16.10.2026, 09:06pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » شمس جیلانی
 

نیاتنازع پاکستان کس تاریخ کو بنا؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی۔ نظر ثانی شدہ
20.01.2016, 01:30am , بدھ (GMT+1)

از۔۔شمس جیلانی

   پچھلے دنوں مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس فقیر کے غریب خانے پر جناب یاور مہدی صاحب کراچی سے تشریف لا ئے جبکہ رہبری کے فرائض کیپٹن منصور صاحب انجام دے  رہے تھے۔  جب  خیرو عافیت سےبات آگے بڑھی تو یہ راز کھلا کہ ذکی  صاحب نے اپنی کتاب کی دو جلدیں ان کو مجھے پہنچانے کے لیے دیں ہیں جب کہ وہ امریکہ کے شہر سیاٹل اپنے علاج کے سلسلہ میں تشریف لا رہے تھے۔ ا ور اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی تھی کہ ایک میں رکھ لوں اور اس پر تبصرہ بھی کروں اور دوسری جناب صفدر ھمدانی کو لندن روانہ کردوں جوکہ جناب مصطفی علی ھمدانی (رح) جیسی تاریخ ساز شخصیت کے نامور فرزند ہیں اور میں ان کے عالمی اخبار سے وابستہ ہوں ۔ حسب الحکم تبصرہ کالم کی شکل میں پیش ِ خدمت ہے۔

    یہ ریڈیو پا کستان پر ایک بہت ہی سیر حاصل اور سودمند کتاب ہے جوکہ جناب ذکی احمد ذکی صاحب کی تحقیق و جائزہ کی شکل میں ہے جوکہ 384 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے جنرل نالج اکیڈمی کراچی نے“ صدائے پاکستان “ کے نام سے شائع کیا ہے۔ کتاب کیا ہے بس معلومات کا خزانہ ہے، اس میں کیا کچھ نہیں ہے؟ جوکہ ریڈیو کے موجد مارکونی سے شروع ہو کر، بابائے ریڈیو پاکستان جناب زیڈ اے بخاری سے ہوتی ہوئی اس افراتفری کے دورمیں ئی نسل پر توجہ دینے والی پہلی شخصیت جناب یاور مہدی پرختم ہوتی۔ میں نے انہیں پہلی شخصیت اس لیئے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے، کیونکہ ہر ایک کو اپنی بقا کی فکر لاحق تھی۔ کسی کے پاس ادھر دیکھنے کی فرصت نہ تھی۔ لہذا جو جہاں تھا وہاں پیر جمانے کی کوشش کر رہا تھا نئی نسل ہی کیا سب کو سب نے فراموش کر رکھا تھا۔ مگر یہ ان کی انفرادیت تھی کہ انہوں نے نئی نسل کو یاد رکھا ! یہاں تک کہ ان کے اپنے بچوں کو ا ن سے شکایت پیدا ہو گئی، جس میں ان کی صاحبزادی محترمہ فوزیہ عسکری شامل ہیں جن کا مضمون اسی کتاب کے صفہات پر موجود ہے۔ کہ میرے والد نے ہم پر بھی اپنے مشن کو ترجیح دی اور ہم ان کی توجہ سے پوری طرح استفادہ نہیں اٹھا سکے۔

 وہ وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا گھر ہی ریڈیو اسٹیشن کو بنا لیا کہ کچھ اس طرح ریڈیو پاکستان میں بچوں کی پھلواڑی سجا ئی کہ شاعروں اور ادیبو ں کی نر سری ا گائے کا باعث ہوئی اس طرح پاکستان ادب اور ثقافت میں خود کفیل ہوگیا۔ اگرموجودہ نسل سے ایک نسل پیچھے کی طرف جھانک کر دیکھیں تو زیادہ تر ادیبوں اور شاعروں ک تعلق ریڈیو پاکستان کی پھلواڑی سے نظر آئے گا، جنہوں نےبہت سے میدانوں میں نام پیدا کیا۔ اور یاور بھائی نے اس طرح مثبت کام کر کے ایک تاریخ ساز شخصیت ہونے کا فخر حاصل کیا۔۔ جس کے لیئے قوم ہمیشہ ان کی احسانمند رہے گی، کیونکہ اپنے بچوں پر اوروں کو ترجیح دینا بڑے دل اور گردے کا کا م ہے۔


ان کے علاوہ جن لوگوں نے ریڈیو پاکستان کو ریڈیو پاکستان بنا نے میں مدد دی ان کی بھی خدمات اس کتاب اجاگر کی گئی ہیں وہ بہت طویل فہرست ہے ، یہاں اتنی گنجائش  نہیں ہے آپ بھی اسی فہرست میں تلاش کیجئے شاید کو شناسا نکل آئے ۔ فاضل مصنف نے اسے جس طرح سجاکر نوک پلک سنوارے ہیں یقیناً یہ انہیں کا حصہ ہے۔ یہ لاہور اور پشاور اور ڈھا کہ پر مشتمل ادارہ تین شہروں سے بچپن شہروں تک کیسے پہونچا ا ولعزمی کی ایک طویل داستان ہے جو کہ اس کتاب میں بڑی خوبصورت سے سموعی گئی ہے۔ ان کے قلم نے مجھے بھی فخر کرنے کا موقعہ عطا فرمایا کہ میرے شہر “ پیلی بھیت کے دو فرزندوں کا اس میں ذکر کیا ہے۔ ایک گم نام ہیں یعنی جناب طاہر خانصاحب اور دوسرے بہت ہی نامور جناب رضی حیدر صاحب۔ اور اس طرح مجھے بھی فخر سے ان کا ذکر کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اس میں طاہر خان صاحب کی یوں زیادہ ا ہمیت حاصل  ہے کہ صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی قیادت میں کانگریس کی حکومت تھی ، جبکہ عوام ان کے بھائی خان عبد الغفار خان (مرحوم ) جوکہ سرحدی گاندھی کہلاتے تھے اپنی ذاتی خدمات کی وجہ سے وہاں کے عوام میں بہت مقبول تھے  وہ ان کو ہی اپنا سب کچھ مانتے تھے؟ مسلم لیگ اور قائد اعظم کے بارے میں ان کی وہی معلومات تھیں جو ان کے لیڈر اور سرحد کے ذرائع ابلاغ ان کو دن و رات بتارہے تھے جو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ جبکہ سرحد کی پاکستان میں شمولیت ریفرنڈم سے مشروط کردی گئی تھی۔ ایسے میں ایک ریڈیو اسٹیشن طاہر خان نے بنا یا اور پھلوں کی ٹوکریوں کے ذریعہ پشاور پہونچاد یا  جب کہ اس سے پہلے سردار نشتر  صاحب کو جوکہ مکرکز میں وزیر مواصلات تھے۔ 

انہوں نے ایمپلی فائر بنا کر دیا تھا۔ اس ریڈیو اسٹیشن نے جس کی آواز  صرف ستر میل تک سنی جاسکتی تھے۔  کے ذریعہ عوام کو مسلم لیگ سے روشناس کرایا۔ اور یہ ریڈیو بھی پورٹ ایبل تھا جو پھلوں کے ٹوکروں میں روز اپنی جگہ بدلتا رہا کیونکہ حکومت اسکی تلاش میں رہتی تھی۔  یہ ہی عوام میں جاگ پیدا کرنے کا باعث ہوا۔ خان صاحب حکومت اسے تلاش کر نے میں ناکام رہی۔ اور مسلم لیگ ریفرنڈم جیت گئی۔ کوئی اور قوم ہو تی تو طاہر خان کو پاکستان بننے کے بعد سر پر اٹھا لیتی؟ لیکن قوم بھول گئی اور انہیں اپنا پیٹ پالنے کے لیے راولپنڈی میں ایک ورکشاپ کھولنا پڑی ممکن ہے نئی نسل کو میری بات سمجھ میں نہ آئے کیونکہ آجکل تو یہ سب چیزیں دکانوں پر عام ملتی ہیں جبکہ اسوقت ان کا حصول جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا؟ اور دوسری شخصیت جناب رضی حیدر  ہیں جن کا تعلق میرے شہر سے ہے، جوکہ  پاکستان کے دانشوروں میں بہت ہی بلند مقام رکھتے ہیں جو قائد آعظم اکیڈمی کے  ڈپٹی ڈائریکٹر رہے ان کی سوانح حیات بھی لکھی اس کے علاوہ  وہ متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔ 


 ذکی صاحب نے کتاب بہت اچھی طرح  سے شروع  کی  کہ اابتدا ء میں بابائے ریڈیو پاکستان کےاایک اقتباس سے شروع کی ہے اس  میں ریڈیو کی تاریخ کو بہت اچھی پیش کیا گیا ہے کہ جو مشکلات اس سلسلہ میں انہیں پیش آئیں جو کہ ایک نئے ملک میں نیا ریڈیو اسٹیشن بنا نے کے بارے میں ہے اور خاص طور پر کراچی ریڈیو اسٹیشن کے بارے میں ہیں ۔ جہاں فوجی بیرکوں میں دار الحکومت بنا اور دار الحکومت کے تقاضے پورے کر نے لیے ۔ایک انتہائی طاقتور ریڈیو اسٹیشن بنا۔ مگر اس کے کچھ پیرا گراف آگے جو جملہ اردو میں لکھا گیا ہے جو یہ ہے کہ قیام پاکستان کے حوالے سے “ 14 اگست کی شب میں ٹھیک بارہ بجے جناب ظہور آزر کی زبانی جملہ انگریزی میں صفحہ 67  پر لکھا گیا ہے۔ جس پیغام یہ جارہا ہے کہ پاکستان 15 اگست کو بنا؟ اس پہ اگر تھوڑی سی کوشش اور کرسکتے تو یہ بات واضح ہوجاتی کہ اصل پروگرام صبح آزادی جناب مصطفی علی ھمدانی کی آواز میں نشر ہوا۔ اس کے علاوہ صرف علامہ اقبال کا ترانہ ہی نہیں بلکہ جناب احمد  ندیم قاسمی  کےچند نغمے بھی پیش کیئے گئے تھے۔ کیونکہ مصطفی علی ھمدانی  صاحب کا اعلامیہ صرف 35 سیکنڈ کا تھا تلاوت بھی اس پہلے دن  نہیں تھی بلکہ  صبح کے پروگرام میں ہوئی تھی ۔ تو اس کتاب کی اہمیت بہت مصدقہ ہوجاتی ۔ جبکہ موجودہ صورت میں ۔ یہ حصہ کئی غلط فہمیوں کو جنم دے رہا ہے اس میں ایک تو یہ ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ اعلان چودہ اگست شب کو ہوا تو پھر پاکستان کا یوم آزادی 15 گست بنتا ہے جس کو کچھ لوگ پہلے متنازع بنا چکے ہیں۔ 

جبکہ حقیقت  یہ ہے کہ وہ 13 اور 14کی درمیانی شب کو ٹھیک بارہ بجے ہونا چاہیے جبھی کہیں جاکر یوم آزادی 14 اگست بنتاہے۔ جو کہ تاریخی حقیقت ہے۔ لارڈ ماانٹ بیٹین  نے کراچی آکر 14 اگست کو پاکستان بر طانیہ کے وائسرائے  کی حثیت سے اقتدار مسلم لیگ کی قیادت کو منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا اور دوسرے دن 15 اگست کو ہندوستان کے گونرجنرل کی حثیت سے  خود حلف لیا تھا۔ کیونکہ یہ سارا کچھ میری نگاہوں کے سامنے گزرا ہے اور یاداشت میں محفوظ ہے۔  اس کو تقویت دینے کے لیے میں یہ دو لنک یہاں پیش کر رہا ہوں جو کہ ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ کا ایک حصہ ہیں ؟ 

http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=specialreport&article=46208
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=specialreport&article=46226



:دیگر مضامین
(09.01.2016) مقدس گائے کا سفر جنگلوں سے لغت تک۔۔۔از... شمس جیلانی
(02.01.2016) پوت ، کپوت اورسپوت۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(26.12.2015) یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شر مائیں۔۔۔ ؟از۔۔ شمس جیلانی
(19.12.2015) دودھ کاجلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(12.12.2015) دستورِ دیرینہ ہے کہ ڈاکو ، ڈاکو ؤ ن پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔۔۔؟از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.12.2015) جانکنی میں کی اس نے جفا سے توبہ!۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(28.11.2015) عالی جی تو شہزادے تھے۔۔ از۔۔۔شمس جیلانی
(21.11.2015) فوج یا الہ دین کا چرا غ۔۔۔ از ۔۔۔ شمس جیلانی
(14.11.2015) گڈ گورنینس، طرہ امتیاز ہے؟ ۔۔۔از۔۔۔شمس جیلانی
(07.11.2015) قانون کے منہ پر تھپڑ؟۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(31.10.2015) بڑھیےدنیا امن کی متلاشی ہے۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(24.10.2015) بھارت کو یہ مذہبی شدت پسندی  لے ڈوبےگی۔۔ ۔از۔۔ شمس جیلانی
(17.10.2015) یہ فتنہ انتہا پسندی اور ہم ۔۔۔از ۔۔۔ شمس جیلانی
(10.10.2015) حرم شریف کے سانحات کو چشمہ اتار کر دیکھیے؟۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.10.2015) جو تم کرو گےوہ ہم کریں گے۔۔۔۔ از۔۔۔۔ شمس جیلانی
(26.09.2015) یہ عید کے پیچھے ٹر کیسی ۔۔۔ شمس جیلانی 
(22.09.2015) وہ جو حج بنا ہی حاجی ہوگئے از ۔۔ ممتازملک ۔ پیرس
(19.09.2015) برق نے تا کا ہے ہر دور میں رمضانی کو۔۔۔ از۔۔۔ شمس جیلانی
(12.09.2015) لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔۔۔از ۔۔۔شمس جیلانی
(05.09.2015) مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں