چاہے جیسی بھی ہو شورشِ ایں و آں
ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں
داؤ پر لگ گیے ذہن و دل، جسم و جاں ۔۔۔ امن کی فاختہ کھو گئی ہے کہاں
غم کا سینوں پہ ہے ایک کوہِ گراں ۔۔۔ کھو چکی ہے متاعِ سکونِ جہاں
بم دھماکوں کی ہر گونج کے درمیاں
ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں
شر پسندی کا چھایا ہوا ہے فسوں ۔۔۔ کیا لکھوں ، کیا پڑھوں، کیاسنوں ، کیا کہوں
سب کے پیشِ نظر بس ہے دُنیائے دوں ۔۔۔ شہر کو میرے حاصل نہیں ہے سکوں
اب تو آگے بڑھے امن کا کارواں
ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں
جس کی تحویل میں تھی کتابِ مبیں ۔۔۔ وہ ہدایت سے بیزار ہے بالیقیں
کیسے مامو ن ہو پائے گی یہ زمیں ۔۔۔ نفس کے بت کدے میں جھکی ہے جبیں
مردِ مومن ملے گا مجھے اب کہاں
ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں
آشتی کے فلک پر شفق لائے ہیں ۔۔۔ ہم کتابِ سکوں کا ورق لائے ہیں
ہم تو انسانیت کا سبق لائے ہیں ۔۔۔ ’’صلحِ خیراً‘‘کا پیغامِ حق لائے ہیں
دینِ فطرت کا پیغام لے کر یہاں
ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں
’’السَّلٰمَ‘‘ میں جس وقت تقدیم ہو ۔۔۔ حکمِ رب ہے یہی، اِس کی تعظیم ہو
کوئی ضد ہو،نہ ہوبرہمی ہی کوئی ۔۔۔ صلح کی جو ہو تجویز ،تسلیم ہو
ذہن و دل پر فقط امن ہو حکمراں
ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں
رب تعالےٰ کے گھر کا یہ اِنعام ہے ۔۔۔ امن کا دوسرا نام اِسلام ہے
اور اگر ’’جَنَحُوْ لِسِّلْمِ جَنَہَا لَہَا‘‘ ۔۔۔ یہ ’’تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہ‘‘ کا پیغام ہے
(قرآن میں سورۂ الانفال کی اکسٹھویں آیت میں ہے:’’ وَاِنْ جَنَحُوْ لِسِّلْمِ جَنَہَا لَہَاوتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہ‘‘۔۔۔ اور اگر (دشمن) صلح و سلامتی کی طرف آمادہ ہیں تو تم بھی اِس پر آمادہ ہو جاؤاور اللہ پر توکل کرو۔۔۔‘‘)
دینِ حق میں یقیناًملے کی اماں
ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں
طاعتِ مصطفےٰ کی سعادت ملی ۔۔۔ اور حدیبیہ کی ہم کو حکمت ملی
کیا یہ کافی نہیں مومنوں کے لیے ۔۔۔ ’’حَسْبَکَ اللّٰہ‘‘کی جب بشارت ملی
گو کہ ہم تو نہیں کوئی معجز بیاں
ہم کو دینی ہے امن و اماں کی اذاں