وسیم اکرم کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز

٭25 جنوری 1985ء کو آکلینڈ کے مقام پر پاکستان اورنیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے مشہور فاسٹ بائولر وسیم اکرم کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ہوا۔ اس ٹیسٹ میچ میں انہوں نے کوئی رنزاسکور نہیں کیا اور 105 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔
وسیم اکرم 3 جون 1966ء کو لاہورمیں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا ٹیسٹ کیریئر 2002ء۔2001ء تک جاری رہا اس دوران انہوں نے 104 ٹیسٹ میچوںمیں حصہ لیا اور مجموعی طور پر 414 وکٹیں حاصل کیں۔
وہ ایک اچھے بیٹسمین بھی تھے اور انہوںنے تین سنچریاں بھی اسکور کی تھیں جن میں زمبابوے کے خلاف ایک ڈبل سنچری بھی شامل تھی۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
استاد شوکت حسین طبلہ نواز کی وفات
٭25 جنوری 1996ء کو پاکستان کے مشہور اور ممتاز طبلہ نواز استاد شوکت حسین لاہور میں وفات پاگئے۔
استاد شوکت حسین 1928ء میں پھگواڑہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد استاد مولا بخش دھرپد گایا کرتے تھے۔ استاد شوکت حسین نے انہی سے پکھاوج

بجانے کی ابتدائی تربیت حاصل کی۔ ان کے انتقال بہت وہ اپنے بڑے بھائی سے طبلہ بجانے کی تربیت حاصل کرتے رہے۔ 1945ء میں وہ آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازم ہوئے جہاں انہیں استاد گامی خان کے شاگرد ہیرا لال سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔
قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور آگئے جہاں انہوں نے نامور استاد، استاد قادر بخش پکھاوجی سے طبلہ بجانے کی تربیت حاصل کی۔
استاد شوکت حسین نے اپنے دور کے تمام بڑے گویوں اور سازندوں کے ساتھ سنگت کی اور داد وصول کی، جن میں رسولن بائی، استاد عاشق علی خان، بڑے غلام علی خان، استاد امید علی خان، استاد عبدالوحید خان، استاد بھائی لعل محمد سنگیت ساگر، استاد بندوخان، ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم اور استاد امیر خان اندور والے کے نام قابل ذکر ہیں۔ 1984ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔
استاد شوکت حسین کے شاگردوں کی فہرست بھی بہت طویل ہے جن میں عبدالستار تاری، پیٹرک انتھونی، اظہر فاروق، بشیر احمد، غلام صابر، محمد اجمل، اقبال حسین اور طاہر علی کے نام سرفہرست ہیں۔
استاد شوکت حسین لاہور میں قبرستان فیاض پارک مغل پورہ میں آسودۂ خاک ہیں۔