16.10.2026, 12:12am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

عالمی اخبار کے اجرا پر ملنے والے پیغامات
14.11.2008, 02:14pm , جمہ (GMT+1)

انتظامیہ عالمی اخبار


آج یکم نومبر دو ہزار آٹھ کو اردو انٹر نیٹ کی دنیا میں عالمی معیار کے اخبار ‘‘عالمی اخبار‘‘ کا اجرا بیک وقت صدر دفتر لندن کے علاوہ ذیلی دفاتر امریکہ میں ہیوسٹن، آسٹریلیا میں سڈنی، یورپ میں بلجیم، سویڈن میں سٹاک ہوم، بھارت میں دلی، کینڈا میں وینکور اور ٹورنٹو سے ہوا ہے۔

آج کے اس دور میں جب ہر چیز کمرشل ازم اور تجارتی رویوں کا شکار ہے اور حتیٰ کہ عبادت کا درجہ پانے والی صحافت بھی بڑے پیمانے پر مفاد پرستی اور درباری داری کی بھینٹ چڑھ چکی ہے تو ایسے میں کسی غیر جانبدار اور حقائق پر منبی خبریں دینے والے اخبار کا اجرا اور وہ بھی نجی سطح پر، دراصل ایک معجزہ اور دیوانوں کا کام ہے۔

‘‘عالمی اخبار‘‘ آج کے تجارتی صحافیوں کی بھیڑ اور لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے عالمی نشریاتی اور اخباری اداروں کے درمیان چند ایسے نامور صحافیوں کی فکری اور پیشہ وارانہ کوشش ہے جنہوں نے خبر اور خبریت کے معیار پر کبھی کوئی سودے بازی نہیں کی۔

عالمی اخبار میں دنیا کے بیشتر ممالک سے اخباری صنعت اور نشریاتی اداروں کے نامور اور جانے پہچانے صحافیوں اور ماہرین نشریات کے علاوہ ادب، سماجی خدمت، سائنس، طب ، سیاست اور انفرمیشن ٹیکنالوجی کے مستند نام شامل ہیں جو اس اخبار کے معیار اور غیر جانبداری کی دلیل ہیں۔

صحافت کی پہچان اُس وقت ھوتی ھے جب  خبر میں جراءت ٍاظہار ھو ، خیال کا ابلاغ ھو ،  اور کئی دیوانے مل کر جابر حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا جانتے ھوں ۔اور دنیا کہے کہ شکر کوئی تو سچ بول رھا ھے ۔

اور ایسی ھی خبروں سے سجا ھوا ‘‘عالمی اخبار ‘‘ آج انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک منفرد انداز سے جاری ہوا ہے جووقت صداقت کے نشتروں سے وقت کی تاریخ رقم کرے گا اور اُس کے اداریئے اور کالم با ضمیر قاری کو تصویر کے سارے رُخ دکھائیں گے اور عالمی سطح پر پاکستان کی بقا اور سلامتی ، ملی اور قومی غیرت کے تحظ کے لیئے اپنا کردار ادا کرے گا۔

‘‘عالمی اخبار‘‘ صحافتی دنیا میں جانے پہچانے اپنے ادارتی عملے کی بدولت صحافتی سچایئوں کے میعار پر پورا اترنے کی کوشش کے اپنے اصولی موقف کے ساتھ برقی میڈیا میں اپنا نام رقعم کرا چکا ھے ۔

 آج دنیا بھر کے برقی میڈیا پر “ عالمی اخبار “ اپنے قارئین کے سامنے ھے اور اس خوشی کے موقع پر مختلف شعبوں اور مکاتیب فکر کی جو شخصیات ھماری خوشیوں میں شریک ہیں اُن کے تہنیتی پیغامات آپ سب کی خدمت میں پیش کیئے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چودھری عبدلغفور
وفاقی وزیر و چیر مین ،قومی کمیشن برائے حکو متی اصلاحات
 وزیر اعظم سیکریٹریٹ
حکومت پاکستان،اسلام آباد

     عصر حا ضر کو بجا طور پر ابلاغ کا دور کہا جا سکتا ہے۔ذرائع ابلاغ کی حیرت انگیز ترقی سے تمام فا صلے سمٹ گئے ہیں۔جدید فنی صحافت کے دور   میں انٹر نیٹ پر آئن لائن میڈیا کی اہمیت ماضی کے مقابلہ میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اس ضمن میں مجھے یہ جان کر انتہائی خوشی ہوئی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے پیش نظر دنیا کا سب سے تیز ترین خبر کا ذریعہ ترسیل انٹر نیٹ پر عالمی اخبار کا اجرا ءکیا گیا ہے۔

دنیا بھر کے اہل اردو کیلئے با العموم اور پاکستان کئے لئے بالخصوص"عالمی اخبار" اپنے پیشہ وارانہ اور مثبت صحافت کے پیش نظر انتہائی اہمیت اختیار کرے گا۔ ہر ملک کی صحافت وہاں کے با شندوں کے جذبات اور احساسات کا آئینہ ہوتی ہے۔اگر قوم ترقی یافتہ اور روشن خیال ہے تو صحافت بھی ترقی یافتہ اور روشن خیال ہوگی۔اور اگر قوم تباہ حال ہے تو صحافت بھی اسی طرح ہوگی لیکن اس کے باو جود صحافت ہی سے غلامی اور محکومی کی زنجیریں کا ٹی جا سکتی ہیں۔

میں امید کرتا ہوں کہ سنیئر صحافی صفدر ہمدانی کی قیادت میں شائع ہونے والا عالمی اخبار کا نصب العین حق سچ اور عوام کی بنیادی آزادیوں کا ہوگا تاکہ پاکستانی قوم کا ستارہ بلند اور اس کا مقام دنیا کی آزاد قوموں کے دوش بدوش ہو۔

عالمی اخبار کی کامیابی و کامرانی کیلئے دعاگو
چودھری عبدلغفور
وفاقی وزیر و چیر مین ،قومی کمیشن برائے حکومتی اصلاحات
 وزیر اعظم سیکریٹریٹحکومت پاکستان
اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وفاقی وزیر بہبود آبادی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا پیغام

مجھے یہ جان کر نہایت خوشی ہوئی ہے کہ عالمی سطح پر قومی زبان کے فروغ و تدوین اشاعت کو صحافت میں ہونے والی جدید فنی تبدیلیوں اور رحجا نات کو مد نظر رکھتے ہوئے"عالمی اخبار" کا انٹر نیٹ پر اجراءکیا گیا ہے۔جس سے دنیا بھر میں اردو بولنے،لکھنے اور پڑھنے والوں کیلئے ایک پلیٹ فارم میسر آئے گااور دنیا بھر میں اردو کمیونٹی تیز ترین برق رفتاری سے"عالمی اخبار "کی وساطت سے دنیا بھر اور خصوصی طور پر پاکستان کے حالات حاضرہ جاننے کے علاوہ تمام شعبوں کے متعلق اہم اور مفید معلومات،کالم اور اداریوں سے مستفید ہوسکیں گے۔

آخر میں عالمی اخبار کے عالمی صحافی،شاعر،ادیب اور براڈ کا سٹر صفدر ہمدانی کو تہ دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کر تی ہوں کہ وہ آج کے دور میں انٹر نیٹ پر غیر ذمہ دارانہ صحا فتی یلغار کے دوران ایک ذمہ دار جر نلزم کو متعارف کروائیں گے۔اور ان کی بدولت صحافت کے میدان میں نان پروفیشنل بھی ان سے کچھ سیکھیں گے تاکہ وہ بھی معاشرے کو سدھا رنے میں کوئی کردار ادا کر سکیں۔

عالمی اخبار کی کا میابی کیلئے دعا گو
 ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان
 اسلام آباد پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ممبر قومی اسمبلی و چیرپرسن ،وومن کامن ویلتھ پارلیمنٹرین
 انسانی حقوق کی سفیر
کشمالہ طارق کا عالمی اخبار کے اجراءپرپیغام

 چیف ایڈیٹر و سنیئر صحافی صفدر ہمدانی اورمستند صحافیوں اور قلمکاروں کی زیر نگرانی عالمی اخبار کے اجراءکے موقع پران کو مبارک باد پیش کرتی ہوں اور امید ہے کہ وہ اس موقع پر یہ عہد کریں گے کہ وہ غریب اور پسماندہ عوام کے حقوق کے تحفظ اور حصول کی کوشش میں اپنے اخبار کو وقف کریں گے کیونکہ انتہائی غربت اور سماجی علیحدگی۔انسانی عزت و احترام کی خلاف ورزی کو جنم دیتی ہے

 میں امید کرتی ہوں کہ عالمی اخبار اور اس کی ٹیم اپنے زور قلم سے انتہائی غربت اور اس کے اسباب کے بارے میں عوام کو بہتر علم حاصل کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتا رہے گا۔ان میں وہ اقدامات بھی شامل ہوں جو ترقی کے مسئلہ سے متعلق ہوں تاکہ غریب ترین افراد کے انسانی حقوق کو فروغ دیا جا سکے اور انتہائی غربت کو ختم کیا جا سکے، نیز سماجی علیحدگی کو ختم کر کے سماجی ترقی کو فروغ دے کر اس کے ثمرات سے لطف اٹھا یا جا سکے۔

میں یہ بھی امید کرتی ہوں کہ عالمی اخبار انسانی ترقی کے مو ضوع کا بھی ایک سیکشن بنا ئے گا کیونکہ پاکستان میں یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہر اخبار کا جا ئزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نوے فیصد خبروں کا سیاسی کو ٹہ اور باقی دس فیصد ،سپورٹس،شوبز وغیرہ ہوتا ہے جبکہ ہیومن ڈویلپمنٹ نام کی کوئی خبر نہیں ہوتی جو کہ اس ملک کے غریب اور پسماندہ عوام کیلئے انتہائی نا گزیر ہے

اس حوالے سے میں عالمی اخبار سے یہ بھی توقع کرتی ہوں کہ وہ انسانی ترقی کے فروغ کیلئے اپنا کردار دا کرے گا تاکہ غریب ترین افراد کے فیصلہ کرنے کے عمل میں شرکت کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔
 
 عالمی اخبار کیلئے نیک تمنائوں کے ساتھ
  ممبر قومی اسمبلی و چیرپرسن ،وومن کامن ویلتھ پارلیمنٹرین
 انسانی حقوق کی سفیر،کشمالہ طارق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان ہائی کمیشن۔کینبرا
 آسٹریلیا

آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنرعزت مآب جلیل عباس جیلانی
 کا عالمی اخبار کے اجراپر خصوصی پیغام

“ میں عالمی اخبار کے ادارتی عملے کو خصوصاََ مدیر اعلی صفدر ھمدانی اور نائب مدیر اعلی نگہت نسیم کو برطانیہ سے نیا آن لائن اخبار جاری کرنے پر دلی مبارکباد دیتا ھوں ۔

مجھے یہ تسلیم کرتے ھوئے خوشی ھو رھی کہ ‘‘عالمی اخبار ‘‘کیمونٹی کے درمیان ھم آہنگی کو فروغ دینے کے علاوہ اپنے اپنے وطنٍ ثانی میں مقیم افراد کو دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ھونے والی ترقی سے آگاہ کرے گا ۔

عالمی اخبار کے اجراء سے نئی نسل میں قومی زبان کے فروغ کو بھی تقویت ملے گی اور بیرون ٍپاکستان میں رھنے والے افراد عالمی اخبار سے مستفید ھونگے ۔

میں عالمی اخبار کے اجراء پر دل کی گہرائیوں سے آپ کو مبارکباد دیتا ھوں اور مجھے اس میں ذرہ بھر شک و شبہ نہیں کہ قومی اور عالمی اہمیت کے مسائل پر اس اخبار کی خبریں اور تحریریں اعلیٰ معیارکی ، متوازن اور غیر جانبدار ھونگی۔
دلی اور نیک تمناؤں کے ساتھ
 آپ کی کامیابی کے لیئے دعا گو
  جلیل عباس جیلانی
ہائی کمشنر ، کینبرا ، آسٹریلیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بین الاقوامی معروف دینی و ادبی شخصیت
ڈاکٹر سید نجم سبطین حسنی کا پیغام۔
 خوشبو کی نمو۔
 عالمی اخبار کی آفتابی کرنیں صحافت کے افق پر صبح نور کے طلوع سے کم نہیں۔

مستعار رویوں، مسروق لفظوں  اور مدقوق نیتوں سے بھرے اخبار اور انے متعفن انبار بے چہرہ قامتوں اور بے روح ضخامتوں کے سوا اور کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔ بد قسمتی سے اس عہد میں ذرائع ابلاغ پر اکثر و بیشتر ایسے ہی نا جائز قابضین کا تصرف فکر و قلم کا سر قلم کرنے میں مصروف نظر آتا ہے۔ خود اپنے نفوس کی ذمہ داریاں سنبھالنے میں بھی جنکی اہلیتیں اور حیثیتیں قابل اعتماد نہیں ہیں، المیہ یہ ہے کہ آج قوموں کے مقدر کے فیصلے ان جیسوں کی سیاہیء قلم کی روسیاہی کا شکار ہونے لگے ہیں۔

صحافتی المیہ کے اس رجحان کے نتائج آض دنیا کے سامنے ہیں۔ زرد اور سستی شہرت کے ذرائع ابلاغ  نے ان گنت اذہان میں اپنے فکری انتشار کو منتقل کیا ہے اور لوگوں کو احوال و واقعات کے حقیقی رخ کو دیکھنے اور پہچاننے سے ایک سازش کے تحت محروم کیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ اپنی حد پہچاننے کی بجائے دٍل در معقولات کی حد تک لوگوں پر خود اپنی رائے ٹھونسنا اپنی عادت کا حصہ بنا چکے ہیں۔ جبکہ ذرائع ابلاغ کا کام صرف صحیح صورتحال کو مثبت انداز میں آگے پہنچانا ہوتا ہے تا کہ قارئین خود اپنی فکری صلاحیتوں کو صحافتی تکسید کے ذریعے قوت فیصلہ کے ساتھ صراط مستقیم پر گامزن کر سکیں۔

آج اصل کی جگہ نقل نے لے لی ہے۔ اس لئے تعمیر اور تخلیق کا رجحان سمٹ کر رہ گیا ہے۔ با صلاحیت افراد قلتِ وسائل کے سبب پس منظر میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ایک صحافی ان تمام رویوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے اور میرے نزدیک ایک با شعور صحافی کو مؤرخ کی طرح طرفدار ہونے کے الزام سے بچنا چاہئے۔  مگر کیا کیجئے کہ توفیق حرف حق چھن چکی ہے۔ رائے عامہ کی جگہ نفسیاتی ہنگامہ پھیلایاجا رہا ہے۔ ذہنوں میں آدمیت کے عمود کی بجائے نفرتوں کا بارود کاشت کیا جارہا ہے۔ دستاریں موسمی ہواؤں کی مقروض ہو چکی ہیں۔ علم کی ترویج کے ٹھکانے ضد اور عصبیت کے آشیانے بنا دالے گئے ہیں، اور آدم کی اولاد کو فقط شجرہ ء قابیل کا وارث بنانے کی سازش َ ابلیس دونوں ہاتھوں سے مضبوط کی جارہی ہے۔

روشنے کے اس خوفناک قحظ میں مشعل نجات جلانے کا عمل کسی عالی ضمیر مصلح کے انتظار میں ہے۔ ظلمت کی وباؤں کے تدارک کا علم عدل پسند صحافت کے شانوں پر ہی بلند ہو سکتا ہے۔ تاکہ صحت مند معاشرت کا خواب تعبیر سے روشناس ہو سکے۔
گمرہی کے کے اس عھد پُر تعفن میں عالمی اخبار کا ورود خوشبو کی نمو کے عمل کا پیامبر ہے۔ اور یہ حرف یقین اس بناء پر ہے کہ اس فرسِ ابلاغ کی لگام فکر و علم اور ادب و صحافت کے شاہسوار جناب صفدر ہمدانی جیسے کوہ قامت منصف کے ہاتھ میں ہے
صفدر ہمدانی کی موجودگی ہم سب کے لئے خیر و سلامتی کے یقین سے کم نہیں۔
 مخلص
 ڈاکٹر سید نجم سبطین حسنی
سڈنی۔آسٹریلیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آسٹریلیا سے معروف سماجی، مذھبی اور ادبی شخصیت ڈاکٹر شبیر حیدر کا پیغام۔
السلام علیکم۔
صفدر بھائی! عالمی اخبار کے اجراء کے خبر پورےعالم میں ایک خوش کن خبر ہے، اور مجھے یقین ہے کہ یہ اخبار ایک بھر پور اخبار ہوگا جس میں سچ اور حق کی وکالت کے ساتھ ہمین خبریں اور تجزیات مل سکیں گے۔  میرا ایک شعر آپکی نظر کہ
قلم    امانتِ    عدلِ    بیان   ہوتی  ہے
یہ حاکموں کے لئے روگ جاں ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ اپنی ٹیم سمیت سلامت رہیں اور اور آپکا کاروان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔

دعا گو
ڈاکٹر شبیر حیدر
(وولنگانگ)
سابقہ صدر اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معروف سماجی، مذھبی و کاروباری شخصیت رانا کلب عباس کا پیغام۔

جناب محترم ہمدانی صاحب۔
السلام علیکم۔
آپکے نئے اخبار کا پتہ چلا۔ اخبار دیکھا تو واقعی یوں لگا کہ انٹر نیٹ کا عام طور پر معروف اخبار یا تجزیاتی بورڈ نہیں بلکہ  سچ مچ کاایسا اخبار ہے جس میں عالمی میڈیا کے شانہ بشانہ تمام تازہ خبریں لمحہ بہ لمحہ میسر آتی رہتی ہیں اور ساتھ میں اہل عقل و دانش کے ادب و سیاست سمیت تمام امور پر سیر حاصل تبصرے بھی ملتے رہتے ہیں۔ اخبار کا نقشہ واقعی جاذب نظر ہے اور قاری کے لئے اسکی دلچسپی کے مطابق مواد تلاش کرنا نہایت آسان ہے۔

یوں تو اردو کے کئی اخبارات انٹر نیٹ پر میسر ہیں، لیکن زبان کی لطافت اور خبر کی صداقت کا جو معیار میں آپکے پہلے ہفتے ہی میں آپ کے یہاں ملاحظہ کیا، وہ شاذ ہی ملتا ہے۔

 آپکو اور آپکے تمام ساتھیوں کا یہ حریتوں کا سفر مبارک ہو۔

مخلص
کلب عباس رانا
صدر محمدی ویلفئر ایسوسی ایشن آف آسٹریلیا
سابقہ صدر پاکستان ایسوی ایشن آف آسٹریلیا
مینجنگ ڈائریکٹر رانا موٹرز پروپائٹرز لمیٹڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی رضا سیانی کا پیغام

محترم ہمدانی صاحب۔
السلام علیکم۔
آپکا نیا اخبار مصباح بھائی کے توجہ دلانے پر دیکھا۔ میں عموما اخبارات کی ورق گردانی کرنے کا عادی نہیں ہوں اور انٹر نیٹ پر اخبار دیکھنا میرا معمول کبھی نہیں رہا۔  بلکہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو اخبار پر خبریت کے فقدان، زرد سیاست و عریانیت اور لا یعنی مضامین کی بھرمات سے نالاں رہتے ہیں اور اخبار کو محض فارغ لوگوں کی وقت گزاری سمجھتے ہیں۔ لیکن آپکا اخبار دیکھا اور اسکا مواد نظر سے گزرا تو میں اس نظرئیے کا قائل ہو گیا کہ سبھی اخبار عبث نہیں ہوتے، بلکہ ان میں کئی ایک ایسے ہیں جو خبریت اور تجزئیے کی حقیقت سے واقعی آشنا ہوتے ہیں۔ آپکا اخبار اپنے ہمعصر بی بی سی کے انٹر نیٹ اخبار سے بھی مجھے بھلا اس لئے لگا کہ اس میں مواد کی وسعت بھی ہے اور ادارتی بورڈ سے رابطہ بھی آسان نظر آیا، تا کہ ہم اپنی شکایات بھی درج کروا سکیں۔
امید ہے آپ اپنے اس معیار کو قائم رکھیں گے اور ہمیں تازہ و سچی خبریں ملتی رہیں گی۔ آپکو یہ سفر مبار ک ہو۔ آج سے میں بھی اخبارات پڑھنے کا عادی ہو رہا ہوں۔
خیر اندیش
علی رضا سیانی
مینیجنگ ڈائریکٹر
Ali Raza
Seyani Trading Co. LLC
جی ایم
RAZAS FAmily PTY Ltd. Australia.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان سے معروف ادیب خاور چوہدری کا پیغام
قابل قدر جناب صفدر ہمدانی صاحب اور محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سلام مسنون: عالمی اخبار کی اشاعت ویب سائٹس کی دنیا میں خوش گوار اضافہ ہے۔

میں اس کی ٹھنڈک محسوس کرتا ہوں۔میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ ویب سائٹس کی دنیا میں علمی و ادبی شخصیات کی نگرانی میں چند ایک سائٹس کام کر رہی ہیں اوراُن میں عالمی اخبار خوب صورت اضافہ ہے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اہم ترین اضافہ ہے۔

جہاں صفدر ہمدانی جیسے بالغ نظر لوگ موجود ہوں،معتبردانشور اور مفکر ہوں، شمس جیلانی صاحب اورجناب آصف جیلانی جیسے نابغے ہوں۔ڈاکٹرنگہت نسیم جیسی پُرخلوص ہستی ہوں، سید مصباح حسین جیسے محبت پرور اور زرقا مفتی جیسے ہمہ جہت لوگ ہوں وہاں مجھ ایسوں کوخود بہ خود کھنچ کے آنا پڑتا ہے۔ تانیہ رحمان اور دوسرے ساتھیوں کی پُرخلوص تحریریں دامن فکر کھینچتی ہوں تو کون دُور رہ سکتا ہے۔

میں آپ تمام خواتین و حضرات کو اس اہم کام کے شروع کرنے پر نہ صرف مبارک باد دیتا ہوں بلکہ دامے، درمے ، سخنے اپنی خدمات اور تعاون کی بھی پیش کش کرتا ہوں۔

 ڈاکٹرنگہت نسیم صا حبہ نے بلایا ہے تو میں انکار نہیں کر سکتا ہوں کہ اس کا جواز بھی تو کچھ نہیں ہے۔ میں آپ کا اس لیے بھی شکر گزار ہوں کہ آپ نے"اردو محفل" پر چھپنے والے میرے انٹرویو کو عالمی اخبار پر جگہ دے کر میرا مان بڑھایا ہے۔

 خلوص کار
 خاورچودھری
 ایڈیٹر انچیف روزنامہ" تعلم" ہفت روزہ " تیسرارُخ" سہ ماہی" سحرتاب"
اٹک(پاکستان)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرمنی سے شاعر اور کالم نگار سید اقبال حیدر کا پیغام
جناب محترمی صفدر ہمدانی صاحب
آداب:
’’عالمی اخبار‘‘ یقیناً سارے عالم کا اخبار ہو گا کیونکہ یہ آپ کے زیرِ انتظام منظرِ عام پر آ رہا ہے۔آپ ہی
کے کہنے پر بہت سے اہلِ قلم’’ القمر آن لائن‘‘ کے لئے بھی لکھتے رہے اب قلمکاروں کا وہ قافلہ آپ سے ساتھ
ملکر عالمی اخبار کی زیب و زینت بڑھائے گا۔خدا کرے کبھی اسی طرح آپ کی طرف سے ٹی وی چینل14
کی بھی خوشخبری ملے جس کی پہلی میٹنگ میرے غریب خانے میں ہوئی تھی۔ ریڈیو،ٹی وی اور پرنٹ میڈیا
جس طرح آپ کی صلاحیتوں سے مستفیظ ہو ئے اُسی طرح عالمی اخبار بھی ہو گا۔میں آپ کو اور آپ کے مخلص
ساتھیوں کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔
سیّد اقبال حیدر
فرینکفرٹ۔جرمنی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرمنی سے افسانہ نگار اور شاعرانورظہیررہبر کا منظوم پیغام

صحافت کا نیا سفرہے عالمی اخبار
خبروں میں   خبر ہے عالمی اخبار

ہو مبارک انھیں جن  کے دم  سے!!
پھلتا پھولتا اک شجرہے عالمی اخبار

ورق ورق سجاہےستاروں کی طرح
مدتوں کا  اک ثمر  ہے عالمی اخبار

محفوظ رکھے خدا سموم وقت سے
 لب پر دعائے  رہبر  ہے  عالمی اخبار
               
انورظہیررہبر
نائب صدر
اردو انجمن برلن
جرمنی     
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی اخبار کے امریکہ کے بیورو چیف سلیم سید کا پیغام
یوں تو اسوقت انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو ویب سائیٹوں کی لاتعداد ہزاروں میں ہے جن میں ہر قسم کی ویب سائٹ شامل ہے  لیکن بلاگز اور ادب کے ساتھ ساتھ یونی کوڈ کی سہولت کی وجہ سے خبروں کی ویب سائٹوں کا بھی ایک طرح کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے لیکن ایسی ہزارہا ویب سائٹوں میں وسائل اور افرادی قوت سے مالا مال بڑے بڑے اخباری اور نشریاتی اداروں کو چھوڑ کر نجی سطح پر چلائی جانے والی خبروں کی ویب سائٹوں کی تعداد درجن بھر سے بھی کم ہے۔

ایسی صورت حال میں یہ بات نہایت ہی باعث فخر و اطمینان ہے کہ اب ایسی مستند اورمعیاری سائٹوں میں ایک اور روزانہ نہیں بلکہ دن میں متعدد بار اپ ڈیٹ ہونے والے اردو اخبار‘‘عالمی اخبار‘‘ کا اجرا باقاعدہ طور پر یکم نومبر دوہزار آٹھ سے ہو رہا ہے جس میں براڈکاسٹنگ، صحافت اور ادب سے وابستہ بہت پائےکے نام موجود ہیں اور انکی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے

خاص طور سے صفدر ھمدانی صاحب کو تو میں‘‘ اردو کا جن ‘‘سمجھتا ہوں جو اردو کی کچھ اس طرح سے خدمت کررہے ہیں جو کم از کم عام انسانوں کے بس کی بات نہیں۔کسی مالی مفاد سے قطع نظر مکمل پیشہ وارانہ دیانتداری،درست املا اور صحت زبان کے ساتھ ساتھ خبروں کے مستند ہونے کی دلیل انکا طرہ امتیاز ہے۔

‘‘ عالمی اخبار‘‘ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ تازہ ترین پاکستانی اور عالمی خبروں کے علاوہ اپنے دیگرمتعدد سلسلوں کے ذریعے تقریباً ہر شعبہ  زندگی کا احاطہ کیےہوئے ہے اور اس طرح ہر شخص کو اپنی دلچسپی کی چیز مل جاتی ہے اور اس کے شوق کی تسکین اور تکمیل ہو جاتی ہے۔

چونکہ ہم خود بھی پچھلے پندرہ برسوں سے ریڈیو جرنلزم اور ذرائع ابلاغ  سے وابستہ ہیں اس لیئے ہمیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ ا س سفر میں کیسی کیسی مشکلات کا سامنا صفدر ھمدانی صاحب کو کرنا پڑتا ہو گا لیکن کہتے ہیں کہ‘‘یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم‘‘۔

صفدر ھمدانی صاحب اپنے قلم اور آواز کے ذریعے جو پیغام محبت دنیا کو پہنچا رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں مزید ہمت اور کامیابی عطا فرمائے۔

 میں اپنی اور اہلیہ زارا سیّد کی جانب سے اس عزیم کاوش پر عالمی اخبار اور اس کی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور انکی کامیابی کے لیئے دعا گو ہوں۔
خیر اندیش

سلیم سیّد اور زارا سیّد
 ہیوسٹن، ٹیکسا س،
 ریاست ہائے متحدہ امریکہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کینبرا سے ادیب اور شاعر محمد علی کا پیغام
عالمی اخبار کے لیئے نیک خواہشات
عالمی اخبار کے اجرا پر میری طرف سے بے حد مبارکباد قبول کیجیئے ۔ مجھے پوری امید ھے میرے مشفق و مہربان محترم صفدر ھمدانی جیسے نگہبان قلمکار اور صحافی اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ جیسی ادبی شخصیت کے زیرٍ نگرانی یہ اخبار دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرے گا ۔

وہ جو کہتے ھیں نہ کہ اگر انسان میں قابلیت ھو تو ایک در بند ھونے سے کچھ نہیں بگڑتا ۔ قابلیت اپنا راستہ خود بنا لیتی ھے ۔ عالمی اخبار اس امر کی تصدیق ھے ۔.
اس اخبار کی وجہ سے میرا یقین ھے کہ نہ صرف بروقت عالمی خبریں ملیں گی بلکہ ادب اور زندگی کے حوالے سے بھی اردو میں ایک انقلاب آئے گا ۔
میرے لائق اگر کوئی بھی خدمت ھو تو میں حاضر ھوں
.آپ کی کوششوں کا ھمیشہ سے معترف
محمد علی
فاؤنڈر اینڈ ایڈیٹر بنیاد کینبرا
ایگزیگٹو سیکریٹری اردو لٹریری آف کینبرا
پرزینڈنٹ فورم آسٹریلیا، کینبرا آسٹریلیا


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی اخبار کی ٹورنٹو کی بیورو چیف روبینہ فیصل کا پیغام
عالمی اخبار جو ایک مختلف نوعیت کا میرے مزاج سے ہم آہنگ ویب اخبار لگتا ہے ۔ڈاکٹر نگہت نسیم اور محترم صفدر ہمدانی صاحب جنہیں میں نے دیکھا نہیں ، جن سے میں ملی نہیں ۔انہوں نے ایک فون کال سے مجھے اپنا بنا لیا ہے اور مجھے ‘‘عالمی اخبار‘‘ کا ٹورنٹو کا بیورو چیف بننے کی بھی پیشکش کر دی جسے میں مسترد نہ کر کسی۔
سوچتی ہوں کیا اب بھی اتنے مخلص اور سادہ بیان لوگ دنیا میں ہیں یا یہ میرا ایک وہم ہے ؟ جو ایک بھی شخص حق سچ کا علم بلند کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوں ۔
 اگر صفدر ہمدانی اور نگہت نسیم نے یہ ٹھانی ہے کہ وہ لوگوں کو ایک سچا اخبار اور خوبصورت تحریریں دیں گے  تو میں یہاں کینڈا میں بیٹھ کر ان کے سچ میں اپنا حصہ ڈالتی رہوں گی ۔ ان کے سچ کے گلشن میں میں اپنے حصے کا پھول اگانے کا ارادہ باندھ چکی ہوں ۔ بہت ساری مصروفیات میں بہت کچھ تو نہ لکھ سکوں گی مگر جتنا بھی لکھوں گی حسبِ عادت سچ ہی لکھوں گی ۔
مجھ سے لگی لپٹی، ڈھیلی ڈھالی یا دوغلی بات نہیں ہوتی ، امید ہے کہ یہ مزاج اخبار کی پالیسی سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہوگا ۔
بہت سی دعاؤں کے ساتھ
روبینہ فیصل
ٹورنٹو
کینڈا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن سے معروف شاعرہ سائرہ بتول کا پیغام
میرے دشمن نےیہ سوچا ہی نہیں تھا شاید
یہ  دیا  بادِ فنا  سے  بھی  بھڑک  سکتا  ہے
احمد فراز مرحوم کا یہ شعر کتنا حسبِ حال ہے
یہ تو وہ سب لوگ جانتےہیں جنھوں نے اپنا خونِ جگر دے کر پہلے ایک آن لائن اخبار کی آبیاری کی اور بدلے میں کچھ بے فیض افراد کی بے مہری  ملی
لیکن ان با ہمت لوگوں نے ہمت نہ ہاری اور چند ہی دن میں عالمی اخبار کی شکل میں ایک جہانِ تازہ کی بنیاد ڈالی۔

میں مبارک باد دیتی ہوں عالمی اخبار کے مدیرِ اعلی جناب صفدر ہمدانی ، نائب مدیر ِ اعلی محترمہ نگہت نسیم صاحبہ اور پوری ٹیم کو ،اللہ آپ سب کی محنت کا صلہ ضرور دے گا۔ مجھے اس سفر میں اپنے ہمراہ پایئے گا۔

سائرہ بتول
لندن

...............................
صدائے وطن سڈنی کے چیف ایڈیٹر سید ظفر حسین کا پیغام
مجھے یہ جان کر بیحد مسرت ہوئی ہے کہ لندن میں آ باد پا کستان کے شہرہ آ فاق شاعر، براڈ کاسٹر ،صحافی اور ادیب جنا ب سیدصفدرھمدانی کی ز یرادارت انٹرنیٹ پر عالمی ا خبار کا اجرا کیا جا رہا ہے جس میں خبروں ، کالمز اور سیاسی صو ر تحا ل پر تجزئیے سے لیکر کیمونٹی نیو ز ، شعرو ادب اور خو اتین و بچوں کے لیے بھی معیاری مضامین شائع کیے جائیں گے ۔

اگرچہ انٹرنیٹ کی دنیا بہت  سیع ہے مگر ایک ہی ویب سائٹ پر وہ سب کچھ پڑھنے کو نہیں ملتا جس کی با کمال قارئین کو ضرورت ہوتی ہے مجھے یقین ہے کہ عالمی اخبار
 انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں مقیم اردو کے قارئین کی مطلوبہ ضروریات پوری کر ےگا اور اپنا منفرد وبےنظیر مقام بنا ئے گا۔

 اس زمانے کی مصروف ترین زندگی میں خد مت خلق کرنیوالوں کی تعداد کم ہو رہی ہے لیکن مجھے اُمید ہے کہ جناب صفدر ھمدانی اور انکے بے لوث ر فقا ء عالمی اخبار کے لیے بھی اُسی جوش اورجذ بے سے کام کریںگے جیسے وہ اس سے قبل کرتے رہے ہیں۔
 
رشک اور حسد میں فرق ہے اور مجھے اُمید ہے جناب صفدر ھمدانی کے حاسدین ناکام ہوں گے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کربلا سے لے کر آ ج تک جو بھی حق سچ کو مٹانے کےلیے آیا
اُس کا نام ونشان نہیں رہا۔

 صف ر ھمدانی اور انکی فیملی کو میں ایک زمانے سے جانتا ہوں ۔ نبی کر یم نے کہا تھا کہ جس شخص کے سا تھ کسی نے لین دین کیا ہو یا سفر کیا ہو و ہ ا سکے بارے میں بہتر را ئے دے سکتا ہے، اس فر مان رسو ل کےمطابق میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جناب صفدر ھمدانی سچے کھرے ، دیانتد ر ، ذہین و مخلص شخصیت ہیں جو شب و روز کی پرواہ کیے بغیر لکھنے پڑ ھنےکا کام کرتے ہیں ۔

میں نے ا نکے دورہ آ سٹریلیا کے دوران سڈ نی میں دو مر تبہ جناب صفدر ھمدانی کی میزبانی کا شرف حاصل کیا ہے۔انکے چاہنے والے دنیا بھر میں تو ہیں ہی مگر آسٹریلیا میں
صفدر ھمدانی کو جو مقبولیت ، عزت و تعظیم حاصل ہو ئی وہ بے مثال ہے اوریہ سب کچھ انکی صلاحیتوں کی وجہ سے ہوا۔ مجھے یقین ہے وہ عالمی اخبار کے نام پراُردو کے
شیدائیوں کو شاندار اخبار فراہم کریں گے ، احسان فراموشوں کو انکے حال پر چھوڑ دیں گے اور صحافت میں تجارت کے نظریہ کی مخالفت کرتے ہوئے صحافت میں عبادت کے اصول کو عملی تعبیر عطا کریں گے۔

 جناب صفدر ھمدانی کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہر میدان میں کامیابی عطا کی ہے اور انہوں نے ایم اے جرنلزم اسوقت کیا جب آج کے وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی اسی شعبہ صحافت میں انکے جونیئر تھے

میں امید کرتا ہوں کہ سید صفدر ھمدانی اپنی تمام خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئےخداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی اخبار کے ذریعے اپنانیک مشن جاری رکھیں گے ہم اس سفر میں انکے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے ۔

 عالمی اخبار مجھے یقین ہے کہ چند دنوں میں ہی جعلی صحافیوں کے مقابلے میں چھا جائے گا کیونکہ صفدر ھمدانی اس امام کو ماننے والا ہے جو غیر فرار ہے اور غالب علیٰ کُل غالب ہے۔
خیر اندیش
سیدظفرحسین
سڈنی
چیف ایڈیٹرصدائے وطن سڈنی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صدائے وطن کے ‘‘ایڈیٹر‘‘ سیدجاوید حسین کا پیغام

محترم و مکرم صفدر ھمٰدانی صاحب
السلام علیکم۔ سب سے پہلے تو مجھے اس بات کی معذرت کرنا ہے کہ اپنی بے پناہ نجی اور کاروباری مصروفیات کی وجہ سے ‘‘عالمی اخبار‘‘ کے اجرا پر مبارکباد قدرے تاخیر سے دے رہا ہوں لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ اس دوران میں نے اس اخبار کو دیکھا نہیں۔
  مجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آپ نے اور آپکی پوری ٹیم نے جس جذبے کے ساتھ اتنی جلدی اس معیار کا مکمل اخبار نکالا ہے وہ آپ سب کی صحافتی دیانتداری اور قلبی صداقت کا منہہ بولتا ثبوت ہے۔
سرورق پر کلام اللہ کی لکھی ہوئی آیت سے ہی آپکی پالیسی اور طرز فکر کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
سچ بات تو یہ ہے کہ آج انٹر نیٹ کی دنیا میں صرف اردو زبان کے ہی ہزاروں اخبار ہیں لیکن اگر صحافت،زبان اور بے لاگ خبر اور تبصرے کے اعتبار سے دیکھیں تو ایسے اخبار درجن بھر سے زیادہ نہیں ہیں اور ‘‘عالمی اخبار‘‘ان میں شامل ہے‘‘عالمی اخبار‘‘ کو میدان میں آئے ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا اور اس نے اپنے قارئین کا حلقہ آسٹریلیا سے امریکہ تک بنا لیا ہے اور اسکا سہرا آپکے اور آپکی ٹیم کے سر جاتا ہے۔
مجھ جیسے لوگ جو آپ کے قاری اور شیدائی ہونے کے علاوہ آپ سے بہت سے حوالوں سے محبت بھی کرتے ہیں انکو یہ علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپکو کیسی کیسی خوبیوں سے نوازا ہےاور ہم سب ان کے معترف ہیں۔
آپکی اس ٹیم میں ڈاکٹر نگہت نسیم،آصف جیلانی،اصغر انصاری اور ایسے ہی دوسرے ناموں کی شمولیت اس بات کی ضمانت ہے کہ سچی اور بے لاگ خبر اور تبصرہ آپکا طرہ امتیاز رہے گا۔
آپ سب کی ترقی اور دائمی کامیابی کے لیئے دعا گو

سید جاوید حسین
سڈنی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی اخبارکے‘‘بھارت کے بیورو چیف‘اصغر انصاری کا پیغام
عالمی اخبار کی اشاعت پر دلی مبارک بادقبول کیجےئے۔عالمی اخبار کی مجلس ادارت میں محترم صفدر ہمدانی ،آصف جیلانی ، نگہت نسیم،حسین افسرجیسے بالغ النظر صاحب فکر و نظر کی موجودگی عالمی اخبار کے روشن مستقبل کی دلیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی بات کا یقین دلانے کے لئے کافی ہے کہ عالمی اخبار نہ صرف حقیقی معنوں میں ’’ عالمی ‘‘ ہوگا بلکہ اردو صحافت میں نئی جدت قائم کریگا ۔میں ادارے یو این این و اردونیٹ کی طرف سے عالمی اخبار کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتا ہوں ۔۔ اصغر انصاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی اخبارکے‘‘بھارت کے رابطہ کار ‘حسین افسر  کا پیغام
شروع اللہ کے نام سے جو رحمان بھی ہے اور رحیم بھی ہے
اس زمانے میں صفدر بھائی جیسے شریف النفس اور غم خوار انسان اور انکی بے لوث اور بلا مفاد ٹیم کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اسکا بین ثبوت القمر کا وہ شخص ہے جو اس چاند میں گہن لگا کر داغدار کرنے کا مرتکب بنا۔ب

ہرحال دنیا کا ہر تلخ تجربہ ہم کو کامیابی سے قریب کرتا جاتا ہے اور ہمارے صبر کا امتحان مزید سخت ہوکر ہماری شخصیت کو مزید نکھارتا ہے۔

چاند میں گہن لگانے کا کام جن صاحب نے کیا ہے انکو نہیں معلوم کہ تکنیکی صلاحیت سے کہیں زیادہ تخلیقی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ صفدر بھائی کا تو کچھ نہیں بگڑا بلکہ انہوں نے ایک نیا اخبار ‘‘عالمی اخبار ‘‘شروع کردیا مگر گہنائے ہوئے چاند کو کون کب تک دیکھے گا یہ سوال بھی پیدا ہو گیا ہے۔ اس میں گہنائے ہوئے ‘‘قمر‘‘ میں اب صرف چند ضمیر فروش اور حاشیہ بردار قسم کے لوگ رہ گئے ہیں جو دوسری اہم اردو سائٹوں سے خبری مواد چوری چوری کر کر کے لگا رہے ہیں اور اسی سرقے کو صحافت سمجھتے ہیں۔

اللہ کرے صفدر بھائی کو نئی طاقت و توانائی اور ہمت ملے اور وہ اپنے سارے گزشتہ کاموں سے کہیں زیادہ ٹھوس اور خوبصورت تخلیقی کاوشوں کو بروئے کار لائیں۔ہم سچائی سے انکے ساتھ ہیں اور انکی عزت و توقیر ہماری عزت و توقیر ہے۔

اللہ انکو اور انکی ساری ٹیم کوکامیاب اور کامران کرے۔(آمین)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی اخبارکی‘‘نگران برائے بلاگ‘‘تانیہ رحمان  کا پیغام
‘‘عالمی اخبار‘‘ کے اجرا کے موقع پر یہ مختصر پیغام لکھتے ہوئے اس امر کی خوشی ہو رہی ہے کہ ہم سب مل کر ایک اور سفر کا آغاز کر رہے ہیں جو فقط سچ گوئی اور حق کی تشہیر کا سفر ہے۔
میری ھمیشہ  کوشش ھوتی ھے کہ وہی کچھ لکھا جائے ، جو حق پر مبنی ھو ۔سچا اور کھرا ہو۔ اور ایسا لکھنے کے لیئے ایسا ادارہ چاھیئے ھوتا ھے جو خود بھی سچ لکھتا ھو اور سچ کی ترغیب بھی دیتا ھو ۔

عالمی اخبار یقینا ایسا ھی اخبار ھے جو سچ حق کی بات کرتا ھے ۔کیونکہ اسی ٹیم کے ساتھ میں نے اپنے سچ کا سفر شروع کیا تھا ۔ خوشی کے اس موقع پر میرا پیغام محبت ھے جہاں تک پہنچے۔

مجھے یقین ہے کہ ‘‘عالمی اخبار‘‘ بہت جلد اردو نیٹ کے اخبارات میں ایک منفرد مقام حاصل کرے گا۔

بہت سی دعاؤں کے ساتھ
تانیہ رحمان
ڈارلنگٹن۔برطانیہ
..........................

عالمی اخبارکی‘‘مدیربچوں کا ادب‘‘غزالہ رشید کا پیغام
آسٹریلیا میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم، ماہرامراض نفسیات ہیں لیکن ایک ایسی دوست جس کا افسانہ ہمیشہ مجھے کبھی کبھی تو اس سے بھی عزیز رہا،
 کیوں؟
اس سے پوچھیے کیونکہ میرے لیے تو وہ ملاقات کا بہانہ بن جاتا ہے۔ کیفیات سے ملاقات کبھی ایسی محسوس کی ہوتو جان جائیے گا کہ ایسا کیوں ہے۔

نگہت نسیم  کی ادب دوستی، میرے لیے باعث فخر ہے کیونکہ وہ بے حد حساسّ ہے لیکن بے حد پریکٹیکل بھی، حسن نظر بھی ہے اس کے پاس لہٰذا دوا کے ساتھ ساتھ ہاتھوں میں پھول بھی لئے پھرتی ہے ورنہ کون جانے ہے ایسی ملاقات کے بہانے، ملنے کی خواہش اور پھر یاداں، باتاں

لہٰذا مبارک ہو اسے ان تمام دوستوں کی صحبت بھی، مبارک کہ جن کے ساتھ مل بیٹھ کرانہوں نے آج یہ ہمت کی، اور اس ''عالمی اخبار'' کی ابتداء کی۔ اور اس بہانے سے مجھے بھی اپنی محفل میں شامل کرلیا۔

 ۔مجھے یقین ہے کہ یہ ساری ٹیم اس اخبار کو صحافت کے اعلیٰ اصولوں کےتحت چلائے گی اور اسمیں بچوں کے ادب کو شامل کرنا آنے والی نسلوں کو اگلے زمانوں کے لیئے تیار کرنا ہے۔

اور اب اس شعر کے ساتھ ساتھ بہت سی دعائیں اس دعا کے ساتھ۔

خدا نصیب کرے احترام لفظوں کا
ادب سے کام لیا جاسکے ادب کی طرح
غزالہ رشید۔کراچی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی اخبار کے بیورو چیف پاکستان احسن پریمی کا پیغام

صحافت کی دنیا میں ایک اور روشن ستارہ "عالمی اخبار"
  میں برطانیہ میں مقیم اردوادب و صحافت میں مستند اتھارٹی و عالمی شہرت یافتہ دانشور،ادیب،شاعر،صحافی و براڈ کا سٹرپیر مرشد جناب صفدر ہمدانی کی زیر ادارت آن لائن روزنامہ"عالمی اخبار" کے اجراءپر انہیں اور ان کی ٹیم کو اس یقین کے ساتھ مبارک باد پیش کرتا ہوںکہ"عالمی اخبار" انفرادی حقوق اور آزادیوں کا اچھا نگران ہوگا اور حق بات کی مہم چلا کر عوام کے رکھوالوںاور ذمہ داروں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنائے گا تا کہ عوام ان کے فرائض و پا لیسیوں کے بارے میں سوال کر سکیں۔ جمہوریت،ترقی،اور انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے اقدام کا ایک دوسرے پر انحصار ہے اور یہ ایک دوسرے کیلئے باعث تقویت ہیں۔جمہوریت کا انحصارلو گوں کی آزادانہ رائے کے اظہار پر ہے جس سے وہ اپنے نظام ہائے سیاسی،معاشی،سماجی،اور ثقافتی کا فیصلہ کرتے ہیں۔اس تناظر میں یہ بھی  امید کرتا ہوں کہ عا لمی اخبار جمہوریت، ترقی،اور پوری دنیا میں انسانی حقوق ،صحافتی
و بنیادی آزادیوں کو مظبوط بنانے اور فروغ دینے کیلئے حمایت کرے گا۔
 
        عالمی اخبار کی ترقی وکامیابی کیلئے دعا گو
        چو دھری احسن پریمی
        ایڈیٹر انچیف
   ایسوسی ایٹڈ پریس سروس " اے پی ایس " اسلا م آباد بین الا قوامی خبر رساں ایجنسی
    چیف ایڈیٹر و پبلشر انسانی ترقی ویکلی اسلام آبادوراولپنڈی                
سینئر نائب صدر ،آل پاکستان کالمسٹ ایسوسی ایشن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی اخبار کے بیورو چیف آسٹریلیا مصباح حسین کا پیغام
تاریکیاں جو بڑھیں بھی تو کس طرح آخر
چراغ روغن جاں سے  جلا دیا میں نے۔

کہتے ہیں کہ اس عہد کا سب سے بڑا مؤرخ صحافی ہے۔لیکن المیہ یہی ہے کہ چند نام نہاد صحافی جن کو صحافت کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں ہوتی اور سچ بات تو یہ کہ وہ صحافی ہوتے ہی نہیں بلکہ شیر کی کھال پہننے والے گیدڑ ہوتے ہیں، ایسے لوگ آج کے دور میں اپنی اپنی مرضی کے شیطانی صحیفے  چھاپ چھاپ کر اہل زمین کو بھیج رہے ہیں۔

یہ گروہ چند سکوں، ڈالرز، یورز، ین، لیراز اور کرونئے کے صدقے اپنے قلم اور ضمیر سب کچھ کو بیچ ڈالتے ہیں اور اس بات سے آنکھیں چراتے رہ جاتے ہیں کہ ہماری تحریرں ہمارے آثار کے طور پر خالق لوح و قلم کے ہاں محفوظ ہوتی رہتی ہیں اور کل کو یہی ہمارے خلاف گواہی کے لئے بولیں گی۔

جہاں ایک طرف یہ المیہ ہے تو دوسری طرف ہم خوش نصیب بھی کہ ہمیں سچ لکھنے ، سننےاور بولنے والے ایسے کمیاب لوگ مل گئے ہیں جن کو جھوٹ کے عوض اگر زمیں و آسمان،  قمرو شجر کی ملکیت اور انا پرست فوج کی نصرت بھی مل جائے تو وہ اسکو سنت رسول میں ٹھکرا کر تنہائی کو ترجیح دیتے ہیں اور سچ کا سفر جاری رکھتے ہیں۔ ابو ذر غفاری نے بھی تو یہی کیا تھا۔ ابو ذر نے قلت رفقاء کا گلہ کبھی کیا ہی نہیں۔ لیکن اسکا سچ اتنا بڑا تھا کہ اسکی تنہائی سے دمشق کی فوجیں کانپ اٹھیں ۔

ہماری خوش قسمتی دیکھیں کہ ہمارے عہد میں بھی ایسے کردار کے لوگ موجود ہیں جن میں سےایک صفدر ہمدانی ہے، جو اپنی ذات میں نہ صرف انجمن ہے، بلکہ ایسی مقناطیسی کشش رکھتا ہے کہ جہاں کہیں بھی خون میں طہارت و صداقت کو جوہر ملے گا، اس مقناطیس کی طرف کھچ جائے گا۔

میں اگر سچ کہوں تو یہی ہوگا کہ جناب ہمدانی کی یہ ‘‘عالمی اخبار‘‘ کے اجرا کی کاوش اہل صدق و وفا پر ایک مہربانی کے سوا کچھ نہیں کہ اپنی ہمہ جہت مصروفیات کے باوجود انہوں نے ہماری ( اور شاید ہم سے کئی اور بھی ہوں) درخواست پر اتنا بڑا کام کر کے دے دیا۔

 اب یہ ہمارا نصیب کہ سچ کی اس دادگاہ سے ہم کتنا کتنا استفادہ کر پاتے ہیں۔ زرد صحافت نامی اندھیروں کو خبر ہو کہ خون دل سے لکھی جانے والی تحریں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم نے جو دیا چراغ جاں کے تیل سے روشن کیا ہے، اسکی روشنی چہار دانگ عالم کو منور کر کے چھوڑے گی۔۔۔۔انشاءاللہ۔

کامیابی کے اس سفر جہاں اس سارے کاروان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ساتھ میں یہ یقین دہانی بھی کراتا ہوں کہ میں آپ کے شانہ بشانہ چلنے کے لائق تو نہیں، لیکن ہوائیں چاہے جتنی تیز چلیں، میں آپکے نقش پا کو گم نہ ہونے دوں گا اور قدم بر قدم آپکی متابعت میں بڑھتا رہوں گا۔

عالمی اخبار کی ویب سائٹ واقعتا نہایت خوبصورت انداز سے تیار کی گئی ہے اور مجھے یقین ہے کہ بابا جی کی سربراہی میں یہاں رونق میں اضافہ ہوتا رہے گا اور عالمی اخبار ترقی  کے بام عروج پر بہت جلد پہنچ جائے گا۔۔ ۔۔دیگر احباب کے استبصارات دیکھے۔ ان جیسے ارفع کلمات ادا کرنے کے اہل تو نہیں ہوں، لیکن خوشی کے اس موقع پر آپ سب کا شریک کار ہوں۔
بابا صفدر ہمدانی آپکا شکریہ۔

نا چیز مصباح۔آسٹریلیا
..................................

عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلیٰ ڈاکٹرنگہت نسیم کا پیغام
محترم صفدر ھمٰدانی صاحب

سچ کا سفر سب کو مبارک ھو

اٍن سطور کو لکھتے وقت میری آنکھیں اشکبار ھیں اور میرے لفظوں میں اترتی نمی میر ی سچائی اور اُس محبت کی گواہی دے گی جو مجھے اپنے ساتھیوں سے ھے جنہوں نے ھر قدم پر اپنی راہنمائی اور بے لوث ایثار سے مجھے زیر بار رکھا ۔ میں آپ سب کی انتہائی ممنون ھوں جنہوں نے مجھے اٍس منصب کا اہل سمجھا اور نائب کا قلم میرے ھاتھ میں دیا ۔ میں اٍس مقام پر جہاں اپنے رب العزت کی بارگاہ میں اس زمہ داری کو احسن طریقے اور لگن کے ساتھ ادا کرنے کی التجا کے ساتھ کھڑی ھوں وہیں آپ سب کے سامنے بھی ھوں اور دعا کی طالب ھوں کہ میری راہنمائی اپنے فرائض میں شمار کرتے ھوئے کیجیئے گا اور مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ۔

عالمی اخبار کا اجرا کبھی بھی ممکن نہ ھوتا جو میرے اللہ سبحان تعالی کی مدد کے بعد آپ سب کی توجہ اور مان ساتھ نہ ھوتا ۔

میں اس سفر میں ساتھ چلنے والوں کے ذکر سے پہلے اس بات کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں کہ آپ سب کو اس امر سے بھی آگاہ کر دوں کہ ہم نے پاکتسان ٹی وی اور ریڈیو کی معروف نیوز کاسٹر،شاعرہ اور اسوقت بی بی سی لندن کی اردو سروس سے منسلک ماہ پارہ صفدر سے درخواست کر رکھی ہے کہ وہ سینئر نائب ندیرہ اعلیٰ مدیر عالمی امور کے طور پر ''عالمی اخبار'' کے ساتھ اس سفر میں شامل ہو کر ہمارے حوصلے کو بھی بڑھائیں اور اپنی صحافیانہ اور علمی و ادبی تجربے سے اخبار کے قارئیں کو بھی مستفید کریں۔ہمیں یقین ہے وہ جلد ہی ہمیں اپنے مثبت فیصلے سے آگاہ کریں گی۔

ھمارے اٍس سفر میں جناب شمس جیلانی صاحب جیسے راہنما  کی شمع جیسی نایاب محبت کی تابناکی شامل ھے  ۔ جو ھماری ٹیم میں کینڈا کے بیورو چیف ھیں ۔شمس بھائی  بڑی محبت سے میری ھر بات کا مان رکھتے ھیں اور کتنے بھی مصروف ھوں اپنے قلمی تعاون کو حسب وعدہ نبھانے کی ھر ممکن کوشش کرتے ھیں اور مجھے ای میل میں لکھتے ھیں “ نگہت بہن آپ سے کیا وعدہ پورا کر دیا ھے ۔ دیکھ لیں “ اور واقعی میں کالم کی اور قطعات کی خوبصورتی دیکھتی رہ جاتی ھوں ۔

