14.10.2026, 07:58pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭14 جنوری قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کی تاریخ پیدائش ہے۔
14.01.2016, 08:03am , جعمرات (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی


حفیظ جالندھری کی پیدائش


٭14 جنوری 1900ء اردو کے نامور شاعر اور پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کی تاریخ پیدائش ہے۔
حفیظ جالندھری پنجاب کے مشہور شہر جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔
حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔
حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حفیظ جالندھری نے یہ خوب صورت قومی ترانہ احمد جی چاگلہ کی دھن پر تخلیق کیا تھا اور حکومت پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔
حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں اورسوزو ساز، افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر، گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا، پھول مالی اور بچوں کی نظمیں اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب چیونٹی نامہ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
حفیظ جالندھری نے 21 دسمبر1982ء کو لاہور میں وفات پائی۔ وہ مینار پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں۔
حفیظ جالندھری کا ایک شعر ملاحظہ ہو
دیکھا جو تیر کھا کے  کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

پروفیسر احمد علی کی وفات


٭ 14 جنوری 1994ء کو انگریزی اور اردو کے ممتاز ادیب، نقاد اور دانشور پروفیسر احمد علی کراچی میں وفات پاگئے۔
پروفیسر احمد علی یکم جولائی 1910ء کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا تھا۔ ان کا ایک افسانہ افسانوں کے مشہور اور متنازع مجموعے انگارے میں بھی شامل تھا۔ یہ وہی افسانوی مجموعہ ہے جس پر بعدازاں پابندی لگادی گئی تھی اور جسے اردو کی ترقی پسند تحریک کے آغاز کے اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔ پروفیسر احمد علی انگریزی کی تصانیف میں ہماری گلی، شعلے اور قید خانہ کے علاوہ انگریزی زبان میں لکھی گئیں  Muslim China، Ocean of Night، The Golden Tradition، Twilight in Delhi اور Of Rats and Diplomats کے نام شامل ہیں۔ پروفیسر احمد علی نے قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ بھی کیا تھا جو اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ قائداعظم کا اعزاز عطا کیا تھا۔ وہ کراچی میں گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

لوک گلوکار محمد یوسف کی پیدائش


٭محمد یوسف 14 جنوری 1940ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد استاد لونگ خان بھی سندھ کے معروف لوک گلوکار تھے۔ ان کے خاندان میں کئی اور معروف موسیقار بھی پیدا ہوئے جن میں استاد زوار بسنت کا نام سرفہرست تھا۔ محمد یوسف نے موسیقی کی تربیت گوالیار گھرانے کے مشہور موسیقار استاد امید علی خان اوراستاد منظور علی خان سے حاصل کی۔ وہ سندھی غزل اور کافی گانے پر یکساں عبور رکھتے تھے۔ وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا کلام گانے کے حوالے سے بھی بے حد معروف تھے۔ محمد یوسف نے اپنی گائیکی پر متعدد اعزازات حاصل کئے تھے جن میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھا۔
 سندھ کے معروف لوک گلوکار محمد یوسف 14 فروری 1997ء کو کوٹری ضلع دادومیں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------

استاد امید علی خان کی وفات


٭14 جنوری 1979ء کو پاکستان کے ممتاز کلاسیکی موسیقار اور گائیک استاد امید علی خان وفات پاگئے۔ وہ 1914ء میں امرتسر میں جنڈیالہ گرونامی گائوں میں پیدا ہوئے تھے۔
استاد امید علی خان کا تعلق موسیقی کے مشہور گوالیار گھرانے سے تھا۔ اس گھرانے کا میاں تان سین سے براہ راست نسبی تعلق ہے۔ امید علی خان کے والد استاد پیارے خان اور دادا استاد میران بخش اپنے زمانے کے مشہور گائیک تھے۔
استاد امید علی خان نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی پھر پٹیالہ گھرانے کے استاد عاشق علی خان کے شاگرد ہوگئے۔ یہی سبب تھا کہ استاد امید علی خان کی گائیکی میں گوالیار اور پٹیالہ دونوں گھرانوں کی امتیازی خصوصیات جمع ہوگئی تھیں۔
استاد امید علی خان کے والد استاد پیارے خان ریاست خیرپور سے وابستہ ہوگئے تھے۔ استاد امید علی خان نے بھی اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سندھ میں بسر کیا۔ ان کے شاگردوں میں استاد منظور حسین، فتح علی خاں اور حمید علی خان کے نام بہت نمایاں ہیں۔ استاد امید علی خان کا انتقال لاہور میں ہوا اور وہ وہیں آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(13.01.2016) ٭13 جنوری ٹیسٹ کرکٹر اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی تاریخ پیدائش ہے
(12.01.2016)  نامور شاعر احمد فراز 12 جنوری 1931ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے 
(11.01.2016) ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا
(10.01.2016) پاک بھارت جنگ کے بعد 10 جنوری 1966ء کو’’معاہدہ تاشقند‘‘ پر دستخط ہوئے
(10.01.2016) ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر ممتاز میلسی کواسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا
(09.01.2016) ٭9 جنوری 1920ء نامور طبیب حکیم محمد سعید کی تاریخ پیدائش ہے
(08.01.2016) ٭8 جنوری 1993ء کو جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جاملے
(07.01.2016) ٭7 جنوری 1976ء کو شاعر سید محمد جعفری‘ کراچی میں وفات پاگئے
(06.01.2016) ٭6جنوری 2008ء کو سائیں اختر لہوری لاہور میں وفات پا گئے
(05.01.2016) پاکستان کے تیسرے صدر ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے
(04.01.2016) ٭4 جنوری 1931ء جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی تاریخ وفات
(03.01.2016) ٭3 / جنوری 2005ء کو پاکستان کی بلند ترین عمارت ایم سی بی ٹاور کا افتتاح 
(02.01.2016) ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 / جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے 
(01.01.2016) فضل الٰہی چوہدری یکم جنوری 1904ء کو مرالہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے 
(31.12.2015) کرنل (ر) غلام سرور  31  / دسمبر1928ء کو جہلم میں پیدا ہوئے
(30.12.2015) ٭30 /  دسمبر 1967ء کو پاکستان کی نامور گلوکارہ کوثر پروین وفات پاگئیں
(29.12.2015) ٭29 / دسمبر 1976ء پاکستان کے مشہور اسپن بائولر ثقلین مشتاق کی تاریخ پیدائش ہے
(28.12.2015) ٭28 / دسمبرکوخواجہ ناظم الدین نے واہ میں پاکستان آرڈی ننس فیکٹری کا افتتاح کیا
(27.12.2015) ٭27 / دسمبر 1797ء اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ غالب کی تاریخ پیدائش ہے۔
(26.12.2015)  چھبیس دسمبر 2006ء کواردو اور پنجابی کے شاعر منیر نیازی لاہور میں وفات پاگئے 



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں