14.10.2026, 08:09am , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز » شمس جیلانی۔وینکور
 

سیرتِ پاک حضور صلی للہ علیہ آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(86)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
30.01.2016, 09:13am , ہفتہ (GMT+1)

از۔۔۔شمس جیلانی

 گذشتہ قسط میں ہم غزوہ بنوقریظہ پر بات کر رہے تھے اور یہا ں تک پہو نچے تھے کہ اسلا می فو ج کو فتح نصیب ہو ئی ۔اس غزوے میں صرف ایک صحا بی جن کا نا م خلاد (رض) بن سوید  تھا زخمی ہو ئے تھے جو کہ بعد میں شہا دت پا گئے ان کے با رے میں یہ تو سب مورخین نے لکھا ہے کہ ان پر نبا تہ نا می ایک عو رت نے قلعہ کے اوپر سے کو ئی چیز پھینکی اور اس سے وہ زخمی ہو ئے۔ مگر اس کے با رے میں اختلا ف ہے کہ وہ چیز کیا تھی ؟ کچھ کہتے ہیں کے وہ چکی کا پا ٹ تھا ۔ کچھ کہتے ہیں کہ اس نے جو تے میں ایک دو دھاری خنجر پرو کر بطو ر حقارت حضرت خلاد (رض) کی طرف پھینکا تھا ۔بہر حال یہ متفقہ علیہ ہے کہ وہ شہید اسی سے ہو ئے اور یہ وا حد عو رت تھی جس کو اس مو قعہ پر ان کے قصا ص میں قتل کیا گیا ۔اس کے با رے میں ام المو نیں حضرت عا ئشہ (رض) فر ما تی ہیں کہ ایک بہت ہی حسین جمیل عورت جو کہ انتہا ئی تیز اور طرا ر بھی تھی گرفتا ر ہو کر مدینے آئی۔ وہ ان سے با تیں کر رہی تھی کہ اسی دورا ن کسی نے اس کا نا م لے کر آواز دی تو انہو ں نے پو چھا کہ تمہیں کیو ں آواز دی جا رہی ہے تو اس نے کہا کہ قتل کر نے کے لیے ۔جب انہو ں نے پو چھا کیو ں تو اس نے بتا یا کہ میں نے خلاد (رض) کو قتل کیا تھا اور میں مسلما نو ں سے اور پیغمبر (ص) اسلام سے شدید نفرت کرتی ہو ں ۔ اسے اپنے کیئے پر کو ئی افسو س نہ تھا۔ حضرت خلاد (رض) کے علا وہ جو دوسرے صحا بی اس غزوے کے دوران انتقا ل پا گئے۔ وہ تھے حضرت ابو سنا ں (رض) بن محسن لیکن ان کی مو ت طبی وجہ سے واقعہ ہو ئی تھی جو بنو قریظہ کے محا صرے کے دورا ن ہو ئی اور ان کو وہیں بنو قریظہ کے قبرستا ن میں دفن کر دیا گیا اور ان کا مزار آج بھی وہا ں مو جو د ہے ۔ تیسرے شخص جو اس غزوہ کے بعد وفا ت پا گئے وہ تھے حضرت سعد (رض)بن معاذ  جن کا انتقال اس غزوے کے فو ری بعد ہوا۔ حضرات آپ کو علم ہے کہ حضرت سعد  (رض)معا ذ مدینہ منورہ کے انتہا ئی مقتدر وہ لو گو ں میں سے تھے اور جن لوگو ں نے سب سے پہلے اسلا م قبو ل کیا ان میں شا مل تھے ۔ حضور (ص) نے ان کے اس اعزاز کو مد ِ نظر رکھتے ہو ئے بیت ِ عقبہ میں بارہ نقیبو ں میں شا مل کیا تھا ان کی خواہش تھی کہ ان کو شہا دت نصیب ہواور بنو قریظہ سے جنگ کے دورا ن ہو مگر اللہ تعا لیٰ نے ان کے لیے مدینے کی مٹی پسند فر ما ئی اور اس طر ح ان کی دعا کو شر ف ِ قبو لیت تو بخشا مگر تھوڑی تر میم کے سا تھ کہ جب وہ وہا ں جنگ میں مصرو ف تھے۔ تو ان کا زخم کھل گیا اور رسنے لگا اور مدینے واپسی کے بعد شہا دت پا گئے ۔ابن ِ اسحا ق (رح) فر ما تے ہیں کہ میں نے معا ذ بن رفا عہ زرقی اور ان کے قبیلے کے کئی لو گو ں سے سنا کہ جس را ت حضرت معاذ (رض)  کا انتقال ہوا اسی را ت حضرت جبریل (ع) جن کے سر پر ایک چمکتا ہوا عما مہ تھا باریاب ِ در با رِ رسا لت ہو ئے اور پو چھا آج کس مو من کا انتقال ہوا ہے ۔ جس کے لئے عرش تک آراستہ ہے ،جس کے استقبا ل کے لیے آسما نو ں کے دروا زے کھو لد یے گئے ہیں۔ حضرت جبریل (ع) سے یہ سن کر حضور (ص) کا خیا ل فو راً حضرت سعد (رض) بن معا ذکی طرف گیا ۔اور انہوں (ص) نے اپنی ردا ئے مبا رک اپنے شا نوںپر ڈا لی اور ان کے خیمے کی طرف روا نہ ہو گئے وہاں جا کر دیکھا تو وہ وفا ت پا چکے تھے ۔ بہیقی نے اس کے علا وہ اور بہت سے حوالے دیکر یہ بات کہی ہے اور اس پر تقر یبا ً تما م مو رخین کا اتفا ق ہے۔جب انکی تدفین کا وقت آیاتو حضو ر (ص) ان کی قبر کے پا س بیٹھ گئے اوراور آپ نے دو مرتبہ سبحا ن اللہ فر ما یا اور ان کی میت کو خو د قبر میں اتارا اور ان کی مغفرت کے لیے دعا فر ما ئی۔ اس میں سارے صحابہ  (ص)آپ کے ساتھ شریک ہو ئے ۔ اس کے بعد فر ما یا کہ ” اس مرد ِ صالح کو قیا مت تک کسی تکلیف کا سا منا ہو تو بڑی حیرت کی با ت ہو گی“۔ یہ ہی وا قعہ احمد اور نسا ئی میں معاذ بن رفا عی کے علا وہ چند اور حوا لو ں سے بیا ن ہوا ہے ۔اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”سبحان اللہ ! اس نیک بندے کے لیے آسما نو ں کے دروا زے کھل گئے اور عرش الٰہی بھی حرکت میں آگیا اور جب تک اسے قیا مت کے دن اس قبر سے نہیں اٹھا یا جا ئے گا اس پر اللہ کی ر حمت کا نزول ہو تا رہے گا“۔ اس سلسلہ میں ابن ِ اسحا ق (رح) مزید تحریر فر ما تے ہیں کہ جب لو گو ں نے حضور (ص) سے استفسار کیا کہ حضور (ص) آپ نے ان کی قبر پر اتنی طویل تسبیح کیو ں پڑ ھی تو انہو ں (ص) نے فر ما یا کہ ”ان کی قبر قیا مت تک کے لیے کشا دہ اور پر را حت رہے گی۔ یعنی اس وقت تک جب اللہ تعا لیٰ کے حکم سے اس کو کھو ل کر اٹھا یا جا ئے گا“۔ ابن ِہشا م (رح) نے اس حدیث کے ثقہ ہو نے پر بحث کرتے ہو ئے تحریر کیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے فر ما یا کہ ”ہر قبر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر نا جی شخص کو جیسے کہ سعد (رض) بن معا ذ تھے (روز قیا مت تک ) را حت میں رکھے “۔ اس سلسلہ کی ایک اور حدیث بھی ہے کہ جب حضور (ص) غزوہ کیدر ِ رو مہ پر تشریف لے گئے ۔تو وہا ں کسی نے ایک انتہا ئی قیمتی لبا س پیش کیا جو کہ حضور (ص) نے نہ صرف قبول فر ما یا بلکہ زیب تن بھی فر ما یا ۔ جب لو گو ں نے اسے حیرت سے دیکھا تو فر ما یا ” تم لو گ اس لبا س کو اتنی حیرت سے کیو ں دیکھ رہے ہو اس سے کہیں بہتر لبا س تو جنت میں سعد (رض) بن معا ذ نے پہن رکھا ہے“ ۔ اس حدیث کو ترمذی اور نسا ئی نے حدیث ِ احسن بتا یا ہے۔ ابن ِ اسحا ق (رح) تحریر کرتے ہیں کہ اس مو قعہ پر ان کی والدہ کشیبہ (رض) بنت ِ رافع نے ایک نو حہ بھی فی البد یہہ پڑ ھا جس پر حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”سعد (رض) بن معا ذ کے اس نو حے کے علا وہ اور سب نو حو ں میں مبا لغہ آمیزی ہو تی ہے “۔  اس سلسلہ میں ابن ِ اسحا ق (رح) کہتے ہیں کہ اس مو قعہ پر حضرت حسا ن (رض) بن ثا بت نے بھی ایک بہت پردرد اور طویل نو حہ کہا جس میں کہا گیا کہ کسی اور کی مو ت پر اتنے آدمیو ں کو روتے نہیں دیکھا۔                                      
خد ا رحمت کند ایں پا ک طینت را
عمرو  بن عاص اور نجا شی (رض) کا قصہ: ابن ِ اسحا ق (رح) تحریر کرتے ہیں کہ ان سے عمرو بن اوس نے متعدد مستند حوا لو ں کے سا تھ کہا کہ عمرو بن عا ص نے بیا ن کیا کہ جب ہم لو گ غزوہ خندق سے نا کا م وا پس پہو نچے تو میں نے قریش کے چیدہ چیدہ لو گو ں کو جمع کیا اور ان کے سا منے یہ تجو یز رکھی کہ ہمیں بھی حبشہ کے با دشا ہ نجا شی کے پاس اپنے آدمی بھیجنے چا ہیئے تا کہ وہ مسلما نو ں کی اور محمد  (ص)کی حما یت ترک کر کے ہما ری حما یت کرے ۔لیکن جو لو گ بھیجے جا ئیں وہ حضرت جعفر (رض) اور عمرو (رض) ضمری کی ٹکر کے ہو ں کیو نکہ تم لو گ جا نتے ہو یہ جو محمد (ص) کے وہا ں نما ئندے ہیں وہ انتہا ئی صا حب السان اور زیرک ہیں ۔لہذا سب نے ایک زبا ن ہو کر مجھ ہی سے در خواست کی تم خو د ہی چلے جا ؤ اس لیے کہ تم سے بہتر کو ئی اور آدمی نہیں ہو سکتا ۔لہذامیں جب اس کے در با ر میں پہو نچا تو میں نے دیکھا کہ ضمری  اپنے سا تھیو ں کے سا تھ اس کے در با ر سے نکل رہے تھے میں نے سوچاکہ یہ بہتریں مو قعہ ہے اگر اس کو میں اس با ت پر را ضی کر لو ں کہ وہ اس کو مجھے دیدیں تو میں اس کو قتل کر دوں یہ سن کر قریش خو ش ہو جا ئیں گے لہذا میں اس کے در با ر میں حا ضر ہو کر سجدہ بجا لا یا اس نے مجھے خو ش آمدید کہا اور پو چھا کہ اے نو جوا ن !تم میرے لیے کیا تحفہ لا ئے ہو ئے تب میں نے وہ چمڑہ اس کے قریب کر دیا جو میں اس کے لیے تحفہ لے گیا تھا ۔اس کے بعد میں نے اس سے عرض کیا کہ یہ ابھی جو آپ کے پا س سے آدمی گیا ہے یہ اس شخص (ص) کا نما ئندہے جس نے ہم لو گو ں میں نفا ق پیدا کر دیا۔ بیٹے کو باپ کے اور با پ کو بیٹے کہ خلا ف کر دیا اور آپ کے دین کو بھی برا کہتا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ ایک دم آگ بگو لہ ہو گیا اور ایک دو ہتھڑ اپنے منہ پرما را کہ میں سمجھا کہ اس کی ناک ہی ٹو ٹ گئی ہو گی ۔اس کے بعد وہ گرجدار آواز میں مخا طب ہوا تم ایسے شخص  (ص)کے بارے میں یہ تہمت لگا رہے ہو جو کہ حقیت میں نبی (ص) ہے ۔میں تو اس (ص) پر ایمان لے آیا ہو ں تمہارے لیے بھی بہتر یہ ہی ہے کہ تم بھی اس کا اتبا ع کرو ورنہ جس طر ح فرعو ن کا حشر ہوا اسی طر ح تمہا را بھی ہو گا، تم سب ملکر ان (ص) کو نہیں ہرا سکو گے وہ بے شک ایک دن فتح یاب ہو نگے اس لیے کہ اللہ کی نصرت ان  (ص)کے سا تھ ہے۔  لہذا میں نے جوا ب میں کہا کہ میں آپ ہی کے ہا تھ پر محمد (ص) کی بیعت کرتا ہو ں اور ان پر ایما ن لا تا ہو ں اور اس نے جب بیعت لےنے پر آما دگی ظا ہرکی تو میں نے اپنا ہا تھ اس کے ہا تھ میں دید یا اور پھر میں مکہ واپس چل دیا۔ مجھے را ستے میں سب سے پہلے خا لد بن ولید ملے اور مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے کہ میں تم میں وہ جو ش و خرو ش نہیں دیکھ رہا ہو ں جو جا نے سے پہلے تھا! تو میں نے انہیں صا ف صا ف بتا دیا کہ میں نے تو اسلا م قبو ل کر لیا ۔تب خا لد بن ولید نے کہا کہ میں بھی یہ ہی سو چ رہا ہو ں ،پھر عثما ن بن طلحہ بھی ان میں شا مل ہو گئے اور انہوں نے مدینے جا کر حضورص کے ہا تھ پر بیعت کر لی ۔مگر اسروا یت میں بہت سے سقم ہیں کیونکہ بعض مور خین نے حضرت خا لد (رض) کی بیت کو فتح مکہ تک موخر کیا ہے جو درست نہیں ہے اس لیے کہ اس دن تو وہ ایک دستہ کی سربراہی کررہے تھے جو مکہ معظمہ داخل ہوا اور صفوان بن امیہ وغیرہ سے مقابلہ ہوا جبکہ حضرت عثمان ، حضرت زبیر اور طلحہ رضوان اللہ تعالیِ علیھم  جمعین  شروع میں ہی مکہ میں ایمان لاچکے تھے۔ واللہ عالم (باقی آئندہ )
                 



:دیگر مضامین
(22.01.2016) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(85)۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.01.2016) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (84)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(30.12.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(83)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے (82)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(14.12.2015) کی محمد (ص) سے وفا تونے تو۔۔۔؟ ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(06.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے  (81۔)۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(01.12.2015) سیرتِ پاک حضور صلی للہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (80)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(22.11.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (79)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(17.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ۔۔۔روشنی حر (78)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(08.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔ روشنی حراسے(77)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(03.11.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے  (76۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(24.10.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر اسے ( (75۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(17.10.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (74)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(14.10.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حر (73)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(04.10.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا (72)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(27.09.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (71)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(19.09.2015) سیرتِ پاک حضورصلی اللہ و آلہ وسلم ۔۔۔روشنی حراسے(70)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی
(16.09.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(69)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(05.09.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(68)  از۔۔۔ شمس جیلانی
(29.08.2015) سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے(67)  از۔۔۔ شمس جیلانی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں