سال نو کے آغاز نے ہم سے نشریات کی دنیا کے بڑے بڑے چھین لیئے جن میں نسرین انجم بھٹی صاحبہ،ممتاز میلسی صاحب،فخر بلوچ

صاحب ، محمد الیاس صاحب ، شکیل آفریدی صاحب،اقبال جعفری صاحب ، باسط سلیم صدیقی صاحب ،سبط اصغر بلگرامی صاحب اور آفتاب محمود صاحب جیسے درخشندہ ستارے شامل ہیں
ان سب کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے مورخہ28 جنوری 2016ء کو زیڈ اے بخاری آڈیٹوریم ریڈیو پاکستان میں آل پاکستان ریڈیو پروڈیوسرز کی جانب سے ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں انکے ہمعصر ،جونیئر اور سینیئر ساتھیوں اور عزیز واقارب نے شرکت کی۔
شرکاء میں ۔سابق ڈائریکٹر پروگرامز۔ ستار سید صاحب ،مجتبیٰ عامر صاحب
سابق کنٹرولرز پروگرام ۔ فخر عالم نعمانی صاحب،محمد شریف شاد صاحب،عبدالحفیظ صاحب ،عبدالقیوم صاحب ،آفتاب اقبال صاحبہ ،سیما صدیقی صاحبہ،سلمان المعظم صاحب
سابق ڈ پٹی کنٹرولر۔ ریاض قریشی صاحب
محمد شکیل صاحب (موجودہ سٹیشن ڈائریکٹرمیر پور)فخر عباس صاحب (موجودہ پروگرام مینیجر راولپنڈی)
سب نے ان ساتھیوں کے ساتھ گذرے لمحات کی خوبصورت یادیں،انکے اخلاق و کردار ،کام کے ساتھ وارفتگی،نشریاتی زندگی کے تجربات

اور نشیب و فراز،تخلیقات ،سامعین سے وابستگی اور عوامی انداز،دوران پروگرام پیش آمدہ مشکلات اور دلچسپ واقعات اور انکی زندگی کے وہ گوشے جو ہماری نظروں سے بھی اوجھل تھےپر سیر حاصل گفتگو کی،کئی تو یادوں کی گرہیں کھولتے کھولتے جذبات پہ قابو نہ رکھ سکے۔
باسط سلیم صاحب کا پروگرام صبح بخیر ،ممتاز میلسی صاحب کا سٹوڈیو بارہ اور نسرین انجم بھٹی صاحبہ کی مزاحمتی شاعری کا چرچا ہر زبان پہ تھا۔
فخر بلوچ صاحب کے صاحبزادے نےریڈیو پاکستان کی اس کاوش کو خوب سراہا ،اور اپنی تربیت میں ریڈیو اور اپنے والد کے کردار پرروشنی ڈالی۔
ممتاز میلسی صاحب کے صاحبزادے نےاپنے باپ کو اپنا فخر قرار دیا ۔اور اپنی ماں کی جانب سے کہا کہ وقولو اللناس حسنا اس جملے پہ نہ صرف مرحوم ریڈیو کے اندر بلکہ گھر میں بھی کاربند رہے ۔
انکی مغفرت کے کے لیئے دعا بھی کی گئی
تمام شرکاء نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ریڈیو پاکستان نے ایک ایسا فورم مہیا کر دیا ہے جہاں دکھ سکھ شیئر کیئے جاسکتے ہیں جبکہ ماضی میں ایسی کوئی روایت نہ تھی ،اس کاوش کے اصل حقدار نوید احمد چوہان صاحب(پروگرام مینیجر) ہیں جنکی کاوشوں سے تعزیتی تقریب کا انعقاد ممکن ہوا۔