گزشتہ مضمون میں ہم یہا ں تک پہنچے تھے کہ بحکم اللہ سبحانہ تعالیٰ حضور (ص) نے بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا ۔اور جب محصورین نے دیکھا کہ یہ لو گ بغیر جنگ کے واپس نہیں جا ئیں گے تو انہوں نے پھر حیلہ سا زی شروع کر دی اور حضور (ص) سے درخواست کی کہ ہما رے پاس مفاہمت کےلئے ابو لبا بہ (رض) کو بھیج دیں، کیو نکہ وہ انکے حلیف بھی رہ چکے تھے اورکچھ وقت کےلئے ان کے نقیب بھی رہے تھے۔ یاد رہے کہ یک طرفہ طور پر بنو قریظہ نے اہل ِ مدینہ سے غزوہ خندق کے دوران معا ہدہ تو ڑ دیا تھا اور توہین آمیز برتاو بھی کیا تھا اس کے باوجود حضو ر (ص)نے انکی در خواست کو شرف ِ قبو لیت بخشا اور حضرت ابو لبا بہ (رض) کو روانہ فر ما دیا ۔ جب وہ وہا ں پہو نچے تو بنو قریظہ ، ان کی خوا تین اور بچے آہ و زاری کر نے لگے جس سے وہ بھی متا ثر ہو گئے اور ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ جب بنو قریظہ کے سرداروں نے پو چھا کہ کیا تم بھی اس با ت کی سفارش کر تے ہو کہ ہم محمد (ص) کے مطا لبہ پر قلعہ خا لی کر کے چلے جائیں ۔تو انہو ں نے جوا ب میں فر ما یا کہ ہاں !مگر ازرا ہِ ہمدردی یہ بھی اشا رہ کرد یا کہ یہ تمہا رے لیے خود کشی کے مترا دف ہوگا۔اور جب انہیں خیا ل آیا کہ غلط الفا ظ ا نکے منہ سے ادا ہو گئے ہیں۔تو وہ ندا مت کی وجہ سے فو ر اً حضور (ص) سے ملے بغیر مدینہ شریف روانہ ہو گئے ابن ِہشام (رح) نے حضرت ابو قتادہ کی روایت متعد د مستند حوالو ں سے بیان کی ہے اور واقعہ کو اس آیت کی شان ِ نزول بتایا ہے جسکا ترجمہ پیش ِ خدمت ہے(ترجمعہ ) ”اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول (ص) کے ساتھ خیا نت مت کرو اور نہ اپنی اما نت میں خیا نت کرو(جو کرتے ہو ) تم جانتے ہو“(27 -8)۔ ادھر انہوں نے مدینہ پہنچ کر خو د کو مسجد ِ نبوی (ص) کے ایک ستو ن سے با ند ھ لیا اور فر ما یا کہ جب تک میری تو بہ قبو ل نہیں ہو گی۔ اس وقت تک میں آزاد نہیں ہو نگا ۔ ادھر جب واپسی میں دیر ہو ئی تو حضور (ص) نے لو گو ں کو پرسش ِاحوا ل کےلئے بھیجا ،تو انہیں اس معا ملے کا علم ہوا ۔ حضو ر (ص) نے سن کر فر ما یا کہ اگر وہ سید ھے میرے پا س چلے آتے تو میں انہیں معاف کر دیتا ۔لیکن انہوں نے اب معا ملہ اللہ تعا لیٰ کے سپرد کر دیا ہے لہذا اب میں کچھ نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ اللہ تعا لیٰ انکی تو بہ نہ قبو ل فر ما ئیں ۔ ان کی بیوی نما ز کے وقت تشریف لا تیں اور ان کو رہا فر ما دیتیں اور جیسے ہی وہ نما ز سے فا ر غ ہو تے دو با رہ وہ خو د کو با ندھ لیتے حتیٰ کہ بر یت میں یہ آیت نا زل ہو ئی ترجمہ درج ِ ذیل ہے ”اور وہ لوگ جنھو ں نے اپنے گنا ہو ں کا اعتراف کر لیا !انہو ں نے (گو کہ) ایک نیک عمل کے ساتھ(دوسرا) مذموم عمل ملا دیا تھا( مگر ) امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے، بیشک اللہ تعا لیٰ بخشنے والا اور رحیم ہے“ (101-9)۔ لہذا حضور (ص) کے حکم کے مطابق حضرت اُم ِ سلمہ (رض) نے اپنے حجر ے کے در وا زے پرکھڑ ے ہو کر یہ خو شخبر ی سنائی۔ اس کی تفصیل انہیں کی زبا نی اس طر ح ہے کہ ایک صبح حضور (ص) کو انہو ں نے غز وہ بنو قریظہ سے وا پسی کے بعد بہت خو ش دیکھا تو استفسا ر فر ما یا کہ اے اللہ کے رسو ل (ص) اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو خو ش رکھے آ ج آپ بہت مسرور نظر آرہے ہیں؟ تو آپ نے فر ما یا ”کہ اللہ تعا لی ٰ نے ابو لبا بہ (رض) کی تو بہ قبو ل فرمالی ہے اور یہ آیت نا زل فر ما ئی ہے “۔ وہ فرمانے لگیں اگر آپ (ص)اجا زت دیں تو میں ان کو یہ خو شخبری سنا دو ں کہ اللہ تعا لیٰ نے انہیں معاف فر ما دیا ہے تا کہ وہ خو د کو اب آزاد کر لیں اور اس کرب سے نجا ت پا ئیں ۔ جب حضور (ص)نے اجا ز ت مر حمت فر ما دی تو انہو ں نے اپنے حجرے کے دروا زے پر کھڑے ہو کر ان کو یہ خو شخبر ی سنا ئی۔ مگر ا نہو ں نے پھر بھی رہا ہو نے سے انکا ر فرمادیااور کہا کہ تا و قتیکہ حضور (ص) اپنے دست مبا رک سے ان کی رسیا ں نہ کھو لیں ،وہ خود کو آزاد نہیں کر ینگے لہذا حضو ر (ص) حضرت اُم ِ سلمہ (رض) کے حجرے سے با ہر تشر یف لا ئے اور اپنے دست ِ مبارک سے ان کو رہا فر ما دیا ۔لیکن اللہ تعا لی ٰ کو ان کا یہ جذبہ کچھ اس طرح پسند آیا کہ اس ستو ن کو مر جع خلا ئق بنا دیا۔ اور آج تک جو لو گ رو ضہ مبا رک (ص)پر حا ضری دیتے ہیں وہ اس مقا م پر دو رکعا ت نفل شکرا نہ ضرو ر ادا کر تے ہیں۔ یہ ان سا ت ستو نو ں میں سے ایک ہے جو کہ ریا ض الجنہ میں وا قع ہیں جہا ں جا کر ہرزائر دو رکعا ت نماز ادا کر نا با عثِ سعا دت سمجھتا ہے۔آپ نے دیکھا کہ صرف سچی خجالت کی بنا پر اللہ سبحا نہ تعا لیٰ نے اپنے ایک نیک بند ے کو قیا مت تک کےلئے زند ہ جا وید کر دیا؟ بہر حا ل ان کے اس اشارے نے اسقدر بنو قریظہ کو خا ئف کر دیا تھا کہ انہو ں نے اندرو نی طو ر پر یہ فیصلہ کر لیا کہ ہم حیلے بہا نے سے کچھ اور وقت لے لیں مگر بھر پو ر جنگ کر یں اس کے بعد نتیجہ جو کچھ بھی نکلے ۔ ممکن ہے کہ انہیں در پر دہ قریش یا منا فقین کی شہ رہی ہو ، اور وہ ان کی مدد کا انتظا ر کر رہے ہو ں ۔انہو ں نے دو با رہ درخواست کی کہ سعد (رض)بن معاذ کو بطو ر حَکم ان کے درمیان بھیجدیا جائے اور جو وہ فیصلہ کریں انہیں منظور ہو گا ۔لہذا حضور (ص) نے حضر ت سعد (رض) بن معا ذ کا نا م ان کے ایما پر مان لیا۔ جس کا مطالبہ انہو ں نے یہ سمجھ کر کیا تھاکہ اس طر ح انکے ہا تھ مزید وقت آجا ئے گا کیو نکہ وہ شدید علیل تھے ہوا یہ تھا کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر حبان بن عرفہ نے ایسا تاک کر تیر مارا تھا کہ وہ انکی پیشانی میں دو نو ں آنکھوں کے درمیا ن پیوست ہو گیا تھا ۔تیر تو نکا ل کر زخم دا غ دیا جو کہ مند مل نہیں ہوا اور اسوجہ سے ان کی بینا ئی بھی جا تی رہی ۔ جب سے وہ بیماروں کے خیمے میں تھے مگر ان کی دوراندیش نگا ہیں یہ دیکھ رہی تھیں کہ عنقریب بنو قریظہ سے جنگ ہو گی ۔لہذا وہ دعا ما نگا کرتے تھے کہ اللہ تعا لیٰ میری بینا ئی بحا ل کر دے تو میں بنو قریظہ کی جنگ میں شرکت کرنے کی سعا دت حا صل کرو ں لہذا اللہ تعا لیٰ نے اپنے رسول (ص) کی دعا سے بینا ئی تو بحال فر ما دی اور ان کو غزوہ بنو قریظہ میں لڑنے کا مو قعہ بھی عنا یت فر ماد یا۔ چو نکہ وہ جانثا ر ِ رسول (ص) تھے، جیسے ہی ان کو در با ر رسا لت مآب سے حکم ملا انہو ں نے اس حا لت میں بھی یہ خدمت انجا م دینا منظو ر کرلیا ۔ جب وہ تشریف لا رہے تھے تو ان کے قبیلہ کے کچھ لو گ آ ئے اور ان سے کہا کہ چو نکہ بنو قریظہ ہما رے حلیف تھے ۔لہذا آ پ ان کے سا تھ کچھ مہر با نی کا بر تا ؤ فر ما ئیں ۔لیکن ان کے ذہن میں حضو ر (ص) کی وہ حدیث شا ید گو نج رہی تھی کہ مو من ایک ہی را ستے سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا تا ہےیا پھر قر آن کی وہ آیت کہ جس میں کہا گیا ہے کہ جب تم انصا ف کر نے لگو تو پھر کو ئی لحا ظ روامت رکھو ۔انہوں نے جواب دیا کہ آج وہ دن ہے جب میں اپنے نفس سے با لا رہو ں۔ جب وہ در با ر ِ رسالت (ص) میں پہونچے تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”تم لو گ اپنے سردار کی تعظیم کےلئے کھڑے ہو جا ؤ“ جس کو کہ تما م مور خین اور سیرت نگا روں نے تحریر کیا ہے اور مستند حوا لو ں کے ساتھ تحریر کیا ہے۔ جنہیں تحقیق کا شوق ہو تو وہا ں حوا لے اور تفصیلا ت دیکھ سکتے ہیں۔یہاں ہم لو گو ں کو صرف یہ یا د دلا نا چا ہتے ہیں کہ اس سے اکا بر ین کی تعظیم ثا بت ہوتی ہے ؟ واللہ عالم۔ بہر حال وہ بنو قریظہ میں تشریف لے گئے لیکن ان سے بنی قریظہ بات چیت تو کرتے رہے مگر چو نکہ ان کا مقصد دفع الو قتی تھا لہذا ان کا فیصلہ بھی منظو ر نہیں کیا اور جنگ شرو ع کر دی ۔ جنگ کے دورا ن یو م سبت آگیا لہذا انہو ں نے ایک دن کےلئے جنگ بندی کی درخواست کی وہ بھی حضو ر (ص) نے با کما ل شفقت قبو ل فر ما لی ۔اس کے بعد جنگ پھر شروع ہو گئی حتیٰ کہ جو لڑے وہ مارے گئے باقی جو بچ گئے گرفتار ہو ئے لیکن جن کے خلاف جنگی جرا ئم تھے قوا نین کے مطا بق سزا دی گئی۔ کہ اس زمانے میں یہ ہی دستورتھا بلکہ آج بھی نام و نہاد مہذب قو میں بھی ایسا ہی کرتی ہیں۔ بلکہ جو بہت مہذب ہیں وہ کچھ زیا دہ ہی کر تی ہیں۔ اس مو قعہ پر جولو گ گر فتا ر ہو ئے ان میں د شمن ِ اسلا م حئی بن اخطب بھی تھا ۔جس نے ہمیشہ حضور (ص)کی مخا لفت کی اور وہی جنگ ِ خند ق ،بنو نضر اور قریظہ کی تبا ہی کا با عث تھا ۔وہ اس وقت گلا بی رنگ کے لبا س میں ملبو س تھا۔ اور اس نے اپنے لبا س کو بھی دھجی دھجی کر لیا تھا کہ وہ بھی بعد میں مسلما نو ں کے کا م نہ آسکے ۔جب وہ لا یا گیا تو اس کے دو نو ں ہاتھ رسی سے گردن کے ساتھ بند ھے ہو ئے تھے ۔اس حالت میں بھی اس کو اپنے کئے پر کو ئی افسو س نہیں تھا ۔اور اکڑ فو ں بد ستور با قی تھی۔ بجا ئے در با ر ِ رسا لت (ص) میں پہنچ کر ادب سے حا ضر ہو نے کے کہنے لگا خدا کی قسم مجھے اس کا ذرا افسو س نہیں ہے کہ میں نے کیو ں تیری (ص) مخالفت کی۔لیکن مجھے یہ احسا س ہے کہ جو خدا کو چھو ڑ دیتاہے خدا بھی اسے چھو ڑ دیتا ہے۔پھر لو گو ں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگاکہ تقدیر الہٰی کے آگے کسی کی نہیں چلتی یہ ایک سزا تھی جو بنی اسرائیل کےلئے لکھدی گئی تھی۔پھر یہ کہہ کر بیٹھ گیا اور اس کی گر دن اڑا دی گئی۔اسکے الفا ظ میں عبرت ہے ان کے لیے جو خدا کا راستہ چھو ڑ بیٹھیں؟ باقی آئندہ