15.10.2026, 11:42pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

٭31 جنوری پاکستان کے نامور فلمی موسیقار ماسٹر عبداللہ لاہور میں وفات پاگئے۔
31.01.2016, 03:53am , اتوار (GMT+1)

وقار زیدی ۔ کراچی

(اکتیس جنوری ۱۹۵۳ء تا ۲۸ فروری ۱۹۵۹ء)
پاک بحریہ کے دوسرے کمانڈر انچیف حاجی محمد صدیق چوہدری 1911ء میں بٹالہ ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1933ء میں رائل انڈین نیوی میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ 1937ء میں انہوں نے اس بحری دستے کی قیادت کی تھی جو لندن میں شاہ ایڈورڈ ہشتم کی رسم تاجپوشی میں شریک ہوا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران انہوں نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب کی لڑائیوں میں حصہ لیا۔
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاک بحریہ میں خدمات انجام دینی شروع کیں۔ وہ پاکستان بحریہ کے سب سے سینئر آفیسر تھے۔ 31 جنوری 1953ء کو انہوں نے پاک بحریہ کے پہلے مسلمان اور پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ انہوں نے ایچ ایم پی ایس دلاور پر منعقد ہونے والی ایک باوقار تقریب میں اپنے پیشرو ریئر ایڈمرل جیمز الفریڈ جیفورڈ سے اپنے عہدے کا چارج لیا۔ وہ 28 فروری 1959ء تک اس عہدے پرفائز رہے۔ ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف پر انہیں بابائے پاک بحریہ کہا جاتا تھا جبکہ حکومت پاکستان نے انہیں ’’ہلال پاکستان‘‘ کا اعزاز عطا کیا تھا۔
حاجی محمد صدیق چوہدری 27 فروری 2004ء کوکراچی میں وفات پاگئے اور اگلے روز28 فروری 2004ء کو انھیںکراچی میں فوجی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ یہ وہی تاریخ تھی جب 45 برس پہلے وہ پاک بحریہ کی سربراہی سے ریٹائر ہوئے تھے۔
----------------------------------------------------------------

پروفیسر انجم اعظمی کی وفات


٭31 جنوری 1990ء کو اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد اور ماہر تعلیم پروفیسر انجم اعظمی کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں ہی سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
پروفیسر انجم اعظمی کا اصل نام مشتاق احمد عثمانی تھا اور وہ 2 جنوری 1931ء کو فتح پور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے گورکھ پور، الٰہ آباد اور علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اور قیام پاکستان کے بعد 1952ء میںکراچی میں سکونت اختیار کی اور محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوئے۔
ان کے شعری مجموعوں میں لب و رخسار، لہو کے چراغ، چہرہ اورزیر آسماں کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے ادب اور حقیقت اور شاعری کی زبان کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔ انہیں ان کے مجموعہ کلام چہرہ پر 1975ء میں آدم جی ادبی انعام بھی عطا ہوا تھا۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
جاگ اٹھا درد تو پھر رسم نبھائی نہ گئی
رو پڑے لوگ تری بزم میں ہنستے ہنستے
وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

علامہ سیماب اکبر آبادی کی وفات

٭ اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔
علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔
علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔  علامہ سیماب اکبر آبادی 31جنوری1951ء کو انتقال کرگئے۔وہ کراچی میں قائداعظم کے مزار کے نزدیک آسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------

ماسٹر عبداللہ کی وفات

٭31 جنوری 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار ماسٹر عبداللہ لاہور میں وفات پاگئے۔
ماسٹر عبداللہ کو فلمی دنیا سے انور کمال پاشا نے اپنی فلمی سورج مکھی میں متعارف کروایا تھا۔ انہوں نے اپنے ہم عصر فلمی موسیقاروں کی برعکس بہت کم فلموں کی موسیقی ترتیب دی لیکن ان کا منفرد اسلوب اور دھنوں میں خالص راگ راگنیوں کارچائو ہمیشہ نمایاں ہوتا تھا اور اسی باعث انہیں فلمی دنیا میں ایک صاحب طرز موسیقار تسلیم کیا جاتا تھا۔
ماسٹر عبداللہ کی مشہور فلموں میں واہ بھئی وا، ملنگی، زندگی، رنگو جٹ، ٹیکسی ڈرائیور، بابل، نظام، ضدی، شریف بدمعاش، بدل گیا انسان، جوان تے میدان، اک سی چور، ہرفن مولا، دلیر خان، لاڈو، میدان، کمانڈو، وارث، شہنشاہ، پیار دی نشانی، رنگی، اکھ لڑی بدو بدی، حاجی کھوکھر، نوٹاں نوں سلام، کشمکش، رستم، ہیر اپتھر، دل ماں دا، قسمت، ضدی اور چوروں کا بادشاہ کے نام سرفہرست ہیں۔
 انہوں نے 1973ء میں فلم ضدی کی موسیقی ترتیب دینے پر بہترین موسیقار کا نگار ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔ وہ لاہور میں قبرستان سبزہ زار اسکیم میںآسودۂ خاک ہیں۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------


 ثریا کی وفات


٭ بھارت کی مشہور فلمی اداکارہ اور گلوکارہ ثریا  15جون1929ء کو پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1937ء میں انہوں نے فلم اس نے کیا سوچا میں چائلڈ اسٹار کا کردار ادا کرکے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا۔ 1941ء میں انہیں ہدایت کار ننو بھائی وکیل نے اپنی فلم تاج محل میں ممتاز محل کے مرکزی کردار کے لیے کاسٹ کیا۔ ثریا کی دیگر فلموں میں پھول، انمول گھڑی، تدبیر، عمر خیام، پروانہ، پیار کی جیت، بڑی بہن، دل لگی، وارث، مرزا غالب اور رستم و سہراب کے نام قابل ذکر ہیں۔
ثر یا کو اپنی ہم عصر اداکارائوں کامنی کوشل اور نرگس پر یہ فوقیت حاصل تھی کہ وہ اپنی فلموں کے نغمات خود اپنی آواز میں ریکارڈ کرواتی تھیں۔ ثریا نے شادی نہیں کی تھی اور انہوں نے تمام عمر بمبئی کے ایک اپارٹمنٹ میں بسر کردی۔
٭31 جنوری 2004ء کو ثریا بمبئی میں وفات پاگئیں۔ وہ بمبئی میں ہی آسودۂ خاک ہیں۔

:دیگر مضامین
(30.01.2016) ریڈیو پاکستان ایک اور ساتھی سے محروم ہو گیا۔ اختر مرزا انتقال کر گئے
(30.01.2016) سرور بارہ بنکوی 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی یو پی۔بھارت میں پیدا ہوئے
(29.01.2016) ٭29 جنوری نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی تاریخ پیدائش ہے
(28.01.2016) ٭28 جنوری 2010ء کونامور شاعرعبدالعزیز خالد لاہور میں وفات پاگئے
(27.01.2016) ٭27 جنوری کو پاکستان میں تجریدی مصوری کے بانی شاکر علی انتقال کرگئے۔
(26.01.2016)  ریڈیو پاکستان کی سابقہ ڈپٹی کنٹرولر نسرین انجم بھٹی انتقال کر گئیں
(26.01.2016) ٭26 جنوری 2006ء کو خان عبدالولی خان  پشاور میں انتقال کرگئے۔
(25.01.2016) ٭25 جنوری 1985ء کو آکلینڈ کے مقام پروسیم اکرم کے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ہوا
(24.01.2016) ٭ 24 جنوری 2010ء کو  ارشاد احمد حقانی لاہور میں وفات پاگئے۔
(23.01.2016) ٭23 جنوری 1963ء کو محمد علی بوگرا ڈھاکا میں وفات پاگئے۔
(22.01.2016) ٭  22 جنوری اردو کے نامور انشا پرداز محمد حسین آزاد کی وفات ہے
(21.01.2016) ٭21 جنوری۔ اردو کے ممتاز مزاح گو شاعر دلاور فگار کراچی میں وفات پاگئے۔
(20.01.2016) غلام اسحاق خان20 جنوری 1915ء کو اسماعیل خیل بنوں میں پیدا ہوئے تھے۔
(19.01.2016) ٭19 جنوری 1997ء کوپاکستان کے نامور فلمی اداکار لالہ سدھیر لاہور میں وفات پاگئے۔
(18.01.2016) منٹو نے 18 جنوری 1955ء کو جگر کی بیماری میں لاہور میں  وفات پائی
(17.01.2016) ٭17 جنوری 1942ء دنیا کے عظیم باکسر محمد علی کی تاریخ پیدائش ہے۔
(16.01.2016) ٭16 جنوری  کو ہاکی کے نامور کھلاڑی علی اقتدار شاہ دارا وفات پاگئے
(15.01.2016) ٭15 جنوری 1971ء کو قائد اعظم کے مزار کی تعمیر پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی
(14.01.2016) ٭14 جنوری قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کی تاریخ پیدائش ہے۔
(13.01.2016) ٭13 جنوری ٹیسٹ کرکٹر اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی تاریخ پیدائش ہے



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں