ماہ ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی اہل ایمان خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیﷺ کی نعت خوانی اور میلاد کی محافل سجانا شروع کر دیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں پوٹھوہار آرٹس کونسل نے اسی سلسلے میں اسلام آباد کے معروف تعلیمی ادارے دی ہاؤس آف نالج، میلوڈی میں ایک روح پرور اور یادگار نعتیہ مشاعرہ کا اہتمام کیا۔مشاعرہ کی صدارت ممتاز سینئر شاعراور شفیق شخصیت حلیم قریشی نے کی۔ لاہور سے تشریف لائے ہوئے استاد شاعر قاری صادق جمیل مہمان خصوصی تھے۔ امریکہ سے تشریف لائے ہوئے معروف نعت خواں اور نعت گو شاعر نور محمد جرال اور لاہور سے تشریف لائے ہوئے صاحب طرز شاعر واجد امیر مہمان اعزاز تھے۔ پوٹھوہار آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر جنرل پیر عتیق احمد چشتی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔دی ہاؤس آف نالج کے ڈائریکٹر ایم ارشد اقبال اور دیگر سٹاف نے انتظامی امورمیں بہت خلوص اور عقیدت کا مظاہرہ کیا۔جڑواں شہروں اور گرد و نواح کے شعراء کی ایک بڑی تعداد اس روحانی محفل میں شریک ہوئی۔تمام شرکاء نے خوبصورت گلہائے عقیدت پیش کئے۔ منتخب اشعار قارئین کے ذوق کی نذر ہیں۔
میزبان مشاعرہ پیر عتیق احمد چشتی
دربار رسالت میں زباں چپ ہے ادب سے، آیا ہوں میں جب سے
کیا عرض کروں، آپ ہیں جب واقف حالات، اے سید سادات
رضاء اللہ سعدی۔ گوجرخان
یہ سند ہے مرے سرکار کی لجپالی کی
کاغذی پھول ہوں، گلزار سے وابستہ ہوں
سائل نظامی۔گوجرخان
پیاس جتنی ہو، مرے ہونٹ نہیں سوکھتے ہیں
مدحت شاہ کی ہونٹوں پہ تری ہوتی ہے
اسیر ترابی۔گوجرخان
بار پائے جو حضور شہ کوثر کاغذ
تابش نعت سے ہو جائے منور کاغذ
وقار محمود۔لاہور
جل گیا ہوں میں کڑی دھوپ میں چلتے چلتے
مجھ پہ رحمت کی ہو برسات مدینے والے
احمد محمود الزماں۔اسلام آباد
تذکیر پیمبر سے دل زار میں اپنے
تنویر فشاں نور خدا دیکھ رہا ہوں
علی قسور خلیق۔اسلام آباد
شدید ہوتی ہے خواہش یہ اس مہینے میں
کہ ہم بھی سانس لیں جا کر کبھی مدینے میں
صغیر انور۔اسلام آباد
دل میں جلا رہا ہوں درودوں کی مشعلیں
خواہش ہے، اس مکان میں کچھ روشنی رہے
پروفیسر راشدہ ماہین ملک۔اسلام آباد
کیسے تحریر میں لاؤں میں محمد کا جمال
اس قدر لفظ کی اوقات کہاں ہوتی ہے
سجاد بلوچ۔ٹیکسلا
کرم ہو مجھ پہ بھی حسان کے سخی آقا
میں ایک بار پڑھوں تیرے روبرو تری نعت
سید شمشیر حیدر۔واہ کینٹ
تیری آواز پہ کچھ ایسے کہا ہے لبیک
اب سنائی نہیں دیتی کوئی آواز مجھے
علی احمد قمر۔اسلام آباد
خاک چھانوں میں ان کی گلیوں کی
بوسۂ خاک نقش پا کے لئے
حافظ نور احمد قادری۔اسلام آباد
لے کے سامان ، نبی ساتھ ضعیفہ کے چلے
یوں سکھایا ہمیں اغیار کو اپنا کرنا
سلطان محمود۔لاہور
آئے ہیں جب سے شہر نبی کی پوَن کے پاؤں
ٹکتے نہیں زمین پہ میرے چمن کے پاؤں
شیدا چشتی۔اسلام آباد
ضوبار ہوں جہاں میں محبت کے قمقمے
نور مقطعات کی ابجد نصیب کر
عبدالقادر تاباں۔راولپنڈی
آ، کہ ہم زائر طیبہ کی زیارت کر لیں
شوق بالواسطہ بھی ان سے ملا دیتا ہے
خرم خلیق۔راولپنڈی
ہمارے طاق بصارت میں چشم بینا ہے
جدھر بھی آنکھ اٹھائیں، ادھر مدینہ ہے
وفا چشتی۔ اسلام آباد
کرم ہُوا جو مرے شہریارِ مطلق کا
تو باریاب ہُوئی دل کی جستجوئے رسول
نسیم سحر۔راولپنڈی
فضائے کون و مکاں نور سے بھری ہوئی ہے
مرے حضور کی تشریف آوری ہوئی ہے
انجم خلیق۔اسلام آباد
آپ لجپال سدا میرا بھرم رکھتے ہیں
پیچ کھلتا ہوا دستار کا لایا ہوں حضور
مہمان اعزاز واجد امیر۔لاہور
شہر نبی کو عرش بھی جب ہم نشیں کہے
دل ایسے آسمان کو کیونکر زمیں کہے
کہنے کو نعت ہو تو گئی ہے مگر حضور
جو شعر کہنا چاہئیں تھے وہ نہیں کہے
مہمان اعزاز نور محمد جرال۔امریکہ
حشر تک بن گئے وہ رشد و ہدایت کے چراغ
جتنے لفظوں نے بھی سرکار کا لہجہ چوما
آج پلکوں پہ بھی ہریالیاں پھوٹ آئی ہیں
آج اشکوں نے مرے گنبد خضریٰ چوما
مہمان خصوصی قاری صادق جمیل۔لاہور
کہاں طیبہ سے دوری مسئلہ ہے
ہمارا بس حضوری مسئلہ ہے
در سرکار پر دم توڑ دے گا
ترا جو بھی ضروری مسئلہ ہے
صدر مشاعرہ حلیم قریشی۔اسلام آباد
وہاں سچ کا نور فروزاں ہے ہر قریے میں
مرا شہر تو اک افسانہ ہے، مجھے جانا ہے
پردیس میں ساری عمر مری بے کار گئی
اب سوچ لیا ،گھر جانا ہے، مجھے جانا ہے