سعادت حسن منٹو کی وفات
٭ سعادت حسن منٹو اردو کے بہت بڑے افسانہ نگار ہیں۔
منٹو 11 مئی 1912 کو سمرالہ ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں حاصل کی پھر کچھ عرصہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزارا مگر تعلیم مکمل نہ کرسکے اور واپس امرتسر آگئے۔ ابتداء میں انہوں نے لاہور کے رسالوں میں کام کیا پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے بعض نہایت کامیاب ڈرامے اور فیچر لکھے۔ بعدازاں بمبئی منتقل ہوگئے جہاں متعدد فلمی رسالوں کی ادارت کی اس دوران متعدد فلموں کی کہانیاں اور مکالمے بھی تحریر کئے۔قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے اور اپنی عمر کا آخری حصہ اسی شہر میں بسر کیا۔
منٹو کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے جنس کو موضوع بنایا۔ دوسری طرف ہندوستان کی جنگ آزادی سیاست، انگریزوں کے ظلم وستم اور فسادات کو افسانوں کے قالب میں ڈھال دیا۔انہوں نے بیس برس کی ادبی زندگی مین دو سو سے زیادہ کہانیاں تحریر کیں ان کی حقیقت پسندی، صداقت پروری، جرأت و بے باکی اردو ادب میں ضرب المثل بن چکی ہیں۔
۔ وہ میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
محمد حسن عسکری کی وفات
٭18 جنوری 1978ء کو اردو کے نامور نقاد محمد حسن عسکری نے کراچی میں وفات پائی۔
محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919ء کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ہی انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اس یونیورسٹی میں انہوں نے فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرار حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا اور بعدازاں خود بھی تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔
محمد حسن عسکری نے بطور ادیب اپنے کیریئر کا آغاز ماہنامہ ساقی دہلی سے کیا تھا۔ اس رسالے میں شائع ہونے والی عسکری صاحب کی پہلی تحریر انگریزی سے ایک ترجمہ تھا جو نومبر 1939ء میں شائع ہوا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ’’محبوبہ ٔ آمون را‘‘ اس کے بعد 1941ء اور 1942ء میں بالترتیب کرشن چندر اور عظیم بیگ چغتائی پر ان کے دو طویل مضامین شائع ہوئے۔ 1943ء میں فراق گورکھپوری نے ساقی میں ’’باتیں‘‘ کے عنوان سے مستقل کالم لکھنا شروع کیا۔ جب فراق صاحب اس کالم سے دست کش ہوگئے تو دسمبر 1943ء سے یہ کالم عسکری صاحب لکھنے لگے، جنوری 1944ء میں اس کالم کا عنوان جھلکیاں رکھ دیا گیا۔ یہ کالم 1947ء کے فسادات کے تعطل کے علاوہ کم و بیش پابندی سے نومبر 1957ء تک چھپتا رہا۔
قیام پاکستان کے بعد عسکری صاحب نے کچھ عرصہ لاہور میں گزارا۔ پھر وہ کراچی چلے آئے جہاں انہوں نے ایک مقامی کالج میں انگریزی ادب کے شعبہ سے وابستگی اختیار کی اور اپنی وفات تک اسی شعبے سے وابستہ رہے۔
عسکری صاحب اردو کے ایک اہم افسانہ نگار تھے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’جزیرے‘‘ 1943ء میں شائع ہوا تھا۔ 1946ء میں دوسرا مجموعہ ’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے‘‘ شائع ہوا۔ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ ’’انسان اور آدمی‘‘ اور ’’ستارہ اور بادبان‘‘ ان کی زندگی میں اور ’’جھلکیاں‘‘ ، ’’وقت کی راگنی‘‘ اور ’’جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔ اردو ادب کے علاوہ عالمی افسانوی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ فرانسیسی ادب سے بھی بہت اچھی طرح واقف تھے جس کا ثبوت ان تراجم سے ملتا ہے جو انہوں نے بوولیئر اور ازستاں دال کے ناولوں ’’مادام بواری‘‘ اور ’’سرخ وسیاہ‘‘ کے نام سے کئے ہیں۔ آخری دنوں میں عسکری صاحب مفتی محمد شفیع کی قرآن مجید کی تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ کررہے تھے جن میں سے ایک جلد ہی مکمل ہوسکی۔ محمد حسن عسکری کراچی میں دارالعلوم کورنگی میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یاسمین اسماعیل کی وفات
٭18 جنوری 2002ء کو ٹیلی وژن اور اسٹیج کی معروف فنکارہ یاسمین اسماعیل کراچی میں وفات پاگئیں۔
یاسمین اسماعیل 1949ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اپنی اداکاری کا مظاہرہ کیا، جن میں انا، راشد منہاس، تنہائیاں اور تپش کے نام سرفہرست تھے۔ وہ اسٹیج کی ایک اچھی ہدایت کارہ بھی تھیں۔ انہوں نے بہت سے غیر ملکی زبانوں کے ڈرامے اردو میں منتقل کرکے اسٹیج پر پیش کئے تھے۔
یاسمین اسماعیل کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