15.10.2026, 06:51am , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

پاکستان کے تیسرے صدر ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے
05.01.2016, 09:35am , منگل (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

ذوالفقار علی بھٹو کی پیدائش

پاکستان کے تیسرے صدر ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے بمبئی ، کیلیفورنیا اور آکسفرڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی میں وکالت کا آغاز کیا اور ایس ایم لاء کالج میں بین الاقوامی قانون پڑھانے لگے۔ جلد ہی ان کی شہرت حکومتی ایوانوں تک جا پہنچی۔ 1958ء میں ایوب خان نے انہیں اپنی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا۔ 1963ء میں وہ پاکستان کے وزیرخارجہ کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کے اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں انقلاب آگیا اور پاکستان عالمی تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا۔ ستمبر 1965ء میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف بڑے بھرپور انداز سے پیش کیا۔ جنوری 1966ء میں جب صدر ایوب خان نے اعلان تاشقند پر دستخط کیے تو ذوالفقار علی بھٹو بڑے دلبرداشتہ ہوئے اور اسی برس وہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے۔
 انہوں نے 30 نومبر 1967ء کو لاہور میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جو بہت جلد پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں انہوں نے مغربی پاکستان میں واضح کامیابی حاصل کی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ 1971ء میں پاکستان کے صدر اور پھر 1973ء میں پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے 1977ء کے عام انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی مگر حزب اختلاف نے ان انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
حزب اختلاف نے انتخابی نتائج کے خلاف ایک ملک گیر تحریک چلائی جس کے نتیجے میں 5جولائی 1977ء کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے جناب ذوالفقار علی بھٹوکو ان کے عہدے سے معزول کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ دو ماہ بعد ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا۔ 18 مارچ 1977ء کو انہیں اس قتل کے الزام میں موت کی سزا سنادی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ تین ججوں نے انہیں بری کرنے کا اور تین ججوں نے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس ، جسٹس انوار الحق نے اپنا وزن ان ججوں کے پلڑے میں ڈال دیا جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی موت کی سزا کے توثیق کی تھی۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں تختہ دار پر پہنچا کر ان کی زندگی کا چراغ گل کردیا گیا۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

٭5 جنوری 2000ء کو پاکستان کے نامور مصور بشیر مرزا کراچی میں وفات پاگئے اور ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
بشیر مرزا8جون 1941ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں سکونت پذیر ہوئے۔ 1958ء میں انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں داخلہ لیا اور 1962ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ 1965ء میں انہوں نے کراچی میں نائیجیریا کے سفیر کی اقامت پر اپنی پہلی سولو نمائش کی۔ اسی برس انہوں نے کراچی میں دی گیلری کے نام سے ایک آرٹ گیلری کا آغاز کیا جو نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کی بھی پہلی پرائیویٹ آرٹ گیلری تسلیم کی جاتی ہے۔ 1967ء میں ان کی مشہور ڈرائنگ سیریز پورٹریٹ آف پاکستان کا پورٹ فولیو منظر عام پر آیا۔ 1971ء میں انہوں نے کراچی میں Lonely Girl کے نام سے اپنی پینٹنگز کی نمائش کی۔ اس کے بعد انہوں نے اسی نوعیت کی کئی اور نمائشیں بھی کیں۔ بشیر مرزا کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا اس کے علاوہ 14 اگست 2006ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے پینٹرز آف پاکستان کی سیریز کے جو ڈاک ٹکٹ جاری کئے تھے ان میں بشیر مرزا کی تصویر اور ان کی پیٹنگز سے مزین ایک ڈاک ٹکٹ بھی شامل تھا۔
 ----------------------------------------------------------------
موسیقار نذیر علی کی وفات

٭5 جنوری 2003ء کو پاکستان کے مشہور فلمی موسیقار نذیر علی لاہور میں وفات پاگئے۔
نذیر علی 1945ء میں گکھڑ منڈی ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔نذیر علی اپنے ہم عصر موسیقار ایم اشرف کے شاگرد تھے اور ان کے ساتھ تیس مارخان اور آئینہ فلم میں معاونت کرچکے تھے۔ نذیر علی نے پہلی مرتبہ پیداگیر میں موسیقی دی تاہم ان کی شہرت کا ستارا فلم دلاں دے سودے سے چمکا۔ نذیر علی کی دیگر فلموں میں جنٹرمین، اکبریٰ، دلا دے سودے، سجناں دور دیا، مستانہ ماہی، سلطان، عشق میرا ناں، دلدار صدقے، وچھڑیا ساتھی، بائیکاٹ، ہتھیار، سیونی میرا ماہی، بڈھا شیر، لال طوفان اور گجر 302 کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے 36 سال میں 140 فلموں میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے 14 فلموں میں دھمالیں ریکارڈ کروائیں۔اسی باعث انہیں دھمال کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔نذیر علی لاہور میں فیصل ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ 
----------------------------------------------------------------
٭5 جنوری 1928ء پاکستان کے مشہور ٹیسٹ کرکٹر امتیاز احمد کی تاریخ پیدائش ہے۔
امتیاز احمد لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 1952ء میں بھارت کے خلاف کیا اور مجموعی طور پر 41 ٹیسٹ میچوں میں حصہ لیا جس میں انہوں نے تین سنچریوں کی مدد سے مجموعی طور پر 2079 رنز اسکور کیے۔ وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی تھے جنہیں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری کرنے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے یہ ڈبل سنچری 26 سے 31 اکتوبر 1955ء کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے لاہور ٹیسٹ میں اسکور کی تھی۔ امتیاز احمد نے اپنی اس یادگار اننگز میں 28 چوکوں کی مدد سے 209 رنز اسکور کیے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس یادگار اننگز کی اگلی اننگز میںکوئی رن بنائے بغیر صفر کے اسکور پر آئوٹ ہوگئے اور یوں وہ پاکستان کے پہلے کھلاڑی قرار پائے جس نے کسی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں ڈبل سنچری اسکور کی اور دوسری اننگز میں صفر کے اسکور پر آئوٹ ہوئے۔
 انہوں نے 1961ء میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی۔

:دیگر مضامین
(04.01.2016) ٭4 جنوری 1931ء جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی تاریخ وفات
(03.01.2016) ٭3 / جنوری 2005ء کو پاکستان کی بلند ترین عمارت ایم سی بی ٹاور کا افتتاح 
(02.01.2016) ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 / جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے 
(01.01.2016) فضل الٰہی چوہدری یکم جنوری 1904ء کو مرالہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے 
(31.12.2015) کرنل (ر) غلام سرور  31  / دسمبر1928ء کو جہلم میں پیدا ہوئے
(30.12.2015) ٭30 /  دسمبر 1967ء کو پاکستان کی نامور گلوکارہ کوثر پروین وفات پاگئیں
(29.12.2015) ٭29 / دسمبر 1976ء پاکستان کے مشہور اسپن بائولر ثقلین مشتاق کی تاریخ پیدائش ہے
(28.12.2015) ٭28 / دسمبرکوخواجہ ناظم الدین نے واہ میں پاکستان آرڈی ننس فیکٹری کا افتتاح کیا
(27.12.2015) ٭27 / دسمبر 1797ء اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ غالب کی تاریخ پیدائش ہے۔
(26.12.2015)  چھبیس دسمبر 2006ء کواردو اور پنجابی کے شاعر منیر نیازی لاہور میں وفات پاگئے 
(25.12.2015) بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح 25 / دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے
(24.12.2015) قتیل شفائی  24 / دسمبر 1919ء کو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے
(23.12.2015) سید عطاء اللہ شاہ بخاری 23 / دسمبر 1892ء کو اپنی ننھیال پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے
(22.12.2015) ٭22 / دسمبر1952ء کو فیض کا شعری مجموعہ ’’دست صبا‘‘ منظر عام پر آیا
(21.12.2015) ٭ 21 / دسمبر 1982ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری وفات پاگئے۔
(20.12.2015)  سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں
(19.12.2015) عالم اسلام کے عظیم فلسفی امام غزالی کی تاریخ وفات 19 / دسمبر 1111ء   ہے۔
(18.12.2015) علامہ رشید ترابی 18 / دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے 
(17.12.2015) سترہ / دسمبر 2002ء کو ڈاکٹر محمد حمید اللہ فلوریڈا امریکا میں وفات پاگئے
(16.12.2015) سولہ دسمبر1971 سقوط ڈھاکا کا خونچکاں اور دل گرفتہ دن ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں