غزل ۔۔۔۔ بخیہ گرانِ وقت جو سفاک ہو گئے۔۔۔وقا رزیدی ، کراچی
بخیہ گرانِ وقت جو سفاک ہو گئے
اندوہِ غم سے زخمِ جگر چاک ہو گئے
پیشِ نگاہ جن کے نہیں تها شعورِ زیست
وہ خود فریب صاحبِ ادراک ہو گئے
شامل تهے جن میں میری تمنا کے رتجگے
وہ خواب شاخِ چشم پہ ہی خاک ہو گئے
یوں بهی ہوا کہ آنکهہ میں تهی رونقِ امید
یوں بهی ہوا کہ آپ ہی نمناک ہو گئے
موجوں کا شوقِ رقص ، کناروں کا اضطراب
دریا وفورِ جوش میں سفاک ہو گئے
نیندیں رکهی ہیں رہن میں تعبیر کے عوض
سوداگرانِ خواب بهی چا لا ک ہو گئے
ساحل پہ اک ہجوم تها یارانِ شہر کا
ڈوبے جو بحرِ عشق میں وہ پاک ہو گئے
دیتے رہے تهے جو کبهی دریا کو راستہ
وہ شہر اب کہا ں خَس وخا شاک ہو گئے