اللہ سبحانہ تعالیٰ نے مکڑی کے جالے کو ناپائیدداری میں دنیا سے تشبیہہ دی ہے کہ سب سے بودہ مکڑی کے جال کو قرار دیا ہے ۔ ایک سورہ اس نام سے قر آن میں شامل ہے ۔ جس کانام العنکبوت ( مکڑی )ہے۔ اس کے باوجود لوگ عقبیٰ کو چھوٹ کر دنیا سمیٹنے میں لگے رہتے ہیں ۔ آئے دن یہ دیکھتے بھی رہتے ہیں کل تک جو ہم میں تھے آج نہیں ہیں۔کل جس ملک پر کوئی راج کر رہا تھا اسے اسی کے ماننے والوں نے دھکے مار کر تخت سے اتار دیا اور اس نے گٹر کے پائپوں سے پناہ چاہی مگر اسے انہوں نے بھی پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے ہر صاحب ِ اقتدار کو اور تمام سیاستدانو ں کو عبرت پکڑنا چاہیے تھی، لیکن بجائے عبرت پکڑنے کے وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ ہوس کی کھوپڑی ہے کہ بھر نہیں پاتی۔ چاروں طرف مختلف ناموں سے ا نہیں کے پالتو سانپ ان کی طرف پھن اٹھائے بڑھ رہے ہیں۔ اور روز بروز عوام کی ہمدردیاں حا صل کرکے طاقتور ہوتے جارہے ہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر حادثے میں مقامی ہاتھ اور تعاون نظر آتا ہے ۔ اور آنکھ جب کھلتی ہے جب وہ کسی قطعہ زمین پر چیوٹیوں طرح نکل کر قابض ہو جاتے ہیں ۔ غیر یقینی کی آج یہ صورت حال ہے کہ کسی کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کون ہے ااور کیا ہے اس کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی وہی چیز بیچ رہے ہیں جو صدیوں سے ہمارے آبا بیچتے آئے ہیں ۔ اس لیے کہ گناہ گار سے گناہ گار مسلمان جب اپنا محاسبہ کرتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے تو ہماری مقدس کتاب اور احادیث ،جو برابر ہمیں خبر دار کرتی رہی ہیں انہیں ایک ہی سبق دیتی ہیں کہ دیکھو اپنے رب کو مت ناراض کر دینا ورنہ وہ مدد سے ہاتھ کھینچ لے گا ؟ اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا۔ چونکہ ہم نے بجائے اس کے ارشادات کا کڑا مضبوطی سے پکڑ نے کے اسی بودے جال کا سہارہ لے رکھا جو ایک معمولی ہوا کا جھوکا بھی نہیں سہہ سکتا ۔ لیکن ہم ہیں کہ ہمارے حیلے بہانے ستر سال سے ختم ہونے میں نہیں آرہے ہیں ؟
اب خوف کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے سایہ سے بھی ڈرتے ہیں ۔ پوری دنیاپر خوف کی فضا مسلط ہو چکی ہے ،جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ کے “ ولیوں “ کے لیے نہ خوف ہے نہ رنج ہے “ یہاں “ولی “ سے مراد عام مومنوں سے ہے کیونکہ آگے اسی آیت میں وضاحت کے لیے فرماتا ہے اللہ مومنوں کا ولی ہے جو تاریکی سے روشنی کی طرف بلاتا ہے ،جبکہ کافروں کا ولی شیطان ہے جو کہ انہیں جہنم کی طرف کھینچتا ہے “ یہاں سانپ منہ کھولے بیٹھے ہیں اور پکار رہے ہیں آؤ وہ تمہیں ہم دیں گے جس کی تمہیں تلاش ہے۔اور وہ نادانی میں انہیں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ کیونکہ آگے خلاہے اور دنیا میں کہیں وہ نظام موجود نہیں ہے۔ کہ وہ اصل اور نقل میں تمیز کرسکے ؟لہذا وہ ان کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ جبکہ عوام الناس کا “ ولیوں“ کے بارے میں تصور مختلف ہےانکی نگاہ فوراً اسلامی تاریخ کی طرف چلی جاتی ہے ۔ اور ایک مخصوص گروہ پر جاکر ٹک جاتی ہے جو روشنیوں اور بلندیوں کے مینار تھے “جو سب سے محبت کرتے تھے اور نفرت کسی سے نہیں “ وہ تمام مسلمانوں کو ویسا ہی دیکھنا چاہتے تھے جیسے وہ خود تھے اور قرآن نے اس جملے میں ان کی شان میں یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ وہ “اللہ سے راضی تھے اور اللہ ان سے راضی ہے “ چونکہ یہاں ان لوگوں نے خود کو ولیوں جیسا خود کو بنا رکھا ہے بیعت بھی انکی ہی طرح لیتے ہیں وہ ان کے جھانسے میں آجاتا ہے۔ جبکہ یہ کردار انکا ان سے الٹ ہے۔ کہ “یہ سب سے نفرت کرتے ہیں اور محبت کسی سے نہیں “ اگر متلاشی حق اس فرق کو اپنے سامنے رکھ کے ان سے موازنہ کریں تو با آسانی پہچان سکتے ہیں؟ یہ وہ نہیں ہیں؟
جنکے بارے میں بہت سی احادیث ہیں اسی سورہ میں اس وقت کی صورت ِ حال کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) سے ایک طویل حدیث ابن ِ کثیر (رح) نے وارد کی ہے جوکہ حضرت قتادہ کی زبانی ہے کہ حضور (ص) نے فرمایاکہ۔“ مشرق کی طرف سے میری امت کے کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ قر آن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا؟ ان کے ایک گروہ کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ اور اس بعد یہ ہی الفاظ حضور (ص) نے بیس مرتبہ سے زیادہ دہرا ئے، پھر فرمایا کہ اس کے بعد انہیں میں سے آخر دجال نکلے گا۔ دوسری اسی وقت کے نامور اسکالر حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا کہ ایک زمانہ ہم پر وہ تھا کہ ہم ایک مسلما ن بھائی کے لیے درہم اور دینار کو کوئی چیز نہیں سمجھتے تھے اور اپنی دولت بھائی کو ہی سمجھتے تھے۔ پھر وہ زمانہ آیا کہ دولت بھائی سے زیادہ عزیز معلوم ہونے لگی۔ میں نے حضور (ص) سے سنا ہے کہ “ اگر تم بیلوں کی دموں کے پیچھے لگ جاؤ گے اور اللہ کی راہ کا جہاد (دین کے راستے میں ہر قسم کی جدوجہد) چھوڑدوگے تو اللہ تعالیٰ تمہاری گردنوں میں ذلت کے پٹے ڈالدے گا(وہ اسوقت تک الگ نہ ہونگے ) جب تک تم وہیں واپس نہ آجاؤ جہاں تھے اور تم توبہ نہ کرلو؟ پھر وہی حدیث بیان کی ہے جو اوپر گذر چکی ہے کہ۔ میرے لوگ قر آن پڑھیں گے اور بد عملیاں کریں گے قرآن ان کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا۔ (تم ) ان کے علم کو دیکھ کر اپنے علموں کو حقیر سمجھنے لگوگے۔ وہ اہل ِ اسلام کو قتل کریں گے ۔ پس جب یہ لوگ ظاہر ہوں تم انہیں قتل کر دینا ،پھر نکلیں پھر مارڈالنا ، پھر ظاہر ہوں پھر قتل کر دینا۔ وہ خوش نصیب ہے جو انہیں قتل کرے اور وہ بھی خوش نصیب ہے جو ان کے ہاتھوں قتل کیا جائے اور وہ پھر نکلیں گے اللہ انہیں پھر بر باد کر دے گا ۔ پھر نکلیں گے اللہ تعالیٰ پھر بر باد کردے گا۔ اسی طرح حضور (ص ٰ)نے کوئی بیس مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ بار فرمایا۔
اس سلسلہ کا پہلا گروہ پہلی صدی میں ہی سرکار (ص) کی پیش گوئی کے مطابق نمودار ہوا ، جیسا کہ حضور (ص) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بتاکر خبر دار کردیا تھا۔ وہاں ان کی تعریف یہ ہی فرما ئی تھی کہ وہ تم سے اچھے قرآن کے قاری ہونگے ۔ اور تمہارے ہاتھو سے قتل ہو نگے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا وہ چار ہزار مارے گئے جنہوں نے لڑنے کا فیصلہ کیا؟ لیکن ان کی جڑیں ختم نہیں ہوئیں بعد میں وہ ساری دنیا میں پھیل گئے جنہوں نے عام معافی سے فائدہ اٹھا کر میدان چھوڑ دیا تھا ، حتیٰ کہ یہ سلسلہ اس زمانے میں بھی باقی تھا جو ابنِ کثیر (رح) کا دور تھا ۔ آخر وہ سلسلہ چنگیز اور ہلاکو کے دور میں کہیں جاکر اس لیے ختم ہوا کہ ان تک فدائین کی رسائی نہ تھی کیونکہ وہ اپنے علاوہ اپنی فوج میں کسی دوسرے کو نہیں لیتے تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہی تھے جنہیں ہم خارجیوں کے نام سے جانتے ہیں اور انہوں نے مسلمان امراءکی ناانصافیوں کی بنا پر جنم لیا تھا اس وعدے کے ساتھ ہم بے انصافیوں سے نجات دلادیں گے۔ نا انصافی ایک ایسا خلاہے کہ جو بھی اسے پر کرنے کا وعدہ کرے عوام اسکے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ آج کل بھی یہ ہی ہو رہا ہے۔ اور یہ اسوقت تک ہوتا رہے گا جب تک حکمراں خود تائب ہو کر مسلمان نہ بن جائیں اور جو اپنے لیے چاہتے ہیں وہی عوام کے لیے بھی چاہیں ۔ کیونکہ دلوں میں الفت صرف اللہ سبحانہ پیدا کر سکتا اور وہ جبھی پیدا کرتا ہے جب وہ راضی ہو؟
اس کے برعکس جب ناراض ہوتا ہے تو سزا دینے کے لیے وہ ظالم حکمراں مسلط کر دیتا ہے جیسے کہ چنگیز ، ہلاکو اور اس سے بھی پچھلے دور کے حکمراں جن کے ہاتھوں فلسطین دومرتبہ تباہ ہوا۔ اور اللہ کو راضی کرنے کے لیے “ توبة نصوح “ کی ضرورت ہوتی ہے، صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا۔ وہ چلتا تو پہلے دن ہی چل چکا ہو تا۔ کیونکہ یہاں جس سے واسطہ ہے ۔ وہ دانا اور بینا ہے جو قرآن کے مطابق تمہارے دلوں میں آنے ولے خیالات سے بھی واقف ہے، تمہاری سوچوں تک سے واقف ہے یہ اور بات ہے کہ وہ اس پر سزا جبھی دیتا ہے جب تک کہ وہ فعل بندے سے سرزد نہ ہو جائے اگر وہ سوچوں پر فوراً سزا دیتاتو آج دنیا میں ایک فرد بھی نہ بچتا ؟ اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہمارے علماءکا فرض بنتا ہے کہ وہ باہر نکلیں۔ اور اس پر عمل کریں جو ہم نے انہیں کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ بخشش کی امید بغیر عمل کے نہ دلائیں جس سے بے عملی فروغ پائے بلکہ دلوں میں خوف ِ خدا پیدا کریں جو سب کے دلوں سے مفقود ہوچکا ہے۔ کیونکہ حکمت کا تقاضہ بھی یہ ہی ہے ۔ اور اللہ کی سنت بھی یہ ہی کہ جب تک کوئی قوم گمراہ نہیں ہو ئی اس نے اس کی طرف ڈرانے والا نہیں بھیجا ۔ اس میں دونوں صفات ہوتی تھی کہ وہ نذیر بھی ہوتا ہے اور بشیر بھی۔ ختم نبوت (ص) کے بعد اب آپ کے ذمہ یہ کام ہے جو حضور (ص) تخویص فرمایا ہے اب آپ بھی دونوں کام کیجئے۔ کیونکہ دنیا کی فلاح اسوقت زراعت میں تھی جو بھی آتا تھا وہ انہیں بتاتا تھا کہ تم ایمان لے آؤ، اللہ بے انتہا روزی بارشوں کے ذریعہ دے گا اور اگر نہیں مانوگے تو تمہیں نیست اور نابود کر دے گا۔ قرآن دیکھیں کہ اس نے پہلے بہت محبت سے سمجھا یا ہے کہ تم جو کچھ کروگے اپنے لیے کروگے میری سلطنت اس سے نہ بڑھے گی نہ گھٹے گی ۔ اور جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ عرض کیا تھا۔ اس نے اسی سورہ کی آیت 23میں صاف صاف فرما دیا ہے کہ جو برائیاں جاری رکھیں اور مجھ سے ملاقات پر یقین نہ رکھتے ہوں وہ میری رحمت سے مایوس ہو جائیں ؟ ہم نے مسلمانوں کو اللہ سے ڈرانے کے بجائے اس کی رحمت پر یہ کہہ کر زور دیکر رکھا ہے ۔ کہ وہ بڑا رحیم و کریم ہے ۔ نہ جانے کس بات پر بخش دے؟ بے شک وہ رحیم اورکریم ہے ۔ لیکن وہ فرماتا ہے کہ میں عادل بھی ہوں، کسی کے ساتھ اس دن ظلم نہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے (آمین)