15.10.2026, 11:21pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شر مائیں۔۔۔ ؟از۔۔ شمس جیلانی
26.12.2015, 04:05am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی

کل حضور (ص) کی پیدائش کا دن گزر گیا مگر کوئی تبدیلی نہیں آئی ہر یوم ِ پیدائش کی طرح اس سال بھی ہمارا خیال تھا کہ شاید قوم کو یاد آجائے کہ ہم جن (ص) کے امتی ہیں ان کے (ص) پیدائش پر بجائے ان کا دن صرف جلوس نکالنے کے ان کا اتباع بھی کرنے کا فیصلہ کرلیں تاکہ اس طرح آنے والے سال میں تمام دکھ دلدر دور ہو جائیں مگر؟ ہمیشہ تمام امیدیں خاک میں مل گئیں مگر کسی کونے سے کسی عالم کی یہ آواز نہیں سنی اس کے بجائے اس کے بدعت ہونے پر اپنی اپنی مجالس میں زور دیتے رہے کچھ اس کے فرض ہونے پر مگر عمل کی بات دونوں ہی نہیں کی اب دیکھیے گا کہ2016 کا دن آرہا ہے اس دن پوری قوم ایک چھوٹی  اسی اقلیت کے سوا نیا سال بہت دھوم دھام سے منائے گی اس دن اشرافیہ آتش بازی  کاعام استعمال کرے گی ہماری بات کو نہ مانیں؟ اگر آپ کی رسائی شراب خانو ں تک ہو سکے تو جاکر چیک کرلیں کہ ان کی سیل آپ کو اپنے عروج تک پہونچی ملے گی ۔لیکن اس کارِ خیر پر اس کی مخالفت میں وعظ فرمانے کی کوئی کوشش نہیں کریگا اور نہ بدعت اور حرام کہنے کی کوشش کریگا؟ حالانکہ یہ بات متنازع نہیں بلکہ متفق علیہ ہے کہ اسلام میں شراب حرام ہے ؟
 ہم بھی خوابوں کی دنیا کے آدمی ہیں کیسے کیسے منصوبے باندھتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ پاکستانی اپنی دھن کے پکے اور بات کے دھنی ہیں ۔اپنی ہٹ پر ہمیشہ کی طرح قائم رہیں گے؟ قوم بدستور اسی مخمصے میں رہے گی کہ ہمارے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں؟ دل کعبہ میں رکھا رہے گا۔ اور بت خانے بھی من میں آباد ہیں  ؟ یہ دو عملی کیا رنگ لائیگی جواب کوئی اچھا نہیں ہے لہذا ہم پنے تمام علماءکرام کوا ور مسلمان دونوں کو دعوت دیں گے کہ وہ ایسی قوموں کے حشر بارے میں قرآن میں جاکر دیکھ لیں خصوصا  ً سورہ الشعرا میں آیات24 سے لیکر 29 تک ملاحظہ فرمالیں جس میں ان کی عادات یہ بتائی گئی ہیں ( ترجمہ “تم اپنی شان بڑھانے کے لیے بڑے مکان بنا تے ہو اتنے بڑے کہ جس میں رہ  نہیں سکتے ، کھانے کے لیے اتنا جمع کرتے ہو جو کھا نہیں سکتے ۔۔۔الخ)۔ اس موقعہ پر ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ قوم ا یک سو ہو کر حضور (ص) کے دامن رحمت میں پناہ لیکر اللہ سے اپنے گناہوں پر تو بہ کرتی ، تاکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا؟ مگر ہوا کچھ بھی نہیں؟ لیل و نہار وہی رہے پرنالہ وہاں گرا جہاں اسے گر نا چاہیے تھا ؟ اس مرتبہ ایک نمایاں تبدیلی  یہ دیکھی کہ وزیر اعظم صاحب جو ہمیشہ پہلے سالانہ تبلیغی اجتماع میں جایا کرتے تھے، اس مرتبہ نعت خوانی کی ایک محفل میں بھی تشریف لے گئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ان کی سمجھ میں بھی یہ نہیں آیا کہ کیا کریں؟ یہ با لکل وہی پوزیشن ہے جو پہلی صدی ہجری کی چوتھی دہائی سے لیکر اور ساتویں دہائی میں تھی؟ اس وقت بھی ایک طبقہ جو خارجی کہلاتا تھا وہ اپنے سوا کسی کو مسلمان نہیں مانتا تھا؟ ایک قدرے چھوٹا گروہ تھا جو ان سے بر سرِ پیکار تھا۔ ایک تیسرا گروہ بھی تھا کہ جو کہتا تھا کہ ہم نے جہاد کر لیا اب نہیں کرنا؟ کیونکہ وہ جہاد کو صرف قتال کے معنی میں لیتا تھا ۔ جبکہ حضور (ص) نے امن کے دوران اعمال صالح کر نا سب سے بڑا جہاد قرار دیا ہے اور وہ اس کے بجائے اس حدیث پر عمل کرتا تھا کہ “  مسلمانو ں کے دو گروپوں میں جب لڑائی ہو تو جو کھڑا ہے وہ بیٹھ جا ئے اور بیٹھا ہے وہ لیٹ جا ئے  “ اور اس نے قرآن کی وہ آیت نظر انداز کردی تھی کہ اگر مسلمانو ں کے دو گروہوں میں جنگ ہو تو ان میں صلح کرانے کوشش کرو اگر نہ مانیں تو اس کا ساتھ دو جو حق پر ہو؟ جبکہ اس آنے والے دور کی  کے لیےہادی اسلام (ص) نے ایک ایک پہچان حق پرستوں پر کھول کر بیان کردی تھی کہ وہ (خارجی) کیسے ہونگے۔ لیکن پہچاننے کے باوجود ان پر عامل ہو نے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا؟ اورفرمان باری تعالیٰ کے تحت  “جب کسی مسئلہ پر کوئی تنازع پیدا ہو جا ئے تو اللہ اور رسول (ص)کی طرف رجوع کرو “ اس پر عمل کرنے کوکوئی تیار نہیں تھا۔ اس کا نتیجہ جو کچھ ہوا؟ س پر تاریخ کے اوراق گواہ ہیں وہاں پڑھ لیجئے اگر قوم کو دنیا کمانے سے فرصت ملے تو؟حالانکہ کے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بار بار قرآن میں فرمایا ہے کہ تم کو یہاں بھیجنے مقصد یہ ہے کہ “ وہ تمہیں آزما ئے کہ کون نیک کام کر تا ہے اور کون برے کام کر تا ہے تاکہ قیامت کے دن وہ انہیں جنت یا دوزخ کے لیے منتخب کر سکے ً( کیونکہ وہ دونوں کا رازق ہے اور اسے جنت اور جہنم دونوں کا پیٹ بھر نا ہے)
 آج بھی ہم اسی صورت ِ حال سے دو چار ہیں؟اور سب آپس میں دست بہ گریباں ہیں؟ کچھ شدت پسندوں کے لیڈروں کو بھی پورا پور ٹوکول ملا ہوا ہے۔ کچھ ان کے لیڈروں کو بھی جنہیں شدت پسند بد عتی کہتے ہیں ۔ ملزم عدالتوں کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے طلب کر نے پر عام طور پرحاضر نہیں ہو تے وہ انہیں مفرور قرار دیکر ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیتی ہیں؟ وہ بدستور شہر میں گھومتے پھر تے ہیں پولس ان سے آنکھیں بند کر لیتی ہے۔ عد الت تاریخیں دیکر جب تنگ آجاتی ہے تو ان کی جائیداد ضبط کر کے مکان سیل کر دیتی  ۔ ملزم جب چاہیں تالہ توڑ کر قبضہ کر لیتے ہیں؟اور اس میں آکر رہنے لگتے ہیں، کوئی کچھ نہیں کہتا؟ جبکہ جس زمین پر وہ محل بنا ہوا تھاا سے رہائش کے لیے نہیں بلکہ اطراف کے لوگوں کے لیے تازہ سبزیاں اگانے کے لیے الاٹ کیا گیا تھا۔ جبکہ پولس کی اتنی قسمیں ہیں جواے سے لیکر زیڈ تک آپ گن لیں مگر وہ صاحب لو گوں کی حفاظت پر مامور ہیں، اور اکثر سڑکیں بند کرنے پر مامور دکھائی دیتے ہیں۔ جن کی وجہ سے بہت سے مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں کہ صاحب اقتدار جہاں ہوں پرندہ پر نہیں مار سکے چاہیں وہ استپال ہی کیوں نہ ہو ؟ لہذا شر پسندوں کے لیے وہ بچتی ہی نہیں مجبوراًنیم فوجی ادارے رینجرز کو بلانا پڑتا ہے؟ وہ اپنی جانوں کی قر بانی دیکر ملک میں امن قائم کر نے میں جب کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ تو ان کے ہاتھ پا ؤں باندھ دیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ملزموں کے ڈانڈے کچھ بڑوں سے ملتے ہیں ۔ جب مرکز اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کر تا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ صوبے پر حملہ کر دیا؟ یہ ہمارے یہاں عدل کی حالت ہے کہ دل چاہا تو مان لیا بنے ٹھنے ملزم اور ملزَمائیں فوٹو گرافروں کے جلوس میں ہر دفعہ نئے فیشن میں آتے ہیں ۔ جتنی شہرت ان کو اس طرح ملتی ہے ،اگر اربوں روپیہ وہ اس مد میں خرچ کریں تو بھی نہیں مل سکتی وہ انہیں اس طرح مفت میں حاصل ہو جاتی ہے؟ جبکہ وکیلوں کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے مقدمے مہینوں نہیں بلکہ سالوں چلتے ہیں۔ کہ عدالتیں سزائیں تو دے سکتی ہیں، مگر عمل کرانے کے لیے اپنا کچھ نہیں ہے جبکہ انتظامیہ ہی ان  نےہاتھ پاؤں ہیںَ جبکہ کسی بڑے آدمی پرہاتھ پڑ جاتا ہے تو دوسرے بڑے یا سب سے بڑے مل کر اس کی حمایت کو آجاتے ہیں ۔ اور وہ ان کے ہاتھ پاوں ہیں انہیں باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ انہوں نے بڑا اچھا کام کیا ہے ۔ ہم ان کے خلاف نہیں ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کن انکھیوں سے ان کی بغل کو بھی تکتے رہتے ہیں جس میں ایک چھوٹا سا علامتی ڈنڈا دبا ہوتا ہے۔
 یہ اس ملک کا حال ہے جو اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کہلاتا ہے ، جس کی پارلیمنٹ پر اتنا بڑا کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے کہ آپ آج کے دور میں ہزاروں میل دور سے بیٹھ کر دیکھ لیں ۔ جس میں عوام کی طرف سے اعتراف ظاہر ہو تا ہے کہ ہم نے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کر لیا ہےا ور اپنا سر اس کے آگے جھکا دیا ہے۔ لیکن عملی طور پر اس کی تمام کلیدی اسلامی دفعات بغیر لکھی ہوئی کسی دفعہ کی بنا پر معطل ہیں ۔ پچھلے دنوں عام مشاہدہ تھا کہ شراب کی بوتلیں اسکے چاروں طرف بکھری ہو ئی ملتی تھیں ؟ اب نہیں معلوم اس سلسلہ میں ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بنا تھا۔ اس کا کیا بنا وہ ہمارے علم میں نہیں ہے؟ البتہ یہ ہمارے علم ہے کہ اقلیتی ممبر وہاں اتنے نہیں ہیں جتنے کہ اکثریتی ممبر ہیں ۔ لیکن ان کے پرمٹ اپنے ساتھیوں کو ضرور مل جاتے ہیں تاکہ وہ بھی اپنی پیاس مٹا سکیں ا ور اس کے بدلے میں وہ اپنے  ناجائزکام کراسکیں ؟  یہ بھی کہ ہمارے علم میں ہے کہ روز بروز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شراب خانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس کا گواہ سندھ اسمبلی کا وقفہ سوالات ہے جس میں ایک معزز وزیر نے ایک رکن کے  کے سوال پر بتایا کہ کراچی میں پہلے 64شراب خانے تھے۔ اب 69 ہو گئے ہیں ؟ معززرکن نے جب ضمنی سوال پو چھا کہ یہ بڑھ کیوں رہے ہیں؟ تو جواب معقول تھا کہ آبادی بڑھ رہی ہے ، جس طرح آٹے اور چاول کا خرچ بڑ رہا ہے ۔اسی طرح شراب کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ نئی نسلِ اشرافیہ اس کی عادی ہوتی جارہی ہے اور اقلیتی طبقہ کو ملنے والے پرمٹ شراب کو رواج دینے میں معاون ہو رہے ہیں ۔ اللہ ہم سب کو ہدایت تاکہ اس کا غضب ٹھنڈ ا ہوسکے (آمین)

 


:دیگر مضامین
(19.12.2015) دودھ کاجلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(12.12.2015) دستورِ دیرینہ ہے کہ ڈاکو ، ڈاکو ؤ ن پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔۔۔؟از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.12.2015) جانکنی میں کی اس نے جفا سے توبہ!۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.11.2015) عالی جی تو شہزادے تھے۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی
(21.11.2015) فوج یا الہ دین کا چرا غ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(14.11.2015) گڈ گورنینس، طرہ امتیاز ہے؟ ۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(07.11.2015) قانون کے منہ پر تھپڑ؟۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(31.10.2015) بڑھیےدنیا امن کی متلاشی ہے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(24.10.2015) بھارت کو یہ مذہبی شدت پسندی  لے ڈوبےگی۔۔ ۔از۔۔ شمس جیلانی
(17.10.2015) یہ فتنہ انتہا پسندی اور ہم ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(10.10.2015) حرم شریف کے سانحات کو چشمہ اتار کر دیکھیے؟۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.10.2015) جو تم کرو گےوہ ہم کریں گے۔۔۔۔ از۔۔۔۔ شمس جیلانی
(26.09.2015) یہ عید کے پیچھے ٹر کیسی ۔۔۔ شمس جیلانی 
(22.09.2015) وہ جو حج بنا ہی حاجی ہوگئے از ۔۔ ممتازملک ۔ پیرس
(19.09.2015) برق نے تا کا ہے ہر دور میں رمضانی کو۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(12.09.2015) لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(05.09.2015) مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.08.2015) اس حاد ثہ وقت کو کیا نام دیاجائے۔۔۔ از ۔۔شمس جیلانی
(22.08.2015) جدید ٹیکنالوجی اور ہمارا غلط رویہ۔۔۔ از ۔۔ شمس جیلانی
(15.08.2015) اللہ سبحانہ تعا لیٰ اپنے بندوں کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں