17.10.2026, 08:52am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک
 
پاکستان/ بھارت
 

پی آئی اےجوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پانچ رکنی وفد نے لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سےملاقات کی ہے جسے فریقین نے سود مند بتایا ہے

10.02.2016, 09:50am , بدھ (GMT+1)

پی آئی اےجوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پانچ رکنی وفد نے لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سےملاقات کی ہے جسے فریقین نے سود مند بتایا ہے

وزیر اعلی پنجاب نے وفد کی معروضات کو ہمدردی سے سنا اور کہا کہ جونہی وزیر اعظم قطر کے دورے سے واپس آئیں گے وہ کود ان سے اس معاملے پر بات کر کے ساری معروضات ان تک پہنچائیں گے

ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہونے والی ملاقات میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مؤقف تھا کہ پی آئی اے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے بیل آؤٹ پیکج اور نجکاری ایک سال کے لیے موخر کی جائے، نجکاری سے پیدا ہونے والے عوامی مسائل کو مدنظر اور کسی ملازم کو نوکری سے نہ نکالا جائے جبکہ جن 18 ڈومیسٹک روٹس کی وجہ سے پی آئی اے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے انہیں فوری طور پر بند کیا جائے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے خسارے سے کوئی ملک ایئر لائن نہیں چلا سکتا، تاہم اگر پی آئی اے منافع بخش ادارہ بن جائے تو نجکاری کی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے تقریباً دو ہفتوں سے جاری ہڑتال اور احتجاج ختم کرکے فلائٹ آپریشن بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یاد رہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو جون 2016 تک پی آئی اے کی نجکاری کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔
 اس سے قبل سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ بات چیت کے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ پی آئی اے کے تمام ملازمین نجکاری کے خلاف ہیں۔ ادارے کی بہتری کیلئےایک سال کا وقت دیا جائے۔ وزیر اعظم بھی پی آئی اے کی بہتری چاہتے ہیں اور ان کی بھی خواہش ہے کہ وہ ادارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ سہیل بلوچ نے کہا کہ ادارے کی کمان اچھے اور دیانتدار شخص کے پاس ہونی چاہئے۔

 فلائیٹ آپریشن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ آپریشن مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے گا۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج ہونے والے مذاکرات سے بہت پرامید ہیں
.......................
پی آئی اےجوائنٹ ایکشن کمیٹی کا5رکنی وفدلاہورپہنچ گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاوفد آج وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف سےملاقات کرےگا۔

چیئر مین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ آج مذاکرات کے بعد اچھی خبر ہی دیں گے،صبح 10 بجے مذاکرات ہوں گے، امیدہےکہ حکومت کےساتھ مذاکرات کامیاب ہوجائیں گے۔ 

سہیل بلوچ نے وزیراعظم نوازشریف کاشکریہ اداکیا اور کہا کہ پی آئی اےکوسعدرفیق کےحوالےکرنےکامطالبہ بھی کیاتھا، ہم بھی پی آئی اےمیں جزاوسزاکانظام چاہتےہیں، ہمارامطالبہ تھا کہ ہمیں ایک سال کاوقت دیاجائے تو پی آئی اےکودوبارہ کامیاب ادارہ بنادیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہمارےپاس ایک اصلاحاتی پرواگرام ہےجوحکومت کےسامنےرکھیں گے، حکومت اورہم پی آئی اےکی بہتری چاہتےہیں، وزیراعظم بھی پی آئی اےکی بہتری چاہتےہیں، وزیراعظم نےمجھےکہاکہ پی آئی اےمیں کم ازکم 75 طیارےہونےچاہیئیں، وزیراعظم تک کچھ باتیں درست اندازمیں نہیں پہنچیں۔ 
....................
‎پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
‎منگل کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ نے اعلان کیا کہ ملازمین ملک بھر میں فضائی آپریشن بحال کردیں جبکہ اس میں رکاوٹ ڈالنے والوں پر نظر رکھی جائے۔
‎
‎ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ اہم فیصلے پر پہنچ گئے ہیں اور ملازمین کو مایوس نہیں کریں گے۔
‎تاہم انہوں نے اس اہم فیصلے کی وضاحت نہیں کی۔
‎انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کے کچھ ذمہ دار حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کے لیے لاہور جارہے ہیں۔
‎
‎پی آئی اے کے مستقبل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو سپورٹ کیا جائے تو پی آئی اے ترقی کرسکتی ہے۔
‎خیال رہے کہ اس سے قبل جمعے کو کمیٹی اور حکومت کے مذاکرات بلانتیجہ ختم ہو گئے تھے۔
‎تاہم کیپٹن سہیل بلوچ نے اس وقت بھی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیے تھے۔
‎
‎ملازمین کے احتجاج کے باعث گزشتہ کئی روز سے قومی ایئرلائن کی فلائٹ سروس معطل تھی جس سے ادارے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
‎دو روز قبل پی آئی اے کی فلائٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی تھی۔
‎پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا تھا کہ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوا ہے، بعض ملازمین کام پر دوبارہ آنا چاہتے ہیں۔
‎وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ 350 ارب روپے کے خسارے میں چلنے والے ادارے کو اس کی موجودہ انتظامیہ مزید نہیں چلاسکتی۔
‎حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو جون 2016 تک پی آئی اے کی نجکاری کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔

...............................
پی آئی اے کے فلائٹ آپریشن میں روانی آنے لگی، جدہ سے تین سو سے زائد مسافروں کو لے کر پی آئی اے کی پرواز پی کے 7338کراچی پہنچ گئی۔

ملازمین کی ہڑتال کے بعد پی آئی اے کی دوسری پرواز کراچی اُتری ہے۔پی کے 7336 معتمرین کو لے کر جدہ سے اسلام آباد پہنچی جبکہ پی کے 7339 اسلام آباد سے جدہ روانہ ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی کے 4232 اسلام آباد سے ابوظبی ، پی کے 451 اسلام آباد سے اسکردو روانہ جبکہ پی کے 262 ابو ظہبی سے اسلام آباد پہنچ گئی ۔

کوئٹہ کیلئےپچھلے ایک ہفتے سے معطل فلائٹ آپریشن بھی آج بحال ہونے کا امکان ہے ۔آج لاہور اور اسلام آباد سے کوئٹہ کیلئے دو فلائٹس آنے کا بھی امکان ہے۔

یہی فلائٹس کوئٹہ سے مسافر وں کو لیکر لاہور اور اسلام آباد واپس بھی جائیں گی ۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بعض عناصر قومی ایئر لائن کے مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ملازمین کی ہڑتال سے پیدا ہونے والی صوتحال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر، مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم، سیکرٹری ایوی ایشن عرفان الہٰی اور سینیٹر مشاہد اللہ خان نے شرکت کی۔

وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی نے ڈان کو بتایا کہ اجلاس کے دوران نواز شریف نے سیکریٹری ایوی ایشن عرفان الہٰی کو ہدایت کی کہ قومی ایئر لائن کی اعلیٰ انتظامیہ کے خلاف، جنہوں نے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کی ہڑتال کے سامنے کھڑے رہنے کے بجائے خود بھی ہتھیار ڈال دیئے، تحقیقات کی جائے اور تمام حقائق سامنے لائے جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس پی آئی اے کی اعلیٰ انتظامیہ کے خلاف ایسے کچھ ثبوت ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ چند اعلیٰ افسران نے ہڑتال اور فلائٹ آپریشن ٹھپ کرنے کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ساتھ دیا، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تحقیقات ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے نازک موقع پر چیئرمین پی آئی اے ناصر جعفر کا اچانک استعفیٰ دیا جانا اور دیگر اعلیٰ افسران کی غیر موجودگی سے حکومت کو کسی سازش کی بُو آرہی ہے، جسے وہ تحقیقات سے بے نقاب کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان سے ملاقات پر ناراضگی کا اظہار کیا، کیونکہ انہیں اس کا مینڈیٹ نہیں دیا گیا تھا۔

تاہم حکام نے ڈان کو بتایا کہ محمد زبیر اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ انہوں نے جے اے سی اراکین سے وزیر اعظم کی اجازت کے بعد ملاقات کی۔

اجلاس کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی عناصر کی جانب سے پی آئی اے کے مسئلے کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے، تاہم قومی مفاد پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔
....................
وزیراعظم نوازشریف نے کہاہےکہ بعض سیاسی عناصر کی جانب سے قومی ائیرلائن کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قابل افسوس ہے، ہرکسی کو ہرحال میں ملکی مفاد کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ 

