ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر اور اپنی منفرد طرز کے براڈکاسٹر ممتاز میلسی نو جنوری ہفتے کے روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے
اپنے سفر آخرت پر روانہ ھو گئے -
ریڈیو کے ایک سینئر ساتھی ظفر خان نیازی کے مطابق سات بجے نماز عشا کے بعد ان کی
نماز جنازہ رحمانیہ مسجد گلریز راولپنڈی میں ادا کی گئی - ریڈیو پاکستان کے
بہت سے براڈکاسٹر اپنے ساتھی کو الوداع کہنے کیلئے حاضر تھے - ممتاز میلسی
کے خلیق ھو نے اور سب سے پیار واحترام
سے پیش آنے اور ان کے منفرد پروگرام سٹوڈیو بارہ کیلئے ان کی خدمات کو سبهی
خراج تحسین پیش کر رهے تهے - ان کی تدفین رات گئے اسلام آباد کے H- 11
قبرستان میں کی گئی 
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرحوم کے خاندانی ذرائع کے مطابق انکا جنازہ گلریز کالونی اسلام آباد سے آج شب اٹھے گا اور رات آٹھ بجے نماز جنازہ کے بعد اسلام آباد میں ہی انکی تدفین عمل میں آئے گی
ریڈیو پاکستان میں ایک زمانے میں انکا رات کو نشر ہونے والا پروگرام اسٹوڈیو بارہ بہت مقبول ہوا تھا اور وہ اپنے طور پر ایک منفرد طرز کے براڈکاسٹر تھے۔
ممتاز میلسی یکم فروری 1953 کو میلسی پنجاب میں پیدا ہوئے تھے اور 2013 میں ریڈیو سے وہ اپنی ذمیداریاں نبھانے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ انہوں نے 16 جون 1979 میں ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی اور 15مارچ 1987کو سینئر پروڈیوسر بنے
مرنجاں مرنج طبیعت کے ممتاز میلسی نے اپنی مسکراتی شخیصیت کے باعث دوست احباب کا ایک بڑا حلقہ پیدا کیا ہوا تھا
وہ ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کے طور پر آئے اور کنٹرولر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ، وہ کنٹرولر ایکسٹرنل اور کنٹرولر سی پی یو بھی رہے
عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے انکے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور انکے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے
یورپ میں پاکستانی آن لائن اخبارات کی تنظیم پاک یورو جرنلسٹ فورم نے بھی جناب ممتاز میلسی کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے اور انکی مغفرت کی دعا کی ہے۔ لندن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں فورم کے چیرمین صفدر ھمدانی نے ممتاز میلسی کی نشریاتی خصوصیات کی تعریف کرتے ہوئے انکو ریڈیو پاکستان کا سرمایہ قرار دیا اور مائیکروفون سے انکی محبت کو سراہا
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ریڈیو پاکستان کی سرکاری ویب سائٹ ہونے کے باوجود کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ خود ریڈیو پاکستان اپنے اہل کاروں اور ممتاز فنکاروں کی موت کی خبر دینے کا کوئی سلسلہ کرے
وہ لوگ جو اپنی زندگی کا اہم ترین اور طویل عرصہ اس قومی ادارے کو دیتے ہیں انکی آخری اطلاع دینا بھی اخلاقی طور پر ادارے کا فرض ہے