گذشتہ مضمون میں ہم یہا ں تک پہونچے تھے کہ کفار سردی اور طو فا ن سے گھبرا کر فرا ر ہو گئے اور حضو ر (ص) بمع لشکر ِ اسلا م مدینہ منورہ بخیر یت وا پس تشریف لے آئے ۔لیکن دو سری طرف پیش رفت یہ ہو ئی کہ حئی بن اخطب بمع اپنے سا تھیو ں کے بنو قریظہ کی بستی میں آگیا اور یہا ں آنے کے با رے میں اس کے ارا دے کیا تھے وہ انسا نو ں سے تو پو شیدہ رہ سکتے تھے مگر خا لق ِ کا ئنا ت سے نہیں لہذا جن مور خین نے یہ لکھا ہے کہ وہ محض اس وعدے کی بنا پر آ یا تھا،جو ااس نے بنی قریظہ کے سردار کعب بن اسعد سے کیا تھا ،تو یہ میرے خیا ل میں ایک سطحی تجزیہ ہو سکتا ہے۔ اسکی حضر ت عا ئشہ (رض) کی اس حد یث سے بھی تردید ہو تی ہے جس کو بہقی اور اما م احمد دونو ں نے متعدد حو ا لوں سے بیا ن کیا کہ حضر ت عا ئشہ (رض) نے فر ما یا کہ جب انہو ں نے واپسی کے بعد حضور (ص)کو فو را ً مسلح ہو تے دیکھا ۔تو انہو ں نے پو چھا کہا ں کا قصد ہے؟ تو حضو ر (ص) نے فر ما یا ” ابھی جبرا ئیل آئے تھے اور انہوں نے یہ اللہ تعا لیٰ کا پیغا م پہنچا یا کہ میں فو ر ً احزا ب کے تعقب میں بنی قریظہ کی طرف روا نہ ہو جاؤ ں “۔ اس کے علا وہ جو لو گ حئی بن ا خطب کی ا سلا م دشمنی سے وا قف ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ صرف ایفا ئے وعدہ ہی نہیں تھا ۔بلکہ منصو بہ کچھ اور تھا ۔اور وہ یہ تھا کہ اس کی پیدا کی ہو ئی نفرت سے فا ئدہ اٹھا یا جا ئے اورمسلما نو ں کو غا فل پاکر مدینے پر حملہ کرد یا جا ئے ،اس لیے ایک معا ہدے کی آڑ لیناایک اچھا بہا نا تھی ۔ قصہ یہ تھا کہ بنی قریظہ اس جنگ میں مدینے کے حلیف ہو نے کی بنا پر کفا ر کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ لہذا جب حئی بن اخطب نے یہ یقین دہا نی کرا ئی کہ اگر قریش وا پس چلے گئے تو ہم تمہاری مد د کر یں گے۔ تو وہ را ضی ہو گئے اور اس شدت سے شامل ہو ئے کہ اسلام دشمنی میں سب حدو د پھلا نگ گئے جیسا کہ آپ غزوہ خندق میں پہلے پڑھ چکے ہیں ۔بہر حال اللہ تعا لیٰ کی طر ف سے جبرائیل (ع) تشریف لا ئے ۔جو کہ بقو ل مورخین اس وقت زرق برق لبا س میں ملبو س اور ایک سفیدخچر پر سوار تھے جس کی زین وغیرہ بھی ریشمی تھی اور یہ و قت ظہر کا تھا
بعض مورخین کے مطا بق نما ز ظہر ہو چکی تھی اور بعض کے نز دیک ابھی نہیں ہو ئی تھی بلکہ ا علا ن ہی ظہر میں کیا گیا تھا۔ واللہ عا لم ۔ پہلے مور خین کے مطا بق حضو ر (ص) اور صحا بہ کرا م (رض) ابھی ابھی کا فی عرصہ کے بعد بہ تما نیت نما ز ظہر ادا کر کے فا رغ ہو ئے تھے، ورنہ غزوہ خندق کے دورا ن تو زیادہ تر صلوا ة ِ خو ف ادا کر تے تھے۔ کہ نمازکے فو راًبعد جبر ئیل تشریف لے آ ئے۔ حضرا ت آپ کویا د ہو گا ۔ جب جبرا ئیل نے مجا ہد ین اور رسولِ کر یم (ص)کو غیر مسلح دیکھا تو حیرت کا اظہا ر کیا کہ آپ لو گو ں نے تو ہتھیا ر کھو لد یئے مگر ابھی تک فرشتو ں نے نہیں کھو لے پھر اللہ تعا لیٰ کا یہ پیغا م پہو نچا یا کہ آپ فور اً بنی قریظہ کے لیے روا نہ ہو جائیں اور ان سے جنگ کر یں میں بھی وہیں جا رہا ہو ں تا کہ میں ان کے دل حو لا دو ں ۔اور فرشتے بھی اد ھر ہی بحکم ِتعا لی ٰ رو انہ کر کے آیا ہو ں۔ لہذا حضو ر (ص) نے بلا تا خیر منا دی کرا دی کہ جو لو گ ”سمعنا اور ا طعنا “ پر یقین رکھتے ہیں وہ فو را ً روانہ ہو جا ئیں اور صلواة عصر ہم وہیں جا کر ادا کر یں گے۔لہذا زیا دہ تر لو گو ں نے تعمیل کی لیکن کچھ لو گ کسی ضر ورت سے پیچھے بھی رہ گئے اور انہو ں نے انفرا دی طو ر پر علٰیحدہ بھی صلا ة عصر ادا کی۔ جس پرحضور (ص) نے ان سے کو ئی با ز پرس نہیں کی اور فر ما یا دو نو ں ہی درست تھے کہ کچھ نے ا طاعت ِ رسو ل (ص) کو تر جیح دی اور کچھ نے حکم ِبا ری تعا لیٰ کو۔ اس دوران چو نکہ عصر کا وقت نکل گیا تھا لہذا خندق کی طر ح یہا ں بھی عصر کی نما ز سو رج غروب ہو نے کہ بعد ادا کی گئی۔ جس سے لو گ قضا ءنما ز ادا کر نے کی سند لیتے ہیں ۔ حضور (ص) نے اپنی روانگی سے پہلے حضرت ابن ام ِ مکتو م (رض) ہی کو مد ینہ کا حا کم بنا یا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جھنڈا عطا فرمایا ۔جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ قریظہ کی بستی کے قریب پہو نچے تو انہو ں نے اہل ِ قلعہ کو بلند آوا ز سے حضو ر (ص) کی شان میں گستا خی کر تے سنا
لہذا وہ پلٹ آئے اور حضو ر (ص) سے عرض کیا کہ آپ آگے تشر یف نہ لے جا ئیں ۔ حضور (ص) نے فر ما یا کیو ں کیا اس لئے کے ان سے میرے با رے میں تم نے کو ئی نازیبا با ت سنی ہے ؟ تمہیں یا د نہیں ہے کہ قریش نے کیا کچھ کہا اورکیا،لیکن میں سا لو ں تک بردا شت کر تا رہا۔ تب علی کرم اللہ وجہہ نے فر ما یا کہ وہ آپ کو ہی نہیں بلکہ اسلا م کو بھی برا بھلا کہہ رہے ہیں ۔مگر آپ نے یہ مشو رہ نہیں ما نا اور اتما م حجت کے لیے آگے تشریف لے گئے ۔ اور صحا بہ کرا م کو وہیں کھڑے رہنے کا حکم دیاتاکہ اہل ِ قبیلہ سے گفتگو فر ما سکیں ۔ لیکن وہ آپ کی صلح پسند انہ گفتگو کے بعد بھی بالکل متا ثر نہیں ہو ئے اور جوا ب دیا کہ ”اے ابو القا سم (ص) ! آپ اِدھر اُدھر کی فضو ل باتیں نہ کر یں ، ہم آپ (ص) کے آگے جھکنے وا لے نہیں“ لہذا آپ (ص) نے کو ئی اور چا رہ نہ پا کر اس بستی کے محا صرے کاحکم دیدیا۔ پھرایک طر ف اشا رہ فر ما کر صحا بہ کرا م کو فتح کی نو ید دی ۔ فر مایا کہ ” اس طرف دیکھ رہے ہو، یہ جبر ئیل ہیں جو تم سے پہلے یہا ں پہنچ گئے ہیں تا کہ ان کے دلو ں پر رعب ڈا ل سکیں“۔ ایک اور روا یت میں یہ بھی بیا ن کیا گیا ہے کہ جب آپ بنی غنم کی بستی میں پہونچے جو کہ آپ(ص) کی آمد کی خبر ہر اول دستہ سے سن چکے تھے اور منتظر تھے تو ان سے پو چھا کہ تم نے کسی کو اس راستہ پر لشکر سے پہلے جا تے ہو ئے دیکھا ؟تو انہو ں نے جوا ب دیا کہ ہا ں انہو ں نے سفید خچر پر سوا ر وحید کلبی کو بہت تیزی سے جا تے ہو ئے دیکھا تھا ۔ تو حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ وہ جبر ئیل (ع) تھے ( وا ضح رہے کہ جب حضرت جبرا ئیل (ع) انسا نی شکل میں تشر یف لا تے تھے تو ہمیشہ حضور (ص) کے صحا بی حضرت وحید کلبی (رض) کی شکل میں ہو تے تھے اور اس بات سے تما م صحا بہ کرام وا قف بھی تھے ) اس کے بعد حضور (ص) نے بنی غنم سے فر ما یا کہ آپ لو گ میر ے ساتھ بنی قریظہ تک چلیں اور وہ بخو شی سا تھ ہو لئے ۔ لیکن ان کا جنگ میں شا مل ہو نے کا ذکر کسی مور خ نے نہیں کیا۔ اس سے یہ معلو م ہو تا ہے کہ وہ اسوقت تک شا ید اسلا م نہیں لا ئے تھے ۔البتہ اور قبا ئل کی طر ح ممکن ہے حلیف ہو ں اور جنگ میں شامل کر نے کی حضو ر (ص) نے ضرو رت ہی نہ سمجھی ہو۔ وا للہ عا لم ۔ دورا ن سفر ہی ا بن ِ ا سحا ق (رح) نے یہ بھی بیا ن کیا کہ حضور (ص) کی سواری کی ایک رکا ب ٹو ٹ گئی لہذا حضرت جبر ئیل (ع) نے اپنے خچر پر سوا ر کر لیا اور جس وقت خچر کے پا ؤ ں سے زمین سے غبار اڑاتے حضرت انس (رض) بن ما لک نے دیکھا وہ وہی وقت تھا ۔ اس کے بعد حضو ر (ص) کو حضرت جبر ئیل (ع) نے مو ضع جنا ئز کی مسجد کے دروا زے پر اتا ر دیا۔ جہا ں با قی صحابہ کرا م بھی آملے ۔ جب قریظہ وا لو ں کو یہ یقین ہو گیا کہ اب یہ لو گ بغیر لڑ ے نہیں جائیں گے تو کعب بن اسد نے سب کو جمع کر کے خطا ب کیا اور کہا کہ میں تمہا رے سا منے تین تجا ویز پیش کر تا ہو ں
پہلی تو یہ ہے کہ ہم اس (ص) شخص کی اطا عت کر لیں۔ اور اس کی تصدیق کر دیں کہ یہ نبی (ص) ہیں کیو نکہ یہ وہی نبی (ص) ہیں جن کا ذکر تورا ت میں ہے۔ یہ با ت پایہ ثبو ت کو بھی پہنچ چکی ہے لہذا ان سے لڑنا ہلا کت کا موجب ہو گا۔ ایمان لا نے سے تمہا را تما م ما ل متا ع اور جا نیں سب محفو ظ ہو جا ئیں گی۔ تو انہو ں نے جوا ب دیا کہ ہم تو را ت کو کسی صو رت میں نہیں چھو ڑ سکتے ۔پھر اس نے کہا دوسری صو رت یہ ہے کہ پہلے ہم اپنی عو ر تو ں اور بچو ں کو قتل کر دیں اگر جیت گئے تو عورتیں اور بچے پھر مل جائیں گے۔ پھر اپنے بہا درو ں کو لیکر محمد (ص)کے مقا بلے پر نکلیں تاکہ فیصلہ کن ما ر کہ کر یں ۔ تاآنکہ اللہ تعا لیٰ ہما رے در میا ن فیصلہ صادرفر ما دے ۔ اس پر اہل ِ قبیلہ نے کہا کہ ہم ان مفلو ک الحا ل لو گو ں کے لیے اپنے بچو ں کوکیو ں قتل کر یں ۔ہم انکا مقا بلہ کر یں گے اورانہیں رب ِ مو سٰی کی قسم شکست دیں گے ۔ تب اس نے کہا کہ یہ بھی اگر نا منظو ر ہے تو تیسری اور آخری صو رت یہ ہے کہ ہم انہیں فر یب د یں چونکہ کل یوم ِسبت ہے ان سے امان کی در خوا ست کر یں انہیں شبہ بھی نہیں ہو گا کہ انہیں معلو م ہے کہ ہم اس دن کو ئی کام نہیں کرتے ۔لہذا ایک دم ان پر جا پڑ یں شا ید اس طر ح ہم ان پر قا بو پا نے میں کامیا ب ہو جا ئیں۔ اس کے جوا ب نے انہو ں نے کہا کہ سنیچر کی حر مت کو زا ئل کر کے ہم اپنے پیرو ں پر خو د کلہا ڑی کیو ں ما ریں ؟ پہلے جن لو گو ں نے یہ کیا تم جا نتے ہو کہ اللہ تعا لیٰ نے انکے چہرے مسخ کر دیئے تھے۔ کعب بن اسد نے کہا کہ تم وہ لو گ ہو جو کبھی وقت سے پہلے کو ئی فیصلے نہیں کر پا تے ہو نہ ہی سو چ سکتے ہو۔( باقی آئندہ