وزیراعظم نوازشریف کا اپنی زیرصدارت اجلاس میں مزید کہنا تھا کہ بلاجواز ہڑتالیوں سے مذاکرات کی بجائےپی آئی اے کی بہتری کیلئے اقدامات کریں گے، سیکرٹری ایوی ایشن تحقیقات کریں کہ پی آئی اے میں ہڑتال اس نہج پر کیوں پہنچی؟

پی آئی اے کی صورت حال پرجائزہ اجلاس میں وزیرخزانہ اورداخلہ کےوزراء کےعلاوہ پرائیوٹائزیشن کمیشن کےچیئرمین، مشیر ہوابازی شجاعت عظیم اوردیگرحکام شریک ہوئے۔ 

ذرئع کےمطابق وزیراعظم کاکہناتھاکہ پی آئی اے کا آپریشن جزوی طور پر بحال ہوچکا،ڈومیسٹک اور بین الاقوامی پروازیں بحال کرنےوالے قابل تحسین ہیں، بعض یونین عہدیداروں نے ہڑتال ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

نوازشریف نےکہاکہ کسی دباؤ میں آنے یا بلاجواز ہڑتالیوں سے مذاکرات کی بجائےپی آئی اے کی بہتری کیلئے قومی مفاد میں اقدامات کریں گے۔ اجلاس میں پی آئی اے کو خسارے سے نکالنے،نئی مجوزہ ائیر لائن سے متعلق امورکاجائزہ بھی لیاگیا۔ 

پی آئی اے کے 7روز سے جاری احتجاج کے باعث مسافر ہلکان،تو حکومت پریشان، مگر نجی ایئرلائنز نے اندرون ملک فلائٹس کے کرایوں میں سو فیصد اضافہ کردیا ہے۔  بحران کے بعد ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اندھیر مچا تو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے نجی ایئرلائنوں کو کرائے نہ برھانے کی ہدایت کی تھی مگر یہ حکم بھی پی آئی اے کے طیاروں کی طرح گراؤنڈ کردیا گیا۔

پی آئی اے ملازمین کے احتجاج کے باعث ایک ہفتے میں تقریباً 700 پروازیں منسوخ کیا ہوئیں، نجی ایئرلائنز کی موجیں ہو گئیں۔

شاہین اور ایئربلو نے پی آئی اےکے فضائی آپریشن معطل ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر اپنے کرایوں میں سو فیصد اضافہ کر دیا،کراچی سے اسلام آباد اور لاہور جانے والی پروازوں کا یکطرفہ کرایہ 19 ہزار کر دیا گیا ہے۔

پی آئی اے ملازمین کے احتجاج سے قبل شاہین کا کرایہ 7سے 8ہزار روپے تھا۔ایئر بلو نے کرائے بڑھانے کے بعد اپنی ویب سائٹ کو بھی فنی خرابی کا بہانہ بنا کر بند کر دیاہے۔

مسابقی کمیشن نے بھی فضائی کمپنیوں کو نرخ نہ بڑھانے کی ہدایت کی تھی لیکن جہاں زیادہ سے زیادہ نفع کمانا ہی سب سے بڑی مسابقت ہو، وہاں جائز اور ناجائز کا خیال کون رکھے؟ 

.....................
پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین سہیل بلوچ نے عمرہ زائرین کی روانگی کیلئے فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ 

تفصیلات کیمطابق سہیل بلوچ نے کہا کہ عمرہ زائرین کی مشکلات کا پورا ادراک ہے تاہم فلائٹ آپریشن صرف عمرہ زائرین کو درپیش مشکلات کی وجہ سے ہی شروع کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فلائٹس کی روانگی کیلئے عملے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جبکہ طیاروں کی کلیئرنس اور فضائی میزبانوں کو بھی کام پر آنے کی ہدائت کر دی ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ترجمان دانیال گیلانی نے کہاہے کہ پی آ ئی اے ہیڈ آفس میں تالا بندی ختم ہو گئی ہے اور ملازمین نے کام پر آنا شروع کر دیاہے ۔تفصیلات کے مطابق ترجمان پی آئی اے کا کہناتھا کہ پی آئی اے انتظامیہ ڈیوٹی پرآنے والے ملازمین کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور معمول کے مطابق کام کا آغاز ہو گیاہے 

توقع ہے کہ دو چار روز میں مکمل آپریشن بحال ہو جائے گا ۔دوسری جانب کراچی میں بھی فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال ہو گیاہے ،پی آئی اے کی پرواز پی کے 732 عمرہ زائرین کو جدہ سے لے کر کراچی پہنچ گئی ہے،ترجمان کاکہنا ہے کہ یہ پرواز کراچی سے مسافروں کو لے کر واپس جدہ بھی روانہ ہو گی
........................
 پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے 4 لاپتہ اراکین کو نامعلوم افراد نے شہر کے مختلف حصوں میں چھوڑ دیا.

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما اور پیپلز یونٹی (پی یو ) کے صدر ہدایت اللہ خان، پی یو کے نائب صدر ضمیر چانڈیو، سیف اللہ اور منصور ڈھلوان 2 فروری کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب قومی ایئر لائن کی مجوزہ نجکاری کے خلاف احتجاج کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے.

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما ہدایت اللہ نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 6 روز تک آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نامعلوم مقام پر رکھا گیا، 'ہم نہیں جانتے کہ وہ کون سی ایجنسی کے لوگ تھے.'

انھوں نے بتایا کہ اس دوران اُن کا گھروں سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی اُن پر کسی قسم کا جسمانی تشدد کیا گیا۔

جے اے سی کے ترجمان نصر اللہ خان نے تصدیق کی کہ ملازمین کو رہا کردیا گیا ہے لیکن انھوں نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ انھیں کس نے حراست میں لیا تھا.

اس سے قبل انھوں نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ لاپتہ ملازمین کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جاچکی ہے، تاہم اس میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا.

یاد رہے کہ ملازمین کے 'لاپتہ' ہونے کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین کیپٹن سہیل بلوچ نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ پی آئی اے کے ملازمین اپنے ساتھیوں کی بازیابی کے لیے پیر کو اولڈ ٹرمینل پر پی آئی اے ہیڈ آفس سے جناح ٹرمینل تک ریلی نکالیں گے.

تاہم ملازمین کی واپسی کے بعد جے اے سی ترجمان نصر اللہ خان نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ اب یہ مارچ منسوخ کردیا گیا ہے، لیکن پی آئی اے ملازمین مطالبات منظور نہ ہونے تک ملک کے تمام بڑے ایئرپورٹس کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کے باعث گذشتہ 6 روز سے بند فلائٹ سروس اتوار کو بحال ہونا شروع ہوئی.

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا تھا کہ آپریشن جزوی طور پر بحال ہوا ہے اور بعض ملازمین کام پر دوبارہ آنا چاہتے ہیں.

انہوں نے بتایا کہ دو سے تین روز میں سعودی عرب سے تمام عمرہ زائرین کو واپس لایا جائے گا.

پی آئی اے انجینئرز نے انتظامیہ کو خبردار کردیا
دوسری جانب پی آئی اے ملازمین نے طیاروں کی پرواز کے سلسلے میں مناسب سیفٹی پروٹوکول پر عملدرآمد نہ کیے جانے کے حوالے سے انتظامیہ کو خبردار کردیا.

ڈان اخبار کی 8 فروری کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے انجینیئرز نے انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ طیارے کے مینٹی نینس پروٹوکول کو یقینی بنائے بغیر فلائٹ آپریشن کا آغاز سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے.

دی سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینیئرز آف پاکستان نے کہا، 'پی آئی اے انتظامیہ انجینیئرز کو آئی سی اے او  اور پی سی اے اے  کے قواعد و ضوابط کے مطابق لازمی شرائط کی تکمیل کے بغیر طیارے اڑانے پر مجبور کر رہی ہے، جس سے مسافروں اور خود طیارے کی سیفٹی خطرے میں پڑ گئی ہے.

ایک پی آئی اے انجینیئر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو آئی سی اے او  اور دیگر ریگولیٹری باڈیز کے سامنے اٹھائیں گے۔

اس سلسلے میں جب ڈان نے پی آئی اے لاہور کے ترجمان اطہر اعوان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ طیارے کو پرواز کے قابل قرار دینے کے لیے کچھ انجینیئرز سمیت گراؤنڈ اسٹاف ضرروی ہوتا ہے اور پی آئی اے مسافروں اور عملے کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کا رِسک نہیں لے سکتی۔
......................
چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے چار لوگ لاپتہ ہیں۔ جنکے لیئے کراچی میں آج ہیڈ کوارٹر کی طرف مارچ ہو گا

پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا الٹی میٹم پورا ہونے کو آ گیا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے چار ورکرز کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق ڈپٹی کنوینر جوائنٹ ایکشن کمیٹی ہدایت اللہ سمیت  چار اہم ورکرز کی عدم بازیابی کے خلاف آج دوپہر ایک بجے مارچ ہو گا۔ 

کراچی میں ہیڈ آفس سے جناح ٹرمینل جبکہ ملک بھر کے دیگر ائیر پورٹس پر بھی ملازمین احتجاجی مارچ کریں گے۔ ایکشن کمیٹی کے مطابق احتجاجی مارچ میں سیاسی جماعتیں اور دیگر اداروں کی مزدور یونینز بھی شرکت کریں گی۔
......................
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پی آئی اے ملازمین کے تمام مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔ جدہ میں اسٹیل مل چل رہی ہے اور یہاں حکمران اپنی ایئرلائن چلانا چاہتے ہیں۔ا

یم کیو ایم کا وفد ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں پی آئی اے ہیڈ آفس پہنچا۔ فاروق ستار کے ہمراہ، آصف حسنین نامزد میئر وسیم اختر، ڈپٹی میئر ارشد وہرہ بھی تھے۔ اس موقع پر فاروق ستار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران نجکاری اور تباہ کاری میں فرق نہیں جانتے تو ہم بتا دیتے ہیں۔ پی آئی اے ملازمین کے تمام مطالبات آئینی ، قانونی اور بنیادی حقوق کے مطابق ہیں

انہوں نے کہا کہ یہ قومی شہر جس کے ساتھ ہوتا ہےتو حکومت کے جانے کا وقت آجاتاہے۔ حکمرانوں نے بچپن میں کاغذ کے جہاز اڑائے تھے پی آئی اے کو بھی اسی طرح سمجھ رہے ہیں۔ پی آئی اے ہماری شناخت اور دنیا بھر میں سفیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے گھروں کے چولھے بند کرنا کیسا انصاف ہے۔ محنت کشوں کو بھی مسنگ پرسن بنادیا گیا ہے۔ یہ شہر اور اس شہر کی سب سے بڑی جماعت پے

آئی اے کے لاپتہ ملازمین بازیاب نہ ہوئےتوکل مارچ کریں گے، ایکشن کمیٹی

پی آئی اے کے لاپتہ ملازم ضمیر چانڈیو کی اہلیہ نے کہا ہے کہ ان کے شوہر دھرنے میں آئے تھے یہاں سے غائب ہوگئے۔ چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے چار لوگ لاپتہ ہیں، اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔پی آئی اے ملازمین کا احتجاج جاری  ہے جبکہ لاپتہ ملازمین کی عدم بازیابی پر پیر کی صبح جناح ٹرمینل کی جانب مارچ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ 

احتجاج میں لاپتہ ملازمین کے اہل خانہ بھی شریک احتجاج میں شریک ہیں۔ لاپتہ ملازم ضمیر چانڈیو کی اہلیہ کے مطابق ہمارے پیاروں کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ دھرنے میں آئے تھے تب سے غائب ہیں۔ فائرنگ ہوئی تو فون پر بات ہوئی تھی وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرگرم کارکن تھے۔چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، تاہم وزیر اعظم سے امید کرتے ہیں وہ ہماری آواز سنیں گے۔ ہم نے اپنے دو پیارے ساتھیوں کی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ لاپتہ ملازمین کے حوالے سے کسی کو کوئی فکر ہی نہیں ہے۔سہیل بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے نے آج تک سیکورٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انتظامیہ سے درخواست ہے کہ خدارا غیر محفوظ آپریشن نہ کریں،پی آئی اے پاکستان کا اثاثہ ہے، تمام سیاسی جماعتوں سمیت طلباء سے درخواست ہے کہ وہ پی آئی اے ملازمین کی تحریک 
 
................
پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے جتنے جہاز اڑے ، آپریشن کے لیے سارا اسٹاف ادارے کا ہی تھا ، پانچ دن کی ہڑتال میں ساڑھے پانچ سو سے چھ سو پروازیں منسوخ ہوچکیں ، نقصان ڈھائی ارب سے اوپر ہوگياہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے  پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے کہاکہ فلائٹ آپریشن جزوی بحال ہے ، نہ صرف جدہ سے عمرہ زائرین کو واپس لایا جار ہا ہے بلکہ گلگت بلتستان کے لیے بھی فلائٹس روانہ ہوئيں ، انہوں نےکہا اس سارے آپریشن میں جتنا اسٹاف شریک تھا وہ سب پی آئی اے کا ہی تھا ۔

دانیال گیلانی نے بتایا کہ فلائٹ آپریشن کی بندش کے پانچ دنوں میں ساڑھے پانچ سو سےزائد پروازیں منسوخ ہوچکیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کہتے ہیں کہ پی آئی اے کے معاملے میں بات چیت کے بجائے ماردھاڑ ہوئی جس کی وجہ سے معاملات خراب ہوئے،وزیراعظم کی زبان میں نرمی کے بجائے سختی آگئی ہے۔

قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پی آئی اے سے متعلق بل جلد بازی میں منظورکرایاگیا،وزیراعظم کی زبان میں نرمی کے بجائے سختی آگئی ۔

سکھر میں اپنی رہائشگاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ کاکہنا تھا کہ پی آئی اے کے معاملہ پر کروڑوں روپے کا نقصان ہورہاہے۔لیکن حکومت بضد ہے۔ہم نے مسئلہ کاحل نکالنے کے لئے پیشکش بھی کی ۔پی آئی اے معاملہ میں ڈائیلاگ کے بجائے ماردھاڑ شروع ہوگئی اورقیمتی جانیں ضائع ہوئیں ۔

انہوں نے کہا کہ اورنج ٹرین پر عوام کا پیساخرچ ہورہاہے اگرپاکستان کو ترقی دینی ہے توسارے منصوبے ختم کرکے ڈیمز بنائے جائیں ۔انہوں نے وزراء سے کشیدگی کے بارے میں سوال پر کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم کی آمد کے منتظرہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ اگران پر عائد کئے گئے الزامات ثابت ہوجائیں گے تو وہ سیاست چھوڑدینگے -
.................
پی آئی اے کے ملازمین کی پانچ روز ہ ہڑتال کے بعد گلگت میں جوزی طور پر پروازیں بحال ہوئیں ہیں جبکہ دیگر شہروں میں اب بھی ہڑتال جاری ہے ۔

اسلام آباد اور گلگت کے درمیان پی آئی اے کی فلائٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی ہے ۔

پی آئی اے کی پرواز پی کے 606 مسافروں کو لیکر گلگت ایئرپورٹ پہنچی ہے ،یہی پرواز مسافروں کو اسلام آباد لے کر بھی آئی ہے۔ جبکہ پی کے 608 منسوخ کردی گئی ہے ۔

ملتان میں آج آٹھ پروازیں منسوخ ہوگئی ہیں ۔ بکنگ آفس اور کارگو سروس بھی اب تک معطل ہے ۔

فیصل آباد اور رحیم یار خان سے بھی دو پروازیں معطل ہوگئی ہیں ۔سکھر میں بھی آج تین پروازوں کی منسوخی سے مسافروں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے ۔
پاکستان کی قومی فضائی کمپنی "پی آئی اے" کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ادارے کے ملازمین کی ہڑتال تو جاری ہے لیکن ہفتہ کو دیر گئے اس کی پروازیں جزوی طور پر بحال کر دیا گیا۔

پی آئی اے کی دو پروازیں سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ عمرہ زائرین کو لے کر اتوار کی سہ پہر پاکستان واپس پہنچیں گی۔ ایک بیان مین پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد سے گلگت کے لیے جانے والی پرواز بھی اپنی منزل پر پہنچ گئی ہے اور یہ وہاں سے مسافروں کو لے کر واپس وفاقی دارالحکومت پہنچے گی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً آٹھ سو عمرہ زائرین پی آئی اے کی ہڑتال کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے جن میں سے چار سو کو سعودی ایئرلائنز کے ذریعے پاکستان واپس لایا جا رہا ہے۔

پی آئی اے کی پروازوں کے لیے تمام تر عملہ اسی ادارے کا ہے اور حکومت نے ملازمین کے اس اقدام کو قابل تعریف قرار دیا ہے۔

