17.10.2026, 03:06am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » سیدہ زائرہ عابدی۰بجو
 

سعودی عرب کے ممتاز عالمِ دین اور شیعہ رہنمائے ملّت شیخ انّمر کی شہادت۔از؛ سیدہ زائرہ عابدی 
03.01.2016, 09:04am , اتوار (GMT+1)

سعودی عرب کے ممتاز عالمِ دین اور شیعہ رہنمائے ملّت   شیخ انّمر کی شہادت نے  اس وقت صرف شیعت  امّہ کے دل زخمی نہیں کئے ہیں بلکہ  تمام حسّاس دلوں کو رنج والم میں گرفتار کیا ہے  ،،یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے سعودی عرب کی طرف سے شہید آیت اللہ شیخ نمر کی شہادت اور 46 دوسرے افراد کی اجتماعی پھانسی کو ناقابل قبول اقدام قراردیتے ہوئے کہاہےکہ سعودی عرب نےعلاقہ میں آگ کو مزید شعلہ ور کردیا ہے۔

یورپی یونین کی سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے سعودی عرب کی طرف سے شہید آیت اللہ شیخ نمر کی شہادت اور 46 دوسرے افراد کی اجتماعی پھانسی کو ناقابل قبول اقدام قراردیتے ہوئے کہاہےکہ سعودی عرب نےعلاقہ میں آگ کو مزید شعلہ ور کردیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے سعودی عرب میں اجتماعی پھانسیوں اور آیت اللہ شیخ نمر کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو سعودی عرب کے اقدامات پر شدید تحفظ لاحق ہوگئے ہیں اور سعودی عرب  کے غیر انسانی اقدامات یورپی یونین کے لئے ناقابل قبول ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے آج صبح اعلان کیا تھا کہ ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ  شیخ باقر نمر سمیت 47 افراد کو پھانسی دیدی  گئی ہے۔ سعودی عرب کی اعلٰی عدالت اور بادشاہ کی تائید کے بعد شیخ نمر کو پھانسی دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے اپنے ہولناک جرائم کو چھپانے کے لئے شیخ نمر کو ایسے افراد کے ہمراہ پھانسی دی جو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے جبکہ شیخ نمر کا مطالبہ صرف جمہوریت اور شیعوں کے حقوق کو بحال کرنے پر مبنی تھا۔ اپنی والدہء گرامی کے نام   خط میں شہید شیخ باقر نمرنے لکھا  تھا کہ حمد و ثناء صرف خداوند عالم کو زیبا ہے کہ جو انسان کو حکم کرتا ہے اور انسان اس کے امر کے سائے میں بلندی حاصل کرتے ہیں۔ کوئی بھی کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہلانے پر قادر نہیں ہے، مگر یہ کہ اللہ کی مشیت اس کے پیچھے کارفرما ہو۔

  آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کی شہادت کے کچھ دیر بعد ان کی ویب سائٹ نے ان کے تحریر کردہ خط کو شائع کر دیا ہے، جو شہید نے شہادت سے پہلے اپنی ماں کو لکھا تھا۔ اس ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ شیخ نمر سزائے موت کے حکم کی خبر سننے کے بعد نہ صرف پریشان نہیں ہوئے بلکہ یہ جملہ کہہ کر کہ ’’خداوند عالم تمہیں خیر کی بشارت دے‘‘ خوش ہوئے۔
قبل از شہادت آئت اللہ  شیخ نمر کا اپنی ماں کو لکھا گیا خط:
میری صبور ماں ’’ام جعفر‘‘ کے نام
مادر گرامی! 
ہمیشہ خدا کا شکریہ ادا کرنا اور جو تقدیر کا فیصلہ ہو، اسے قبول کرنا، اس لئے کہ تقدیر الٰہی انسان کے فیصلہ سے بہت بہتر ہے جو کچھ وہ ہمارے لئے منتخب کرتا ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ عاقلانہ ہے جو ہم خود اپنے لئے انتخاب کرتے ہیں، ٹھیک ہے کہ ہمیں دعا کرنا چاہیئے اور اپنی حاجتوں کو اللہ سے طلب کرنا چاہیئے لیکن ہمارے لئے کیا بہتر ہے وہ ہم سے بہتر جانتا ہے۔ حمد و ثناء صرف خداوند عالم کو زیبا ہے کہ جو انسان کو حکم کرتا ہے اور انسان اس کے امر کے سائے میں بلندی حاصل کرتے ہیں۔ کوئی بھی کسی چیز کو اس کی جگہ سے ہلانے پر قادر نہیں ہے، مگر یہ کہ اللہ کی مشیت اس کے پیچھے کار فرما ہو۔ مادر عزیز! جان لیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے، جان لیں کہ وہ انسان کے ذرہ ذرہ کاموں سے بھی آگاہ ہے اور انسان کے ارادے اس کی گرفت سے باہر نہیں ہیں، ہمارے لئے کافی ہے کہ ہم جان لیں کہ اگر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہ مشیت الٰہی کی بنیاد پر رونما ہوتا ہے نہ کسی اور چیز کی وجہ سے۔ آخر میں آپ اور تمام دیگر چاہنے والوں کو خدا کے حوالے کرتا ہوں کہ خداوند عالم بہترین محافظ ہے۔
آپ کابیٹا شیخ نمر باقر النمر

واضح رہے کہ سعودی وزارت داخلہ نے آج صبح بروز ہفتہ مورخہ 2 جنوری 2016ء کو سعودی عرب کے بزرگ شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو 47 افراد کے ہمراہ شہید کئے جانے کا اعلان کر دیا۔شیخ باقر انِمر  آپ کو   پروردگارِعالم نے یہاں کے لئے نہیں فردوسِ بریں کے لئے منتخب کیا تھا  ،آپ کو بہشتِ بریں کا یہ سفر مبارک ہو اور عالمِ بالا سے آپ کی روحِ مقدّس دیکھ رہی ہو گی کہ  عالم    اسلام میں آپ کی مرگِ مبارک، طاغوت کی مرگِ    ناگہاں کی صورت  میں بڑھی چلی آ رہی ہے جس طرشیعہ دشمن   ملعون صدّام کو  زمین  کے غلیظ گڑھے نے بھی  پناہ نہیں دی ،اور وہ زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے درندے کی  موت مارا گیا  جس طرح   شیعہ دشمن   قذّافی جس نے  ہمارے  جیّد علمائے دین کو ملاقات کے بہانے بلا کر دھوکے سے  غائب کروا دیا  پھر  وہ خود  بھی جہنّم کے  گڑھے میں  عبرت ناک موت    مارڈالا گیا   ،، ہمارے محترم آئت اللہ آپ کا خونِ ناحق  اب      ان نجدی    سعودیوں کی ہلاکت  بن کر  ان کے چہروں پر مل چکا ہے  ،،اور تمام شیعت  مسلم  دنیا اضطراب میں ہے۔

آیت اللہ باقرالنمر کی مظلومانہ شہادت نے واقعہ کربلا کی یاد تازہ کردی، آغا علی رضوی
شیخ باقر نمر کی مظلومانہ شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلان
آیت اللہ شیخ باقر نمر کی سزائے موت کے خلاف آئی ایس او کراچی کی احتجاجی ریلی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے سعودی عرب کی طرف سے شہید آیت اللہ شیخ نمر کی شہادت اور 46 دوسرے افراد کی اجتماعی پھانسی کو ناقابل قبول اقدام قراردیتے ہوئے کہاہےکہ سعودی عرب نےعلاقہ میں آگ کو مزید شعلہ ور کردیا ہے۔
یورپی یونین کی سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے سعودی عرب کی طرف سے شہید آیت اللہ شیخ نمر کی شہادت اور 46 دوسرے افراد کی اجتماعی پھانسی کو ناقابل قبول اقدام قراردیتے ہوئے کہاہےکہ سعودی عرب نےعلاقہ میں آگ کو مزید شعلہ فگار کردیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے سعودی عرب میں اجتماعی پھانسیوں اور آیت اللہ شیخ نمر کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو سعودی عرب کے اقدامات پر شدید تحفظ لاحق ہوگئے ہیں اور سعودی عرب  کے غیر انسانی اقدامات یورپی یونین کے لئے ناقابل قبول ہیں۔

۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے آج صبح اعلان کیا تھا کہ ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ  شیخ باقر نمر سمیت 47 افراد کو پھانسی دیدی  گئی ہے۔ سعودی عرب کی اعلی عدالت اور بادشاہ کی تائید کے بعد شیخ نمر کو پھانسی دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے اپنے ہولناک جرائم کو چھپانے کے لئے شیخ نمر کو ایسے افراد کے ہمراہ پھانسی دی جو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے جبکہ شیخ نمر کا مطالبہ صرف جمہوریت اور شیعوں کے حقوق کو بحال کرنے پر مبنی تھا۔
شیخ باقر نمر جوانی سے شہادت تک  آیت اللہ باقرالنمر کی مظلومانہ شہادت نے واقعہ کربلا کی یاد تازہ کردی، آغا علی رضوی ،،آئی ایس او کا اسلام آباد میں احتجاج  سعودی حکمرانوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے مسلمانان عالم کے قلوب کو زخمی کیا ہے،

دنیا بھر کے بیدار عوام مجاہد شہید شیخ باقر النمر کے عدالتی قتل کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، شیخ النمر کی شہادت، شیعہ تنظیموں کا 3 روزہ سوگ کا اعلان سعودی حکومت شیخ باقر النمر کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنانے پر اپنی نابودی کیلئے تیار رہے،شیخ باقر النمر کی شہادت کیخلاف آئی ایس او کا لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی  شیخ نمر کا ناحق خون آل سعود کی نابودی کا سبب بنے گا، علی مہدی  آئی ایس او کا شیخ باقر النمر کی شہادت پر اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ شیخ باقر نمر کی مظلومانہ شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلان
اسلام ٹائمز: 
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ ایس یو سی جمعۃ المبارک کو بھرپور ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کرتی ہے اور آیت اللہ شیخ نمرباقر النمر کو دی جانیوالی سزائے موت کو افسوسناک قرار دیتے ہیں۔
 
  سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل علامہ عارف حسین واحدی نے کہا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ممتاز مذہبی سکالر اور سعودی عرب کے نامور عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی دے دی گئی جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ 2011 ء میں ملک کے مشرقی صوبے میں حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت میں آواز بلند کرنے پر سعودی عرب کی حکومت ان سے نالاں تھی۔ دو سال قبل بھی جب ان پر گولی چلائی گئی اور انہیں گرفتار کیا گیا تو سعودی عرب میں کئی دنوں تک کشیدگی رہی۔

 اس وقت اسلامیان عالم سمیت اسلامیان پاکستان میں عالم اسلام کی برجستہ شخصیت آیت اللہ نمر باقر النمر کو دی جانیوالی سزائے موت پر گہری تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی کیونکہ شیخ باقر باصلاحیت، صاحب علم و دانش اور ممتاز عالم دین تھے ان کی خدمات قابل قدر ہیں جنہوں نے ہمیشہ اتحاد امت کیلئے خدمات انجام دیں۔ کسی بھی معاملے پر مختلف نکتہ نگاہ یا اختلاف رائے جمہوری حق ہے یہ معاملہ ایسا نہیں تھا کہ جو ناقابل برادشت ہو اس لئے مفاہمت کی پالیسی اپناتے ہوئے سعودی حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتی اور سزائے موت کو معطل کیا جاتا تو قرین انصاف تھا کیونکہ اس اقدام سے امہ میں اضطراب و بے چینی پھیل گئی ہے۔

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر شیعہ علماء کونسل پاکستان اس دردناک، ظالمانہ اقدام اور مظلومانہ شہادت پر ’’تین روزہ سوگ اور احتجاج‘‘ کا اعلان کرتی ہے اور آنے والے جمعۃ المبارک کو بھرپور ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کرتی ہے اور آیت اللہ شیخ نمرباقر النمر کو دی جانیوالی سزائے موت کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسلامی سربراہی کانفرنس (او ائی سی) سمیت اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اورانسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس حساس اور سنگین معاملے پرصدائے احتجاج بلند کریں کیونکہ اپنے حقوق کی خاطر جمہوری انداز میں احتجاج کرنا کسی بھی شہری کا حق ہے اس معاملے پراس کی زندگی کے خاتمے کا فرمان جاری کرتے ہوئے تختہ دار پر لٹکادینا اور سر قلم کر دینا  بہیمیت کی انتہا   اور  نتہائی افسوسناک اور قابل مذمت فعل  ہے

آیت اللہ شیخ النمر کا تعارف

شیخ نمر باقر آلنمر 1379 ہجری بمطابق 1968 عیسوی صوبہ قطیف کے شہر ‏العوامیہ میں ایک علمی اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے چچا آیت اللہ شیخ محمد بن ناصر آل نمر رحمۃ اللہ علیہ اسی خاندان کے چشم و چراغ تھے اور اس خاندان میں کئی نمایاں علماء و ذاکرین ہوگذرے ہیں جن میں ان کے دادا الحاج علی بن ناصر آل نمر قابل ذکر ہیں۔
 
سوانح حیات آیت اللہ شیخ النمر
 
انھوں نے ابتدائی تعلیم العوامیہ میں مکمل کرنے کے بعد سنہ 1400 ہجری (1989) کو انقلاب اسلامی کو بہتر سمجھنے اور اعلی دینی تعلیم کے حصول کی غرض سے اسلامی جمہوریہ ایران ہجرت کی اور تہران کے حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) میں حاضر ہوئے جو اسی سال آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نے تاسیس کیا تھا۔شیخ نمر نے حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) میں 10 سال تک تعلیم جاری رکھی اور اس کے بعد شام میں حوزہ علمیہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا پہنچے اور وہاں تعلیم جاری رکھی۔

انھوں نے اصول الفقہ میں اصول المظفر، رسائل شیخ انصاری اور آخوند خراسانی کی کتاب کفایۃالاصول کے ساتھ ساتھ علم فقہ میں شہید اول کی کتاب اللمعۃ الدمشقیہ، خوانساری کی کتاب جامع المدارک، شیخ انصاری کی کتاب المکاسب اور سید حکیم کی کتاب مستمسک عروۃ الوثقی مکمل کرلی۔

انھوں نے اس عرصے میں کئی نامور ایرانی، عراقی، شامی اور افغانی علماء سے فیض حاصل کیا اور مشہد میں بھی کافی عرصے تک آیت اللہ شیرازی کے درس میں حاضر ہوئے جبکہ قم میں بھی درس اخلاق کے مراتب طے کئے جس کے بعد انہیں علمی مراکز میں تدریس کی اجازت مل گئی۔آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر اس وقت حوزات علمیہ کے نمایاں ترین اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں اور ایران اور شام میں بھی لمعہ، جامع المدارک، مستمسک العروۃ الوثقی اور شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر کی کتاب الحلقات کی تدریس کرتے رہے ہیں اور کئی سالوں تک تہران اور دمشق میں حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) کے منتظم رہے ہیں اور ان مراکز کی ترقی میں شاندار کردار ادا کرتے رہے ہیں۔وہ سعودی عرب جاکر العوامیہ میں مذہبی مرکز "الامام القائم(عج)" کی بنیاد رکھی اور اس مرکز کا سنگ بنیاد 2001 میں رکھا گیا۔

اخلاقی حوالے سے نہایت اعلی خصلتوں کے مالک تھے اور دینی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے کسی قسم کی سودے بازی کے قائل نہیں تھے  اور یہ خصلتیں آل سعود کی فاسد اور ظالم ملوکیت کے خلاف ان کی جہادی تحریک میں نمایاں رہی ہیں۔

آیت اللہ نمر سعودی عرب کے اندر اور خطے کی سطح پر گرد و پیش کے حالات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں جس کے باعث ان کا نظریہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے حوالے سے مدلل تجزیئے پر مبنی ہے اور وہ خود کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ قرآن اور اہل بیت(ع) کے ساتھ مسلسل تعلق کا نتیجہ ہے۔

شیخ باقر نمر آل نمر اس سے پہلے بھی 2006 اور 2008 میں آل سعود کے اذیت کدوں میں پابند سلاسل رہے ہیں۔ ایک بار بحرین میں قرآن کریم بین الاقوامی سیمینار میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر گرفتار کئے گئے تھے اور الزام یہ تھا کہ انھوں نے اس سے قبل آل سعود سے جنت البقیع کی تعمیر اور مذہب اہل بیت(ع) کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کی درخواست کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ سعودی طرز تعلیم کو تبدیل کیا جائے یا پھر اس کو سرے سے منسوخ کرکے نیا نظام تعلیم متعارف کرایا جائے۔

اس کے بعد 23 اگست 2008 کو القطیف شہر میں گرفتار کئے گئے اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے منطقۃالشرقیہ کے شیعہ اکثریتی شہروں کے عوام کو ہدایت کی تھی ہ وہ اپنے اور اپنے معاشروں کے دفاع کی تیاری کریں! اور یہ کہ وہ الشرقیہ کے عوام کو حکومت کے خلاف بغاوت کرنے اور اپنے علاقے آل سعود کی عملداری سے جدا کرنے کی دعوت دے رہے ہیں!
بہر حال سعودی حکام جانتے تھے کہ الزامات جھوٹے ہیں چنانچہ انہيں 24 گھنٹے قید کرکے رہا کیا گیا اور ایک بار 2009 میں بھی مختصر مدت تک قید کئے گئے۔

آل سعود کے بارے میں آیت اللہ نمر کے خیالات:
 نجد و حجاز اور مشرق و جنوب پر ایک صدی سے مسلط آل سعود نامی خاندان کی ملوکیت پورے میں ملک میں منظم فرقہ وارانہ امتیازات پر استوار ہے اور خاص طور پر الشرقیہ کے دو علاقوں الاحساء اور القطیف کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔
٭ میں کلمۂ حق کے اظہار سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا خواہ سعودی خاندان مجھے گرفتار کرے، خواہ مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور اذیت و آزار دے اور حتی مجھے شہید کردے۔

 ہم آل سعود کی طرف سے عوام اور بالخصوص شیعان آل رسول(ص) کی عزت و حیثیت پر تجاوز اور انہیں تمام شہری حقوق سے محروم کرکے انہیں دوسرے درجے کے شہریوں کا درجہ دیئے جانے کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ہم اس ملک میں رہنے والے شیعان آل محمد(ص) کا بہرصورت، تحفظ کریں گے۔
٭ میں آل سعود کے خلاف جدوجہد کے اگلے مورچے میں خود ہی بیٹھا ہوا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ جدوجہد کے بغیر کسی مقصد تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ اور مقاصد کے حصول کے لئے ایثار اور شجاعت وجہاد کی ضرورت ہے؛ اور ہم پرامن جدوجہد پر اصرار کرتے ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں مسلح تحریک کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا کرتی، اور ملک میں عدل و انصاف قائم نہیں ہوا کرتا اور ملک کے باشندے حریت کے ساتھ نہيں جی سکتے؛ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خطبہ جہاد میں بھی زور دیا گیا ہے کہ عدل جہاد کے سوا قائم نہیں کیا جاسکتا اور حق ایثار، جہاد اور شجاعت کے بغیر نہیں لیا جاسکتا۔

٭ شیعان آل رسول(صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم) آل سعود کے ظلم و تجاوز کے سامنے خاموش نہيں رہیں گے؛ اے آل سعود! ہم خاموش نہیں رہیں گے، تم جو ظلم بھی چاہو ہم پر روا رکھو، جو بھی چاہتے ہو کرو اور ہماری شخصیت اور ہماری حیثیت کو پامال کرو۔
٭ سعودی عرب کے تمام ذرائع ابلاغ اور اخبارات و جرائد آل سعود سے وابستہ ہونے کی وجہ سے حکمران خاندان کی تشہیری مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور ان کا رویہ آزاد صحافت سے کوسوں دور ہے۔

٭ سعودی مفتی آل سعود کے بنے بنائے افراد ہیں؛ سعودی حکام انہیں پیسہ دیتے ہیں اور تاکہ وہ فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر شیعہ اور سنی مسلمانوں کو آپس میں الجھائے رکھیں اور یوں سعودی شہزادے پورے چین و سکون کے ساتھ ملکی وسائل لوٹتے رہیں۔

٭ اے آل سعود! میں جاتنا ہوں کہ آج نہیں تو کل مجھے گرفتار کرنے کے لئے آؤگے؛ میں تمہیں خوشامدید کہتا ہوں کیونکہ تمہاری منطق ہی یہی ہے: "گرفتاری، ٹارچر اور قتل و غارت"۔ لیکن ہم قتل و غارت سے نہيں ڈرتے، ہم کسی بھی مصیبت سے نہيں ڈرتے۔
٭ اگر آل سعود کے حکام  پرامن مظاہروں کی مخالفت کرتے ہيں اور دھرنوں پر پابندی لگاتے ہیں تو ہم اپنا احتجاج جاری رکھنے کے لئے نئے نئے راستے اختیار کریں گے اور اپنے جائز حقوق لے کر رہیں گے۔ اور مظاہرے اور دھرنے ہمارے احتجاجی طریق کار کا ایک ہی جزو ہے۔

آیت  اللہ شیخ نمر آل نمر سعودی حکام کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں بھی استبدادی اور آمر حکمرانوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور خاص طور پر بحرین پر مسلط آل خلیفہ کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی درباری عدالت نے شیخ نمر کے لیے سزائے موت کا حکم سنا دیا جس کے بعد سے تمام مراجع عظام اور دینی و مذہبی شخصیات نے سعودی عرب کے اس اقدام کی شدید مذمت کی جبکہ کئی ممالک میں شیخ نمر کی حمایت اور آل سعود کے خلاف مظاہرے ہو تے رہے ہیں۔
 یہ سانحہ عالم اسلام کے لئے رنج و غم کا باعث ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ظالمانہ اقدام ایک مکتبہ فکر کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے کیونکہ جمہوری انداز میں احتجاج کرنے سے نہیں بلکہ ایک طبقہ کو دیوار سے لگانے سے نفاق پیدا ہونے کے خدشات بڑھتے ہیں ایسے غیر دانشمندانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کی بجائے مفاہمتی پالیسی اپنا کر معاملات کو حل کیا جانا زیادہ موزوں و مناسب ہوتا۔ پریس کانفرنس میں  عارف حسین واحدی مرکزی سیکریٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان، علامہ سید محمد سبطین سبزواری صدر شیعہ علماء کونسل پنجاب، علامہ سید مشتاق حسین ہمدانی صوبائی جنرل سیکریٹری شیعہ علماء کونسل پنجاب، علامہ قاسم جعفری ڈویژنل صدر شیعہ علماء کونسل راولپنڈی، علامہ نصیر حسین موسوی صدر شیعہ علماء کونسل راولپنڈی شریک تھے۔
(اس مضمون کی تحریر میں  انٹر نیٹ   اور اسلام ٹائمز سے مدد لی گئ ہے )

:دیگر مضامین
(08.12.2015) خاتون پائلٹ فلائٹ آفیسر مریم مختیار کی شہادت۔ از۔ زائرہ عابدی
(13.07.2015)  کراچی پر موت کے سائے ۔۔۔ از:‌ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا
(24.06.2015) روہینگا کے مظلوم مسلمان ۔ از ، سیدہ زائرہ عابدی
(09.03.2015) حضرت عیسٰی علیہ السّلام کا دستر خوان۔از:‌سیدہ زائرہ عابدی۔کینیڈا
(24.02.2015) انسان کے مزاج میں بڑی ہی سر کشی ہے۔ از:‌ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا
(11.02.2015) کراچی کے آسماں پہ بدستور ظلم کا خونی عقاب ۔از:‌سیدہ زائرہ عابدی
(03.02.2015) بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کےاسباب کیا ہیں ۔از:‌سیدہ زائرہ عابدی ۔کینیڈا‎
(30.12.2014) خبردا ر ہو جاؤ پاکستانیو ... ۔۔۔ از:‌ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا 
(12.12.2014)  سرزمینِ ہند کے نیّرِ تاباں حضرت خواجہ معین الدّین حسن چشتی
(03.12.2014)  مسلمانوں پر کس طرح شب خون ماریں ۔از:‌سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا
(25.11.2014) وطنِ عزیزپاکستا ن میں اسرائیلی سازشیں ۔۔ از:‌سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا 
(20.11.2014) گدھوں کا گوشت شہر میں سپلائی ۔۔۔ از:‌ سیدہ زائرہ عابدی ۔کینیڈا
(13.11.2014) حضرت لقمان رحمۃ اللہ علیہ ۔۔ از:‌سیدہ زائرہ عابدی۔ کینیڈا
(28.10.2014)  پاکستان اور ایران دوستی کے دوراہے پر ۔۔از:‌ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا 
(16.10.2014) خدا کے لیئے مائیں اپنی آنکھیں کھلی رکھّیں ۔۔از؛ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا 
(13.10.2014) کہاں ہیں چارہ گر میرے ۔۔از؛ سیدہ زائرہ عابدی ۔ کینیڈا
(04.07.2014)  میرا شہر نا پرسا ں کراچی ۔۔ از: سیدہ زائرہ عابدی ۔ ٹورنٹو
(03.06.2014) انسانی اسمگلنگ ،موت کے سائے تلے ۔۔ سیدہ زائرہ ، ٹورنٹو ، کینیڈا
(20.05.2014)  مصر کے بازار سے پاکستان کے بازار تک ۔از: سیدہ زائرہ عابدی ۔ ٹورنٹو
(06.05.2014) اپنے ننھے پھولوں کی حفاظت کیجئے.. حصہ دوئم ..از: سید زائرہ عابدی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں