16.10.2026, 05:37am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا
11.01.2016, 05:30am , سوموار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی


ابن انشا کی وفات


٭ابن انشا کا شمار اردو کے ان مایہ ناز قلمکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں اپنے فن کے جھنڈے گاڑے۔ ایک جانب وہ اردو کے ایک بہت اچھے شاعر تھے دوسری جانب وہ مزاح نگاری میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے اور کالم نگاری اور سفرنامہ نگاری میں ایک نئے اسلوب کے بانی تھے۔
ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔
انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔
ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے‘‘ میں اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔
جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

نذرالاسلام کی وفات

٭11 جنوری 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی ہدایت کار نذرالاسلام لاہور میں وفات پاگئے۔
نذرالاسلام 19 اگست 1939ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نیوتھیٹرز کلکتہ کے دبستان کے نمائندہ ہدایت کار تھے اور ان کی فلموں میں ستیہ جت رے، بروا، باسوچڑجی، بمل رائے اور نتن بوس کے اسلوب کی جھلک ملتی تھی۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ڈھاکا سے بطور تدوین کار کیا پھر وہ ہدایت کار ظہیر ریحان کے معاون بن گئے۔ چند بنگالی فلموں کے بعد انہوں نے ایک اردو فلم کاجل بنائی جو بے حد مقبول ہوئی۔ پھر انہوں نے ایک بنگالی فلم کاربو اور ایک اور اردو فلم پیاسا کی ہدایات دیں۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکا کے زمانے میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے فلم ساز الیاس رشیدی کی فلم احساس سے اپنے نئے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ احساس کے بعد ان کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں حقیقت، شرافت، آئینہ، امبر، زندگی، بندش، نہیں ابھی نہیں، آنگن، دیوانے دو، لو اسٹوری، پلکوں کی چھائوں میں، میڈم باوری، بارود کی چھائوں میں، آندھی اور کالے چور کے نام سرفہرست ہیں۔ یہ تمام فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب رہیں۔ بطور ہدایات کار نذرالاسلام کی آخری فلم لیلیٰ تھی، جو ان کی وفات کے بعد نمائش پذیر ہوئی۔ نذرالاسلام فلمی صنعت میں ’’دادا‘‘ کے لقب سے معروف تھے۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
----------------------------------------------------------------

مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ کی وفات


٭11جنوری 1993ء کو سندھ کے معروف روحانی، سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیت مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ کراچی میں وفات پاگئے۔
مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ 16 ستمبر 1919ء کو ہالانو میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ سندھ کے ایک محترم بزرگ حضرت لطف اللہ مخدوم نوح صدیقی سہروردیؒ کے سولہویں سجادہ نشین اور سروری جماعت کے سربراہ تھے۔ یہ گدی پیر پگارا کے بعد سندھ کی سب سے بڑی گدی سمجھی جاتی ہے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ نے اپنے والد میاں غلام محمد اور اپنے چچا میاں غلام حیدر کی وفات کے بعد 1953ء میں اپنی گدی کا انتظام سنبھالا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سیاسی دنیا میں بھی قدم رکھا اور 1953ء میں پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ 1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی توسندھ میں ان کا اولین مرکز مخدوم صاحب کا بنگلہ تھا جو ہالا میں واقع تھا۔ 1970ء میں انتخابی معرکے میں نہ صرف مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بلکہ ان کے بڑے صاحبزادے مخدوم محمد امین فہیم بھی ایک ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کے رکن بننے میں کامیاب ہوئے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ایک وضع دار اور بااصول انسان تھے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کیا مگر پیپلزپارٹی کا ساتھ کبھی نہ چھوڑا۔ پیپلزپارٹی سے ان کا یہ تعلق ان کی وفات تک جاری رہا۔
مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ایک اچھے شاعر اور ادیب بھی تھے ان کی کئی کتب اشاعت پذیر ہوچکی ہیں 

:دیگر مضامین
(10.01.2016) پاک بھارت جنگ کے بعد 10 جنوری 1966ء کو’’معاہدہ تاشقند‘‘ پر دستخط ہوئے
(10.01.2016) ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر ممتاز میلسی کواسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا
(09.01.2016) ٭9 جنوری 1920ء نامور طبیب حکیم محمد سعید کی تاریخ پیدائش ہے
(08.01.2016) ٭8 جنوری 1993ء کو جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جاملے
(07.01.2016) ٭7 جنوری 1976ء کو شاعر سید محمد جعفری‘ کراچی میں وفات پاگئے
(06.01.2016) ٭6جنوری 2008ء کو سائیں اختر لہوری لاہور میں وفات پا گئے
(05.01.2016) پاکستان کے تیسرے صدر ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے
(04.01.2016) ٭4 جنوری 1931ء جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی تاریخ وفات
(03.01.2016) ٭3 / جنوری 2005ء کو پاکستان کی بلند ترین عمارت ایم سی بی ٹاور کا افتتاح 
(02.01.2016) ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 / جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے 
(01.01.2016) فضل الٰہی چوہدری یکم جنوری 1904ء کو مرالہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے 
(31.12.2015) کرنل (ر) غلام سرور  31  / دسمبر1928ء کو جہلم میں پیدا ہوئے
(30.12.2015) ٭30 /  دسمبر 1967ء کو پاکستان کی نامور گلوکارہ کوثر پروین وفات پاگئیں
(29.12.2015) ٭29 / دسمبر 1976ء پاکستان کے مشہور اسپن بائولر ثقلین مشتاق کی تاریخ پیدائش ہے
(28.12.2015) ٭28 / دسمبرکوخواجہ ناظم الدین نے واہ میں پاکستان آرڈی ننس فیکٹری کا افتتاح کیا
(27.12.2015) ٭27 / دسمبر 1797ء اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ غالب کی تاریخ پیدائش ہے۔
(26.12.2015)  چھبیس دسمبر 2006ء کواردو اور پنجابی کے شاعر منیر نیازی لاہور میں وفات پاگئے 
(25.12.2015) بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح 25 / دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے
(24.12.2015) قتیل شفائی  24 / دسمبر 1919ء کو ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے
(23.12.2015) سید عطاء اللہ شاہ بخاری 23 / دسمبر 1892ء کو اپنی ننھیال پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں