آج کے دن کی مناسبت سے مجھے کالم لکھنے کا حکم محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کی طرف سے ملا تو دل خوشی سے بھر گیا ۔ کیونکہ وہ اسی وقت کچھ لکھنے کو کہتے ہیں جب انہیں پورا یقین ہوتا ہے کہ وہ لکھ سکتا ہے ۔ میں ان کے معیار تک کو نہیں پہنچ سکتی لیکن لکھ لینے کی سعادت کو ان کی گواہی کئی بار مل چکی ہے ۔ کہنے کو ایک برس یا 365 دن جیسے ایک طویل مدت کی طرح لگتا ہے ۔۔ لیکن گزرتا وقت جیسے ایک پل کی طرح کسی کہانی جیسا ہو جاتا ہے ۔ میں پیچھے پلٹ کر دیکھتی ہوں تو آنکھوں میں پورا سال جیسے ابھی بھی ٹھہرا ہوا ہے ۔
اس بار میں نے سوچا کہ اس بات پر عمل کر لوں جب دوستوں سے بات ہو تو سیاست ، مذہب اور منصب پر بات نہ ہو ۔۔بس ایک دوسرے کا حال پوچھا جائے اور خوشیوں کی بات کی جائے۔ پر خوشی منانے کے لیئے جہاں خوبصورت یادیں ہوتی ہیں وہاں اچھے دوستوں کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ اور ان دونوں باتوں کے لیئے ہر انسان کا اپنا معیار ہوتا ہے کیونکہ اس کی اپنی یادیں اور ان کے حوالے ہوتے ہیں ۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم سب کچھ بھول کر صرف ان باتوں کو یاد رکھتے ہیں جن سے ہمیں رنج و تکلیف پہنچی ہوتی ہے یا کسی سے تکلیف پہنچی ہوتی ہے ۔ آج میں نے یہ بھی سوچا ہے کہ میں اپنی تمام ایسی یادوں اور حوالوں کو اپنی طاقت بنا لوں گی ۔ سو آج نئے سال کے موقع پر ان سب دوستوں کی شکر گزار ہوں جن کی تلخ نوائی نے مجھے ایسی مضبوطی عطا کی ہے کہ میں پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو گئی ہوں ۔
نئے سال کی خوشی کے موقع پر چلو کچھ دیر کے لیئے خود کو خود احتسابی کی بھٹی میں نہیں جھونکتے ۔۔ پر جانے کتنے ہی لوگ ہونگے جو اس وقت بھی معیار کے غم میں مبتلا ہونگے ۔۔۔ اپنے وہم کی کئی خود رو جھاڑیوں سے الجھ رہے ہونگے ۔ دراصل ہمیں اسی بات پر دکھ زیادہ ہوتا ہے جب ہمارے ہاتھوں سے اختیار جاتا ہے ۔۔ اختیار کا جانا بے بسی پیدا کرتا ہے اور بے بسی مایوسی پھیلا دیتی ہے اور مایوسی سے بے یقینی پیدا ہوتی ہے اور اپنے ہی بنائے اعتبار اور یقین کے سارے بت ٹوٹ جاتے ہیں اور کبھی کبھی تو حالات اتنا بدحال کر دیتے ہیں کہ اپنے رب پر یقین نہیں آتا کہ آخر یہ کیسا سامع ، صاحب بصارت اور دلنواز ہے جو ہمارے باطنی اور ظاہری حال سے واقف ہی نہیں …
سوچ رہی ہوں پچھلے برس جانے کتنی بار میرے اور خدا کے درمیان یہی بے یقینی کا عالم رہا ہوگا ۔۔ مجھے خدا سے جانے خدا سے کتنے گلے رہے ہونگے ۔۔ کسی دن اپنی بے یقینی اس کے کرم و نوازش کے مقابلے میں بہت بڑی لگی ہو گی .. میں نے بہت ہی خفگی سے اس کی طرف دیکھا ہو گا اور آنسوؤں سے بھری اپنی آنکھوں کو بے بسی سے بند کر لیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔ میری طرح جانے کتنے اور لوگوں نے ایسا کیا ہوگا ۔۔ پر مجھے یقین ہے کہ کسی نے میری طرح یہ ضرور سنا ہوگا ۔۔ دنیا کی امتحان گاہ کا صرف ایک ہی پرچہ ہے ، اور وہ ہے “ یقین “ جو اسے اپنے خد اپر ہوتا ہے ۔ پھر یہی یقین اسے خود پر اعتماد و اعتبار عطا کرتا ہے جو زندگی کے سارے مشکل پرچے حل کر دیتا ہے ۔ اسے یقین ہوتا ہے اس کے رب نے جو کامیابی یا ناکامی اس کے لیئے چنی ہے وہی اس کے حق میں افضل ترین تھی ..
میرے عزیز دوستو !
اپنے رب پر یقین کی کمی خوش گمان نہیں رہنے دیتی اور انسان کا یہی سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ ہمارا رب تو وہ ہے جو ہم سے ہماری ماں سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔ جو حجت کے بغیر کوئی مصبیت نازل نہیں فرماتا ۔ جو تنبیہ کے بغیر کوئی سزا نہیں دیتا ۔۔۔۔۔۔۔ جو نیکی کو سوچ لینے ہی سے اجر دے دیتا ہے ۔۔۔۔۔ جو برائی کو جب تک کر نہ لیں ، اس کا حساب نہیں رکھتا ۔۔۔ ایسا جلد راضی ہونے والا رب ہمارا ہے ۔۔۔۔۔۔
بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارا رب کسی مشکل میں ہماری راہنمائی نہیں کرے گا ۔۔ وہ کیسے بھلا ہماری دعاوں کو رد کر سکے گا ۔۔ وہ بھلا کیسے ہماری کوششوں میں برکت نہیں ڈالے گا ۔۔۔ ہاں ایک بات ہے جو سمجھنی بہت ضروری ہے ۔۔ ہمارے رب کو اس سے ہمارا مانگنا بہت پسند ہے ۔۔ اس لیئے کبھی کبھی دینے میں دیر کر دیتا ہے پر دیتاضرور ہے .. اور اگر جو اس سےمانگیں اور وہ نہ دے تو وہ اس سے اچھی خوشی عطا کر دیتا ہے ۔۔
آیئے اپنے رب سے خوش گمانی ، یقین اور بھروسے کے ساتھ دعا مانگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اپنے دوستوں کے اخلاص پر شکر ادا کرتے ہیں ۔۔ سب کے لیئے امن و چین کی دعا کرتے ہیں ۔۔ ہر مشکل اور خوشی میں ایک دوسرے کا ساتھ مانگتے ہیں ۔۔۔۔۔ شجر ثمربار ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔
مجھے اس برس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں
ایک دن
میں مضبوط شجر ہو جاؤں گی
جس کی
مہربان شاخیں سایہ دار ہوں گی
جن پر خوشنما پھولوں کی بہار ہو گی
جن کی مہک
باد نسیم کی لے پر رقص کرے گی
بے خودی کایہ رقصدیکھ کر
ابر خوشی سے اور برسا کرے گا
پھر ۔۔۔۔
مجھ سےکئی اور پودے جنم لیں گے
میرے ہم نشین
سنو۔۔!
میرے ساتھ ساتھ رہنا
مجھے اس برس
شجر ثمر بار بننا ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم
آپ سب کو نیا سال بہت بہت مبارک ہو