دریں اثناء کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سمیت مختلف شہروں میں پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال اور احتجاج جاری ہے جب کہ حکومت کے ساتھ ان کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی بات چیت بھی ہو رہی ہے۔

حکومت اس ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہتی آئی ہے کہ وہ احتجاجیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔

گزشتہ منگل سے مکمل ہڑتال کے باعث جہاں دو سو سے زائد پروزایں منسوخ ہوئیں وہیں پی آئی اے کو دو ارب روپے سے زائد کا نقصان بھی ہوچکا۔

اس ساری صورتحال میں مسافروں کو درپیش پریشانی کے علاوہ پی آئی اے کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔
..................
حکومتی کوششیں رنگ لے آئیں،پی ائی اے کا فضائی آپریشن جزوی طور پر بحال ہوگیا۔ ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے دو بوئنگ777 طیارے اسلام آباد سے جدہ روانہ ہو گئے ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق طیاروں کاتمام عملہ اورگراؤنڈاسٹاف پی آئی اےکاہی ہے، طیارے 800 عمرہ زائرین کووطن واپس لائیں گے۔ 

حکومت نے بیرون ملک پھنسےپاکستانیوں کی واپسی کیلئےپی آئی کےعملےکی لگن کی تعریف کی ہے اور پی آئی اےکی بہتری کےلیےعملےکے عزم کو ناقابل فراموش قرار دیا ہے۔
......................
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ملازمین کی ہڑتال کے پانچویں روز پائلٹس نے احتجاج سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔

پی آئی اے پائلٹس ایسوسی ایشن کے صدر عامر ہاشمی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پائلٹس اپنا کام کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہوا بازوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پائلٹس کسی فیصلے میں تقسیم ہیں۔

عامر ہاشمی نے بتایا کہ 430 میں سے 410 پائلٹ جہاز اڑانے کے لیے تیار ہیں، پالپا کا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق نہیں، یہ خالصتاََ پروفیشنل باڈی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پالپا کے ارکان سے مشاورت کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیوں کہ آپریشن معطل ہونے سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے.

عامر ہاشمی نے بتایا کہ ڈائریکٹر فلائٹس آپریشن کو خط ارسال کر دیا ہے اور سیکیورٹی کی فراہمی پر پائلٹس اپنی خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔

پالپا کے صدر نے الزام عائد کیا کہ ہڑتال ختم کرنے پر احتجاج کرنے والے افراد کی جانب سے قتل سمیت دیگر دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جس کے ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں۔

پائلٹس ایسوسی ایشن کے صدر نے نجکاری کی بھی شدید مخالفت کی اور حکومت پر انتظامیہ میں پروفیشنل افراد کی تعیناتی پر زور دیا.

کراچی کے جناح انٹرنیشل ائیرپورٹ پر پی آئی اے کے ملازمین کے احتجاج میں ہلاک ہونے والے 2 افراد کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملازمین رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں قتل اوراقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں البتہ اس میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا۔

ائیر پورٹ تھانے میں مقدمہ نمبر 19/2016 نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا گیا۔

ڈان نیوز کے رپورٹر رضا جعفری کے مطابق مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ سازش مجرمانہ تیار کی گئی اور ایک نامعلوم شخص کی فائرنگ سے 2 ملازمین کی ہلاکت ہوئی۔

مقدمے میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، مسلم لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ خان، شجاعت عظیم سمیت 5 حکومتی شخصیات پر سازش کا الزام عائد کیا گیا۔

دوسری جانب پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ملازمین کا احتجاج بدستور جاری ہے اور پانچویں روز بھی فلائٹ سروس بحال نہ ہوسکی۔

ملک بھرمیں فلائٹ آپریشن کے ساتھ ساتھ بکنگ دفاتر میں کام بند ہے اور کارگو، گراؤنڈ سپورٹ، فلائٹ بریفنگ اور انجینیئرنگ سمیت دیگر شعبوں میں بھی کام معطل ہے۔
.......................
پی آئی اے پائلٹس ایسوسی ایشن کے صدر عامر ہاشمی کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پائلٹس اپنا کام کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہوا بازوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پائلٹس کسی فیصلے میں تقسیم ہیں۔

عامر ہاشمی نے بتایا کہ 430 میں سے 410 پائلٹ جہاز اڑانے کے لیے تیار ہیں، پالپا کا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق نہیں، یہ خالصتاََ پروفیشنل باڈی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پالپا کے ارکان سے مشاورت کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیوں کہ آپریشن معطل ہونے سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے.

عامر ہاشمی نے بتایا کہ ڈائریکٹر فلائٹس آپریشن کو خط ارسال کر دیا ہے اور سیکیورٹی کی فراہمی پر پائلٹس اپنی خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔

پالپا کے صدر نے الزام عائد کیا کہ ہڑتال ختم کرنے پر احتجاج کرنے والے افراد کی جانب سے قتل سمیت دیگر دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جس کے ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں۔

پائلٹس ایسوسی ایشن کے صدر نے نجکاری کی بھی شدید مخالفت کی اور حکومت پر انتظامیہ میں پروفیشنل افراد کی تعیناتی پر زور دیا.

ملازمین کے قتل کا مقدمہ درج
کراچی کے جناح انٹرنیشل ائیرپورٹ پر پی آئی اے کے ملازمین کے احتجاج میں ہلاک ہونے والے 2 افراد کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ ملازمین رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں قتل اوراقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں البتہ اس میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا۔

ائیر پورٹ تھانے میں مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کروایا گیا۔

دوسری جانب پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ملازمین کا احتجاج بدستور جاری ہے اور پانچویں روز بھی فلائٹ سروس بحال نہ ہوسکی۔

ملک بھرمیں فلائٹ آپریشن کے ساتھ ساتھ بکنگ دفاتر میں کام بند ہے اور کارگو، گراؤنڈ سپورٹ، فلائٹ بریفنگ اور انجینیئرنگ سمیت دیگر شعبوں میں بھی کام معطل ہے۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں گذشتہ ہفتے قبل 21 جنوری کو 6 بل پیش ہوئے تھے جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے حوالے سے بھی ایک بل شامل تھا جس میں پی آئی اے کو پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کا بل بھی شامل تھا، اس بل کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کارپوریشن کو پاکستان انٹرنیشل ایئر لائن کمپنی لمیٹڈ میں تبدیل کیا جائے گا.

یہ بل سامنے آتے ہی ملک بھر میں پی آئی اے کے ملازمین کی تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا، جس سے پی آئی اے کے امور متاثر ہونے لگے تھے.

منگل 2 فروری کی صبح فضائی آپریشن معطل کرنے کی دھمکی کے بعد حکومت نے 1952 کا لازمی سروسز ایکٹ نافذ کر دیا ، جس کے تحت تمام یونینز تحلیل ہو گئیں، جبکہ اب ہڑتال یا احتجاج کرنے والے ملازمین ملازمت سے فارغ کر دیئے جائیں گے.

مذکورہ ایکٹ کے نفاذ کے بعد ملازمین مزید مشتعل ہو گئے اور مزدور تنظیموں کے اتحاد نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر ریلی نکالنے کی کوشش کی، لیکن رینجرز اور پولیس کی فائرنگ، آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کے دوران 2 ملازمین ہلاک ہوئے.

ملازمین کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بند ہونا شروع ہوگیا، جو 5 روز سے بند ہے، فلائٹ آپریشن کی بندش سے ادارے کو ایک اندازے کے مطابق 2 ارب 50 کروڑ روپے تک کا نقصان ہو چکا ہے.

بعد ازاں ملازمین کی ہلاکت پر پی آئی اے کے چیئرمین ناصر جعفر مستعفی ہو گئے جبکہ رینجرز نے قتل کی تحقیقات کے لیے 2 رکنی کمیٹی قائم کی کیونکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ملازمین کے قتل کا ذمہ دار رینجرز کو قرار دیا تھا.

رینجرز نے اس سلسلے میں ایک مشکوک شخص کی ویڈیو بھی جاری کی جو احتجاج میں شریک تھا، تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اسے پی آئی اے کا ہی ملازم قرار دیا۔

پی آئی اے کے ملازمین کی جانب سے نجکاری کے خلاف احتجاج پر وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ہڑتال کرنے والوں کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا ہوگا اور انھیں ملازمت سے برطرفی کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لیے جیل بھی بھیجا جاسکتا ہے، ساتھ ہی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ سیاسی عناصر پی آئی اے کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے احتجاج کو سیاسی کھیل قرار دیا، جبکہ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) سمیت خسارے میں چلنے والے تمام اداروں کی نجکاری کرنا ہوگی، اسی طرح وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بیان دیا کہ سرکاری شعبے میں بہتری کے لیے اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔

ملازمین کی ہڑتال کے باعث حکومتی امور بھی متاثر ہوئے اور قائمہ کمیٹی کا اجلاس بھی اسی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا جبکہ بعض اوقات حکومتی شخصیات کو ہوائی اڈوں پر ملازمین کے نعرے بھی سننا پڑے.

علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے ہڑتال کے بعد نئی حکمت عملی پر بھی غور شروع کر دیا گیا اور یہ بات سامنے آئی کہ حکومت نئی ایئر لائن بنانے پر غور کر رہی ہے، جس پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ پی آئی اے چل نہیں رہی تو کیا ضمانت ہے کہ نئی ایئرلائن بھی چل سکے۔

پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث فلائٹ سروس کی بندش کے بعد نجی ایئر لائنز نے کرایوں میں 3 سے 4 گنا اضافہ کر دیا اور 31 جنوری تک 7 ہزار روپے میں دستیاب ٹکٹ 21 ہزار روپے کا کر دیا گیا۔

4 روز کی فلائٹ سروس کی بندش کے بعد حکومت نے احتجاج کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کیا.

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ کیپٹن سہیل بلوچ نے وفد کے ہمراہ چیئرمین نجکاری کمیشن اور وزیر نجکاری محمد زبیر سے کراچی میں ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی، تاہم یہ ملاقات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی اور تعطل برقرار رہا.

---------------------------------------
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مذاکرات میں کسی 'حتمی نتیجے' پر
 پہنچنے تک فلائٹ آپریشن بحال کرنے سے انکار کردیا۔

کیپٹن سہیل بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی کے وفد نے چیئرمین نجکاری کمیشن اور وزیر نجکاری محمد زبیر سے کراچی میں ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ بامعنی بات چیت ہوئی، امید ہے کل کسی مثبت نتیجے پر پہنچ جائیں گے تاہم حتمی نتیجے پر پہنچنے تک پی آئی اے کا آپریشن معطل رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نجکاری کمیشن کو اپنا نقطہ نظر سے آگاہ کردیا ہے۔

کیپٹن سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کے چار ملازمین لاپتہ ہیں، حکومت سے درخواست ہے کہ انہیں بازیاب کرایا جائے۔

دوسری جانب محمد زبیر کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کا فضائی آپریشن شروع ہوجائے تو ایکشن کمیٹی کے ساتھ بیٹھیں گے۔

خیال رہے کہ ملازمین کے احتجاج کے باعث گزشتہ چار روز سے قومی ایئرلائن کی فلائٹ سروس معطل ہے جبکہ ادارے کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

احتجاج کے پہلے روز کراچی میں نامعلوم سمت سے چلنے والی گولی کے باعث دو ملازمین بھی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ڈی جی رینجرز نے واقعے پر تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔

وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ 350 ارب روپے کے خسارے میں چلنے والے ادارے کو اس کی موجودہ انتظامیہ مزید نہیں چلاسکتی۔

حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو جون 2016 تک پی آئی اے کی نجکاری کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔
.........................
احتجاج کے پہلے روز کراچی میں نامعلوم سمت سے چلنے والی گولی کے باعث دو ملازمین بھی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ڈی جی رینجرز نے واقعے پر تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔

وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ 350 ارب روپے کے خسارے میں چلنے والے ادارے کو اس کی موجودہ انتظامیہ مزید نہیں چلاسکتی۔

حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو جون 2016 تک پی آئی اے کی نجکاری کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے، جس پر اسے اپوزیشن جماعتوں اور پی آئی اے ملازمین کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

اس سے قبل حکومت پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کارپوریشن بل 2015 کو اپوزیشن کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود قومی اسمبلی سے منظور کروا کر قومی اثاثے کو پبلک پرائیویٹ کمپنی بنانے کی منظوری دے چکی ہے۔

چار روز گزر گئے، پی آئی ا ے کے طیارے زمین پر کھڑے مسافروں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ہر گزرتے منٹ کے ساتھ نقصان بڑھتا جارہا ہے،جس کی ایک مثال صرف پارکنگ کی مد میں یومیہ ایک کروڑ اسی لاکھ روپے کی ادائیگیاں ہیں۔ ٹکٹ کاونٹرز، بکنگ آفسز اور کارگو کمپلیکس میں گویا الو بول رہے ہیں۔کہنے کو تو مختلف ملکی اور غیر ملکی پروازوں سے پی آئی اے کے مسافر لے جانے کے معاہدے ہوچکے ہیں لیکن تیار رخت سفر کے باوجود مسافر بال نوچنے پر مجبور ہیں۔

یہ صورتحال کسی ایک نہیں بلکہ ملک کے بیشتر ہوائی اڈوں پر ہے۔ اس ڈیڈ لاک میں سعودی عرب میں موجود وہ افراد شدید مشکل میں پھنس گئے ہیں جن کو ویزے کی میعاد ختم ہونے پر اب 15ہزارسے50ہزارریال جرمانے اور سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ناراض ملازمین نے آج کشمیر ڈے کے موقع پر دھرنوں سے گریز کیا، البتہ کل سے معمول کے مطابق احتجاج کا عندیہ دیا ہے، لیکن ان حالات میں بھی حکومت اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹتی دکھائی نہیں دے رہی۔

پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندے سہیل بلوچ نے وزیر مملکت نجکاری محمد زبیر سے رابطہ کر کے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا تاہم انہیں جواب یہ ملا کہ ایک طرف قتل کی ایف آئی آر درج کرائی جارہی ہے اور دوسری طرف مذاکرات کے اشارے مل رہے ہیں، حکومت کا فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں جب اس کی ہدایت ملے گی تب ہی بات ہوگی
........................
وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پی آئی اے میں غیر قانونی اور بلاجواز ہڑتال کرنے والوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے،کچھ سیاسی عناصر پی آئی اے اور ملک کی ترقی نہیں چاہتے لیکن حکومت قومی ائرلائن کی بہتری چاہتی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ لوگ نہیں چاہتے پی آئی اے کے پاس نئے طیارے آئیں،اورچمکتی دمکتی ائرلائن بنے۔ہم قومی ائرلائن کو ٹھیک کریں گے۔

نواز شریف نے مزیدکہا کہ عوام نے اداروں کو بہتر بنانے کا میڈیٹ دیا ہے۔حکومت قومی ائرلائن کی بہتری چاہتی ہے۔
..........................
لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن(پی آئی اے) کے ملازمین کی جانب سے مجوزہ نجکاری کے خلاف احتجاج کے دوران فلائیٹ سروس چوتھے روز بھی بند ہے۔

ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال کے باعث اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ، لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کوئٹہ ایئر پورٹ، فیصل آباد ایئر پورٹ سے تمام قومی اور بین الاقوامی پروازیں چاتھے روز بھی منسوخ ہو گئیں۔

پی آئی اے کے ملک بھر میں بکنگ دفاتر میں کام بند ہونے کے ساتھ کارگو، گراونڈ سپورٹ، فلائٹ بریفنگ اور انجینئرنگ سمیت تمام شعبوں میں کام معطل رہا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا تھا کہ فلائیٹ آپریشن کی بندش سے 2 ارب روپے کے قریب نقصان ہو چکا ہے۔

دوسری جانب پی آئی اے کے ملازمین نے نمازِ جمعہ کے بعد ایئرپورٹس کے باہر احتجاج کی منصوبہ بندی کی۔

ڈیڈ لاک خاتمے کا امکان
حکومت اور پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نج کاری کمیشن کے چئیرمین محمد زبیر نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ کیپٹن سہیل بلوچ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومتی وفد سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ملاقات ہو گی۔

واضح رہے کہ پی آئی اے ملازمین گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں ان کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا۔

جس کے بعد حکومت نے پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ 1952 نافذ کیا جس کی رو سے کام پر نہ آنے والے ملازمین کا نکالا جا سکتا ہے البتہ اس سے ملازمین اس سے مزید مشتعل ہوئے اور تین روز قبل فلائیٹ سروس بندش کا اعلان کیا گیا، شروع میں تو سروس معمول کے مطابق رہی بعد ازاں کراچی میں احتجاج کے دوران 2 ملازمین کی ہلاکت ہوئی جس سے ملک بھر میں فلائیٹ سروس بند ہونا شروع ہو گئی اور گزشتہ 3 روز سے یہ سروس بند ہے۔

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین کی جانب سے قومی ادارے کی نجکاری کے حوالے سے پارٹی کے منصوبے کے دفاع کے آغاز اور حکومت کے پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ملازمین کے احتجاج کے آگے نہ جھکنے کے عندیے کے بعد موجودہ صورت حال مزید کشیدگی کی جانب جاتی نظر آرہی ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز پی آئی اے کے چیئرمین نصیر جعفر کی جانب سے دیا جانے والا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اب سے ہوابازی کے سیکریٹری پی آئی اے کے چیئرمین کا اضافی عہدہ سنبھالیں گے۔

پی آئی اے کی موجود صورت حال پر وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، پیٹرولیم کے وزیر شاہد خاقان عباسی، سینٹر مشاہد اللہ خان اور گورنر خیبرپختون خوا مہتاب احمد خان عباسی نے شرکت کی۔

دوسری جانب علیحدہ ایک بیان میں وفاقی وزیر خزانہ نے اسحاق ڈار نے پی آئی اے میں انتظامی اصلاحات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹریٹجک شراکت داروں کی مدد سے منافع بخش اداروں، جیسا کہ قومی ایئر لائن کو نقصان سے نکالنے کیلئے انتظامی تبدیلیاں کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ لازمی سروس بحالی (ای ایس ایم) ایکٹ 1952 کو نافذ کرنے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے چار عہدیداران، اسلام آباد میں ہوابازی ڈیژن اور پشاور، لاہور اور کراچی میں پی آئی اے عہدیداران کو ان پی آئی اے ملازمین کے خلاف شکایات درج کرنے کی ہدایت کی ہیں، جو اپنی ڈیوٹیاں انجام نہیں دے رہے۔

ایویشن کے سینئر جوائنٹ سیکریٹری احمد لطیف، پی آئی اے کراچی کے ڈائریکٹر ہومن ریسورسز (ایچ آر) راشد احمد، پی آئی اے لاہور کے ڈپٹی جنرل میجنر (ایچ آر) موسیٰ خان اور پی آئی اے پشاور کے ڈپٹی جی ایم (ایچ آر) مبارک حیات کو ان شکایات کے اندراج کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ حکومت کا مؤقف بہت واضح ہے کہ قومی ایئرلائن موجود صورت حال میں کام جاری نہیں رکھ سکتی اور اس کے آپریشنز میں بہتری لانے کیلئے انتطامی تبدیلیاں کرنا ضروری ہے۔

اجلاس میں شریک وزیراعظم کے انتہائی قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ 'کچھ بھی ہوجائے واپسی ممکن نہیں ہے'۔

...........................
پاکستان کی قومی فضائی کمپنی "پی آئی اے" کے چیئرمین کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے شہری ہوابازی کے سیکرٹری کو اس منصب کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔

جمعرات کو سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان نے پی آئی اے کے چیئرمین کا استعفیٰ منظور کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

قومی فضائی کمپنی کی مجوزہ نجکاری کے خلاف اس ادارے کے ملازمین کی ہڑتال منگل سے جاری ہے اور اسی روز کراچی میں احتجاج کے دوران گولی لگنے سے دو ملازمین کی ہلاکت کا واقعہ بھی پیش آیا۔

بدھ کو ہی پی آئی اے کے چیئرمین نے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اب وہ خود اس منصب کا حقدار نہیں سمجھتے۔"

جمعرات کو بھی کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور دیگر ہوائی اڈوں پر پی آئی اے کے ملازمین نے ہڑتال جاری رکھی جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ حزب مخالف بلاجواز اس معاملے پر سیاست کر رہی ہے کیونکہ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ آئندہ چھ ماہ تک اس ادارے کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔

حزب مخالف کی بڑی جماعتوں نے پی آئی اے کے احتجاجی ملازمین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے مطالبات میں ہم آواز ہونے کا یقین دلایا ہے جب کہ پاکستان تحریک انصاف نے چھ فروری کو ملک گیر احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے۔

......................
پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے) کے ملازمین کے نجکاری کے خلاف احتجاج میں فلائیٹ سروس کی بندش اور مظاہروں سے ادارے کو ایک ہفتے میں ایک ارب 80 کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے ملازمین کے احتجاج کے باعث ہونے والے مالی نقصان کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ پی آئی اے ملازمین گزشتہ دو ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں ان کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا۔

جس کے بعد حکومت نے پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ 1952 نافذ کیا جس کی رو سے کام پر نہ آنے والے ملازمین کا نکالا جا سکتا ہے البتہ اس سے ملازمین اس سے مزید مشتعل ہوئے اور تین روز قبل فلائیٹ سروس بندش کا اعلان کیا گیا، شروع میں تو سروس معمول کے مطابق رہی بعد ازاں کراچی میں احتجاج کے دوران 2 ملازمین کی ہلاکت ہوئی جس سے ملک بھر میں فلائیٹ سروس بند ہونا شروع ہو گئی اور گزشتہ 3 روز سے یہ سروس بند ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 3 روز میں 150 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

دانیال گیلانی کا کہنا تھا کہ 26 جنوری کو جب سے ملازمین کا احتجاج شروع ہوا تھا اس دن سے 2 فروری کو کراچی میں 2 ملازمین کی ہلاکت تک پی آئی اے کو ایک ارب کا نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ہڑتال کی اطلاعات سامنے آتے ہی اکثر افراد نے اپنی بکنگ منسوخ کروا دی تھی۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2 فروری سے 3 فروری تک گزشتہ دو دنوں میں 50کروڑ کا نقصان ہوا جبکہ 4 فروری کی شام تک مزید 30 کروڑ روپے نقصان ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کی انتظامیہ نے ملازمین کی ہڑتال کے بعد مسافروں کو سروس فراہم کرنے کے لیے نجی کمپنیوں سے مذاکرات شروع کیے تاکہ پی آئی اے کے ٹکٹ کو مسافر ان نجی ائیر لائنز میں استعمال کرسکیں۔

پی آئی اے کی انتظامیہ نے ادارے جدہ میں پھنس جانے والے 2000 پاکستانی زائرین کو واپس لانے کے لیے چار 747 بوئنگ جمبو طیاروں کا انتظام کیا، یہ طیارے سعودی ایئر لائنز کے ساتھ معاہدہ کے تحت حاصل کیے گئے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے پی آئی اے کے چیئرمین ناصر جعفر کا استعفیٰ منظور کر لیا۔

وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیر اعظم ایوی ایشن کے سیکریٹری محمد علی گردیزی کو پی آئی اے کا اضافی چارج دیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں احتجاج کے دوران 2 ملازمین کی ہلاکت کے بعد پی آئی اے کے چیئرمین ناصر جعفر نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 
.........................
 ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) ملازمین کے احتجاج میں فائرنگ کے باعث دو افراد کی ہلاکت پر تحقیقاتی ٹیم بنانے کا اعلان کردیا۔

نجی ٹی وی چینل سماء ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سربراہی بریگیڈیئر رینک کے افسر کریں گے۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ کمیٹی واقعے کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

گذشتہ روز پیش آنے والے واقعے کے بعد ملک بھر کے ایئرپورٹس پر پی آئی اے کے عملے نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا جبکہ فلائٹ سروس دوسرے روز بھی معطل رہی۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی انتظامیہ نے ادارے کی نجکاری کے خلاف ملازمین کی ہڑتال کے باعث پروازیں منسوخ ہونے سے جدہ میں پھنس جانے والے پاکستانی زائرین کو واپس لانے کے لیے چار 747 بوئنگ جمبو طیاروں کا انتظام کرلیا.ترجمان کا کہنا تھا کہ واپسی پر یہی طیارے اتنی ہی تعداد میں عمرے کے لیے جانے والے افراد کو بھی جدہ لے کر جائیں گے

پی آئی اے ترجمان نے بدھ کی رات جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ اس سلسلے میں سعودی ایئرلائنز کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا ہے، جس کے تحت جمبو طیارے جمعے سے پروازوں کا آغاز کریں گے اور 2 ہزار زائرین کوکراچی اور اسلام آباد لایا جائے گا.

ترجمان کا کہنا تھا کہ واپسی پر یہی طیارے اتنی ہی تعداد میں عمرے کے لیے جانے والے افراد کو بھی جدہ لے کر جائیں گے.

مزید پڑھیں:’پی آئی اے نجکاری کے خلاف احتجاج ایک سیاسی کھیل‘

پی آئی اے کے کنفرم ٹکٹس کے حامل مسافروں کو ایئرلائن کی جانب سے جدہ کے ہوٹلوں میں ٹھہرایا جایا گیا، جبکہ پاکستان میں بھی ایسے مسافروں کو مختلف شہروں کے ہوٹلوں میں ٹھہرایا جائے گا.

ترجمان کا کہنا تھا کہ بیک اپ پلان کے طور پر پی آئی اے اتحاد ایئرویز اور ترک ایئر لائنز سے بھی مذاکرات کررہی ہے تاکہ یورپ، امریکا اور کینیڈا آنے اور جانے والے مسافروں کو سہولت فراہم کی جاسکی.

یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے نجکاری: درست سمت میں غلط قدم

دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرلائنز کے متعلقہ دفاتر سے ہی ٹکٹ خریدیں تاکہ زائد پیسوں کی ادائیگی سے بچا جاسکے، ساتھ ہی مسافروں کو ایئرلائنز کی ویب سائٹ پر دیئے گئے کرایوں پر ہی بھروسہ کرنے کا کہا گیا ہے.

سی اے اے کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ پاکستان کے مسابقتی کمیشن کی ذمہ داری ہے، لیکن سول ایوی ایشن معمول کے کرائے برقرار رکھنے کے حوالے سے نگرانی کر رہی ہے.


پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال کے باعث ڈیڑھ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہوگئیں ، طیارے آج بھی پرواز نہیں کر سکے ،ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال جاری ہے،مطالبات کی منظوری تک کام نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پی آئی اے کی مجوزہ نج کاری کے خلاف ملازمین کی ہڑتال آج بھی جاری ہے۔ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ طیارے آج بھی نہیں اڑیں گے اور مطالبات کی منظوری تک کام رُکا رہے گا ۔ ہڑتال کے باعث اب تک ڈیڑھ سو سے زائد پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔

دوسری جانب ڈی جی رینجرز نے پی آئی اے ملازمین کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے ۔پی آئی اے کی نج کاری کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر فلائٹ آپریشنز دو روز سے مکمل بند ہے۔

حکومت کی جانب سے لازمی سروسز ایکٹ کے نفاذ کے باوجود ملازمین کام پر آنے کے لیے تیار نہیں۔کراچی ، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں ملازمین کا دھرنا دو روز سے جاری ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ہدایت پر نجی ایرلائنز نے کراچی سے لاہور اور اسلام آباد کے لیے دو ، دو اضافی پروازیں چلائیں لیکن عوام نے معمول سےکہیں زیادہ کرائے وصول کرنے کی شکایت کی ہے ۔ 

ذرائع کے مطابق بحران کے باعث دو روز میں پی آئی اے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے، قومی ائیرلائن کی تقریباً ڈیڑھ سو ملکی اور بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوئیں جس کے باعث 25 سے 27 کروڑ روپے مسافروں کے کرائے کی مد میں اور تقریبا 2 کروڑ روپے کارگو کی مد میں نقصان ہوا ہے ۔ 

دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین کیپٹن سہیل بلوچ نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ حکومت کو پی آئی اے کے نقصان اور عوام کی مشکلات سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ نج کاری کے فیصلے کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا ۔۔ 

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے پی آئی اے ملازمین کے احتجاج کے دوران فائرنگ سے ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ جیو نیوز سے بات چیت میں ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے ۔

ادھر احتجاج کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ایئرکرافٹ انجینئر سلیم اکبر کو ماڈل کالونی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست عدالت میں جمع کرادی ہے ۔ - 

..پی آئی اے کی نجکاری کے مسئلے پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مصیبتیں جھیلنے کے بعد بھی سیاست دان نہیں بن سکے، شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری کا بل اکثریت کے زور پر پاس کروایا، سراج الحق نے کہا کہ جب تک ملازمین احتجاج پر ہیں ان کے ساتھ ہیں۔ 

پی آئی اے کے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے خورشید شاہ نے حکومت کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا، بولے افسوس میاں صاحب مصیبتیں جھیلنے کے بعد بھی سیاستدان نہیں بن سکے، انہوں نے وفاقی اور سندھ حکومت سے کراچی واقعے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ 

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ن لیگ نے ایوان میں اپنی اکثریت کا ناجائز فائدہ اٹھایا، نجکاری کے لیے آرڈیننس زبردستی بل کی صورت میں پاس کرایا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ جب تک ملازمین احتجاج پر ہیں ان کے ساتھ ہیں، انہوں نے گزشتہ روز کراچی میں جاں بحق ہونے والے پی آئی اے ملازمین کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائ

..........................
چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ نے آج نجکاری کے خلاف ملازمین کے احتجاج کا دائرہ بڑھانے اور مظاہرین کی ہلاکت پر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اب تک کی رپورٹس کے مطابق پی آئی اے کی 100 کے قریب بین الاقوامی اور قومی پروازیں منسوخ جبکہ قومی ایئرلائن کو اربوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔

منسوخ ہونے والی پروازوں میں دبئی، چین، جدہ اور دوحہ سے اسلام آباد جبکہ کوالالمپور، دبئی اور دوحہ سے پشاور آنے والی انٹرنیشنل پروازیں شامل ہیں۔

نجکاری کے خلاف پی آئی اے میں مزدور تنظیموں کے اتحاد جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کے باعث ملک بھر میں قومی ایئر لائن کا فضائی آپریشن بدستور معطل ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان اور پشاور میں پی آئی اے کے ملازمین نجکاری کے خلاف آج پھر احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔انتظامیہ کی جانب سے اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، 

ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ساتھ ساتھ پولیس اور رینجرز بھی ہوائی اڈوں پر تعینات کی گئی، کیپٹل سٹی پولیس افسر(سی سی پی او) لاہور امین وینس نے سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا دورہ کیا۔

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پی آئی اے ہیڈ آفس کے سامنے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تعینات کی گئی۔

ملازمین کے احتجاج کے دوران حزب مخالف کی جماعتیں بھی اظہار یکجہتی کر رہی ہیں اور یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2011ء میں بھی ایسی ہی ایک احتجاجی مہم میں اس وقت کی حزب مخالف میں شامل موجودہ حکمران جماعت نے بھی مظاہرین کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔

اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے بدھ کو احتجاجی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے ان کے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔

"میں آپ سے وعدہ کرنے آیا ہوں کہ جو تمہاری آواز ہے وہ ہماری آواز ہوگی۔۔۔جو تمہارا موقف ہے وہ ہمارا موقف ہوگا کیونکہ یہ ایک قومی اثاثہ ہے۔"

لیکن حکومت کا موقف ہے کہ وہ کسی احتجاج کی آڑ میں سیاست کرنے یا حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے صحافیوں سے گفتگو میں ایک بار پھر اس سارے معاملے کو حزب مخالف کی مبینہ سازش قرار دیا۔

"ابھی چھ مہینے پڑے تھے، چھ مہینے پہلے ہڑتال کرنے کا کیا جواز تھا، وزیراعظم نے چھ مہینے دیے تھے اور پھر یہ فیصلہ ہونا تھا ۔ تو چھ مہینے پہلے ہی کیوں شروع کر دیا گیا اسی لیے میں کہتا ہوں کہ مجھے اس میں سازش کی بو آتی ہے۔"

پی آئی اے کی فضائی سروس میں تعطل کے باعث جہاں مسافروں کو سفر میں دشواری کا سامنا ہے وہیں اس کمپنی کے ذریعے سامان کی ترسیل میں خلل آنے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بھی مثاتر ہو رہی ہیں۔

.......................
پاکستان میں قومی فضائی کمپنی "پی آئی اے" کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ادارے کے ملازمین کا احتجاج جاری ہے اور بدھ کی صبح ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں پر پی آئی اے کا فلائیٹ آپریشن اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں۔

پی آئی اے کے چیئرمین ناصر جعفر نے منگل کو دیر گئے نجی ٹی وی چینل پر مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "میں نہیں سمجھتا کہ مجھے چیئرمین رہنے کا حق ہے۔"

ان کے بقول وہ ایک سال سے ملازمین کو متحد رکھنے کی کوشش کر رہے تھے جب کہ انھوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کی کوشش کرنے کا کہا ہے۔

مجوزہ نجکاری کے معاملے پر پی آئی اے ملازمین کو احتجاج تو کئی روز سے جاری تھا لیکن یہ صورتحال منگل کو اس وقت سنگین ہوگئی جب کراچی میں احتجاج کرنے والے ملازمین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی اور اس دوران گولی لگنے سے دو افراد دم توڑ گئے۔

موقع پر موجود پولیس اور رینجرز کا موقف ہے کہ گولی ان کی طرف سے نہیں چلائی گئی تھی۔

منگل کو اندرون ملک پی آئی اے کی درجنوں پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں جب کہ بدھ کی صبح بھی پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ جاری رہا۔

ادھر شہری ہوابازی کے ادارے "سول ایوی ایشن اتھارٹی" نے مسافروں کی پریشانی کے پیش نظر نجی فضائی کمپنی "ایئربلیو" سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے مابین خصوصی پروازیں چلانے کی ہدایت کی ہے۔

لیکن مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ اس نجی فضائی کمپنی نے کرایوں میں "غیرمعمولی حد تک" اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت کا پی آئی اے ملازمین کے احتجاج پر متنبہ کیا ہے کہ وہ اس سے گریز کریں بصورت دیگر انھیں ملازمت سے برخاستگی کے علاوہ جیل کی ہوا بھی کھانا پڑ سکتی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے اور یومیہ دس کروڑ روپے کے نقصان سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔

 اسلام آباد سمیت کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان اور پشاور میں پی آئی اے کے ملازمین نجکاری کے خلاف آج پھر احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔

انتظامیہ کی جانب سے اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ساتھ ساتھ پولیس اور رینجرز بھی ہوائی اڈوں پر تعینات کی گئی، کیپٹل سٹی پولیس افسر(سی سی پی او) لاہور امین وینس نے سیکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا دورہ کیا۔

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پی آئی اے ہیڈ آفس کے سامنے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تعینات کی گئی۔
..............................
اکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے چیئرمین ناصر جعفر نے کراچی میں ملازمین کے احتجاج کے دوران دو ہلاکتوں پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

پیر کو نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر جعفر نے کہا کہ 'آج کے بعد میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ میں اس ادارے میں کام کروں۔'

چیئرمین پی آئی اے نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کو اپنا استعفیٰ بھجوا دے دیا ہے۔ تاہم، وزیر اعظم ہاوس نے استعفی ملنے یا قبول کرنے کی تصدیق نہیں کی.

انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ 'لوگوں کی جان سے زیادہ کچھ قیمتی نہیں ہوسکتا۔ اللہ ہلاک ہونے والوں کی مغفرت فرمائے۔'

انہوں نے کہا کہ وہ پی آئی اے کی حمایت جاری رکھیں گے لیکن ادارے کے چیئرمین نہیں رہ سکتے.

ناصر جعفر نے کہا کہ جانی نقصان کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سہیل بلوچ کو متعدد بار سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ احتجاج نہ کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 'جن ملازمین کے لیے میں نے اتنی محنت کی، اگر وہ خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے لیے تیار ہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں۔'

انہوں نے احتجاج کرنے والے ملازمین سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کریں، حکومت ان کے مطالبات سنے گی۔

ناصر جعفر کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیاجب آج پی آئی اے ملازمین کے نجکاری کے خلاف احتجاج کے دوران دو ملازمین نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

بعدازاں وزیراعظم نے احتجاجی ملازمین کےخلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں حصہ لینے والوں کو نوکری سے نکال دیا جائے جبکہ جبکہ انہیں ایک سال جیل کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے.

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہڑتال کرنے والوں کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے احتجاجی ملازمین کےخلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایک سال تک جیل جانا پڑسکتا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق منگل کو ساہیوال کول پاور پلانٹ کی تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہڑتال کرنے والوں کو اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہڑتال کے باعث پی آئی اے کو یومیہ 10 کروڑ کا نقصان ہورہا ہے اور معاملے پر سیاست کی جارہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ہڑتال میں شریک ملازمین کو نوکری سے نکال دیا جائے گا جبکہ کام کرنے والوں کو انعام دیا جائے گا۔

نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنی تیزی سے کام ہورہا ہے۔’معیشت ترقی کرے گی تو برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا‘۔

وزیراعظم کے یہ بیانات ایسے موقع پر سامنے آئے جب ملک بھر میں پی آئی اے ملازمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر ادارے کی نجکاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔


احتجاج کے دوران کراچی میں سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ کے دوران دو ملازمین نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔

حکومت کا موقف ہے کہ 350 ارب روپے کے خسارے میں چلنے والے ادارے کو اس کی موجودہ انتظامیہ مزید نہیں چلاسکتی۔

حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو جون 2016 تک پی آئی اے کی نجکاری کرنے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے، جس پر اسے اپوزیشن جماعتوں اور پی آئی اے ملازمین کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

اس سے قبل حکومت پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کارپوریشن بل 2015 کو اپوزیشن کے شدید احتجاج اور واک آؤٹ کے باوجود قومی اسمبلی سے منظور کروا کر قومی اثاثے کو پبلک پرائیویٹ کمپنی بنانے کی منظوری دے چکی ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کے خلاف ملازمین نے منگل کو ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے اور اس دوران ہونے والی جھڑپ میں دو افراد ہلاک اور متعدد کے زخمی ہو گئے۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہڑتال کی کال کے باجود منگل کی دوپہر تک پروازیں معمول کے مطابق چلتی رہی ہیں لیکن بعد میں شیڈول متاثر ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد سے ابو ظہبی، ریاض اور ڈیرہ غازی خان اور کراچی سے اسلام آباد کی پروازیں شیڈول کے مطابق اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئیں۔ 

پی آئی اے کے ملازمین نے کارگو ٹرمینل سے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی جانب مارچ شروع کیا تو سکیورٹی فورسز نے اُنھیں ائیر پورٹ سے پہلے ہی روک لیا۔ پولیس کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

اس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھار کا بھی استعمال کیا گیا جب کہ فائرنگ سے ’پی آئی اے‘ کے دو ملازمین ہلاک ہو گئے۔

پولیس اور رینجرز دونوں ہی کی طرف سے کہا گیا کہ اُنھوں نے فائرنگ نہیں کی۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ’ایسٹ کراچی‘ کامران فضل نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے واضح ہدایات تھیں کہ مظاہرین کے خلاف کسی طور طاقت کا استعمال نا کیا جائے بلکہ مذاکرات کر کے اُنھیں آگے بڑھنے سے روکا جائے۔

کراچی میں پیش آنے والے واقعے کے خبر ملتے ہیں ملتان اور پشاور میں بھی پی آئی اے کے ملازمین نے شدید احتجاج شروع کر دیا جب کہ منگل کی شام کو کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر فلائیٹ آپریشن مکمل طور پر بند ہو گیا۔

وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ وہ پائلٹ اور ملازمین جو اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں وہ قومی ہیرو ہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ ہڑتال سے قومی فضائی کمپنی کو 75 کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اگر یہ صورتحال ایسے ہی رہی تو ادارے کے لیے ملازمین کو تنخواہیں دینا مشکل ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملازمین اپنے ادارے کے مستقبل کا خیال رکھتے ہوئے فلائیٹ آپریشن بند کرنے سے گریز کریں۔

پی آئی اے کے ملازمین کی یونین اور پائلٹوں کی تنظیم ’پالپا‘ نے منگل کو ملک بھر میں پروازیں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جب کہ حکومت نے پیر کی شام ادارے میں ’لازمی سروسز ایکٹ‘ نافذ کر دیا جس کے تحت تمام یونینز غیر موثر ہو گئی تھیں اور ملازمین کے ہڑتال کرنے کا حق معطل ہو گیا۔

حکومتی اعلانات میں کہا گیا تھا کہ ایکٹ کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی بھی ہڑتالی ملازم کو سزا کے طور پر نوکری سے بھی نکالا جا سکتا ہے۔

حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مسلسل خسارے کے باعث پی آئی اے کو ایک نجی کمپنی میں تبدیل کرے گی۔ اب جب کہ حکومت نے اس فیصلے پر عمل کا آغاز کیا ہے تو ملازمین کی طرف سے اس کے خلاف رد عمل سامنے آیا ہے۔

ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک حکومت نجکاری کا فیصلہ واپس نہیں لیتی۔

گزشتہ ماہ حکومت کی طرف سے پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کو پرائیویٹ سیکٹر میں فروخت کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں قومی اسلمبی نے ایک بل بھی منظور کیا۔

تاہم ملازمین کی طرف سے مزاحمت کے بعد حکومت نے نجکاری کے عمل کو چھ ماہ کے لیے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں