15.10.2026, 11:42pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭27 جنوری کو پاکستان میں تجریدی مصوری کے بانی شاکر علی انتقال کرگئے۔
27.01.2016, 03:05am , بدھ (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

شاکر علی کی وفات

٭27 جنوری 1975ء کو پاکستان میں تجریدی مصوری کے بانی اور نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے سابق پرنسپل جناب شاکر علی انتقال کرگئے۔
شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L'Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ۔
شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے:
چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور
شاکر علی
*6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا
اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

ڈاکٹراین میری شمل کی وفات


٭27 جنوری 2003ء کو ممتاز جرمن اسکالر‘ ماہر اقبالیات‘ مستشرق اور پرستار اردو زبان ڈاکٹر این میری شمل جرمنی کے شہر بون میں انتقال کرگئیں۔
ڈاکٹر شمل 1922ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ 19 سال کی عمر میں انہوں نے مملوک خاندان کے مصر میں خلیفہ اور قاضی کا مقام کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کیا۔ انہوں نے علامہ اقبال کی کتاب جاوید نامہ کا منظوم ترجمہ کیا۔ وہ جرمن‘ انگریزی‘ عربی‘ فارسی‘ اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔ انہوں نے اقبال کے علاوہ پیر علی محمد راشدی‘ پیر حسام الدین راشدی‘ غلام ربانی اگرو اور جمال ابڑوکی تصانیف کو بھی جرمن زبان میں منتقل کیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد حکومت پاکستان نے لاہور میں ایک سڑک کو ان کے نام سے موسوم کیا ہے۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

ضیا سرحدی کی وفات

 
٭27 جنوری 1997ء کو پاکستان کے ممتاز فلم ساز اور ہدایت کار ضیا سرحدی اسپین کے شہر میڈرڈ میں وفات پاگئے۔
ضیا سرحدی 1912ء میں پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ گریجویشن کرنے کے بعد 1933ء میں وہ بمبئی چلے گئے جہاں انہوں نے معروف ہدایت کار محبوب کے ادارے میں کہانی نگار کی حیثیت سے فلمی زندگی کا آغاز کیا۔ ان کی اس زمانے کی فلموں میں دکن کوئن،من موہن، جاگیردار، مدھر ملن، پوسٹ مین، بھولے بھالے اور شیو راج کے نام شامل ہیں۔ 1947ء میں فلم نادان سے ان کی ہدایت کاری کے دور کا آغاز ہوا۔ بطور ہدایت کاران کی کامیاب فلموں میں انوکھی ادا، ہم لوگ، فٹ پاتھ اور آواز کے نام سرفہرست تھے۔
1958ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے رہ گزر کے نام سے ایک فلم بنائی تاہم یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔ پاکستان میں انہوں نے لاکھوں میں ایک ، غنڈہ، حبہ خاتون اور نیا سورج نامی فلموں کی کہانیاں تحریر کیں جن میں سے آخر الذکر دو فلمیں بوجوہ مکمل نہ ہوسکی۔ اس کے بعد وہ اسپین منتقل ہوگئے اور اپنی وفات تک وہیں قیام پذیر رہے۔
ٹیلی وژن کے مشہور فنکار خیام سرحدی ان کے فرزند ہیں جبکہ معروف موسیقار رفیق غزنوی ان کے داماد تھے۔ وہ پشاور میں آسودۂ خاک ہیں۔
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------

استاد اللہ رکھا خان کی وفات


٭27 جنوری 2002ء کو پاکستان کے نامور سارنگی نواز استاد اللہ رکھا خان وفات پاگئے۔
استاد اللہ رکھا خان 1932ء میں سیالکوٹ کے گائوں مظفر میں پیدا ہوئے تھے۔ بچپن ہی میں وہ امرتسر چلے گئے جہاں انہوں نے اپنے والد استاد لال دین سے سارنگی بجانی سیکھی بعدازاں انہوں نے استاد احمدی خان، استاد اللہ دیا اور استاد نتھو خان جیسے اساتذہ سے بھی استفادہ کیا۔ انہیں ایک مرتبہ قائداعظم کے سامنے بھی سارنگی بجانے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ 1948ء میں وہ پاکستان آگئے جہاں وہ1992ء تک ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
 ----------------------------------------------------------------------------------------------------------

:دیگر مضامین
(26.01.2016)  ریڈیو پاکستان کی سابقہ ڈپٹی کنٹرولر نسرین انجم بھٹی انتقال کر گئیں
(26.01.2016) ٭26 جنوری 2006ء کو خان عبدالولی خان  پشاور میں انتقال کرگئے۔
(25.01.2016) ٭25 جنوری 1985ء کو آکلینڈ کے مقام پروسیم اکرم کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ہوا
(24.01.2016) ٭ 24 جنوری 2010ء کو  ارشاد احمد حقانی لاہور میں وفات پاگئے۔
(23.01.2016) ٭23 جنوری 1963ء کو محمد علی بوگرا ڈھاکا میں وفات پاگئے۔
(22.01.2016) ٭  22 جنوری اردو کے نامور انشا پرداز محمد حسین آزاد کی وفات ہے
(21.01.2016) ٭21 جنوری۔ اردو کے ممتاز مزاح گو شاعر دلاور فگار کراچی میں وفات پاگئے۔
(20.01.2016) غلام اسحاق خان20 جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔
(19.01.2016) ٭19 جنوری 1997ء کوپاکستان کے نامور فلمی اداکار لالہ سدھیر لاہور میں وفات پاگئے۔
(18.01.2016) منٹو نے 18 جنوری 1955ء کو جگر کی بیماری میں لاہور میں  وفات پائی
(17.01.2016) ٭17 جنوری 1942ء دنیا کے عظیم باکسر محمد علی کی تاریخ پیدائش ہے۔
(16.01.2016) ٭16 جنوری  کو ہاکی کے نامور کھلاڑی علی اقتدار شاہ دارا وفات پاگئے
(15.01.2016) ٭15 جنوری 1971ء کو قائد اعظم کے مزار کی تعمیر پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی
(14.01.2016) ٭14 جنوری قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کی تاریخ پیدائش ہے۔
(13.01.2016) ٭13 جنوری ٹیسٹ کرکٹر اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی تاریخ پیدائش ہے
(12.01.2016)  نامور شاعر احمد فراز 12 جنوری 1931ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے 
(11.01.2016) ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا
(10.01.2016) پاک بھارت جنگ کے بعد 10 جنوری 1966ء کو’’معاہدہ تاشقند‘‘ پر دستخط ہوئے
(10.01.2016) ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر ممتاز میلسی کواسلام آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا
(09.01.2016) ٭9 جنوری 1920ء نامور طبیب حکیم محمد سعید کی تاریخ پیدائش ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں