15.10.2026, 10:16pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

منٹو نے 18 جنوری 1955ء کو جگر کی بیماری میں لاہور میں  وفات پائی
18.01.2016, 09:01am , سوموار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی


سعادت حسن منٹو کی وفات


٭ سعادت حسن منٹو اردو کے بہت بڑے افسانہ نگار ہیں۔
منٹو 11 مئی 1912 کو سمرالہ ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں حاصل کی پھر کچھ عرصہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں گزارا مگر تعلیم مکمل نہ کرسکے اور واپس امرتسر آگئے۔ ابتداء میں انہوں نے لاہور کے رسالوں میں کام کیا پھر آل انڈیا ریڈیو دہلی سے وابستہ ہوگئے جہاں انہوں نے بعض نہایت کامیاب ڈرامے اور فیچر لکھے۔ بعدازاں بمبئی منتقل ہوگئے جہاں متعدد فلمی رسالوں کی ادارت کی اس دوران متعدد فلموں کی کہانیاں اور مکالمے بھی تحریر کئے۔قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور چلے آئے اور اپنی عمر کا آخری حصہ اسی شہر میں بسر کیا۔
منٹو کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے جنس کو موضوع بنایا۔ دوسری طرف ہندوستان کی جنگ آزادی سیاست، انگریزوں کے ظلم وستم اور فسادات کو افسانوں کے قالب میں ڈھال دیا۔انہوں نے بیس برس کی ادبی زندگی مین دو سو سے زیادہ کہانیاں تحریر کیں ان کی حقیقت پسندی، صداقت پروری، جرأت و بے باکی اردو ادب میں ضرب المثل بن چکی ہیں۔
۔ وہ میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------


محمد حسن عسکری کی وفات


٭18  جنوری 1978ء کو اردو کے نامور نقاد محمد حسن عسکری نے کراچی میں وفات پائی۔
محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919ء کو الٰہ آباد میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1942ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ہی انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اس یونیورسٹی میں انہوں نے فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرار حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا اور بعدازاں خود بھی تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔
محمد حسن عسکری نے بطور ادیب اپنے کیریئر کا آغاز ماہنامہ ساقی دہلی سے کیا تھا۔ اس رسالے میں شائع ہونے والی عسکری صاحب کی پہلی تحریر انگریزی سے ایک ترجمہ تھا جو نومبر 1939ء میں شائع ہوا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ’’محبوبہ ٔ آمون را‘‘ اس کے بعد 1941ء اور 1942ء میں بالترتیب کرشن چندر اور عظیم بیگ چغتائی پر ان کے دو طویل مضامین شائع ہوئے۔ 1943ء میں فراق گورکھپوری نے ساقی میں ’’باتیں‘‘ کے عنوان سے مستقل کالم لکھنا شروع کیا۔ جب فراق صاحب اس کالم سے دست کش ہوگئے تو دسمبر 1943ء سے یہ کالم عسکری صاحب لکھنے لگے، جنوری 1944ء میں اس کالم کا عنوان جھلکیاں رکھ دیا گیا۔ یہ کالم 1947ء کے فسادات کے تعطل کے علاوہ کم و بیش پابندی سے نومبر 1957ء تک چھپتا رہا۔
قیام پاکستان کے بعد عسکری صاحب نے کچھ عرصہ لاہور میں گزارا۔ پھر وہ کراچی چلے آئے جہاں انہوں نے ایک مقامی کالج میں انگریزی ادب کے شعبہ سے وابستگی اختیار کی اور اپنی وفات تک اسی شعبے سے وابستہ رہے۔
عسکری صاحب اردو کے ایک اہم افسانہ نگار تھے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’جزیرے‘‘ 1943ء میں شائع ہوا تھا۔ 1946ء میں دوسرا مجموعہ ’’قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے‘‘ شائع ہوا۔ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ ’’انسان اور آدمی‘‘ اور ’’ستارہ اور بادبان‘‘ ان کی زندگی میں اور ’’جھلکیاں‘‘ ، ’’وقت کی راگنی‘‘ اور ’’جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔ اردو ادب کے علاوہ عالمی افسانوی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ فرانسیسی ادب سے بھی بہت اچھی طرح واقف تھے جس کا ثبوت ان تراجم سے ملتا ہے جو انہوں نے بوولیئر اور ازستاں دال کے ناولوں ’’مادام بواری‘‘ اور ’’سرخ وسیاہ‘‘ کے نام سے کئے ہیں۔ آخری دنوں میں عسکری صاحب مفتی محمد شفیع کی قرآن مجید کی تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ کررہے تھے جن میں سے ایک جلد ہی مکمل ہوسکی۔ محمد حسن عسکری کراچی میں دارالعلوم کورنگی میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

یاسمین اسماعیل کی وفات


٭18 جنوری 2002ء کو ٹیلی وژن اور اسٹیج کی معروف فنکارہ یاسمین اسماعیل کراچی میں وفات پاگئیں۔
یاسمین اسماعیل 1949ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے متعدد ڈراموں میں اپنی اداکاری کا مظاہرہ کیا، جن میں انا، راشد منہاس، تنہائیاں اور تپش کے نام سرفہرست تھے۔ وہ اسٹیج کی ایک اچھی ہدایت کارہ بھی تھیں۔ انہوں نے بہت سے غیر ملکی زبانوں کے ڈرامے اردو میں منتقل کرکے اسٹیج پر پیش کئے تھے۔
یاسمین اسماعیل کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(17.01.2016) ٭17 جنوری 1942ء دنیا کے عظیم باکسر محمد علی کی تاریخ پیدائش ہے۔
(16.01.2016) ٭16 جنوری  کو ہاکی کے نامور کھلاڑی علی اقتدار شاہ دارا وفات پاگئے
(15.01.2016) ٭15 جنوری 1971ء کو قائد اعظم کے مزار کی تعمیر پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی
(14.01.2016) ٭14 جنوری قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کی تاریخ پیدائش ہے۔
(13.01.2016) ٭13 جنوری ٹیسٹ کرکٹر اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی تاریخ پیدائش ہے
(12.01.2016)  نامور شاعر احمد فراز 12 جنوری 1931ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے 
(11.01.2016) ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا
(10.01.2016) پاک بھارت جنگ کے بعد 10 جنوری 1966ء کو’’معاہدہ تاشقند‘‘ پر دستخط ہوئے
(10.01.2016) ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر ممتاز میلسی کواسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا
(09.01.2016) ٭9 جنوری 1920ء نامور طبیب حکیم محمد سعید کی تاریخ پیدائش ہے
(08.01.2016) ٭8 جنوری 1993ء کو جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جاملے
(07.01.2016) ٭7 جنوری 1976ء کو شاعر سید محمد جعفری‘ کراچی میں وفات پاگئے
(06.01.2016) ٭6جنوری 2008ء کو سائیں اختر لہوری لاہور میں وفات پا گئے
(05.01.2016) پاکستان کے تیسرے صدر ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے
(04.01.2016) ٭4 جنوری 1931ء جدوجہد آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کی تاریخ وفات
(03.01.2016) ٭3 / جنوری 2005ء کو پاکستان کی بلند ترین عمارت ایم سی بی ٹاور کا افتتاح 
(02.01.2016) ڈاکٹر رضی الدین صدیقی 2 / جنوری 1908ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے 
(01.01.2016) فضل الٰہی چوہدری یکم جنوری 1904ء کو مرالہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات میں پیدا ہوئے 
(31.12.2015) کرنل (ر) غلام سرور  31  / دسمبر1928ء کو جہلم میں پیدا ہوئے
(30.12.2015) ٭30 /  دسمبر 1967ء کو پاکستان کی نامور گلوکارہ کوثر پروین وفات پاگئیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں