تمام پڑھنے والوں کو نیاسال مبارک ہو،اور ہم پہلے کی طرح اپنے نبی (ص) کے پیرو بن جائیں تاکہ قرون ِ اولیٰ کی طرح پھر ہمارے اوپر رحمتوں کی بارش ہو۔اللہ سبحانہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اور باعمل یعنی اسلام کا سچا سپوت بننے کی توفیق نصیب فرمائے آمین؟
پوت کسے پیارے نہیں ہوتے اور اگر وہ ساتھ ہی سپوت بھی ہوں تو اپنے دین اور باپ دادا کا نام روشن کرتے ہیں اور اگر کپوت نکل جا ئیں تو پھر سب کا نام ڈبونے کا باعث بنتے ہیں؟ آج سے ہم سو سال پہلے گر کسی سپوت کی تعریف کرتے تو لوگ ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوجاتے کہ لکھنے والا شاید سٹھیا گیا ہے کہ یہ جنس تو بالکل عام ہے اسی طرح، جس طرح اسوقت جھوٹ بولنے والا غیر مہذب ملکوں میں نہیں پایاجاتا تھااب اس کا الٹہے ، جواب مہذب ملکوں میں ناپید ہے اور غیر مہذب ملکوں میں عام ہے۔ بالکل اسی طرح اس دور میں سپوت افراط سے تھے اور کپوت پائے ہی نہیں جاتے تھے اگر ڈھونڈتے تو لاکھوں میں ایک ملتا۔ اب صورت ِ حال اس کی الٹ ہے۔ ممکن ہے کہ نئی نسل سپوت کے معنی ہی نہ جانتی ہو؟ لہذا پہلے ہم پوت، سپوت اور کپوت کے معنی بتا دیں۔اصل میں سپوت کا لفظ اردو میں ہندی سے آیا ہے اورا سی سے اسکا الٹ کپوت بنا اور پوت کی سب سے اعلیٰ شکل سپوت ہے۔ اب شاید کوئی بچہ یہ سوال کر بیٹھے کہ انکل مجھے تو اردو ہی نہیں آتی آپ مجھے ہندی کیوں پڑھا رہے ہیں ۔ تو جواب یہ ہے کہ اگر ہندی کے تمام الفاظ اردو سے نکال دیے جائیں تو اردو نصف رہ جائے گی؟ اور باقی زبانوں کےالفاظ نکال دیے جائیں تو پھر کچھ نہیں بچے گا ؟صرف رسم ا لخط رہ جائےگا جو تمام زبانوں کے الفاظ کو ااردو کی تسبیح میں دانوں کی شکل میں سموئے ہوئے ہے۔؟ اس پر ضمنی سوال یہ ہوسکتا ہے کہ ہم انگریزی سے کام چلالیں گے، پھر اردو کی ضرورت کیا ہے۔؟ بہت اچھا سوال ہے مگر جواب بڑا دردناک ہے؟ وہ یہ ہے کہ آنے والی نسل اس بڑے ذخیرے سے محروم ہو جائےگی جو اسلامی تعلیمات سمجھنے میں آج سب سے بڑا معاون ہے ا س سارے ذخٰیرے کو کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنا ناممکن ہوگا اس لیے کہ اردو کی طرح دوسری کسی زبان میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ ہر زبان کے الفاظ کو اپنے اندر سموع لے! لہذا اول توترجمہ تشنہ ہوگا اور پھر اسے کئی صدیاں اس میں منتقل کرنے میں لگیں گی؟ اب آتے ہیں صل موضوع کی طرف؟
پرانے دور میں ہم نے اکبر الہ آبادی کا ایک شعر پڑھا تھا مگر اس وقت تک ہم نے لندن اور یورپ نہیں دیکھاتھا؟ جس کے بارے میں یہ شعر تھا، اس لیے ہم اس کے معنی نہیں سمجھ پائے وہ ہم بعد میں سمجھے، جب دنیا دیکھی۔شعر یہ تھا ع “ مہذب ہو ئے ہم اتنے کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے ہسپتال جاکر “ اب ہمیں جبکہ ا س شعر کے پورے معنی معلوم ہو چکے ہیں ۔ زمانہ اتنا بدل گیا ہے کہ معاشرے میں سپوت کو ڈھونڈنے کے لیئے۔ شہروں شہروں جانا پڑے گا، تب کہیں جاکر مشکل سے ملے گا ۔ اب آپ کہیں گے آپ نے اپنی کتابوں کے ا نتساب میں اپنے اہل ِ خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ جو لکھا ہے کہ “ اللہ نے مجھے سب اچھا عطا فریا “ وہ غلط تھا اور پھر تھوڑا سا اور آگے بڑھیں گے کہ آپ یہ جو ہر محفل میں کہدیتے ہیں میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا ؟اس سے یہ دعویٰ بھی جھوٹاثابت ہوتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ الحمد للہ یہ میرے مالک کا مجھ پر بڑا کرم ہے کہ مجھے پوری فیملی ہی نہیں بلکہ مہذب لوگوں میں جسے “ایکسٹینڈ یڈ فملی “ کہتے ہیں وہ بھی مجھے اچھی عطا فرما ئی، مگرا س وقت یہ بے وقت کی راگنی ہوتی لوگ کہتے کہ بڑے میاں اپنے منھ خود میاں مٹھو بن رہے ؟لیکں اب میں آپ کی عدالت میں کھڑا ہو ں اور جھوٹ کا الزام مجھ پر لگ رہا ہے جبکہ اپنی صفائی میں سب کچھ کہنے کا ہر ملزم کو مہذب ملکوں کے قوانین میں حق ہے اس لیے یہ حقیقت میں نے بیان کردی۔
اصل میں ہم ایک ایسے سپوت سے پچھلے ہفتہ واقف ہوئے جن کا نام ہے محمد حَسین، جو ریٹائرد فوجی افسر وں کے برعکس بڑے خوش مزاج ہیں ،اور اسی وجہ سے کھلنڈرے سے معلوم ہوتے ہیں !وہ ااپنے نام کو بھی کبھی کبھی خودہی یہ کہہ مذاق کا نشانہ بنا نے لیتے تھے۔ کہ “ میرے والدین نے نجانے کیوں میرا نام “حَسین “رکھا؟ اس کیوں سے ایک سوال اور نکلتا ہے کہ اسلام نے خاص طور سے والدین پر یہ ذمہ داری جو ڈالی ہے کہ وہ اولاد کو اچھا نام دیں ۔ اس میں یہ راز پوشیدہ ہے ۔ کہ نام انسان کا کردار بنانے میں بہت اہمیت رکھتے ہیں؟ اور ایسے لوگ اسی بنا پر اسم ِ باسمیٰ کہلاتے ہیں۔ اسی لیے حضور (ص) نے کچھ صحابہ کرام (رض)نام انکےایمان لانے کے بعد تبدیل فرمادیے تھے۔ جو مہمل تھے یا جن کے معنی اچھے نہ تھے؟ پہلے نام قر آن سے لیتے تھے، تو یہ سونے پہ سہاگے کاکام کرتے تھے ؟ اب جہاں سے چاہتے ہیں وہیں لے لیتے ہیں لہذا کرداروں میں بھی وہ صفات نہیں ہیں۔ شاید شخصیت میں بگاڑ کی ایک وجہ یہ نام بھی ہوں؟
چند یوم پہلے ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانَا الیہ رااجعو ن ہ، تو انہوں مجھے پیغام بھیجا کہ میں قرآن خوانی کے موقعہ پر کچھ عرض بھی کردوں؟ مجھے بڑی حیرت ہوئی وہ مجھ سے یہ چاہتے ہیں جوکہ اتنے کڑوے کسیلی کالم لکھتا ہے اور ویسی ہی تقریریں بھی کرتا ہے؟ میں ان سے سالو ں واقف تھا ، بعد میں وہ نجم صاحب کے ہاں مجھے سننے بھی کبھی کبھی آنے لگے ،جبکہ ان کی بیگم صاحبہ مستقل میرے پرگراموں جو ہر ہجری مہینے کی 13تاریخ کو ہوتا پے اس میں نہ صرف تشریف لایا کرتی تھیں بلکہ دوسری خواتین کو بھی وہاں آنے کی تلقین فرمایاکرتی تھیں۔ مگر میں حسین صاحب کی اس اد اکو بھی ان کی افتاد کی وجہ سے کھلنڈرا پن ہی سمجھتا تھا۔ لیکن اس پیغام کے آنے کے بعد میں نے جو ان کی شخصیت پر غور کیا تو مجھے اان میں وہ جوہرنظر جو ایک کھلنڈرے صفت انسان میںنہیں ہوسکتا تھا ؟ یہ اس نام کا ہی اثر تھا کہ کنیڈا میں رہتے ہوئے جہاں کا ماحول قطعی الٹ ہے کہ جہاں کبھی باپ کی بیٹوں سے ملاقات بھی نہیں ہوتی ہے ؟ اور اب یورپ کیا خود پاکستان کی بھی یہ حالت ہے کہ بہت سے سپوت اپنے والدین کوا یدھی صاحب کے پاس جمع کر ا آتے ہیں، پھر صورت دیکھنے کو بھی وہ ترستے ہیں؟ دوبارہ ان سے ملاقات اگر کبھی ہوئی تو مرنے کے بعد ہی ہوتی؟ بعض ان کی میت کو بھی اپنا گھر دوبارہ نہیں دکھاتے مگر کہلاتے مسلمان ہیں ۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ان کے سامنے“ اف “بھی نہ کہو اور ہادیِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ (ص) کا یہ ارشادَگرآمی ہے کہ “ وہ ہلاک ہوا جس نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو پایاا ور اس نے انکے ذریعہ اپنی مغفرت نہیں کرائی“والد سے مغفرت کرانا قرآن سے بھی ثابت کہ حضرت یعقوب (ّع) جب مصر پہونچ گئے تو حضرت یوسف نے تو بھائیوں کی زیادتی کو معا ف کردیا؟ مگر ان کے والد خاموش رہے کہ انکی حرکتوں کی وجہ سے آنکھیں تک جاتی رہیں تھیں،تب انہوں نے انہیں خاموش دیکھ کرا ن سے ا پنی مغفرت کی دعا کے لیے درخواست کی اور حضرت یعقوب (ّع) نے ان کے لیے ا س طرح دعا فرمائی کہ اس دعا پر جو وہ فرماتے جاتے حضرت یوسف (ّع) آمین کہتے جاتے ۔ یہاں معاملہ با لکل مختلف تھا کہ ان کے والد جناب محمد شریف صاحب کو ضعیفی نے ستایا توحسین صاحب نے چاہا کہ وہ انہیں کنیڈابہتر نگہداشت کے لیے لے آئیں؟ مگر انہوں نے اپنا وطن چھورنے سے ا نکار کردیا
ا نہوں نے اپنی ملازمت چھوڑی، بچوں کو خدا کے سہارے یہاں چھوڑا ؟ اور خود پاکستان چلے گئے زیادہ تر 2011ءسے وہیں رہے کبھی یہاں آتے تو ان کی بیگم صاحبہ وہاں رہتیں ۔ اور یہ سلسلہ ایک دو دن نہیں بلکہ سالوں تک چلتارہا ۔ آخر والد صاحب جب زندگی کی بازی 2اپریل2013 میں ہار گئے تو اب والدہ اکیلی رہ گئیں ؟ انہوں نے کہا کہ اماں آپ کیا میرے ساتھ چلیں گے ؟ انہوں نے جواب میں فرمایا بیٹا میرا کیا ہے۔ میں تو اپنے پیروں اب چل بھی نہیں سکتی تو جہاں ا ٹھا کر بٹھال دے گا میں بیٹھی رہونگی ؟ ان کو اس حالت میں کنیڈا کاویزا دلانا بڑا مشکل کام تھا کہ عمر پچیاسی سال تھی صاحب ِ فراش بھی تھیں چل پھر بھی نہیں سکتی تھیں۔ اسکے باجود وہ ہمت نہیں ہارے اگر کوئی مخلص اور مومن بھی ہو تو اللہ سبحانہ تعالیٰ ا سے کبھی مایوس نہیں کرتا ؟ انہیں کنیڈین حکومت نہ صرف ویزا دیدیا بلکہ وہ انہیں یہاں لے بھی آئے اور پورے وقت وہ اور ان کی بیوی خدمت میں لگے رہے ۔ یہاں آکر بھی وہ تقریبا ً دو سال حیات رہیں آخر زندگی نے ان کا بھی ساتھ چھوڑ دیا ۔سلام ہو ایسی بہو پر اور سلام ہو ایسے بیٹے پر جوکہ نام کا ہی حسین نہیں دل کا حِسین ہے؟ ان سب کی مغفرت میں کیا شک ہے ؟ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جو طریقہ بتایا ہے اپنی مغفرت کرانے کا وہ برحق ہے۔ ان کے والد بھی ایک متقی انسان تھے۔ اور والدہ بھی جبکہ ایسے بوڑھوں کے لیے وہ حدیث ہے جس کو ابن ِ کثیر (رح) سورہ نحل کی آیت نمبر70 میں جوکہ طویل عمری کے سلسلہ وہ ایک حدیث میں لائے ہیں کہ جس میں حضور (ص) نے یہ بشارت دی ہے کہ جب کوئی مومن اسی سال کی عمر سے بڑھ جائے تو فرشتے پوچھتے ہیں کہ اے پروردگار اب اس کو تونے( عبادت سے) روکدیا ہے ہم کیا کریں؟ تو وہ فرماتا ہے کہ “ یہ اب میرا قیدی ہے اس کے کھاتے میں وہی عبادت درج کرتے رہو جو یہ اس سے پہلے سے یہ کرتا آرہاتھا۔ دیکھا آپ نے؟ وہ تو ہر حال میں مائلِ بہ کرم ہے ہم میں سائل کمیاب ہیں۔ اللہ ہم سب کو ایسا ہی بننے کی توفیق عطا فرما ئے( آمین)