جناب آصف جیلانی صاحب کی سیاسی بصیرت کی میں مداح ھوں اور انہیں سیاسی امورکا قلمدان دیتے ھوئے ھمیں اپنی کامیابی پر فخر ھو رھا ھے کہ ھمارے ساتھ ایسے گراں قدر انسان ھیں جو اپنی بصیرت اور دوراندیش بصارت کے ساتھ ھر حال میں شانہ بشانہ ساتھ ھیں ۔

سید مصباح حسین  اپنے لکھنے میں جس طرح جری نظر آتے ھیں ویسے ھی اُن سے ملنے کے بعد اُن کے بارے میں کہنے کو جی چاھتا ھے ۔ اُن کی ھمہ وقت کی مصروفیت کے باوجود دل و دماغ سے ھمارے ساتھ ھر وقت رھنا ھمارے لیئے قابل فخر ھے ۔ اُن کے تحفوں کی طرح کے نایاب سے کالم اور بلاگ یقینا عالمی اخبار کے پڑھنے والوں کے لیئے بھی بھی نایاب تحفے کی طرح ھونگے ۔ انہیں آسٹریلیا کا بیروچیف بناتے ھوئے ھمیں آپ سب کا تعاون رھا ۔ جس کی شکرگزاری ھم پر لازم ھے۔

 ھماری ٹیم کے ایک اور گراں قدر رکن جناب عمران چوھدری  جو یورپ کے بیورو چیف ھیں اور وہ  کالم اور بلاگز کو جاندار اور شاندار بنانے کے سارے ھنر سے آراستہ ھیں ۔ عالمی اخبار کا ادارہ اُن کا ممنون ھے کہ انہوں نے اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود سفارت کا قلم سنبھالا اور اپنی محبت کا اظہار ھر ممکن تعاون کی صورت میں کیا ۔

یہاں آج میں اپنی خوش قسمتی پر نازاں ھوں کہ بابا نے محترم محمد نسیم احمد اشرفی صاحب سے درخواست کی کہ ھماری ٹیم کا حصہ ھوں اور عالمی اخبار میں مذھبی اور دینی امور کا قلمدان قبول کر لیں ۔ اور میں اپنے دوستو سے اپنی خوشی کو بانٹنا چاھتی ھوں کہ محترم محمد نسیم احمد اشرفی صاحب میرے والد ھیں اور میری پرورش اسی شجر سایہ دار کی شفقت تلے ھوئی ھے جہاں ویرانے بھی شاداب ھو جاتے ھیں ۔ اور میں یہ بھی بتا دوں کہ میرے ابا جی جنہوں نے ملکوں ملکوں گھوم کر ، اپنے وقت ، مال اور زبان سے اللہ پاک کی زمین پر اُس کے نام کی خاطر ھر طرح کی جتنی بھی مشکلیں اور تکالیف اٹھائی ھیں پر کبھی خود کو اپنے رب کے سوا کہیں نہیں جھکایا ۔ اُن کا حوصلہ میرے لیئے ھمیشہ مشعل راہ رھا ھے ۔ اور انہوں نے اپنی خدمات کے صلے میں ھمیشہ اللہ ، اُس کے رسول اور آلٍ رسول کی محبت کے ساتھ اپنے بزرگوں کی  نسبت کی محبت کے سوا کچھ نہیں چاھا ۔ ھمارے بے حد اصرار پر اپنی بے پناہ مصروفیت کے باوجود ھمیں اپنے نام کی برکت سے مالا مال کیا اور اپنے قلمی تعاون کی ھر ممکن یقین دھانی کرائی ۔ یہ میرے ابا جی کا پہلا دنیاوی عہدہ ھے جو انہوں نے ھم سب کی محبت میں قبول کیا ھے جس کے لیئے ھماری ساری ٹیم اُن کی ممنون ھے ۔

یہاں پرجناب امجد شیخ کا زکر نہ کروں تو شائد اپنے ساتھ ھی زیادتی کر جاؤں گی ۔ میں بابا کو اکثر امجد کے نام کو متبادل “ تسلی“ کہتی ھوں ۔ جس طرح اٍس کڑے وقت میں جب ھمارے خیال تک اداس ھونے  لگتے تھے تو امجد اُتنے ھی سکون سے بابا سے کہتے “ سرکار یہ تو کوئی مسلہ ھی نہیں ھے “ اور انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے ثابت کیا کہ واقعی جیسے کوئی بات نہ تھی ۔ حالانکہ مڑ کے دیکھتی ھوں تو امجد شیخ کی کئی جاگتی راتیں ھیں جو ھمارے سامنے پڑی ھیں ۔ عالمی اخبار اُن کے بغیر ادھورا ھے سو انہی سے درخواست کی کہ یہ ٹکنیکی منصب آپ ھی سنبھالیئے اور سیکنڈنویا کی سفارت بھی ۔ امجد صاحب آپ کا انکسار آپ کا اخلاص ھے اور یہ اللہ پاک کا انعام ھے ھم سب کے لیئے ۔

 اسی ٹیکنکی مہارت کو ساتھ لے کر چلنے والی ھماری ٹیم میں شامل زرقا مفتی بھی ھیں ۔ جن  کے بغیر عالمی اخبار کابلاگ سیکشن  اتنی خوبصورت تعبیر کے ساتھ پڑھنے لکھنے والوں کو نہ ملتا  ۔ اگر میں یہ کہوں کہ خوبصورت خیال و فکر کی کالم نگار اور شاعرہ  زرقا مفتی کو اُن کی  تحریریں ھی خاموشی اور گریز کی دنیا سے نکال لائی ھیں تو آپ سب مجھ سے اتفاق کرینگے ۔  اُن کا ادب کی مدیرہ ھونا کسی کے لیئے بھی حیرانگی کا باعث نہ ھوا جتنا خود زرقا مفتی کے لیئے تھا ۔ آپ کو اس منصب کی بہت مبارکباد ھو کہ آپ نے  باوجود خانگی مصروفیت کے ھمارے ساتھ اپنی شمولیت کو جس محبت اور بے لوث طریقے کے ساتھ جاری رکھنے کا وعدہ کیا ھے  وہ ھمارے لییئے باعث ٍ فخر ھے ۔

ایک شکریہ پاکستان کے شہر اسلام آباد کے جناب احسن پریمی کا بھی ادا کرنا ہے کہ جو اپنی عالمی خبر رساں ایجنسی''  اے پی ایس'' کی بے شمار ذمیداریوں کے ساتھ ہمارے اس سفر میں بھ ہمراہی ہوئے ہیں اور انہوں نے جہاں پاکستان کا بیورو چیف ہونے کی ذمیداری قبول کی ہے وہاں اپنی خبر رساں ایجنسی کا تمام مواد بلامعاوضہ شائع کرنے کی پیشکش بھی کی ہے جس پر''عالمی اخبار'' کا ادارہ انکا ممنون ہے۔ احسن پریمی صاحب ان صحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے صحافت میں بے باکی اور ایمانداری کو اپنا معیار رکھا ہے اور صحافت کو تجارت نہیں بنایا۔ انکی اس کارواں میں شمولیت ہمارے لیئے باعث عزت ہے۔

بھارت سے بیورو چیف کے طور معروف سینئر صحافی اصغر انصاری اور بھارت کے لیے رابطہ کار حسین افسر بھی اس نئے سفر پر ہمارے ساتھ ہیں جنکا میدان صحافت میں وسیع تجربہ ہم سب کے لیئے حوصلہ افزائی کا باعث ہو گا۔ ح

بات بلاگ کی ھو تو تانیہ رحمان کا زکر لازم ھو جاتا ھے ۔ تانیہ رحمان گو کہ لکھنے کے میدان میں نووارد ھیں ۔ لیکن اپنے اسلوب اور مضمون سے بالکل نہیں لگنے دیتی ۔تانیہ رحمان ھماری ٹیم کا حصہ ھیں اور بلاگ کی سائٹ کی نگراں ھیں  ۔

یہاں پر ایک بات اور بھی بہت ھی خوشی کے ساتھ بتانے جا رھی ھوں کہ ھم نے “بچوں کے ادب “ کا خصوصی انتظام کیا ھے  جس میں بچے بڑے ، انگلش اردو میں بچوں کے متعلق لکھ سکیں گے تاکہ ھمارے بعد ھمارے کام اور منصب کو آگے بڑھانے کا کوئی مستقل انتظام ھو سکے ۔ اٍس کار ٍ خیر کو پاکستان میں میری عزیز دوست غزالہ رشید ایک مدت سے کر رھی ھے ۔ غزالہ رشید کے کریڈٹ پر جہاں صحافت ، ادب اور براڈکاسٹنگ ھے وہاں اُن کا خاص شعبہ بچوں کا ادب ھے اور جس پر اُن کی کئی کتابیں حال ھی میں شائع ھو ئی ھیں ۔
کیوں نہ آج ھم سب مل کر عالمی اخبار کے اجرا کا جشن بھی مل کر منایئں اور ھم سب ایک دوسرے کا تعارف بن جائیں اور جہاں جائیں  اپنی سچایئوں  اور سفارت کو ساتھ لے کر چلیں اور یوں ایک دوسرے کے لیئے سیکھنے سیکھانے کا بہانہ ھو جایئں ۔ یہی ھمارا پیغام ھے جہاں تک ھم ایک سے دوسرے کو پہنچا سکیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برسلز سے عمران چوہدری بیورو چیف یورپ کا پیغام

گرامی قدر صفدر ھمٰدانی صاحب

السلام و علیکم، مُنیر نیازی کہتا ہے کہ “ اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو، میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا۔ جناب ہمدانی صاحب آپ کو تو‘‘ آئرن مین ‘‘مانتا ہی تھا لیکن اب اندازہ ہو رہا ہے کہ آپکی ٹیم میں شامل ہونے کیلئے بھی یہی صلاحیت چاہیئے۔

ماشاءاللہ، دن رات کی کوشش آخر رنگ لے ہی آئی دریاؤں پر دریا عبور کرتے چلے جائیں، یونیورسٹی دور کا نعرہ یاد آ رہا ہے، قدم بڑھاؤ ہمدانی ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

انشاء اللہ آپکی اور آپکے سب دوستوں کی کوشش سے یہ سائٹ بھی اوجِ کمال تک جا پہنچے گی۔ ہمارے بازو اور ہمارا قلم، ہماری سوچ اور ہمار عمل آپکے ساتھ ہے۔

آپکو ہم جانتے ہیں کہ 24 میں سے 20 گھنٹے آپ کام کرتے ہیں اور جس تیزی سے یہ سائٹ بنی ہے خواب میں دیکھا جا سکتا ہے ایسا چمتکار، لیکن اب حقیقت میں دیکھا ہے تو یقین نہیں آ رہا، انشاء اللہ ایسے ہی محنت کی گئی تو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا یہ اخبار۔ جتنی محنت آپ نے‘‘ مطلقہ‘‘ اخبار کے لیئے کی تھی اور اُسے زمین سے اُٹھا کر آسمان پر بٹھا دیا تھا یہ اُس سے بھی تیزی سے اپنے مطلوبہ مقام تک جا پہنچے گی۔ آخر میں میاں محمد کا ایک شعر عرض ہے کہ، نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کِسے نیئں پایا، کِکر تے انگور چڑھایا اتے ہر گچھا زخمایا۔ آپ اپنی خاطر جمع رکھیں خُدا بہترین عادل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی اخبار کے بیورو چیف برائے کینیڈا شمس جیلانی کا پیغام،اخبار کی انتظامیہ کے نام

قبلہ ھمدانی صاحب اسلام علیکم و رحمہ

آپ کی زبانی تمام حالات سے آگاہی ہوئی اور فون پر بھی گفتگو ہوئی جس سے تمام صورتِ حال واضح ہوئی ۔اللہ تعالیٰ نیت کا ہی پھل دیتا ہے اور اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ اس لیئے آپ بھی تنہا نہیں ہیں اور وہ سب احباب جو آپ کی وجہ سے آپ کے ساتھ ‘‘القمر‘‘ میں تھے وہ اب یہاں ‘‘عالمی اخبار‘‘ میں بھی آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے۔

ماشا اللہ آپ کی نئی کاوش جو ‘‘عالمی اخبار ‘‘کی شکل میں ہے، بہت ہی خوبصورت ہے ۔ مگرخوبصورتی کو خوب تر بنانے میں ہمیشہ کسی مشاطہ کا ہاتھ ہو تا ہے۔ انشا اللہ یہ سائٹ بھی آپ جیسے مشاق ہاتھوں میں پہونچ کر ہرروزخوب سےخوب تر بنتی جائےگی ۔

جس طرح آپ نے دن رات بسا اوقات انیس انیس گھنٹے کسی معاوضے کے بغیرکام کر کے ‘‘القمر‘‘ میں چار چاند لگا ئے۔اور دیکھتےدیکھتے وہ اپنے دوسرے تمام الیکٹرانک ہم عصروں سے بہت آگے نکل گیا اسی طرح ہم سب آپ کے ساتھ مل کر بہت جلد اسکو بھی واقعی عالمی معیار کا ‘‘عالمی اخبار ‘‘بنا دیں گے۔

جہاں آپ جیسا انسانیت دوست ، بے غرض ، ہرقسم کے لالچ اور تعصبات سے پاک انسان موجود ہو تو مجھے یقین ہے کہ عالمی اخبار بھی انسانیت اور اتحادِ بین مسلمین انشا اللہ اسی طرح داعی ہوگا اور اس کی پالیسی پہلے کی طرح سچ بو لنا اور حق لکھنا ہو گی ۔

 مجھ نا چیز کو آپ نے پورے کینڈا کا بیورو چیف  بنا کر جو اعزاز بخشا ہے۔ گوکہ میں اس کا اہل نہیں ہوں مگر اللہ سبحانہ تعالیٰ کی رہنمائی اورآپ کی ماہرانہ مدد سے میں اس سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کرونگا ۔میرا ہرطرح تعاون آپ کےساتھ ہے۔

 شمس جیلانی۔ کینڈا۔وینکور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عالمی اخبار کے مدیر برائے سیاسی امور آصف جیلانی کا پیغام،اخبار کی انتظامیہ کے نام

محترمی ہمدانی صاحب۔ سلام شوق

آپ کی نئی سایٹ ‘‘عالمی اخبار‘‘دیکھی ۔ بہت اچھا اور دیدہ زیب ڈیزاین ہے۔ القمر آن لائن کو اردو ویب سائٹ پر اخبارات کی دنیا میں ایک منفرد اور یکتا مقام دلوانے کے بعد اب بلاشبہ ‘‘عالمی اخبار‘‘ بھی آپکی انتھک محنت اور آپ کے ساتھیوں کی شبانہ روز بلامفاد محنت کے باعث جلد ہی اعلیٰ مقام حاصل کر لے گا۔

جیسا کہ آپ نے کہا کہ ابھی اس کو اور بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امید ہے کہ جلد اس کاوش میں آپ کامیاب ہوں گے۔

آپ نے مجھے سیاسی امور کے مدیر کا اعزاز بخشا ہے جس کا میں اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتا۔بہر حال یہ آپ کی محبت ہے جو میں اس کارواں میں شامل ہوں۔ آپ کے اس نئے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے اور اس کے فروغ کے لیئے مجھ سے جو بھی ممکن ہوگا میں کروں گا۔ میری تمام نیک تمنائیں آپ سب کے ساتھ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرمنی کے شہر میونخ سے اردو کے ایک شیدائی اور عالمی اخبار کے قدردان
منظور قاضی کا منظوم خراج تحسین

ایک تہنیتی پیغام : عنوان : عالمی اخبار

مونس و ہمدم ہمارا عالمی اخبار ہے
ہم کو اپنی جاں سے پیارا عالمی اخبار ہے

دستِ صفدر کا سنوارا عالمی اخبار ہے
چشمِ نگہت کا ستارا عالمی اخبار ہے

شیخ امجد کا دُلارا عالمی اخبار ہے
یہ تمھار ا اور ہمارا عالمی اخبارہے

امنِ عالم کا ادارا عالمی اخبار ہے
بحر ِ اردو کا کنارا عالمی اخبار ہے

کیوں نہ ہو منظور اسکی شکل وصورت پر نثار
بزمِ اردو کا سہارا عالمی اخبار ہے

دلی دعاؤں اور نیک تمناوں کے ساتھ:
اردو کا ایک شیدائی
منظور قاضی ۔ از میونخ جرمنی ِ

عزت مآب جلیل عباس جیلانی کے خط کا عکس
عزت مآب جلیل عباس جیلانی کے خط کا عکس


:دیگر مضامین
(12.11.2008) صدائے وطن کے ‘‘ایڈیٹر‘‘ سیدجاوید حسین کا پیغام
(08.11.2008)  جون ایلیا سے بچھڑے چھ برس ہو گئے‘
(04.11.2008) سڈنی کی تقریب کمیونٹی ایوارڈ
(03.11.2008) پاکستان کے بارہ صدر
(03.11.2008) آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں چودہ اگست کی تقریب
(03.11.2008) سڈنی میں محفل ذکر اہلبیت
(03.11.2008)  سڈنی اور میلبورن میں میلاد آئمہ کی محافل(آخری قسط)
(03.11.2008) سڈنی میں صفدر ھمٰدانی کے اعزاز میں محفل غزل
(01.11.2008) یکم نومبر ایک یادگار دن رہے گا
(29.10.2008) کوئٹہ کا 1935کا تباہ کُن زلزلہ
(25.10.2008) چہروں کی بجائے اب نظام بد لا جائے ۔
(22.10.2008) بجلی کا بل اور کرنٹ
(20.10.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر انگریزی پیغامات
(13.10.2008) وینس ٹی وی لندن کا مشاعرہ
(07.10.2008) جشنِ مرتضوی 2008 کراچی
(04.10.2008) وینس ٹی وی لندن کا مشاعرہ
(04.10.2008) لندن میں نصبِ علم کی تقریب
(04.10.2008) سڈنی میں ایک خوبصورت موسیقی کی شام
(04.10.2008) پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور باب تحریر ہوا
(04.10.2008) پاک ڈچ نیشنل فورم کایادگار مشاعرہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں