ایک فی البدیہہ طرحی غزل
درپردہ میر ا دشمنِ جاں یار ہی رہا
’’ دلدار ہی رہا نہ دل آزار ہی رہا‘‘
سودا نہ کرسکا کبھی اپنے ضمیر کا
حالات سے میں برسرِ پیکار ہی رہا
کم ظرف تھے جو وقت کے سانچے میں ڈھل گئے
جو تھا وفا شعار وفادار ہی رہا
اہلِ کمال گوشۂ عُزلت میں تھے مکیں
میرِ مشاعرہ وہ گلوکار ہی رہا
اپنا سمجھ رہا تھا جنھیں وہ رقیب تھے
میرا حریف حاشیہ بردار ہی رہا
کی مارِ آستیں کو سمجھنے میں میں نے بھول
محروم حق سے تھا جو وہ حقدار ہی رہا
جس کو سمجھ رہا تھا بہی خواہ اپنا میں
وہ میری عرضِ حال سے بیزار ہی رہا
اس کے لئے تھے دیدہ و دل میرے فرشِ راہ
جی بھر کے سو سکا نہ تو بیدار ہی رہا
گلہائے رنگا رنگ سے آراستہ تھا جو
میرا کلام گلشنِ گفتار ہی رہا
تھا جس کا حسن عالمِ امکاں میں انتخاب
وردِ زباں وہ عارض و رخسار ہی رہا
منزل پہ گرتے پڑتے پہنچ تو گئے مگر
برقی سفر حیات کا دشوار ہی رہا