دسمبر 1997ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔
(14.12.2015) سسٹر برنیس وارگس 14 / دسمبر 2005ء کو  کراچی میں وفات پاگئیں۔
(13.12.2015)   پاکستان کی فلمی دنیا کی ایک منفرد فلم 13/ دسمبر 1974ء کو ریلیز ہوئی
(12.12.2015) غلام اسحاق خان 12 / دسمبر 1988ء کو وہ پاکستان کے مستقل صدر منتخب ہوئے
(11.12.2015) مولانا شاہ احمد نورانی 11 / دسمبر 2003ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے۔
(10.12.2015)  سوار محمد حسین نے 10 / دسمبر 1971ء کو شکرگڑھ کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔
(09.12.2015) ملک فیروز خان نون نے  9 / دسمبر 1970ء میں لاہور میں وفات پائی۔
(08.12.2015) اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی 8 / دسمبر 1925ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے
(07.12.2015) پروفیسر سید علی عباس جلال پوری 7 / دسمبر 1997ء کو  وفات پاگئے
(06.12.2015) چھ دسمبر کو میجر شبیر شریف جو مسلسل دشمن پر فائرنگ کررہے تھے شہید ہوگئے
(05.12.2015) میجر محمد اکرم نے  5 / دسمبر 1971ء کو  جام شہادت نوش کیا
(04.12.2015) مشہور شہید ناموس رسالت غازی علم دین کی تاریخ پیدائش 4 / دسمبر 1908ء   ہے
(03.12.2015) ملک معراج خالد 20ستمبر 1916ء کو برکی لاہور میں پیدا ہوئے
(02.12.2015) بے نظیر بھٹو نے 2 /  دسمبر 1988ء کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھالیا
(01.12.2015) یکم دسمبر 1980ء کو چوہدری محمد علی کراچی میں وفات پاگئے ۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں